سنتوش بھارتیہ
اتر پردیش کا انتخاب سر پر ہے اور مسلم ریزرویشن کا شگوفہ کانگریس نے چھوڑ دیا ہے۔ کانگریس اس لیے کہ اقلیتی امور کے وزیر کانگریس کے ممبر ہیں، اس لیے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ شگوفہ کانگریس نے چھوڑا ہے۔ شگوفہ اس لیے کہہ رہا ہوں، کیوں کہ سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ اگر سنجیدگی ہوتی تو کئی سالوں تک رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ ٹھنڈے بستے میں نہیں پڑی رہتی اور نہ سرکار دباؤ میں آکر اسے رکھتی۔ سرکار اپنے آپ اسے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر سکتی تھی۔ ساتھ میں اس نے کیا کارروائی کی ہے، اس کی بھی جانکاری پارلیمنٹ کو دیتی کہ کس طرح رنگناتھ مشرا کی رپورٹ نافذ ہوگی۔ جسٹس سچر کی کمیٹی بنی تھی اور جسٹس سچر نے خاص کر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے امتیاز کے اسباب ملک کو بتائے تھے۔ تقریباً ہر مسلم تنظیم اور لیڈر سچر کمیٹی کو لے کر کافی فکرمند ہوئے۔ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ بیماری کی وجہ نہیں، بلکہ بیماری کا علاج بتاتی ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ نافذ ہو، اس کے لیے نہ تو مسلم تنظیموں نے کچھ کیا اور نہ ہی سیاسی پارٹیوں نے۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ جب ہم نے اس رپورٹ کو شائع کیا تو کچھ ممبرانِ پارلیمنٹ بیدار ہوئے اور راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں اسے لے کر ہنگامہ ہوا، اور آخرکار سرکار نے مجبور ہو کر اس رپورٹ کو ایوان میں رکھا۔ ہم نے کہا تھا کہ سرکار کہے کہ یہ رپورٹ جھوٹی ہے۔ سرکار نے رپورٹ کو جھوٹی کہنے کی جگہ اُس رپورٹ کو ایوان میں رکھنے کے لیے ممبرانِ پارلیمنٹ کے دباؤ کو مان لیا۔ اس رپورٹ کو رکھے ہوئے بھی تقریباً دو سال ہوچکا ہے، لیکن سرکار نے کوئی کارروائی اس پر نہیں کی اور نہ کارروائی کرنے کے لیے قوتِ ارادی ظاہر کی۔ اب جب اتر پردیش کا الیکشن سر پر ہے، تو سرکار کہہ رہی ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن ملے گا۔
بہت سارے باہمی اختلافات ہیں۔ کیا سبھی مسلمانوں کو ریزرویشن دیں گے، مسلمانوں میں جو پچھڑے ہیں انہیں ریزرویشن دیں گے، یا پس ماندگان میں جو نہایت پس ماندہ ہیں انہیں ریزرویشن دیں گے۔ ریزرویشن اگر مسلمانوں کو ملتا ہے تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو دھیان میں رکھتے ہوئے کہ 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا، عام کوٹے میں سے کسے نکالیں گے۔ عام کوٹے سے یہ ریزرویشن ہوگا یا دیا جائے گا یا دلت پس ماندہ ذات کے لیے جو ریزرویشن ہے، اس سے دیا جائے گا یہ ابھی صاف نہیں ہے۔ سرکار کو اس طرح کے کھیلوں سے بچنا چاہیے۔ اگر سرکار کو کچھ کرنا ہے اور اس طرح کے کھیلوں سے سرکار کو یا سرکار چلانے والی پارٹیوں کو کوئی فائدہ ملے گا، ایسا دکھائی نہیں دیتا، کیوں کہ اب مسلم سماج یا اقلیتی فرقہ سے وابستہ لوگ اتنے معصوم نہیں ہیں جتنے آج سے 15 یا  20 سال پہلے تھے۔ اب نئی نسل یا جوانی سے بڑھاپے کی طرف جارہے لوگ بہت سارے بیانوں کا مطلب سمجھنے لگے ہیں۔ اگر کانگریس یہ سوچتی ہے کہ اس بیان کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کے نظریہ سے اتفاق کرنے والی پارٹیاں اس کی مخالفت کریں گی اور انہیں مسلمانوں کے ووٹ کا فائدہ مل جائے گا، تو شاید وہ غفلت میں ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور ان کی حلیف پارٹیوں کو بھی معلوم ہے کہ یہ صرف ایک شگوفہ ہے اور انہیں یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اس کو جتنا بھی اچھالیں گے، انہیں مسلم ووٹوں کا بہت فائدہ نہیںہونے والا ہے، کیوں کہ اس ملک میں رہنے والے، چاہے وہ مسلم سماج کے لوگ ہوں، دوسری اقلیتی برادری کے لوگ ہوں یا اکثریتی فرقہ کے ہوں، وہ سبھی سیاسی پارٹیوں کی چالوں کو تھوڑا بہت سمجھنے لگے ہیں۔ سیاسی زبان کا مطلب انہیں پتہ چل گیا ہے۔ ہاں، اس سے صرف اتنا ہو سکتا ہے کہ چھوٹے طبقوں کو گمراہ کرکے آپ اخباروں میں بیان دلوا سکتے ہیں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ اس ملک میں سب سے بڑے اقلیتی طبقہ یعنی مسلمانوں کو یہ محسوس ہو کہ ہم ان کی پریشانیوں سے واقف ہیں، یہ ملک ان کی فکرمندیوں کو سمجھتا ہے اور انہیں اپنے برابر لانے کے لیے کچھ نئے طریقے بھی سوچ سکتا ہے۔ اس کے لیے 2006 سے ابھی تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تقریباً چار سال سے زیادہ کا وقت گزر گیا، سرکار، پارلیمنٹ اور سیاسی پارٹیاں اگر سنجیدہ ہوتیں تو اب تک کچھ نہ کچھ طریقے نافذ کرنے کا اعلان ہو چکا ہوتا۔ دراصل یہ پورا نظام نہ صرف غیر انسانی نظام میں بدل رہا ہے، بلکہ لوگوں کی تکلیفوں سے فکرمند ہونا بھی اس نے چھوڑ دیا ہے۔ اس کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ملک کے دبے کچلے طبقہ میں سے کئی سارے نوجوان ملک، حب الوطنی اور ملک کے تئیں اپنے فرائض کی حدیں بھولنے لگے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اب ملک میں رہنے والے لوگ، بالفاظ دیگر ملک کو چلانے والے لوگ ان کی تکلیفوں کے اوپر دھیان نہیں دیتے، تو ان کے لیے اس ملک کو اپنا کہنا کتنا جائز ہے۔ ایسا جذبہ اگر ملک کے تھوڑے سے لوگوں میں بھی پیدا ہوا ہے، تو یہ ہم سبھی کی ناکامی ہے، اور خطرناک بھی ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ ایسا ہو رہا ہے۔ بہت سارے حصوں میں اس قسم کی سوچ پھیلائی جا رہی ہے کہ یہ ملک ان کے لیے نہیں ہے جو گاؤں میں رہتے ہیں۔ یہ ملک کسانوں، اقلیتوں یا کمزوروں کے لیے نہیں ہے۔ یہ لوگ اس لیے ہیں کہ یہ سرکاروں کو منتخب کر رہے ہیں۔ ان کا کام صرف ووٹ ڈالنا ہے، ووٹ کے بعد ان کی زندگی بہتر ہوئی یا نہیں اس سے جیتنے والوں کو کوئی مطلب نہیں رہتا ہے۔ یہ سوچ ملک سے محبت کے نظریہ کے خلاف ہے، لیکن یہ بات اس لیے پھیل رہی ہے، کیوں کہ بہت سارے لوگ جو ملک چلاتے ہیں، سنجیدگی سے سوچتے نہیں ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اِدھر جتنے فیصلے ہوئے اُن میں سے زیادہ تر فیصلے ایسے تھے جسے ملک کے لوگوں نے شک کی نظر سے دیکھا۔ پر ایک عجیب اتفاق ہے اور بدقسمتی بھی ہے کہ اگر آپ اپنا درد سرکار سے کہنے جائیں تو سرکار یہ مانتی ہے کہ آپ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ چاہے درد کہنے والے مسلمان ہوں، دلت ہوں، غریب یا محروم لوگ ہوں، سرکار انہیں کب اپنا دشمن مان لے، یہ کہا نہیں جا سکتا ہے۔ یہ عجیب سی چیز سرکار چلانے والوں کے بیچ میں پیدا ہوئی ہے۔ پہلے جب لوگ اپنا دکھ درد کہتے تھے تو سرکار اُن پر غور کرتی تھی، اسے دور کرنے کا طریقہ بتاتی تھی، لوگوں سے مشورے مانگتی تھی، پارٹی کے اجلاس میں بحث ہوتی تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوتا ہے۔ اب اگر آپ ملک یا غریبوں کی بات کریں تو سرکار اور سیاسی پارٹیوں کو لگتا ہے کہ آپ اُن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اور اسے کہنے میں یا ظاہر کرنے میں سرکار کے لوگوں کو کوئی ہچکچاہٹ بھی نہیں ہوتی ہے۔ اسی لیے لوگوں نے وزیروں سے یا سرکاری اہل کاروں سے شکایت کرنا بند کر دیا ہے۔ من ہی من میں کہیں گھٹن ہو رہی ہے،  کہیں لوگ ناامیدی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اب ان سب حالات کا جسے سامنا کرنا ہے، وہ لوگ سوئے ہوئے ہیں۔ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جو غیر ذمہ دارانہ ہوتی ہیں۔
ہم نے یہ موضوع نئے طریقے سے اس لیے اٹھایا، کیوں کہ یہ موضوع کچھ ایسا ہے، جو غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اگر یہ موضوع ہندومسلمان کے تناظر میں دیکھا جائے گا، تو اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوں گی، لیکن اگر یہ موضوع اس طرح سے دیکھا جائے کہ اس ملک میں رہنے والے ایک طرح کے کام کرنے والے، بھلے ہی وہ کسی بھی مذہب کے ہوں، ان کے مسائل ایک ہیں، ان کی اقتصادی حالت ایک ہے، ان کی غریبی، بیماری، بیکاری ایک ہے، تو اگر ایک طبقے کو سہولیات ملتی ہیں، تو دوسرے طبقے کو کیوں نہیں مل رہی ہیں۔ رنگناتھ مشرا کمیشن یہی کہہ رہا ہے کہ اگر ہندو دلت کو تحفظ مل رہا ہے تو مسلم یا عیسائی دلت کو وہ تحفظ کیوں نہیں مل رہا ہے۔ جسٹس رنگناتھ مشرا خود اونچی ذات سے آتے ہیں، لیکن جب آپ ملک کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں، تو نہ آپ کی ذات ہوتی ہے، نہ آپ کا مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی آپ کسی کے بھائی یا چچا ہوتے ہیں۔ آپ انصاف کی کرسی پر ہوتے ہیں۔ شاید یہی جسٹس رنگناتھ مشرا نے کیا۔ وہ ایسی کرسی پر تھے، انہیں ایسی رپورٹ بنانی تھی جس کی ہدایت سپریم کورٹ نے کی تھی اور جسے سرکار نے سپریم کورٹ کے کہنے پر ٹرم آف ریفرنس میں ڈالا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ غلط سفارشیں کریں گے تو لوگوں کا اعتماد ٹوٹ جائے گا۔ اس لیے انہوں نے ایسی سفارشیں کیں جن کی مخالفت کسی سیاسی پارٹی نے نہیں کی۔ جب کسی سیاسی پارٹی نے اس کی مخالفت نہیں کی تو پھر کیوں سرکار نے اسے لوگوں سے چھپائے رکھا، اور کیوں نہیں اب بھی ان مسائل کے حل کے لیے بتائے گئے راستوں کا وہ اعلان کرتی ہے۔ اگر سرکار ابھی بھی رنگناتھ مشرا کمیشن کے ذریعے دی گئی صلاحوں پر عمل کرنے کا اپنا فیصلہ بتائے اور نافذ ہونے والے قدموں کا اعلان کرے تو یہ ماننا چاہیے کہ ہم بہت زیادہ ناامیدی کے دور میں نہیں ہیں۔ سرکار سے یہ اپیل کرنی چاہیے، خا ص کر مسلم تنظیموں کو اپیل کرنی چاہیے کہ سرکار رنگناتھ مشرا کے ذریعے پیش کی گئی تجویزوں کو نافذ کرنے میں دیر نہ کرے۔ پر یہاں سوال مسلمانوں کا بھی ہے کہ کیوں مسلمانوں کے اپنے لیڈر ، ان کی تنظیمیں اس کمیشن کی سفارشوں کو نافذ کرنے کے لیے آواز نہیں اٹھاتی ہیں۔ وہ کیوں جتنی بحثیں جسٹس سچر کے ذریعے کی گئی سفارشوں کے اوپر کرتے ہیں، اتنی بحث رنگناتھ مشرا کمیشن کے ذریعے دکھائی گئی تصویروں پر نہیں کرتے، یا ان کے ذریعے تجویز کردہ قدموں کے اوپر بحث کیوں نہیں ہوتی۔ یہ سوال ہے اور اس سوال کا جواب اگر کسی کو دینا ہے تو مسلم تنظیموں کو ہی دینا ہے۔ مسلم تنظیموں سے یا عام مسلمانوں سے ایک ہی بات کہہ سکتے ہیں کہ اگر آپ خود مطالبہ نہیں کریں گے تو لوگ آپ کے دروازے پر آکر آپ کو کھانا نہیں دیں گے، لوگ آپ کی عزت افزائی نہیں کریں گے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ خود رنگناتھ مشرا کی سفارشوں کو ایک متعینہ مدت کے اندر نافذ کرنے کے لیے سرکار پر دباؤ ڈالیں۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here