آرایس ایس کے ذریعہ مدارس کے قیام کی تیاریاں مکمل

Share Article

 

اتراکھنڈ میں مدرسہ کیلئے خریدی گئی زمین، تعمیراتی کام جلد شروع ہونے کاامکان

 

راشٹریہ سویم سنگھ ملک میںمدارس قائم کریںگی ،یہ بات ابھی تک سنی ہی جارہی تھی ،مگر آرایس ایس کے اس ارادہ کوعملی جامہ پہنانے کی تیاریاںمکمل ہوچکی ہیں۔آرایس ایس کاپہلامدرسہ اتراکھنڈمیںقائم کیاجاناطے ہوگیاہے،جس کے لئے زمین بھی خریدلی گئی ہے اورجلدہی تعمیراتی کام شروع ہونے والاہے۔

 

راشٹریہ سویم سنگھ نے بہت پہلے یہ اراداہ ظاہرکردیاتھاکہ وہ ملک میںایسے مدارس کاقیام عمل میںلائے گا،جس میںدینی تعلیم کے ساتھ ہی جدیدتعلیم سے طلبا وطالبات کوآراستہ کیاجائے گا۔سنگھ کے اس ارادہ کوعملی جامہ پہنانے کی سنگھ سے منسلک افرادنے تیاریاںبھی مکمل سی کرلی ہیں۔جس کے لئے اتراکھنڈریاست جسے دیوبھومی بھی کہاجاتاہے میں وہ جگہ بھی تلاش لی گئی ہے،جہاںآرایس ایس کے زیراہتمام چلائے جانے والاملک کاپہلامدرسہ قائم کیاجائے گا۔بھارتیہ جنتاپارٹی کی معاون تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کے ذریعہ کھلنے والے اس مدرسہ کی شروعات میںتقریباپچاس طالبات کوداخلہ دیاجائے گا۔اطلاعات کے مطابق راشٹریہ سویم سنگھ کایہ پہلامدرسہ اتراکھنڈکے ہری دوارضلع کے دیہی علاقے میںقائم کیاجائے گا۔آرایس ایس کی تنظیم مسلم راشٹریہ منچ کی ریاستی سربراہ سیماجاویدنے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سلسلہ میںکئی طرح کی تیاریاںمکمکل کی جاچکی ہیں،اورباقاعدہ زمین بھی خریدلی گئی ہے۔یہ مدرسہ ہری دوارضلع کس بستی میںقائم کیاجارہاہے،اس بستی کانام پوشیدہ رکھتے ہوئے محترمہ سیماجاویدنے کہاکہ جس جگہ قائم ہوگااس کااعلان ابھی تونہیںکیاجاسکتامگرجلدہی پورے ملک کومعلوم ہوجائے گا کہ ہری دوارکے کس خطہ میں اس مدرسہ کاقیام عمل میںلایاجارہاہے۔ انہوںنے بتایاکہ اس مدرسہ کانصاب اسی طرح سے تیارکیاگیا،جیسی ملک کے وزیراعظم نریندرمودی کی چاہے کہ وہ چاہتے ہیں اس طرح تعلیم کانظم کیاجائے کہ ایک ہاتھ میںقرآن ہواوردوسرے ہاتھ میںکمپیوٹرہو۔ وہیںاتراکھنڈمدرسہ ایجوکیشن بورڈکے ڈپٹی رجسٹرارحاجی اخلاق احمدکاکہناہے کہ اس طرح کے مدارس کے قیام میں کوئی برائی نہیں ہے، بہتریہاںبھی ایسے ماڈرن مدرسوںکاقیام عمل میںلایا جائے۔ادھراس اطلاع کے عام ہوتے ہی مسلم حلقوںمیںبھی چہ مے گوئیاں ہونے لگی ہیں۔رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبندکی اتراکھنڈشاخ کی عاملہ کے رکن ومدرسہ دارالعلوم ملامحمومنگلورکے مہتمم قاری نسیم احمد نے کہاکہ مدارس کاقیام کوئی بھی تنظیم یافردکرسکتاہے،مگرسنگھ پریواریہ کام کرے گاتو یہ ایک منظم سازش ہوگی،سنگھ پریوارکی تاریخ سے پتاچلتاہے کہ وہ مسلمانوں کے کلچراورتہذیب کومتاثرکرنے کے لئے ہی مدرسہ قائم کرناچاہتا ہے۔انہوںنے کہاکہ فاشسٹ طاقتیںاس طرح مدارس قائم کرکے مسلمانوںاورعلماء کے درمیان بدظنی پھیلاکران میںدوریاں پیداکرنے کی کوشش کریںگی،جبکہ دینی تعلیم کے ساتھ توپہلے ہی سے جدیدتعلیم سے بہت سے مدارس طلباکوآراستہ کررہے ہیں۔ آرایس ایس کے ذریعہ کھولے جانے والے مدرسہ کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی معترض نظرآرہی ہے،کانگریس کے لیڈرسوریہ کانت دھسامان نے آرایس ایس اوربھارتیہ جنتاپارٹی کی منشاپر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے پوچھاہے کہ جس جماعت مدارس کودہشت گردی کااڈہ بتاتی نہیںتھکتی ،آج وہ خودمدرسہ قائم کرکے عوام کوکیادرس دیناچاہتی ہے،کیاثابت کرناچاہتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ مدرسوںکاقیام جن کاکام ہیںوہ کررہے،آرایس ایس کوچاہئے کہ وہ ششومندروںکی طرف توجہ دے۔نفرت کادرس دینے والوںکو امن وسلامتی کی فکر کب سے ہونے لگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *