کسے پھانسی دی جائے اور کسے نہیں، کیا یہ اب مذہب طے کرے گا؟

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز
آج کل ملک کے اندر ایک بار پھر پھانسی کا مدعا بحث کا موضوع بنا ہواہے اور اس دفعہ بحث افضل گرو پر نہیں بلکہ اس جیسے ہی ایک دوسرے دہشت گرد دیوندر پال سنگھ بھُلّر کو لے کر ہو رہی ہے۔ ہندوستان میں ایسے مجرموں کی ایک لمبی قطار ہے جسے ملک کی عدالت عظمیٰ نے پھانسی کا مستحق قرار دیا ہے، لیکن پھانسی کی سزا پانے والے ان تمام مجرموں نے صدر جمہوریہ کے پاس اپنی اپنی معافی کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔ جہاں تک دیوندر پال سنگھ بھُلّر کا تعلق ہے تو صدر جمہوریہ پرتبھا دیوی سنگھ پاٹل نے گذشتہ 25 مئی کو اس کی معافی کی درخواست ٹھکرادی تھی جس کے بعد خاص کر پنجاب کے سیاسی حلقوں میں ایک طوفان برپا ہو چکا ہے۔ سبھی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ بھُلّر کی پھانسی کی سزا کو تبدیل کرکے اسے عمر قید کی سزا میں تبدیل کر دینا چاہیے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مجرم کا مذہب اب یہ طے کرے گا کہ اسے پھانسی دی جائے یا نہیں۔ افضل گرو چونکہ مسلمان ہے اس لیے بی جے پی اور اس کی ہم نوا جماعتیں بڑے زور شور سے کانگریس پر یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ کانگریس حکومت افضل گرو کی پھانسی میں تاخیر کر رہی ہے۔ لیکن اب جب کہ بھُلّر کی پھانسی کا معاملہ سامنے آیا ہے تو پنجاب میں بی جے پی کی حلیف پارٹی اکالی دل نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے اس معاملہ میں خود مداخلت کرنے کی گزارش کی ہے، اس کے علاوہ دوسری سرکردہ سکھ تنظیمیں بھی اب بھُلّر کی حمایت میں سامنے آ چکی ہیں۔ خود پنجاب کے اندر کانگریس کے رہنما کیپٹن امریندر سنگھ کا یہ کہنا ہے کہ بھُلّر کو پھانسی نہیں دی جانی چاہیے۔ ایسا شاید اس لیے کہ پنجاب میں اگلے سال اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے اور کوئی پارٹی نہیں چاہتی ہے کہ اسے سکھوں کے ووٹ سے ہاتھ دھونا پڑے، اس لیے یہ لوگ بھُلّر کی پھانسی کی سزا پر اس قدر واویلا مچا رہے ہیں۔
خالصتان لبریشن فرنٹ کے دہشت گرد دیوندر پال سنگھ بھُلّر کو 10 ستمبر، 1993 میں اُس وقت کے یوتھ کانگریس کے صدر مہندرجیت سنگھ بِٹاّ پر ہونے والے کار بم حملہ میں عدالت کے ذریعہ مجرم قرار دیا جا چکا ہے ، جس میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ بِٹاّ اس حملہ میں بری طرح زخمی ہوئے تھے۔ یہ حادثہ پارلیمنٹ سے چند قدم کی دوری پر پیش آیا تھا۔
سپریم کورٹ نے 23 مئی کو حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے پوچھا تھا کہ بھُلّر کی معافی کی درخواست پر غور کرنے میں اسے آٹھ سال کا وقت کیوں لگا، جس کے بعد صدر جمہوریہ کی طرف سے اس درخواست کو ٹھکرا دیا گیا۔
بھُلّر کی معافی کی درخواست پر شروع ہونے والی شکایت کو لے کر ایم یس بٹا کو کافی صدمہ پہنچا ہے اور وہ اس کے لیے کانگریس اور بی جے پی دونوں کو ہی قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ان پارٹیوں کو ڈر ہے کہ اگر افضل گرو کو پھانسی دے دی گئی تو انھیں مسلمانوں کے ووٹ سے ہاتھ دھونا پڑے گا، دیوندر سنگھ بھُلّر کو پھانسی ہوئی تو سکھوں کا اور اسی طرح اگر دارا سنگھ کوپھانسی ہوئی تو ہندوؤں کا ووٹ گنوانا پڑے گا۔
پھانسی کے معاملہ پر ہونے والی سیاست نے ایک بات تو ثابت کر ہی دی ہے کہ ہندوستان کی سبھی پارٹیاں مذہب کے نام پر سیاست کرتی ہیں، یہ لیڈران جب مسلمانوں کے علاقے میں جاتے ہیں تو مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح جب ہندوؤں کے حلقے میں جاتے ہیں تو انھیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہی معاملہ سکھوں کے ساتھ بھی ہے۔ بہت سے لیڈران ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، پھر دہشت گرد کو ملنے والی سزا پر مذہب کی سیاست چہ معنی دارد؟ کیوں یہ سیاسی لیڈر کسی دہشت گرد کو اس کے مذہب کے نام پر یاد کرتے ہیں، دہشت گرد تو دہشت گرد ہوتا ہے، انسانوں کا قتل عام کرتے وقت جب اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور اس نے عورت، مرد اور بچوں میں سے کسی میں امتیاز نہیں کیا تو پھر اس کے ساتھ مذہب کے نام پر یہ امتیاز کیوں؟ اس قسم کی باتوں سے ہندوستانی جمہوریت کو ہمیشہ دھکا پہنچتا رہا ہے اور دنیا کے اندر اس کی بدنامی بھی ہوتی رہی ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ریاست ہے، یہاں پر مذہب کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ مجرم چاہے وہ مسلمان ہو، ہندو، سکھ، عیسائی یا کسی اور مذہب کا ماننے والا، اس کے ساتھ ایک مجرم جیسا ہی سلوک کیا جانا چاہیے۔

دیوندر پال سنگھ بھُلّر کا واقعہ
11 ستمبر ، 1993 کو آل انڈیا یوتھ کانگریس کے صدر، مہندر جیت سنگھ بِٹّا 5، رائے سینا روڈ، نئی دہلی پر اپنے دفتر میں تھے۔ دن کے تقریباً ڈھائی بجے، وہ اپنی سرکاری کار سے دفتر سے باہر نکلے۔ ان کی کار کے آگے آگے سیکورٹی اہل کاروں کی ایک کار چل رہی تھی۔ سیکورٹی اہل کاروں کی اس کار نے جیسے ہی رائے سینا روڈ کی طرف ٹرن لیا، بٹا کے دفتر کے باہر کھڑی ایک کار میں زوردار دھماکہ ہوا۔ اس بم دھماکہ میں نو افراد ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہوئے۔ بٹا کی ٹانگوں پر گہرے زخم آئے۔ بعد میں پولس کے ایک بیان میں کہا گیا کہ سکھ دہشت گرد گروپ ’خالصتان لبریشن فورس‘ (کے ایل ایف) کے لوگوں نے اس حملہ کو انجام دیا ہے اور اس کے تحت کلدیپ، سکھدیو سنگھ، ہرنیک، دیوندر پال سنگھ بھلر اور دیا سنگھ لہوریا کو ملزم قرار دیا گیا۔ بہت دنوں تک پولس ان میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کرسکی۔ بعد میں بھلر کو جرمنی سے جب کہ لہوریا کو امریکہ سے ہندوستان لایا گیا، جہاں پر ان کے خلاف 1987 کے ٹاڈا ایکٹ اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ آخرکار دہلی کی ایک عدالت نے لہوریا کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو خارج کرتے ہوئے اسے رہا کردیا، جب کہ بھلر کو 24 اگست، 2001 کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ بھلر نے نچلی عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی، لیکن سپریم کورٹ نے بھی 22 مارچ، 2002 کے اپنے فیصلہ کے تحت پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد بھلر نے صدر جمہوریۂ ہند کے یہاں معافی کی درخواست بھیجی، جسے گذشتہ 25 مئی کو صدر جمہوریہ کی طرف سے بھی خارج کر دیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *