روہنگیائی شہریوں کی سرگرمیوں پر ریاستی حکومتیں سخت نظررکھیں: راجناتھ سنگھ

Share Article
rajnath
نئی دہلی:آسام میں نیشنل رجسٹرآف سٹیزن (این آرسی) میں 40لاکھ لوگوں کوشامل نہ کئے جانے کے معاملے پرپارلیمنٹ میں آج دوسرے دن بھی ہنگامہ ہوا۔ترنمول کانگریس کی قیادت میں کانگریس، ایس پی، عام آدمی پارٹی اوردیگرپارٹیوں نے پارلیمنٹ احاطے اورایوان میں سرکارپرحملہ بولا۔این آرسی کے بیچ میں ایوان میں روہنگیاپناہ گزینوں کا معاملہ اٹھا۔لیکن اسی بیچ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ایوان کوبتایاکہ حکومت ہندکی اس موضوع پرمیانمار سے بات چیت چل رہی ہے۔انہو ں نے فروری 2018میں جاری ایڈوائزری کا ذکرکرتے ہوئے ریاستی سرکاروں سے روہنگیاؤں پرنظررکھنے کی اپیل کی ہے۔میانمار سے بھارت میں پناہ گزین کے طور پر قیام کرنے والے روہنگیائی شہریوں کے غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی اطلاع مرکزی حکومت کو ملی ہے۔ مرکزی حکومت نے ریاستوں کو حکم جاری کرکے روہنگیائی پناہ گزینوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرحد ی سیکورٹی دستہ اور آسام رائفل کو سخت چوکسی برتنے کو کہا گیا ہے تاکہ ان کے غیر قانونی طریقے سے بھارت میں داخلہ پر روک لگائی جاسکے۔
مرکزی وزیرداخلہ راجنا تھ سنگھ نے آج لوک سبھا میں وقفہ سوال کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میانمار سے بھارت میں آنے والے روہنگیا ئی پناہ گزینوں کے غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے بارے میں اطلاع ملی ہے۔ کچھ ماہ قبل ہی ریاستوں کو نوٹس جاری کرکے کہا گیا تھا کہ ان کی سرگرمیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے بارے میں اطلاع ملی ہے۔ کچھ مہینہ پہلے ہی ریاستوں کو نوٹس جاری کرکے کہا گیا تھا کہ ان کی سرگرمیوں پر باریکی سے نظر رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سیکورٹی دستہ اور آسام رائفل کو میانمارسے متصل سرحد پر الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ نے کہا کہ اس سال فروری میں جاری نوٹس میں کہا گیا کہ وہ اپنے یہاں موجود روہنگیائی مسلمانوں کی تعداد شمار کریں اور ان کو ایک مخصوص علاقہ تک محدود رکھیں اور ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکز نے ریاستی حکومت سے روہنگیا کے بارے میں رپورٹ مانگی ہے۔ ریاستوں سے رپورٹ مل جانے کے بعد وزارت داخلہ اسے وزارت خارجہ کو سونپے گی جس کے بعد وزارت خارجہ روہنگیا کو میانمار واپس بھیجنے کے بارے میں وہاں کی حکومت سے بات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قانونی طور سے ریاست بھی غیر قانونی پناہ گزینوں کو ان کے ملک بھیج سکتے ہیں۔ سنگھ سے پہلے وزیرمملکت برائے داخلہ کرن رججو نے ایک سوال کے جواب میں اراکین کو بتایا کہ کئی جگہوں سے روہنگیائی لوگوں کے بارے میں غیرقانونی سرگرمیوں میں شامل ہونے کی اطلاع ملی ہے، حالانکہ اس بارے میں انکشاف نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ریاستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ روہنگیائی پناہ گزین کسی طرح کی سرکاری دستاویز حاصل نہ کرسکیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *