لال قلعہ سے پنڈت نہرو کی تاریخی تقریرکشمیر پر ہندوستان کی پالیسی

Share Article

’’چوتھی دنیا‘‘ کے ایڈیٹوریل پیج پر ’’ جب توپ مقابل‘‘ کے ساتھ ’’ خیال در خیال‘‘ نام سے ایک کالم شروع کیا جارہا ہے۔ اس کالم کے ذریعہ ہم آپ کو وطن عزیز اور دنیا کے مختلف سماجی، سیاسی ،معاشی ،مذہبی اور دیگر ضروری مسئلوں پر اس خطے کے تجزیہ کاروں،لیڈروں،دانشوروں، ریسرچ اسکالروں کے نظریات سے واقف کرائیں گے۔ ’’ خیال در خیال ‘‘ جمہوریت کی بنیادی شرط ہے۔ہم ان کے خیالات جانیں گے تب ہی تو یہ طے کر پائیں گے کہ نظریہ کی سطح پر ہم کہاں کھڑے ہیں۔

ابھی کشمیر سرخیوں میں ہے۔لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کو لے کر اہم باتیں کیں۔ پاک مقبوضہ کشمیر پر اپنا دعویٰ اور گلگت بلوچستان میں ہورہے مظالم کے تئیں سخت مخالفت ظاہر کرکے دنیا کے سامنے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے بدلائو کا اشارہ دیا۔ ایسے میں مناسب ہے کہ ملک کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اسی لال قلعہ کی فصیل سے اپنی پہلی تقریر میں کشمیر کو لے کر کیا کہا تھا۔ ملک کے باشندوں کو یہ جاننا ضروری ہے کہ پنڈت نہرو کشمیر پر کیا کہتے تھے اور کیا سوچتے تھے۔ 15اگست 1953 کو لال قلعہ کی فصیل سے نہرو نے کشمیر پر جو بیان دیا تھا، اس وقت بھی کشمیر تاریخ کے عجیب و غریب دور سے گزر رہا تھا۔ کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کی دفعہ 370 کی مخالفت انتہا پر تھی۔ اسی تحریک میں کشمیر میں گرفتار کئے گئے ڈاکٹر شیامہ پرساد مکھرجی کی 23جون کو کشمیر کی جیل میں موت ہو چکی تھی۔ 8اگست کو پنڈت نہرو اپنے دوست شیخ عبد اللہ کی سرکار کو برخاست کر چکے تھے اور شیخ عبد اللہ کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ اس نازک موڑ پر نہرو نے بھی میڈیا کے کردار کی سخت تنقید کی تھی،لیکن نہرو نے یہ کہا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے لوگ ہی کریں گے۔ لال قلعہ کی فصیل سے نہرو نے پوری دنیا کو پیغام دیا تھا کہ کشمیر پر ہندوستان کی پالیسی کیا ہے؟آپ بھی پڑھیں پنڈت نہرو کی تقریر کا کشمیر کا متعلقہ جز۔

ابھی آج سے ایک ہفتہ ہوا، چند واقعات کشمیر میں ہوئے تھے، جن کی وجہ سے ہمارے پڑوسی ملک پاکستان میں کافی پریشانی ہوئی ہے۔ میں آپ سے ان واقعات کے بارے میں زیادہ نہیں کہنا چاہتا، کیونکہ یہ موقع نہیں ہے۔ لیکن اتنا میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ذرا واقف ہو جائیں۔ غلط خبروں کو نہ مانیں، غلط افواہوں کو نہ سنیں۔ کتنی غلط باتیں پھیلتی ہیں۔ جب میں ان گزشتہ چند دنوں کے پاکستان کے اخباروں کو پڑھتا ہوں تو میں حیران رہ جاتا ہوں کہ کشمیر کے بارے میں ان میں کیسی غلط خبریں چھپی ہیںکہ ہماری فوجوں نے کہاں کیا کیا ، کیا نہیں کیا۔
میں آپ سے کہتا ہوں، دعوے سے کہتا ہوں۔جان کر کہتا ہوں کہ ہماری فوجوں نے وہاں کوئی حصہ ان واقعات میں نہیں لیا۔ پھر بھلا اس کے کیا معنی ہیں کہ اس طرح سے یہ جھوٹ پھیلایا جائے۔ صرف پاکستان میں ہی نہیں،لیکن باہر کے اخبار نویسوں نے اور ملکوں نے بھی اس بات کو کہا۔ اس طرح سے خواہ مخواہ کے لئے غلط باتیں پھیلانا بے جا ہے۔ خواہ مخواہ کے لئے لوگوں کو ایک اشتعال دینا اور بھڑکانا، تاکہ ملکوں میں رنجش پیدا ہو،صحیح بات نہیں ہے۔اس وقت جو بے جا باتیں کشمیر میں ہوئیں، مجھے ان کارنج ہے،کیونکہ ایک پرانے ہمسفر اور ساتھی سے جب کچھ علاحدگی ہو، رنج کی بات ہے اور میں آپ سے کہوں گا، ایسے موقع پر کسی کو برا بھلا کہنا اچھا نہیں ہے، درست نہیں ہے۔ کیونکہ اپنے ایک پرانے ساتھی کو برا کہنا،وہ گھوم کر اپنے اوپر آجاتاہے۔ ایسی باتوں میں رنج ہوتا ہے،لیکن کبھی کبھی کتنی ہی رنج کیوں نہ ہو، اپنے کردار کو، اپنے فرض کو پورا کرنا ہوتا ہے، ادا کرنا ہوتا ہے۔
لیکن اگر ایسا کریں بھی تو وہ شان سے صحیح راستہ پر چل کر کریں، غلط باتوں سے نہیں اور ہمیشہ ان اصولوں کو یاد رکھ کر ۔ میں نے آپ سے کہا، اکثر کئی ایسی باتیں کشمیر میں ہوئیں، جن سے تکلیف ہوئی، اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے اور اس کے پیچھے یہ واقعات بھی ہیں، جس نے کسی قدر کشمیر کے لوگوں کو بھڑکایا۔
فرقہ وارانہ ، فرقہ پرستی کے وہ واقعات جو کچھ آپ کے دلی شہر میں ہوئے،یہ واقعات جو کچھ پنجاب میں اور کچھ اور جگہ پر بھی ہوئے، ایک عجیب تماشا تھا۔ یہاں چلے تھے ایک بات حاصل کرنے اور اس کا بالکل الٹا اثر پیدا ہوا۔ تو اس سے آپ دیکھیں گے کہ غلط راستے پر چل کر غلط نتیجہ ہوتا ہے، چاہے آپ کی نیت کچھ ہو، چاہے آپ کہیں جانا چاہیں۔
خیر، کشمیر کی بات میں آپ سے کہہ رہا تھا اور اسے پھر سے دوہرانا چاہتا ہوں کہ یہ آج نہیں،کئی برس ہوئے، تقریباً 6برس ہوئے، جب ہم نے اقرار کیا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا کشمیر کے لوگ ہی فیصلہ کر سکتے ہیں اور ہم نے اس کو بعد میں بھی دوہرایا ہے اور آج بھی یہ بالکل ہمارے سامنے طے شدہ بات ہے کہ کشمیر کا جو فیصلہ آخر میں ہوگا،وہ وہاں کے لوگ ہی کر سکتے ہیں،کوئی جبراً ،کوئی زبردستی فیصلہ نہ وہاں،نہ کہیں اور ہونا چاہئے۔
وہاں کشمیر میں ایک نئی گورمنٹ گزشتہ ہفتہ میں قائم ہوئی اور وہ جلدی میں ہے، جب تک کہ وہ کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی کرے، یعنی جو اس وقت وہاں ایک انتخاب شدہ اسمبلی ہے، اگر یہ اس کو قبول کر سکتی ہے تو ٹھیک ہے، نہیں کرتی ہے تو کوئی دوسری گورمنٹ وہاں کی کونسٹی ٹیوشنل چیمبر بنائے گی۔ہمارے جو اصول ہندوستان کے لئے رہے،وہ ہندوستان کے ہر ایک حصے کے لئے ہے، وہی کشمیر کے لئے بھی ہے۔
تو یہ واقعات ہوئے کشمیر میں،جو کچھ ہوا اس سے میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کو یا اوروں کو اس سے یکا یک کچھ تعجب ہو، کچھ حیرت ہو، کیونکہ آپ کو تو اس کی پرانی کہانی بہت حد تک معلوم نہیں۔لیکن کس حد تک بات بڑھائی گئی اورغگلط باتیں بتائی گئیں اورملکوں میں، خاص طور پر ہمارے پڑوسی ملک پاکستان میں، اور ان باتوں پر یہاں ایک عجیب پریشانی ،ایک عجیب ناراضگی اور ایک اظہار رائے ہوا ہے جس کا اصلیت سے کوئی تعلق نہیں۔ خیر میں یہاں خاص طور پر کسی کی بھی نقطہ چینی کرنے کھڑا نہیں ہوا، لیکن اپنے رنج کا اظہار کرتا ہوں۔ اگر ہم اس طرح جلدی سے اکھڑ جائیں، اس طرح سے گھبرا جائیں یا پریشان ہو جائیں تو کوئی بڑے سوال حل نہیں ہوتے، سمجھ میںنہیں آتے۔
میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں ،آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں، ہمارے سامنے ہزاروں بڑے بڑے سوال آئیںگے، دنیا کے سامنے آئیں گے اور اس وقت آپ کا اور ہمارا اور ہمارے ملک کا امتحان ہوگا کہ ہم امن سے، سکون سے، اطمینان سے ان پر غور کرتے ہیں یا گھبرا ئے ہوئے، پریشان ہوئے، ڈرے ہوئے ادھر ادھر بھاگتے ہیں۔ اس طرح سے ہر قوم کے امتحان ہوتے ہیں اور جتنا زیادہ مشکل سوال ہو، اتنا ہی زیادہ دماغ ٹھنڈا ہونا چاہئے۔ اتنا ہی زیادہ پرامن ، پرسکون اور مطمئن ہوکر کام کرنا چاہئے۔ کشمیر پر جب ہم نے یہ نبیاد ی اصول مقرر کردیا کہ کشمیر کے بارے میں کشمیر کے لوگ طے کریں گے،، تو اس کے بعد پھر بحث کس بات کی۔
ہاں، باتیں ہو سکتی ہیں کہ کس طریقے سے ہوں،راستہ کیا ہو، لیکن ایک اصول کی بحث تو نہیں ہے۔ شروع سے جب سے یہ کشمیر کا معاملہ ہمارے سامنے آیا، ہم نے یہی بات کہی، اور دوسری بات یہ کہی کہ ہندوستان میں کشمیر کی ایک خاص جگہ ہے۔ ہندوستان کے خاندان میں کشمیر آیا،خوشی کی بات ہے، مبارک ہو۔
لیکن یہاں اس کی جگہ خاص رکھی گئی، اوروں کی نہیں۔کیونکہ جغرافیہ نے اور وجوہات نے ایک خاص جگہ اسے دی۔ جو لوگ ناسمجھی میں شور و غل مچائیں گے کہ دیگر ریاستوں کی طرح کشمیر کی بھی جگہ ہونی چاہئے ،وہ نہ واقعات کو سمجھتے ہیں اور نہ حالات کو اورانہوں نے دیکھا کہ اس کا نتیجہ الٹا ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *