رام دیو جی، آپ کا ستیہ گرہ کیسا ہوگا

Share Article

سنتوش بھارتیہ
ملک ایک کنفرنٹیشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔کنفرنٹیشن ملکی مفاد میں ہے یا نہیں ہے، ابھی یہ نہیں کہہ سکتے، لیکن کنفرنٹیشن کیوں اور کس طرح کا ہونے والا ہے، اسے ذرا سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بدعنوانی ان دنوں ملک میں مرکزی موضوع بنا ہوا ہے اور انا ہزارے ،جن کی وجہ سے ملک میں ایک بیداری پیدا ہوئی، وہ ملک بھر میں گھومنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اتر پردیش میں کئی جگہ انہیں جانا تھا، لیکن وہ نہیں جا پائے، کیونکہ ڈاکٹر نے انہیں منع کر دیا۔ اگر ڈاکٹر اجازت نہیں دیتے ہیں تو پروگرام نہیں دینا چاہئے اور اگر پروگرام دیتے ہیںتو چاہے کتنے بھی بیمار ہوں، وہاں پر پہنچنا چاہئے۔اس سلسلہ میں اگر کوئی مثال دینا ہو تو وہ وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کی دینا چاہئے۔وہ ایک دن ڈائیلسس کراتے تھے اور اگلے دن اس حالت میں نہیں ہوتے تھے کہ کہیں جائیں،لیکن اگر انھوں نے پروگرام دے دیا تو وہ ضرور جاتے تھے۔ صبح جاتے تھے، ملک کے کسی بھی کونے میں، جہاں سے وہ ہوائی جہاز سے شام کو واپس آ جاتے تھے اور اگلے دن پھر ڈائیلسس کراتے تھے۔بابا رام دیو، جنھوں نے بدعنوانی کے خلاف لڑائی کو اپنی جانب سے اپنے کندھوں پر لے لیا ہے، پورے ملک میں گھوم گھوم کر لوگوں کو تیار کر رہے ہیں کہ وہ بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں ان کا ساتھ دیں۔ بابا رام دیو آئندہ 4جون سے دہلی میں ایک لاکھ سے دس لاکھ کے درمیان لوگوں کو مدعو کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ ستیہ گرہ پر بیٹھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں10کروڑ لوگ ان کے ساتھ ستیہ گرہ کریں گے۔ ستیہ گرہ لفظ گاندھی جی کا دیا ہوا ہے۔گاندھی جی نے ستیہ گرہ کو ایک ہتھیار کی طرح استعمال کیا اور انگریزوں کے خلاف اس ہتھیار سے کامیابی کے ساتھ لڑائی لڑی۔
گاندھی جی کا ماننا تھا کہ مقصد جیسا ہو، وسیلہ بھی ویسا ہی ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر ان کا ماننا تھا کہ اگر آزادی حاصل کرنی ہے تو اس کا وسیلہ بھی ایسا ہونا چاہئے کہ جس سے آزادی حاصل ہو سکے۔وہ تشدد یا ہتھیاروں کے ذریعہ آزادی ملتے نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ اس لئے انھوں نے عدم تشدد کا راستہ چنا۔اس کے لئے انھوں نے ستیہ گرہ کی کئی شکلیں سامنے رکھیں اور لوگوں کو اس میں شامل کیا۔جیسے ذاتی ستیہ گرہ، نمک ستیہ گرہ، غیر معاون ستیہ گرہ وغیرہ وغیرہ۔ گاندھی جی کسی بھی ستیہ گرہ سے پہلے اس کے قاعدے قانون لوگوں کے سامنے رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ جو بھی ان کی تعمیل کرنے کی ہمت رکھے، اہلیت رکھے، وہی ان کے ستیہ گرہ میں شامل ہو۔ اگر آزادی کی تحریک کی کہانیاں دماغ میں آ رہی ہیں تو یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کس طرح آزادی پانے کے ستیہ گرہ میں انگریز پولس کا سامنا ستیہ گرہ میں شامل لوگ خاموش ہو کر ، ڈنڈے کھا کر بھی کرتے تھے اور حملہ نہیں کرتے تھے۔پولس ڈنڈے برساتی تھی، ستیہ گرہی جھنڈا ہاتھ میں لئے ہوئے ’’جھنڈا اونچا رہے ہمارا، وجئی وشو ترنگا پیارا‘‘ گاتے رہتے تھے۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے تھے، ان سے گاندھی جی کہہ دیتے تھے کہ آپ ہماری تحریک میں نہ رہیں۔چوری چورا اس کی ایک مثال ہے۔پر امن ستیہ گرہ تھا، لیکن چوری چورا میں پولس اسٹیشن میں آگ لگا دی گئی، جس میں کچھ لوگ جل کر مر گئے۔ گاندھی جی نے ستیہ گرہ واپس لے لیا۔ گاندھی جی نے ملک کو ایک ڈسپلن ، عدم تشدد لڑائی کے لئے تیار کیا تھا اور سالوں کی محنت کے بعد تیار کیا تھا۔ اس ستیہ گرہ لفظ کا استعمال بابا رام دیو اب کر رہے ہیں۔ہم التماس کرتے ہیں کہ بابا رام دیو جتنی جلدی ہو سکے، اپنے ستیہ گرہ کا خاکہ، ستیہ گرہ کی شرائط، جو اس میں شامل ہونے والے ہیں، ان میں کیاکیا خوبیاں ہونی چاہئیں ، کیا کیا اہلیتہونی چاہئے، ان تمام چیزوں کا اعلان کر دیں اور اعلان اس لئے کر دیں کہ اگر لڑائی بدعنوانی کے خلاف ہے تو کم سے کم ان کی تحریک میں وہ لوگ تو نہ شامل ہوں، جو ضلع یا ریاستی سطح پر ایسے دھندوں میں شامل ہیں جن میں کالے دھن کا استعمال ہوتا ہے، جو سیلس ٹیکس کی چوری کرتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ شامل ہوں جو ملک میں وہائٹ منی سے زیادہ بلیک منی چلاتے ہیں۔ کچھ چیزیں بابا رام دیو کو صاف کر دینی چاہئیں کہ ان کے ستیہ گرہ میں یہ لوگ شامل ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔ یہاں سے ایک نئی طرح کی عوامی سیاست کا آغاز ہو سکتا ہے۔اگر بابا رام دیو نے یہ نہیں کیا تو عوامی سیاست کی جگہ ان کی تحریک میں وہ لوگ شامل ہو جائیں گے، جو لپینس ہیں، جو لوگ ہر تحریک کو لوٹ کھسوٹ میں تبدیل کرنے میں ماہر ہوتے ہیں اور جن میں کسی بھی چیز کوپر تشدد بنانے کی اہلیتہے، فرقہ وارانہ بنانے کی اہلیت ہے۔حالانکہ بابا رام دیو سے ایک بڑی غلطی ہو رہی ہے،بدعنوانی کے خلاف اپنی تحریک میں، اب میں ستیہ گرہ لفظ کا استعمال کر رہا ہوں، کیونکہ انھوں نے ستیہ گرہ لفظ کا استعمال کیا ہے۔ ستیہ گرہ میں سماج کے تمام طبقات کے لوگوں کو اپنے ساتھ لینا چاہئے ، لیکن انھوں نے سیاست سے وابستہ اور سیاست کو چلانے والی بالواسطہ تنظیموں کو اپنے ساتھ لینے کا اشارہ دیا ہے۔ لال کرشن اڈوانی، اوما بھارتی، گووند آچاریہ، اشوک سنگھل اور پروین توگڑیا کے ساتھ انھوں نے دہلی میں پریس کانفرنس کی اور راست طور سے بتا دیا کہ ان کے ارادے کیا ہیں۔میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ یہ بات بابا رام دیو کی سمجھ میں نہ آئی ہو، حالانکہ وہ بہت سمجھدار ہیں۔ اس لئے ان کی سمجھداری پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ انھوں نے بہت سوچ سمجھ کر ان لوگوں کے ساتھ پریس کانفرنس کی ہوگی اور اس میں ستیہ گرہ کا اعلان کیا ، جس میں اشوک سنگھل نے کہا کہ راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ مکمل طور پر بابا رام دیو کے ساتھ ہے۔
اگر بابا رام دیو سماج کے تمام طبقات کو، سیاست کے تمام طبقات کو، جو نہیں آتا وہ نہیں آتا، لیکن انہیں مدعو کرتے کہ وہ ان کے ستیہ گرہ میں شامل ہوں، بدعنوانی کے خلاف ایک مہم چلائیں، مہم کا حصہ بنیں، تو شاید زیادہ بہتر ہوتا۔ بابا رام دیو کو لوگ ایک یوگ گرو کی شکل میں جانتے ہیں۔بابا رام دیوکو لوگ اس لئے عزت دیتے ہیں، کیونکہ ان کی دوائوں سے انہیں فائدہ ہوتا ہے۔ بابا رام دیو کولوگ اس لئے بھی عزت دیتے ہیں، کیونکہ انھوں نے پہلی بار ہندوستان کے یوگا کو یوگ کی شکل میں دوبارہ قائم کیا۔ بابا رام دیو سے پہلے جتنے بھی یوگ گرو تھے، وہ بیرونی ممالک میں جاتے تھے اور وہاں یوگ کی تشہیر کرتے تھے۔اپنے ملک میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔یا کہیںکہ یوگ یہاں مقبول نہیں تھا۔ بابا رام دیو نے یوگ کو ملک میں مقبول بنایا ۔لفظ چھوٹا ہے لیکن اسے یوگا سے یوگ میں تبدیل کیا۔ جب سے بابا رام دیو نے ملک کی بدعنوان بیماریوںکو یوگ سے ٹھیک کرنے کی بات کہی ہے، تب سے سوال کھڑے ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ بابا رام دیو اگر ستیہ گرہ کے خاکہ کا اعلان نہیں کرتے اور کون لوگ ستیہ گرہ میں شامل ہو سکتے ہیں، یہ واضح نہیں کرتے تو مان لینا چاہئے کہ یہ تحریک کسی نتیجہ پر شاید نہ پہنچے۔
بہت ساری تحریکیں ملک میں ہوتی ہیں، بہتی ساری کوششیں ہوتی ہیں، جو کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتیں، کیوں؟ کیونکہ باقی جو لوگ تحریک کر رہے ہوتے ہیں، ان میں اور تحریک میں ایک تضاد ہوتا ہے۔ نظریاتی تضاد، جو بدعنوان ہیں، وہ ہی بدعنوانی کی مخالفت کریں! اور بدعنوان بھی وہ، جو واقعی بدعنوان کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسے لوگ ملک میں25-30فیصد کے قریب ہیں، جن میں5فیصد وہ ہیں، جن کا پیسہ بیرونی ممالک میں جمع ہے، لیکن باقی 25فیصد وہ ہیں، جن کا کالا دھن اسی ملک میں گھوم رہا ہے۔ ایشوز کو بگاڑنا نہیں چاہئے۔ بدعنوانی سے لڑنے اور اسے ختم کرنے کی بات مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، لوک نائک جے پرکاش وغیرہ سبھی نے کی۔ یہ ملک بدعنوانی کے اتنے بڑے جال میں ہے کہ شاید دنیا کا کوئی دوسرا ملک اتنے بڑے جال میں نہیں ہے۔ اس لئے بدعنوانی سے لڑائی کو ہلکا نہیں کرنا چاہئے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ ملک کے مزدور کسان، محروم، اقلیت یعنی تمام اس لڑائی میں شامل ہوں۔ویسے نظر یہ آ رہا ہے کہ اس لڑائی میں وہ شامل ہیں ، جن کا کردار اس لڑائی کو لڑنے کی نہیں ہے اور شاید اس لئے تھوڑا شور شرابہ ہو، تھوڑا ہلاہنگامہ ہو، کچھ فساد بھی ہو جائیں، لیکن اس ملک کے سو کروڑ عوام بدعنوانی کے خلاف چلنے والے اس ستیہ گرہ میں کیسے بھروسہ کریں، وہ بھی تب، جبکہ اس ستیہ گرہ کی تصویر اور خاکہ کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہ ہو۔ایسے میں اس ستیہ گرہ کو کامیابی کی جانب لے جانے کے امکانات پورے ہو پائیں گے یا نہیں، یہ مجھے نہیں معلوم۔ اس لئے اس ملک کے لوگوں کے ساتھ، لوگوں کے یقین کے ساتھ اگر ایمانداری برتنی ہے تو لڑائی کے ہر قدم کو لڑائی لڑنے سے پہلے صاف کرنا ہوگا۔
اس معاملہ میں مائونواز ایماندار ہیں۔ ان کی لڑائی کس کے خلاف، ان کی لڑائی کیسی ہوگی، ان کی لڑائی میں کون شامل ہو سکتا ہے، ان کی لڑائی میں کون کتنی دور تک جا سکتا ہے، وہ سب صاف کر دیتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جتنی ایمانداری مائونوازوں میں ہے، اتنی ایمانداری بابا رام دیو کو بھی دکھانی چاہئے اور انہیں اپنے ستیہ گرہ کے خاکہ، اپنے ستیہ گرہ کے امکان، اپنے ستیہ گرہ میں شامل ہونے والوں کے کردار اور اس کی شرائط کا اعلان کرنا چاہئے ، تاکہ لوگ ہمت کے ساتھ آگے آئیں اور بابا رام دیو کی اس لڑائی میں، جو لڑائی بدعنوانی کے خلاف وہ لڑنا چاہتے ہیں، ان کا ساتھ دے سکیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *