سنتوش بھارتیہ
دو ہزار نو سے لے کر 2014 تک کا وقت اگر سب سے زیادہ کسی کے لیے امتحان کا ثابت ہونے والا ہے، تو وہ ہندوستان کا میڈیا ہے۔ افواہیں بھی ہیں، واقعات بھی ہیں اور سچائیاں بھی ہیں۔ اس لیے صحیح وقت ہے کہ ایک بار ان ساری چیزوں کا ہم لوگ جائزہ لیں۔
2009 میں لوک سبھا کے انتخابات ہوئے اور اس وقت سارا میڈیا یہ مان رہا تھا کہ کانگریس یہ الیکشن ہار جائے گی۔ کانگریس بھی وہ الیکشن اس انداز میں نہیں لڑ رہی تھی، جس سے لگے کہ جیتنے کے لیے وہ الیکشن لڑ رہی ہے۔ اس کے برعکس بھارتیہ جنتا پارٹی مضبوطی کے ساتھ الیکشن لڑتی دکھائی دے رہی تھی اور ان کے یہاں عہدوں کی ویسی ہی بندر بانٹ ہو گئی تھی، جیسی آج ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ 2009 میں میڈیا، خاص کر ٹیلی ویژن پر آنے والے نیوز چینل بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت کی نہ صرف پیشن گوئی کر رہے تھے، بلکہ جس طرح آج سروے دکھائے جا رہے ہیں، اسی طرح اس وقت بھی سروے دکھائے جا رہے تھے اور عوام کو یہ سمجھایا جا رہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئے گی اور کانگریس اقتدار میں نہیں آئے گی۔
ہم باقی باتیں چھوڑ دیں، تو یاد کرنے کے لیے پہلا واقعہ ایک سال کے بعد ہوتا ہے، جب انا ہزارے رام لیلا میدان میں اَنشن کرتے ہیں۔ انا ہزارے کا انشن ٹیلی ویژن کے لیے ایک ایونٹ بن گیا اور لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ پہنچنے کی ہوڑ کھڑی ہو گئی۔ اس ہوڑ نے ایک طرف انا ہزارے کے انشن کو گلیمرائز کیا اور دوسری طرف ملک کے لوگوں کے من میں ایک امکان پیدا کیا کہ وہ اگر چاہیں، تو سرکار کو جھکنے کے لیے مجبور کر سکتے ہیں۔ صرف لوگوں کے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ دراصل، نہ میڈیا، نہ سرکار، نہ اسٹیبلشمنٹ، کوئی نہیں چاہتا کہ لوگ کھڑے ہوں۔ ان کی منشا ایک ہی ہوتی ہے کہ لوگ صرف دیکھیں اور انہیں پیسے کمانے کا بڑا موقع مل جائے۔ لیکن 2011 کی انا ہزارے کی تحریک نے ٹی وی چینلوں کو ملک کے کونے کونے میں پہنچا تو دیا، لیکن لوگوں کو بھی کھڑا کر دیا اور لوگوں کے من میں یہ ہمت بھر دی کہ وہ اگر چاہیں تو وقت بدلا جا سکتا ہے اور جیسے ہی اس پتہ میڈیا کو لگا، میڈیا نے خود کو انا ہزارے سے اور اس قسم کی سرگرمیوں سے خود کو سمیٹنا شروع کر دیا۔ لیکن، میڈیا نے یہ اسٹیبلش کر دیا کہ اگر وہ کسی واقعہ کے پیچھے پڑ جائے اور اسے دکھانے لگے، تو لوگوں کی دلچسپی اس میں شروع ہو جاتی ہے۔ یہاں ہمیں یاد کرنا چاہیے کہ کچھ دنوں پہلے مدھیہ پردیش کے شہر کے ایک جیوتشی نے اپنے مرنے کی پیشن گوئی کی تھی اور اس پیشن گوئی کو ٹی وی چینلوں نے کچھ یوں دکھانا شروع کیا تھا کہ اب مرنے کی گھڑی نزدیک آ رہی ہے اور وہ شخص، جس نے پیشن گوئی کی ہے وہ ہل رہا ہے، ڈول رہا ہے، اس نے سر اٹھا کر دیکھا، اس نے ہاتھ بڑھایا، اس نے آنکھیں ادھر گھمائیں، اب وہ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا، اب وہ تھوڑا سا سانس جلدی جلدی کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ پورا واقعہ ایک جھوٹا خیال ثابت ہوا، لیکن ٹی وی چینلوں نے تو یہ ثابت کردیا کہ وہ اگر چاہیں تو مری ہوئی بکری کو بھی دیوتا کے روپ میں قائم کر سکتے ہیں۔ اس واقعہ کو لے کر کسی ٹی وی چینل نے معافی نہیں مانگی کہ ہم نے ملک کے لوگوں کو جان بوجھ کر پیسہ کمانے کے لالچ میں بیوقوف بنایا۔
اس کے بعد اروِند کجریوال نام کی چڑیا ٹی وی چینلوں کے ہاتھ میں آئی اور ٹی وی چینلوں نے اروِند کجریوال کو ایک نیا دُمدار ستارہ بنانے کی کوشش کی۔ ملک میں ٹی وی چینلوں کی مہربانی سے کجریوال کھڑے ہو گئے اور کجریوال کا نام کشمیر سے کنیا کماری تک جانا جانے لگا، ٹھیک ویسے ہی جیسے سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ کا نام ملک میں ہر جگہ جانا جاتا ہے۔ لیکن، جیسے ہی ٹی وی چینلوں کو لگا کہ اروِند کجریوال نام کے ایک عام سے شخص کو انہوں نے ہمالیائی شخصیت میں بدل دیا ہے اور یہ شخص ہمیشہ ان کی مدح سرائی کرے گا، ویسے ہی اروِند کجریوال نے پلٹی ماری اور اروِند کجریوال میڈیا کے خلاف ہو گیا۔ انہیں جب لگا کہ سیاسی پارٹیوں کو گالی دینے سے انہیں فوٹیج ملتی ہے، تب انہوں نے سیاسی پارٹیوں کو گالی دی اور جب انہیں لگا کہ میڈیا کو گالی دینے سے انہیں فوٹیج ملتی ہے، تو انہوں نے میڈیا کو بھی گالی دی۔ میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اروِند کجریوال کا ذاتی دوست ہے۔ انہوں نے ایک نیا پیمانہ گڑھ دیا۔
میڈیا نے اپنی حملہ آور ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ تو کر دیا، لیکن میڈیا کو اس کا جو خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے، اس سے پریشان کوئی نہیں ہو رہا ہے۔ ان سارے واقعات نے میڈیا کی میڈیا کے طور پر تصویر دھندلی کر دی ہے۔ اب میڈیا مودی کی حمایت میں ہو، میڈیا مودی کی مخالفت میں ہو، اس میں بٹوارہ شروع ہو گیا۔ ان افواہوں کو کوئی خارج نہیں کرتا کہ ہزاروں کروڑ روپے نہ صرف ٹی وی چینلوں کو دیے گئے ہیں، بلکہ اخباروں کو بھی دیے گئے ہیں۔ یہ ہزاروں کروڑ روپے ٹی وی میں اشتہار کے روپ میں دکھانے کے لیے کم دیے گئے ہیں، بلکہ ایڈیٹوریل کی سطح پر نریندر مودی کی حمایت کرنے کے لیے زیادہ دیے گئے ہیں۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ زیادہ تر خبریں، چاہے وہ نریندر مودی کی مخالفت میں دکھائی جا رہی ہوں یا نریندر مودی کے حق میں دکھائی جا رہی ہوں، ان کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے، نریندر مودی کی قصیدہ گوئی اور یہ میڈیا کا ایک نیا شغل ہے۔ وہ نریندر مودی کے روپ میں ملک کو ایک نئی تخیلاتی اور انقلابی شخصیت دینے جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے نریندر مودی کے ذریعے دیا جانے والا کتنا پیسہ ہے، یہ تو ہمارے پاس ریکارڈ نہیں ہے، لیکن پورے میڈیا ورلڈ میں چھائی ہوئی اس افواہ کی مذمت آج تک کسی ٹی وی چینل کے ہیڈ نے یا عام بحثوں کے پلیٹ فارم پر کسی نے نہیں کی ہے ہے کہ میڈیا کو ان سارے کام کے لیے پیسے نہیں ملے ہیں۔
اسی لیے جب میڈیا کے کچھ لوگوں کے استعفیٰ کو لے کر اروِند کجریوال سوال اٹھاتے ہیں کہ انہیں مودی کی مخالفت کرنے پر نکالا گیا، تو یہ خبر چونکہ پریس کانفرنس میں کہی گئی، اس لیے ایک دو بار ٹی وی پر دکھا دی گئی، لیکن اس کے بعد اس خبر کی میڈیا نے نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی اس کے بارے میں اپنا تجزیہ سامنے رکھا۔ جن حضرت کو نکالا گیا، وہ بھی خاموش اور سوشل میڈیا کے اوپر ایک مہم سی چل گئی۔ ایڈیٹروں کو، چیف ایڈیٹروں کو دھمکی تک دیے جانے کی بات سیاسی لیڈروں نے اٹھانی شروع کر دی۔ اس سے ایسا لگا کہ میڈیا کے لوگ اتنے کمزور ہیں کہ وہ اپنے خود کو دی گئی دھمکی کو بھی لوگوں کے سامنے نہیں رکھ سکتے۔ اس کے لیے انہیں سیاسی لیڈروں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور یہ وہ نقطہ ہے، جہاں پر میڈیا کا نہ صرف تضاد سامنے نظر آتا ہے، بلکہ ان کی کمزوری بھی دکھائی دیتی ہے۔
اب یہ مانا جا رہا ہے کہ الیکشن کے بعد، یعنی 16 مئی کے بعد ایک ٹی وی چینل بند ہونے جا رہا ہے اور اس کے منیجنگ ایڈیٹر ہریانہ کے ایک ٹی وی چینل کو نیشنل چینل بنانے کا سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ اس کے مالک کانگریس کے ایک ایم پی ہیں، جو ہریانہ سے جیت کر لوک سبھا میں پہنچے ہیں، بڑے تاجر ہیں۔ کیا یہ مانیں کہ 16 مئی کو اگر نریندر مودی وزیر اعظم کے عہدہ کا حلف لیتے ہیں، تب میڈیا کے ایک بڑے حصے میں ایک معنی خیز تبدیلی آئے گی۔ زیادہ تر ایسے لوگ آئیں گے میڈیا میں، جو بی جے پی کے حامی یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے جڑنے کی لیاقت رکھتے ہیں۔ عام طور پر ماحول ایسا ہی ہے۔ اس لیے ان افواہوں کو بھی کوئی خارج نہیں کر رہا ہے کہ کون ان انتخابات کے بعد کتاب لکھنے کے لیے سال دو سال کی چھٹی لے گااور کون اپنی آئڈیالوجی کو بدل لے گا۔
دراصل میڈیا کی، چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک، ایک ہی پیمانہ ہونا چاہیے کہ ہم کمزور کا ساتھ دیں گے اور طاقتور کی مخالفت کریں گے۔ لیکن اب دیکھنے میں یہ آ رہا ہے کہ طاقتور کا ساتھ اور کمزور کی مخالفت، یہی ہمارے میڈیا کا اصول بن گیا ہے۔ ہم اس صورتِ حال کی مخالفت میں نا اتفاقی کا ہاتھ اٹھاتے ہیں اور ہم اپنے ان چند ساتھیوں سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ صحافت کے اس بنیادی اصول کو نہ چھوڑیں، جس میں صحافت کمزور کے حق میں کھڑی ہو اور صحافت برسر اقتدار یا طاقتور لوگوں کو یہ بتائے کہ سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ صحافت کے نام پر جو دلال اور چاپلوس پوری میڈیا کے اوپر قبضہ کر کے بیٹھ گئے ہیں، وہی لوگ میڈیا کا کیا چہرہ ہونا چاہیے، طے کر رہے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی، جیسے آج انتخابات اصولوں کی بنیاد پر نہیں کمزوریوں کی بنیاد پر لڑے جانے لگے ہیں۔ میں بول شیوک انقلاب کے دنوں کا ایک واقعہ یاد دلاتا ہوں، جس میں لینن نے کہا تھا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ جب تبدیلی آئے گی، جب انقلاب آئے گا، جب نئی سرکار آئے گی، تو وہ لوگ جو آج انقلاب کی مخالفت کر رہے ہیں، ہم سے زیادہ تیزی سے شور مچا کر انقلاب کی حمایت کریں گے۔ وہ سرکار کے ارد گرد ہوں گے اور اس وقت وہ لوگ جو انقلاب کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، شاید کہیں دکھائی نہیں دیں گے۔ آج صحافت میں ایسا ہی ہو رہا ہے، جو لوگ ریاکار ہیں، جنہیں صحافت کے اصولوں کا کچھ علم نہیں اور جو صحافت کو دلالی کے روپ میں استعمال کرنا چاہتے ہیں، آج صحافت کے مستقبل کا فیصلہ اور صحافت کا چہرہ کیسا ہو، اسے طے کرنے کے لے تیزی سے خود کو سامنے لا رہے ہیں اور صحافت کی طاقت کو دلالی کی طاقت میں بدل رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here