تہاڑ جیل میں بند ہندو قیدی بھی رکھ رہے ہیں رمضان کا روزہ

Share Article

 

ہندو قیدیوں نے آپسی میل جول اور رواداری کی مثال پیش کی

 

دہلی کے تہاڑ جیل میں مسلم قیدیوں کے ساتھ ہندو قیدیوں کے روزہ رکھنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سبھی روزہ دار رمضان کے اس پاک مہینے میں اسی شدت سے تمام شرائط کی پابندی کر رہے ہیں جتنی شدت سے مسلمان قیدی کرتے ہیں ۔

 

تہاڑجیل کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ اس وقت تہاڑ جیل کے اندر 150 سے زائد ہندو قیدی روزہ رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال روزہ رکھنے والے ہندو قیدیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ سال 59 قیدیوں نے روزہ رکھا تھا، جیل میں روزہ رکھنے کا یہ سلسلہ کئی سال سے چل رہا ہے اور ہر سال اس میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔ جیل میں بند روزوداروں کے لئے افطار اور سہری کا خاص اہتمام بھی انتظامیہ کی طرف سے کیا جا تا ہے۔ اس میں جیل اہلکار کے ساتھ ساتھ کئی سماجی تنظیموں کی بھی پوری حصہ داری رہتی ہے۔ ان سماجی تنظیموں کی طرف سے افطار بنا کر روز جیل میں پہنچایا جاتا ہے، جیل انتظامیہ کو سماجی تنظیموں کے اس کام سے کوئی شکایت بھی نہیں بے بلکہ وہ اس کام میں انکی پوری مدد بھی کر رہے ہیں۔ تہاڑ میں بند قیدیوں کی اصلاح کے لئے ہر ممکن کوشش انتظامہ کی طرف سے کی جا تی رہی ہے۔ مسلم قیدیوں کی اصلاح کے لئے تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں کو باقاعدہہ جیل میں بلایا جاتا ہے اور یہ لوگ قیدیوں کو راہ راست پر لانے کی کو شش کر تے ہیں ۔ اسی طرح ہندو قیدیوں اور سکھ قیدیوں کی اصلاح کے لئے پنڈت اور گرنتھی بھی جیل کا دورہ کرتے رہتے ہیں ۔یہ سلسلہ لمبے عرصے سے چل دہا ہے اور اسکا فائدہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے بہت سے قیدیوں کی زندگی میں اس مہم سے بدلاؤ بھی آیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *