راجستھان : دلت طالبہ کی عصمت دری کے بعد قتل کو خوب بھنایا راہل نے

Share Article

سنیتا سنگھ 
p-4bاپریل کا مہینہ صوبہ کی سیاست میں ایک دوسری طرح کی اتھل پتھل لے کر آیا۔ دراصل کانگریس کو یہاں ایک ایسا ایشو ہاتھ لگا ہے،جسے بھنانے کے لئے خود اس کے یوراج یعنی کانگریس نائب صدر راہل گاندھی کو میدان میں آنا پڑا۔ راہل آئے ،پورے دم خم کے ساتھ انہوں نے تال ٹھونکی اور امبیڈکر جینتی کے موقع پر انہوں نے اپنابرسوں پرانا آزمودہ ’دلت ہتھیار‘ بھی چلا ہی دیا۔
دراصل معاملہ باڑمیر علاقے کا ہے۔ گزشتہ مہینے کی 29تاریخ کو باڑمیر کے نوکھا قصبے کے’ جین آدرش ٹیچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ‘میں پڑھنے والی 17 سال کی ایک طالبہ ڈیلٹا میگھوال کا قتل کر دیا گیا۔ اس کی لاش ادارے کے احاطے کے اندر ہی پانی کی ایک ٹنکی میں پائی گئی۔ چہرے پر بری طرح چوٹ کے نشان تھے۔ شبہ ظاہر کیا گیا کہ اس کی عصمت دری کے بعد قتل کیا گیا ہے۔ راجستھان کے تریموہی گاﺅں کے دو کمروں کے گھر میں رہنے والی 17سال کی لڑکی ڈیلٹا کی آنکھیں بھی خواب دیکھتی تھیں۔ پڑھنے میں تیز اور آرٹ میں ٹاپر ڈیلٹا میگھوال کے تعلیم یافتہ والد اس کے حوصلوں کی اڑان کو پرواز دینے میں ہر ممکن حوصلہ دیتے رہتے تھے۔ سہولتوں کی عدم دستیابی کے باوجود والد پیارو محبت میں نشو نما پائی ڈیلٹا کی آنکھوں میں ایڈمینسٹریٹیو آفیسر بننے کی چاہت تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ڈیلٹا کو ہاسٹل کے وارڈن نے پی ٹی آئی کے کمرے میں صاف صفائی کے لئے بھیجا تھا، جہاں اکیلے پاکر پی ٹی آئی نے ڈیلٹا سے عصمت دری کی اور پھر پکڑے جانے کے ڈر سے اسے مار کر ٹینک میں پھینک دیا۔
ڈیلٹا کے والد مہندر رام کے مطابق 28مارچ کو رات 8بجے ڈیلٹا میگھوال نے انہیں فون کیا اور بتایا کہ اس کے ساتھ عصمت دری کی گئی ہے۔ ڈیلٹا نے یہ بھی بتایا کہ ہاسٹل وارڈن پریا شکلا نے اسے پی ٹی انسٹرکٹر وجیندر سنگھ کا کمرہ صاف کرنے کے لئے بھیجا۔ وہاں ملزم وجیندر سنگھ نے اس کا ریپ کیا۔ جس دن یہ حادثہ ہوا اس دن ہاسٹل کے اندر چار لڑکیاں ہی موجود تھیں۔ باقی لڑکیاں اپنے گھر گئی ہوئی تھیں۔
طالبہ ڈیلٹا کی موت کا معاملہ ابتدا میں اخباروں میں بھی کوئی خاص سرخیاں حاصل نہیں کر سکا۔ مقامی سطح پر ایک دو دن خبریں چھپیں، بیان بازی ہوئی۔ سوشل میڈیا پر چرچا ہوئی،لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ ادھر بی جے پی کے مقامی لیڈروں سمیت سرکار کی طرف سے اس بارے میں یہ مشہور کیا گیا کہ یہ عصمت دری یا قتل کا معاملہ نہیں، بلکہ خود کشی کا معاملہ ہے۔ کانگریس کا 13اپریل کو دلت سمیلن ہونا تھا۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ اس سمیلن کو ریاستی سطح پر ہی محدود رکھنا تھا، لہٰذا مرکزی لیڈروں کا اس سے کوئی خاص لینا دینا بھی نہیں تھا۔ سمیلن کے پوسٹروں ، تشہیری گاڑیوں پر بھی ریاستی کانگریس صدر سچن پائلٹ اور سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت سمیت صوبہ کے قد آور لیڈروں کا ہی بول بالاتھا۔ دلت سمیلن منعقد ہونے سے دو دن پہلے سے یہ آہٹ ہونے لگی کہ راہل گاندھی اس سمیلن میں شرکت کرسکتے ہیں ۔ ان کا آنا یقینی نہیں تھا۔ 11-12 اپریل کی درمیانی رات یہ بات بھی صاف ہو گئی کہ راہل گاندھی اس سمیلن میں شرکت کریں گے۔
راہل گاندھی جیسے ہی دلی سے ہی اپنا پلان چاک آﺅٹ کرکے نکلے تھے،وہ راجستھان کی زمین پر اترے تو سیدھے باڑمیر پہچ گئے ڈیلٹا میگھوال کے گاﺅں۔ وہاں انہوں نے متاثرہ خاندان کو ڈھارس بندھا ئی اور اپنی طرف سے انہیں انصاف کی لڑائی میں پورا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد راہل گاندھی لوٹ آئے اور یہاں دلت سمیلن میں حصہ لیا۔ تقریباً 20منٹ تک راہل نے تقریر کی اور دلتوں کے ایشو پر مرکز اور ریاستی سرکار کو گھیرنے کے لئے تیشن بان چلائے۔ یہاں انہوں نے خاص طور سے ڈیلٹا میگھوال معاملے کا ذکر کیا اور اسٹیج سے ہی سرکار کو چیلنج دیا۔ راہل گاندھی نے اسٹیج سے بی جے پی کو دلت مخالف قرار دیتے ہوئے ہنکار لگائی کہ جب تک اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کے حکم نہیں دے دیئے جاتے، تب تک وہ اس مسئلے کو یونہی نہیں ہوا ہونے دیں گے۔راہل گاندھی کے اس رخ سے سی بی آئی جانچ کا دباﺅ بننے لگ گیا تھا۔ اگلے دن ریاستی کانگریس صدر سمیت دوسرے لیڈروں نے بھی اسی طرح کے بیان جاری کرکے سرکار پر دباﺅ بنانا شروع کر دیا۔ اس پر وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے نے معاملے میں بڑھتے اختلاف کے درمیان یہ کہہ کر ایشو کو اور ہوا دے دی کہ وہ اس مسئلے پر قطعی سیاسی دباﺅ میں نہیں جھکیں گی۔اگر خاندان کے لوگ چاہیں گے تبھی سی بی آئی جانچ کی سفارش کی جائے گی، ورنہ نہیں۔
اب گیند کانگریس کے پالے میں تھی۔ لہٰذا کانگریس کے مقامی لیڈروں نے ڈیلٹا کے والد مہندر رام کو بیکانیر لاکر ان کی پریس کانفرنس کروائی۔ یہاں مہندر رام نے یہ کہہ کر سرکار پر دباﺅ بڑھا دیا کہ اگر وزیر اعلیٰ یہ چاہتی ہیںکہ ڈیلٹا کے خاندان سی بی آئی جانچ کی مانگ کرے ،تو ہم باضابطہ طور پر ریاستی سرکار سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کرائی جائے۔
وسندھرا نے کر دی سی بی آئی جانچ کی سفارش
کانگریس-بی جے پی کے بیچ شہہ مات کے اس کھیل کو وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے نے 19اپریل کو سی بی آئی جانچ کی مانگ مان کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ ریاستی سرکار نے سی بی آئی جانچ کے لئے محکمہ داخلہ کو ہدایت دی۔ حالانکہ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے پر سی بی آئی جانچ کا حکم سرکار نے کانگریس کے سخت رخ کو دیکھتے ہوئے لیا۔ بہر حال کانگریسی یہ مان کر خوش ہیں کہ ان کے لیڈر راہل گاندھی کی طرف سے سی بی آئی جانچ کی مانگ اٹھانے کے ایک ہفتہ کے اندر ہی ریاستی سرکار کا جھکنا صوبہ میں کانگریس کی بڑھتی پکڑ کو ظاہر کرتا ہے، تو وہیں بی جے پی کے پالیسی میکروں کا ماننا ہے کہ میڈم یعنی وسندھرا راجے نے سی بی آئی جانچ کی مانگ مان کر کانگریس کا لمبے وقت تک دلت کو ہراساں کئے جانے کے اس سرے کو پکڑ کر بیٹھی رہنے کی سیاست کو ختم کردیا ہے۔ ان سب کے بیچ اصل ایشو یعنی ڈیلٹا کی موت کی اصلی وجہ اسی طرح اندھیرے میں گم ہو گئی جیسے ملک کے دیگر مسئلے گم ہوتے جارہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *