راجستھان کے دو پکے سنگھی، سیاست کا نیا کھیل شروع، کہیں تو ہورہی ہے سیاست

Share Article

سنیتا سنگھ ( جے پور)
p-10راجستھان کی سیاست میں ان دنوں کچھ الگ طرح کی آہٹ ہے۔ یہ آہٹ پیدا ہوئی ہے سنگھ کے دو پرانے سو ئم سیوکوں کے پھر سے ایک ساتھ آنے کو لے کر۔ دراصل ہوا کچھ یوں ہے کہ صوبہ میں طاقتور سیاسی حیثیت رکھنے والے وزیر داخلہ گلاب چند کٹریا اور ایک زمانے میں ان کے قریبی دوست ایم ایل اے دھن شیام تیواڑی ایک بار پھر ساتھ آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس سیاسی امکان کو طاقت تب ملی جب مارچ کے آخری ہفتہ میں اودے پور میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی ایک میٹنگ میں حصہ لینے کے لئے صوبہ کی یہ دونوں قد آور شخصیتیں نہ صرف ایک ساتھ، بلکہ ایک ہی گاڑی میں پہنچیں،پھر کیا تھا، صوبہ میں برسراقتدار پارٹی کے اندر کی سیاست کے ایک بار پھر سے کروٹ بدلنے کی بات شروع ہو گئی۔
آر ایس ایس کے بڑے کارکن دھن شیام تیواڑی صوبہ کی گزشتہ بی جے پی سرکار میں وزیر تعلیم کی شکل میں نہ صرف کابینہ میں شامل تھے، بلکہ اپنی قابلیت اور قوت بیانی سے انہوں نے مخالفین کو بھی مسحور کررکھا تھا۔ اس سے پہلے وہ صوبہ میں بھیرو سنگھ شیخاوت سرکار میں بھی الکٹرک منسٹر رہ چکے تھے، لیکن تیواڑی کا اکھڑ پن انہیں ا وزیر اعلیٰ وسندھرا سے دور لے گیا اور دھیرے دھیرے وہ ایک ایسے گروپ کے لیڈر کی شکل میں اجاگر ہونے لگے جو وسندھرا مخالف کی تھی ۔
اب بات کرتے ہیں موجودہ وزیر داخلہ گلاب چند کٹریا کی۔ کٹریا میواڑ کی سیاست کے بڑے نام ہیں۔ اودے پور ڈویژن میں ان کا ڈنکا بجتا ہے۔ ڈویژن کی آدیواسی آبادی سمیت پورے ڈویژن میں کٹریا کا بے حد دبدبہ ہے۔ سادگی والی سیاست کے ساتھ بے لگام ریمارکس کٹریا کی شخصیت کی خاصیت رہی ہے۔ راجے کی قیادت میں بی جے پی کی اس سے پہلے جو سرکار بنی تھی، اس میں بھی کٹریا کو وزارت داخلہ جیسا اہم محکمہ ملا تھا۔ کٹریا بھی پکے سنگھی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک وقت میں پارٹی کے اندر راجے مخالف سیاست کی دھوری سمجھے جاتے تھے۔ گزشتہ راجے سرکار میں وزیر داخلہ رہنے کے دوران گوجر آندولن سے نمٹنے کے طریقے کو لے کر کٹریا کی پارٹی کے اندر مخالفت شروع ہوئی۔ایسے وقت میں وزیر اعلیٰ کی خاموشی اختیار کئے رکھنا کٹریا کو چبھ گیا۔ لہٰذا یہی بات کٹریا کو بھی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سے دور لے جانے کی وجہ بنی۔
راجے سے تلخ ہوتے رشتے
گزشتہ بی جے پی سرکار، اقتدار سے باہر ہوئی اور کانگریس کی اشوک گہلوت کی قیادت والی سرکار اقتدار میں واپس آئی ۔ بی جے پی ہاری ضرور تھی، لیکن اس کے پاس اتنی سیٹیں ضرور تھیں کہ وہ ایک طاقتور اپوزیشن کا کردار نبھا سکتی تھی، لیکن یہاں پر بی جے پی کے اندرونی اختلاف پارٹی کی وقت بہ وقت فضیحت کراتی رہی۔ راجے کے دور اقتدار کے آخری دنوں میں دھن شیام تیواڑی اور گلاب چند کٹریا سے تلخ ہوتے رشتوں کا انجام کانگریس کے اقتدار میں آتے ہی کچھ ایسا ہوا کہ تیواڑی-کٹریا سنگھ حامی گروپ کی شکل میں ظاہری طور پر کچھ وقت تک تعداد کے لحاظ سے بھاری بھرکم کہے جانے والے وسندھرا راجے کے گروپ پر بھاری پڑتے نظر آئے۔ وسندھرا راجے کا وقت حالانکہ اپوزیشن میں رہنے کے دوران کافی حد تک غیر ملک میں گزرا، لیکن یہاں پر ان کے گروپ کی کمان راجے کے قابل اعتماد سپاہی کہے جانے والے راجندر راٹھور کے ہاتھ میں رہی جو کہ موجودہ سرکار میں بھی تقریباً اسی رول میں ہیں۔
رشتوں کی تلخی کی انتہا:
کانگریس کے اقتدار کے دوران طاقتور اپوزیشن مانی جانے والی بی جے پی اندر سے دو گروپوں میں بٹ چکی تھی۔ کٹریا – تیواڑی- راجوی اور ارون چترویدی جیسے سینئر لیڈر ایک گروپ میں تھے تو دوسری طرف تقریبا ًدو تہائی بی جے پی ایم ایل اے راجے کے ساتھ تھے۔ راجے کا اپنے ایم ایل ایل پر اتنا کنٹرول تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مرکزی قیادت نے اپوزیشن لیڈرکے عہدے سے راجے کو ہٹانے کی کوشش کی تو بڑی تعداد میں بی جے پی ایم ایل اے نے اچانک استعفیٰ دینے شروع کر دیئے۔ راجے کے سپہ سالار راجندر راٹھور نے اس مہم کی کمان سنبھالی۔ جیسے تیسے تیواڑی-کٹریا کو شانت کرکے پارٹی اعلیٰ کمان نے راجے کو قابو میں رکھا اور موجودہ اسمبلی کے انتخاب کی تیاری کرنے لگا۔
سیاست نے یوں بدلی کروٹ:
اب وقت تھا راجستھان میں بی جے پی کی اندرونی سیاست کے کروٹ لینے کا۔ لمبے وقت تک ایک دوسرے کا ہر حالت میں ساتھ نبھانے والے کٹریا -تیواڑی اور چترویدی کی تکڑی میں سے سب سے پہلے ارون چترویدی پر راجے کے پالیسی میکروں نے ڈورے ڈالے اور انہیں اپنے من کے مطابق ڈھال لیا، اس طرح سے سنگھ حامی مانے جانے والے اس گروپ میں پہلی بار درار پڑی۔
کٹریا نے کیوں چھوڑا تھا تیواڑی کا ساتھ:
ایک سوال اکثر کئی لوگوں کے من میں پیدا ہوتا ہے کہ آخر تیواڑی اور کٹریا میں ایسا کیا ہو گیا کہ کٹریا نے تیواڑی سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا؟اس کو لے کر کئی طرح کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں، اس میں سے ایک تو یہی ہے کہ کٹریا نے بھی آسان سیاست کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف ذرائع کی مانیں تو کٹریا کے گزشتہ دور کار کے دوران سہراب الدین مڈبھیڑ معاملے میں ان کے مبینہ ملوث ہونے کو لے کر سی بی آئی کا دبائو انہیں توڑ گیا اور وہ راجے کے اثر میں آگئے۔
ادھر تیواڑی نے نہیں بدلی راہ:
ایک طرف تو راجے گروپ نے جہاں کٹریا کو ساتھ ملا کر سنگھ حامی گروپ کو بڑا جھٹکا دے دیا تھا، تو وہیں پکے سنگھی دھن شیام تیواڑی نے پھر بھی اپنی راہ نہیں بدلی۔ اسمبلی کے لئے ہوئے انتخاب میں تیواڑی کسی بھی دوسرے بی جے پی امیدوار کے مقابلے کہیں زیادہ ووٹوں سے اپنی سیٹ نکال لئے۔ یہ جیت بے حد موثر تھی، لہٰذا مانا جانے لگا کہ اس بار بھی راجے کی قیادت میں بننے والی سرکار میںتیواڑی کو ضرور کوئی نہ کوئی اہم عہدہ دیا جائے گا،بھلے ہی سنگھ اس کے لئے دبائو بنائے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تیواڑی کو نہ تو کابینہ میں جگہ ملی اور نہ ہی انہیں کوئی اہم ذمہ داری تنظیم کے اندر ہی دی گئی۔ گزشتہ دو ڈھائی سال کے دوران تیواڑی کو ایک طرح سے الگ تھلگ رکھنے کی کوشش ہی کی گئی۔
اپنی ہی سرکار کو گھیرتے رہے تیواڑی:
راجے کے رخ سے پہلے سے ہی ناراض دھن شیام تیواڑی کمزور ہو چکے اپوزیشن یعنی کانگریس ایم ایل اے کے برعکس خود ہی ایک اپوزیشن کے کردار میں اتر آئے اور انہوں نے اسمبلی میں کئی مسئلوں پر اپنی ہی سرکار کو گھیر لیا۔ پھر چاہے وہ اس بار کا گورنر کے خطاب کے دوران سنسکرت کے غلط اشلوک پڑھنے کا معاملہ ہو یا بجلی تقسیم کے مینجمنٹ کی ذمہ داری بل 2016 کا معاملہ ہو ،نیز جے پور سمیت راجستھان کے متعدد علاقوں میں مندروں کو توڑے جانے کا معاملہ ہو، تیواڑی نے اپنی ہی سرکار کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ راجے کے مرد مجاہد کہے جانے والے راجندر راٹھور کو بھی تیواڑی کو سنبھالنے میں اسمبلی کے اندر پسینے آگئے۔
کٹریا بھی ہوئے ناراض:
یہی وہ دور تھا ، جب کئی وجہوں سے صوبہ کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹریا بھی کچھ تردد میں آگئے۔ انتخاب کے وقت اور بعد میں جیت کے بعد بھلے ہی وہ راجے کے ساتھ پروگراموں میں دکھائی دیتے ہوں اور وزیر اعلیٰ بھی انہیں بے حد عزت دیتے دکھائی دیتی ہوں، لیکن کٹریا کا سنگھ کا قریبی ہونا راجے حامیوں کو بوجھ بھی پڑ رہا تھا۔اسی دوران کچھ ایسی باتیں بھی ہوئیں، جن سے کٹریا ناراض سے رہنے لگے۔ مثلاً پولیس محکمے کا انچارج وزیر ہونے کے ناطے جن چیزوں پر ان کا کنٹرول ہونا چاہئے تھا،وہاں بھی سیدھی مداخلت راجے اور ان کے حامیوں کی رہنے لگی۔ ٹرانسفر اور پوسٹنگ جیسے مسئلوں میں بھی کٹریا کا جیسے کوئی لینا دینا ہی نہیں رہا۔ اس دوران کٹریا اکثر اپنے خطاب میں اور کئی بار تو پولیس محکمے کے افسروں اور ملازمین کی میٹنگ کے دوران بھی یہ توضیح کرتے دکھائی دیئے کہ صوبہ کی پولیس زمین و جائداد کے معاملوں میں الجھ کر بد عنوانی کے کوڑھ میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔ ان کی ناراضگی بڑھتی ہی جارہی تھی۔
گینگ اسٹار آنند پال معاملہ سے لکیر مزید گہری ہوئیـ:
اسی دوران بدنام جرائم پیشہ گینگ اسٹار آنند پال سنگھ کا معاملہ ہوا۔جس میں اپوزیشن اور برسراقتدار کے بھی کچھ ایم ایل اے کے نشانے پر رہے کٹریا کو گھیرنے کی زبردست کوششیں ہوئیں۔ ذرائع کی ماتیں تو کٹریا کو یہاں یہ بات چبھ گئی کہ جب وہ اس معاملے میں گھرتے نظر آئے تو نہ تو راجے کے پالیسی میکروں راجندر راٹھور (پارلیمانی امور کے وزیر) اور مدن راٹھور (چیف وہپ) نے ان کا ساتھ دیا اور نہ ہی خود راجے ہی مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑی دکھائی دی۔
کیا پھر نئی کروٹ لے گی بی جے پی کی اندرونی سیاست
گزشتہ دنوں اودے پور کے پرتاپ بھون میں ایک بار پھر جب کٹریا اور تیواڑی ایک ساتھ دکھائی دیئے تو یہ تاثر بھی بدلتا ہوا دکھائی دیا کہ شاید سنگھ دونوں مہارتھیوں کو ایک بار پھر سے قریب لا ئے گا۔ اس تازہ میل ملاپ کا کیا نتیجہ نکلے گا ،یہ تو وقت ہی بتائے گالیکن تازہ واقعات صوبہ میں بی جے پی کی اندرونی سیاست میں کچھ نئی ہلچلوں کا اشارہ ضرور دے رہے ہیں۔ دراصل گزشتہ ہفتہ بی جے پی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دران کچھ ایسا ہوا جس سے سیاسی تجزیہ کاروں کا دھیان اس طرف گیا کہ کہیں یہ بدلائو اودے پور کی میٹنگ کا نتیجہ تو نہیں؟دراصل اس میٹنگ کے دوران کٹریا لاکھ کوششوں کے باوجود اسٹیج پر نہ تو گئے اور نہ ہی انہوں نے اپنی ناراضگی چھپانے کی کوشش کی۔ حالانکہ یہ بھی پردہ میں ہے کہ آخر ان کی ناراضگی کی وجہ کیا رہی؟البتہ اس واقعہ سے سیاسی ماہرین آنے والے دنوں میں کچھ اٹھا پٹخ کی امید تو کر رہی رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *