رام دیو کی ذہنیت انتہائی پراگندہ ہے

Share Article

رام پنیانی
رام دیوآج کے کامیاب ترین بابا ہیں۔کوئی دوسر بابا انہیں چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔بابا رام دیو کا دعویٰ ہے کہ ان کے 100کروڑ مرید ہیں۔ لاتعداد لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بابا کے یوگ ٹریٹمنٹ سسٹم سے ان کی لا علاج بیماریاں ٹھیک ہوئیں اور ان کی صحت میں حیرت انگیز بہتریاں ہوئیں۔بہت کم وقت میں بابا رام دیو نے اربوں روپے کی تجارتی سلطنت قائم کر لیا۔ان کے مالکانہ حق والا ٹرسٹ ، درجنوں آشرم، آیورویدک دوائیاں بنانے کی فیکٹریاں، یوگا ٹریننگ سینٹر اور دیگر تجارتی ادارے چلاتا ہے۔بابا کی سلطنت ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ یوروپ اور امریکہ کے کئی ممالک میں ان کی تجارت خوب پھل پھول رہی ہے۔ ان کے ذریعہ تیار کردہ دوائیاں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو رہی ہیں۔رام دیو نے اپنے ارد گرد ایک روحانی سسٹم تیار کر لیا ہے۔ ان کے مرید انہیں خدا مانتے ہیں۔ انھوں نے اپنی شبیہ ایک ایسے سادھو کی بنائی ہوئی ہے، جو دنیاوی زمرے سے باہر ہے۔ وہ بھگوا پوشاک پہنتے ہیں، جو ان کے سنیاسی ہونے کی علامت ہے۔رام دیو کی کامیابی اس معنی میںہے کہ وہ دنیاوی اور روحانی دونوں ہی شعبوں میں افق پر ہیں۔ایک طرف انہیں خدا کا درجہ حاصل ہے تو دوسری جانب وہ اربوں روپے کی تجارتی سلطنت کے مالک ہیں اور اب سیاست میں بھی دراندازی کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
ہمارے ملک میں منطقی اور سائنسی ذہنیت کو ویسے بھی بہت ترجیح نہیں دی جاتی۔ یہ بات حیرت انگیز نہیں ہے کہ بابا رام دیو کا یوگ ٹریٹمنٹ اور ان کی آیورویدک دوائیاں کتنی اثر دار ہیں، اس کا کوئی سائنسی مطالعہ یا تجزیہ نہیں کیا گیا ہے۔ بقول بابا رادم : وہ کینسر، ایڈز اور دنیا کی ہر بیماری کا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بابا رام دیو کا ماننا ہے کہ ہم جنس پرستی بھی ایک بیماری ہے، جس کا وہ یوگ کے ذریعہ علاج کر سکتے ہیں۔ کچھ سالوں پہلے بابا رام دیواور برندا کرات کی کھلے عام جھڑپ ہوئی تھی اور ایشو تھا کہ بابا کی دوائوں میں استعمال کی جانے والی اشیاء میں جانوروں کی ہڈیوں کا پائوڈر پایا گیا تھا۔ ان کی فیکٹریوں میں مزدوروں کا استحصال کئے جانے سے متعلق الزامات بھی عائد کئے تھے۔برندا کرات کے الزامات سے بابا رام دیو بری طرح ناراض ہوئے اور انھوں نے اپنی دوائوں میں استعمال شدہ اشیاء سے متعلق عائد کردہ تمام الزامات کو سرے سے خارج کر دیا۔ جہاں تک ان کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے محنتانہ کا سوال ہے، وہ ایشو کچھ دنوں بعد خود بخود ٹھنڈا پڑ گیا۔
باباکا طریقۂ علاج اور ان کی دوائیاں غیر سائنسی ہیں، ایسا عام طور پر کہنے کی ہمت کم لوگ کر سکتے ہیں۔ یہ صرف بابا ہی بتا سکتے ہیں کہ ان کاطریقۂ علاج سائنس کی کسوٹی پر کس طرح کھرا اترتا ہے۔صرف ہندو مذہبی کتابوں کو پڑھ کر اور ان میں دئے گئے علاج کرنے کے طریقوں کا استعمال کرنا کس طرح سائنسی ہے، یہ کہنا مشکل ہے۔ اگر کوئی اس سلسلہ میں ڈبل بلائنڈ ڈرگس ٹرائلس، بایو کیمیکل اینا لسس ،فرماسیو ٹیکل کمپوزیشن یا سائڈ افیکٹ کی بات کرے گا تو اسے ہندو مخالف ، مذہب مخالف یا راون کا اوتار وغیرہ قرار دیا جائے گا۔ طبی سوال اٹھانے والے ہر شخص کے سامنے بھگوا پوشاک کی اونچی دیوار کھڑی رہتی ہے اگر کوئی طریقہ کامیاب ہے تو کیا صرف اس وجہ سے کہ اسے سائنس کہا جا سکتا ہے؟ بہرحال، بابا کے ذریعہ کینسر اور ایڈز کا علاج کرنے کے دعوئوں کی سائنسی جانچ اس لئے ضروری ہے، کیونکہ ان دعوئوں کے وہم میں آ کر کئی مریض صحیح وقت پر اپنا مناسب علاج شروع نہیں کرتے ہیں اور نتیجتاً ان کے مرض کی شدت بڑھ جاتی ہے۔
اس بات کا اعتراف ہمارے لئے مشکل نہیں کہ بابا کے ذریعہ بتائے گئے یوگ سے علاج کرنے کے طریقوں سے لوگوں کو فائدہ ہوتا ہوگا، لیکن اس طریقۂ علاج کا ٹیسٹ یاجانچ ہونا ضروری ہے، تاکہ اس کے بیجا استعمال کے خدشہ سے بچا جا سکے۔ سائنس اور سائنسی سسٹم پر ایلوپیتھی کا ہی حق نہیں ہے۔دیگر طریقوں سے علاج کرنے والوں کے ذریعہ رام دیو کا طریقہ کا رجائزہ اور تجزیہ ان کی بہتری کو ثابت کرنے کا سب سے اثردار طریقہ ہوگا۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ بنا سائنسی کی بنیاد پر کئے جانے والے اس طرح کے دعوئوں سے سماج کو نقصان نہ پہنچ سکے۔ روحانیت کا لبادہ بنیادی ایشوز کو نظر انداز کرنے کا بہانہ قطعی نہیں بن سکتا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے بابا یوگ اور روحانیت کے بجائے دیگر اسباب سے خوب سرخیوں میں ہیں۔ انھوں نے بدعنوانی کا مسئلہ حل کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ وہ ایک نئی سیاسی پارٹی کی تشکل بھی کرنے جا رہے ہیں، جو الگ انتخابات لڑے گی۔ بابا نے بدعنوانی کے خلاف جو محاذ کھولا ہے، وہ قابل تعریف ہے، لیکن کھٹکنے والی بات یہ ہے کہ بابا صرف ایک سیاسی جماعت کی بدعنوانیوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ان کا یہ رویہ یکطرفہ ہے۔بدعنوانی کے ایشو پر وہ کانگریس پرتو تیکھے وار کررہے ہیں، لیکن بی جے پی کے لیڈران کے بدعنوان رویہ کے بارے میں ان کی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا ہے۔ وہ سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی بدعنوانی کے بارے میں خاموش ہیں۔ یہ طبقہ ہماری بدعنوان مشنری کا اہم حصہ ہے۔ایسا لگتا ہے کہ بابا کا ہدف فرقہ وارانہ جماعتوںاور ملک کے امیر طبقہ کی مدد کرنا ہے۔
بدعنوانی کی بھی مختلف وجوہات ہیں۔ان میںلا محدود حقوق ، شفافیت کا فقدان اور اقتصادی لین دین اور پالیسیوں کے سوشل آڈٹ کا نظام نہ ہونا شامل ہے۔بدعنوانی کے لئے صرف قائدین کو قصوروار ٹھہرانے سے کام نہیں چلنے والا۔ کیا بدعنوانی کے لئے وہ لوگ قصوروار نہیں ہے، جو اپنا کام کرانے کے لئے رشوت دیتے ہیںـ؟بدعنوانی کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے سے پہلے بابا کو یہ مقرر کر لینا تھا کہ ان کے آشرموں میں ملنے والا چندہ جائز وسائل سے پیدا شدہ ہے اور اس پر تمام آئینی ٹیکس ادا کئے گئے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ بابا نے ایسا ضرور کیا ہوگا؟ عمومی طور پر روحانی شخصیت کے حامل سنت امن اور بھائی چارہ کے پیروکار ہوتے ہیں، لیکن بابا اس کے بالکل برعکس ہیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ 26/11کے حملہ کے بعد رام دیو نے پاکستان پر حملہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اس جنگ کے تمام اخراجات وہ اٹھائیں گے۔ اس دن کے صرف تصور سے ہی ہماری روح کانپ جاتی ہے ، جس دن ہمارے ملک کی سیاسی قیادت رام دیو جیسے جنگ کے حامی لوگوں کے ہاتھ میں ہوگی، جو روحانی طاقت سے امیر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان دنوں مذہب کی سیاست کا بول بالا ہوگا۔ بابا ایک ساتھ دو کشتیوں پر سواری کر رہے ہیں۔ ایک جانب وہ خود کو روحانی پیشوااور مذہبی سنت بتاتے ہیں تو دوسری جانب کامیاب تاجر اور حکمراں بننے کے خواہاں ہیں۔جن فرقہ وارانہ عناصر نے اقتدار پانے کے لئے عوام کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا ، ان سے بابا کی ساز باز کسی سے چھپی نہیں ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ بابا صرف ایک سیاسی جماعت کی بدعنوانی پر گلا پھاڑ پھاڑ کر شور مچا رہے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ اگر وہ بدعنوانی کے لئے ہمارے قومی اخلاق کا حصہ بن جانے کے اسباب کا مطالعہ، تجزیہ کرتے اور پھر ان اسباب کو دور کرنے کی کوشش کرتے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *