راجستھان اسمبلی انتخابات: مودی اور راہل کریں گےزور آزمائش

Share Article

راجستھان اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور بی جے پی میں سیدھی ٹکر ہوگی۔ اس کے لیے دونوں پارٹیوں کے اعلیٰ کمان اپنے اپنے داؤں چل رہے ہیں۔ بی جے پی کی طرف سے نریندر مودی انتخابی مہم کی شروعات کرنے جا رہے ہیں، تو کانگریس ان کی کاٹ میں راہل گاندھی کو پیش کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ بی جے پی کی تیز طرار لیڈر وسندھرا راجے کو اپنی واپسی کا یقین ہے، تو حکومت مخالف لہر کے خدشے سے گہلوت پارٹی کے باغیوں کو منانے میں لگے ہوئے ہیں۔

p-10 ایک ایسی ریاست ہے، جہاں پر ابھی تک کوئی ایسی علاقائی پارٹی نہیں ابھر سکی ہے، جو دونوں قومی پارٹیوں بی جے پی اورکانگریس کو ٹکر دے سکے۔ اس لیے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ہونے والے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں راجستھان کا انتخاب بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے اہم ہے۔ دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت اس مہم میں جی جان سے جُٹ گئی ہے۔ عام طور پر ریاستوں میں انتخابی مہم کی شروعات سیاسی پارٹیوں کی ریاستی اکائیاں ہی کیا کرتی ہیں، لیکن راجستھان میں بی جے پی اور کانگریس دونوں کی تشہیری مہم کی شروعات نریندر مودی اور راہل گاندھی کرنے جا رہے ہیں۔

بی جے پی اس بار راجستھان میں واڈرا زمین گھوٹالہ، کانگریس کی مرکزی سرکار اور ریاستی سرکار میں بد عنوانی، بد انتظامی اور وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے ذریعے زمین اور کانکنی وغیرہ میں متعلقین کو فائدہ پہنچانے کا مدعا اٹھائے گی۔ اس کے ساتھ ہی بی جے پی اور کانگریس میں سیدھی ٹکر ہونے کے سبب بی جے پی مودی فیکٹر کا بھی فائدہ اٹھانا چاہے گی۔ ویسے بھی گجرات سے ملحق اضلاع ادے پور، نیمچ، مندسور، نرسانہ وغیرہ میںمودی کی مقبولیت بتائی جاتی ہے، اسے دیکھتے ہوئے بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کے پروپیگنڈے کے سلسلے میں مودی کی آدھی درجن ریلیاں تجویز کی ہیں۔ مودی اور راجناتھ ریاست میں بی جے پی کی پرچار مہم کی شروعات کریں گے۔ اسی لیے 10ستمبر کو جے پور میں ایک بڑی ریلی کا اہتمام کیا گیا ۔ اس کے برعکس اشوک گہلوت سرکار اپنی حصولیابیوں کے حوالے سے ووٹ مانگے گی۔ حالانکہ راجستھانی سرکار کے کھاتے میں ایسی کوئی حصولیابی نہیں ہے کہ جسے گہلوت عوام کے سامنے رکھ سکیں۔ مودی کی کاٹ پیش کرنے کے لیے راہل گاندھی خود راجستھان کانگریس میں دخل دے رہے ہیں۔ وہ پارٹی سے سیاسی حالات کا بیورا مانگتے ہیں اور اس کے مد نظر ہدایات دیتے ہیں۔
بی جے پی کی صدر بننے کے بعدوسندھرا راجے نے ’سوراج سنکلپ یاترا‘ کے تحت عوامی حمایت بڑھانے کے لیے ریاستی دورہ کیا، تو اشوک گہلوت نے بھی ’کانگریس سندیش یاترا‘ کا اہتمام کیا۔ وسندھرا کے ذریعے بی جے پی کی کمان سنبھالنے کے بعدپارٹی کو یقین ہے کہ وہ ریاست میں زبردست واپسی کر سکتی ہے۔ وسندھرا سرکار کو ہٹاکر کانگریس اقتدار میں آئی، تو پارٹی کی جائزہ میٹنگ میں بی جے پی کی اعلیٰ کمان نے تسلیم کیا کہ پارٹی میں پھوٹ کی وجہ سے اسے مات ملی، ورنہ بی جے پی اقتدار میں آسکتی تھی۔ پچھلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس، بی جے پی سے محض ڈھائی فیصد ووٹ آگے رہی۔ 200سیٹوں میں سے کانگریس کو 95اور بی جے پی کو 80سیٹیں ملی تھیں۔ بی جے پی اعلیٰ کمان نے انتخاب کے بعد یہ واضح کیا کہ وسندھرا کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انھیں درکنار نہیں کیا جاسکتا اور گزشتہ فروری میں ہی ریاستی بی جے پی کی کمان انھیں سونپ دی۔ حالانکہ سنگھ کی طرف سے وسندھرا مخالف خیمے کے گلاب چند کٹاریہ کو اپوزیشن لیڈر بنا کر یہ پیغام دیا گیا کہ مخالفین پر بھی توجہ دینی ہو گی۔وسندھرا بھی سب کو ساتھ لے کر چلنے کا بھروسہ دے چکی ہیں۔
ریاستی بی جے پی کی کمان سنبھال رہی وسندھرا راجے کی شبیہریاست میں بہت اچھی ہے،عوام میں بڑی مقبولیت ہے۔ وسندھرا کو شاید اپنے دم پر انتخاب جیتنے کا یقین ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ وہ اپنے اوپر مودی کو حاوی نہیں ہونے دیں گی۔ مودی بھی ایسے اشارے دے چکے ہیں کہ وہ راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میںضرورت سے زیادہ دخل نہیں دیں گے اور مودی، وسندھرا کی بھر پور مدد کریں گے۔ مودی کی طرز رپر ہی وسندھرا کی ’سوراج یاترا‘ کو ہائی ٹیک بنایا گیا، جس میں مودی کی معاون ٹیم کا بھی کردار رہا۔ وسندھرا نے اپنی ویب سائٹ بنائی، ٹویٹر اکاؤنٹ بنایا اور باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ نوجوانوں سے تکنیکی ذرائع سے جڑنا چاہتی ہیں۔ برسر اقتدار گہلوت سرکار الیکشن سے پہلے اس کوشش میں لگ گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اسکیمیں نافذ کر کے عوام کو اپنے حق میں کر سکے۔ راجستھان سرکار پر کانگریس اعلیٰ کمان کا دباؤ ہے کہ اسمبلی انتخاب سے پہلے فوڈ سیکورٹی اسکیم نافذ کی جائے۔ کانگریسی اقتدار والی ریاستیں ہریانہ اور دہلی میں یہ اسکیم پہلے ہی لاگو کر چکی ہیں۔ مرکز سے فوڈ سیکورٹی بل پاس ہونے کے بعد راجستھان کے اعلیٰ افسران، مرکزی افسروں سے اس بارے میں بات چیت کر چکے ہیں۔ اس کے لیے مرکز سے راجستھان کو 27ملین ٹن اناج ملے گا۔ اس سے پہلے اشوک گہلوت ، مدھیہ پردیش کی شیوراج سرکار کے طرز پر راجستھان میں سالانہ25ہزار بزرگوں کو مفت تیرتھ یاترا کرانے کا اعلان کر چکے ہیںگویا ہندو ووٹروں کو لبھانے کے لیے انھوں نے بی جے پی کے منصوبوں کو ہتھیانے سے بھی گریز نہیں کیا۔
دونوں پارٹیوں کی انتخابی سرگرمیاں اور ماحول یہ بیان کرتے ہیں کہ ان میں کانٹے کی ٹکر ہوگی۔سبھی انتخابی سروے بتا رہے ہیں کہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات دونوں میں بی جے پی کو برتری حاصل ہو گی۔ ریاست میں اینٹی انکمبنسی کے امکانات بھی درج کیے جا رہے ہیں۔خود کانگریس میں اشوک گہلوت مخالف گروپ طویل وقت سے سرگرم ہے اور اگلے انتخاب میں گہلوت کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ پارٹی اعلیٰ کمان تک یہ با ت پہنچائی جا چکی ہے کہ اگر اگلا الیکشن جیتنا ہے، تو گہلوت مفید ثابت نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے وسندھرا راجے کی ٹکر کا کوئی تیز طرار لیڈر اتارنا ہوگا۔ بی جے پی کی طرف سے وسندھرا وزیر اعلیٰ کے عہدے کی دعویدار ہیں۔ بی جے پی خاتون وزیر اعلیٰ کا کارڈ بھی کھیلے گی۔ اسی کی وجہ سے کانگریسی قیادت وسندھرا کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی قیادت کی تلاش میں لگی ہوئی ہے۔
ایک اور بات غور کرنے کی ہے کہ راجستھان میں گزشتہ چار انتخابات سے نہ تو بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آئی ہے اور نہ ہی کانگریس۔ 1993میں بھیروں سنگھ شیخاوت کی قیادت میں بی جے پی کی سرکار بنی، تو 1998میں کانگریس اقتدار میں آئی اور گہلوت وزیر اعلیٰ بنے۔2003میں بی جے پی نے الیکشن جیتا اور وسندھرا وزیر اعلیٰ بنیں، تو 2008میں پھر گہلوت نے عنان حکومت سنبھالی۔ اس لحاظ سے یہی مانا جا سکتا ہے کہ اس بار راجستھان کے عوام وسندھرا راجے کو اقتدار سونپیں گے۔ اس بارے میں عوام کا فیصلہ کیا ہوگا، یہ انتخابات کے بعد ہی پتہ چلے گا۔

Share Article

One thought on “راجستھان اسمبلی انتخابات: مودی اور راہل کریں گےزور آزمائش

  • September 28, 2013 at 2:39 pm
    Permalink

    جو کم ہم سماج کے لئے کرتے ہیں اسے سہے دنگ سے کرنا ہوگا کم ایسا ہو دس کے اچھے مستکبل لئے کریں

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *