فلسطین کی حمایت کرنے پر کاملہ شمسی کو جرمن تنظیم کا ادبی ایوارڈ دینے سے انکار

Share Article
Kamila Shamsie’s book award withdrawn over her part in Israel boycott

بہترین ادب تخلیق کرنے پر ہر 2 سال بعد ادبی ایوارڈ دینے والی جرمن تنظیم نے برطانوی ناول نگار کاملہ شمسی کوفلسطین کی حمایت اور اسرائیل مخالف نظریات کی وجہ سے ایوارڈ دینے سے انکار کردیا۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق 46 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری کاملہ شمسی کو جرمنی کے شہر ’ڈورٹمنڈ‘ کی انتظامیہ کی جانب سے دیے جانے والے ادبی ایوارڈ ’نیلی سَکس‘ کا فاتح قرار دیا گیا تھا۔’نیلی سَکس ایوارڈ‘ انتظامیہ نے کاملہ شمسی سمیت دیگر لکھاریوں کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم بعد ازاں 6 ستمبر کو ایوارڈ جیوری نے کاملہ شمسی کو اس کا فاتح قرار دیا تھا۔’نیلی سکس ایوارڈ‘ جرمن نڑاد یہودی شاعرہ ’نیلی سکس‘ کے نام پر دیا جاتا ہے، جنہوں نے 1966 میں ادب کا نوبل انعام جیتا تھا۔

Image result for Refusing to award the Literary Award of the German Organization to the Kamila Shamsie for supporting Palestine
یہودی شاعرہ کے نام پر دیے جانے والے اس ایوارڈ کو ہر اس ادیب کو دیا جاتا ہے جس کی تحریری شاندار ہوتی ہیں اور وہ لوگوں کے خیالات بدلنے میں کامیاب جاتی ہیں۔ اسی بنیاد پر ایوارڈ جیوری نے کاملہ شمسی کی ادبی خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب تنظیم نے ان کے اسرائیل مخالف نظریات کی وجہ سے انہیں ایوارڈ دینے سے انکار کردیا۔

Image result for Refusing to award the Literary Award of the German Organization to the Kamila Shamsie for supporting Palestine
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ایوارڈ جیوری ارکان نے کاملہ شمسی کو ہی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم جیوری کے 8 ارکان نے خاتون مصنف کو ایوارڈ نہ دینے کا فیصلہ سنایا ہے۔بیان میں بتایا گیا کہ جس وقت جیوری نے کاملہ شمسی کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا، اس وقت جیوری ارکان خاتون مصنف کے نظریات سے واقف نہیں تھے اور ارکان نے ایوارڈ کے لیے اعلان کے بعد 14 ستمبر کو ایک بار پھر خاتون مصنف کے نظریات کا جائزہ لیا۔

Image result for Refusing to award the Literary Award of the German Organization to the Kamila Shamsie for supporting Palestine
بیان کے مطابق کاملہ شمسی گزشتہ 5 سال سے اسرائیل حکومت مخالف نظریات رکھتی ہیں اور وہ سیاسی طور پر اسرائیلی حکومت کی مخالف فلسطینی تنظیم ’بائکاٹ، ڈائوسٹمنٹ اینڈ سینکشنز‘ (بی ڈی ایس) کی حامی ہیں۔تنظیم نے بتایا کہ کاملہ شمسی 2014 سے صہیونی حکومت کی مخالفت کرنے والی تنظیم کی حمایت کرتی آ رہی ہیں جو ایوارڈ دینے والی تنظیم ’نیلی سکس‘ کے نظریات کے خلاف ہے۔تنظیم نے واضح طور پر اعلان کیا کہ جیوری ارکان نے فیصلہ کیا ہے کہ رواں برس کا ایوارڈ کاملہ شمسی کو نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی ارکان نے کسی اور ادیب کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا ہے۔

Image result for Refusing to award the Literary Award of the German Organization to the Kamila Shamsie for supporting Palestine
دوسری جانب کاملہ شمسی نے تنظیم کی جانب سے ایوارڈ نہ دینے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمن تنظیم نے دباؤ کے تحت انہیں ایوارڈ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کاملہ شمسی کے مطابق فلسطینی تنظیم بی ڈی ایس صرف اسرائیل حکومت کی صنفی تفریق اور فلسطینیوں کے خلاف اس کے بیہمانہ تشدد کی مخالفت کرتی ہے۔مصنفہ نے جرمن تنظیم کے فیصلے کو اظہار رائے کی آزادی کے خلاف بھی قرار دیا۔کاملہ شمسی کو ان کی ادبی خدمات پر اب تک چند ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے، گزشتہ برس ہی انہوں نے ’ویمن پرائز فار فکشن‘ کا ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *