ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی
ڈرامائی انداز میں بدلتے سیاسی حالات کے پیش نظر نتن گڈکری کے لیے بی جے پی کا دوبارہ صدر بننے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا اور انہیں اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ آر ایس ایس کی پہلی پسند ہونے کے باوجود گڈکری کے بجائے راجناتھ سنگھ کو بی جے پی کے صدر کا عہدہ تفویض کیے جانے کو عمومی طور پر اڈوانی، یشونت سنہا اور مہیش جیٹھ ملانی جیسے سینئر لیڈر کی مخالفت کو اصل وجہ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن جوڑ توڑ اور گڈکری کی مخالفت کے سُر اس وقت ہی تیز ہو گئے تھے، جب سورج کنڈ میں منعقدہ بی جے پی کے سمیلن میں صابق صدر کے خلاف آوازیں بلند ہوئی تھیں، لیکن گجرات میں الیکشن کے پیش نظر مصلحتاً خاموشی اختیار کرلی گئی تھی۔ یہ درست ہے کہ گڈکری آر ایس ایس کی پہلی پسند تھے، لیکن سنگھ کے اندر بھی اس نام پر اختلاف رائے موجود تھا۔ یہی سبب ہے کہ اڈوانی کی سشما سوراج کی حمایت کے بعد موہن بھاگوت نے دوسرا نام راجناتھ سنگھ کا پیش کیا تھا۔ اس لحاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ نتن گڈکری بی جے پی کی کرسیٔ صدارت پر بیٹھنے سے محروم بھلے ہی ہو گئے، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس انتخاب میں آر ایس ایس کی پسند یا مداخلت کو کلیدی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ راجناتھ سنگھ اور آر ایس ایس کا رشتہ تقریباََ نصف صدی پر محیط ہے۔ انھیں ہندو وادی افکار کو فروغ دینے والا سیاسی لیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ وہ جن سنگھ میں محض 24 برس کی عمر میں ضلع اکائی کے صدر بنائے گئے تھے، جبکہ زمانۂ طالب علمی میں اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) کے سرکردہ رُکن تھے۔ ظاہر ہے کہ آر ایس ایس اور ہندو احیا پسندی کے ضمن میں ان کی خدمات ریاستی اور قومی سطح پر مستحکم ہے۔
جہاں تک گڈکری کا سوال ہے، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کے کسی بھی صدر کا اس ڈرامائی انداز میں خاتمہ نہیں ہوا۔ گڈکری صدر بننے سے قبل مہاراشٹر کی سیاست میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو قریب کرنے والے لیڈر کے طور پر ضرور جانے جاتے تھے، لیکن قومی سطح پر ان کا قد راجناتھ کے مقابلے بے حد پست ہے۔ بالفاظ دیگر وہ آر ایس ایس کی مہربانیوں کے باعث صدر عظمیٰ کی کرسی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ چونکہ آر ایس ایس، بی جے پی پر پوری گرفت کا خواہش مند ہے، لہٰذا آخری وقت تک گڈکری کو صدر بنانے کی جد و جہد میں سر دھڑ کی بازی لگاتا رہا۔ اتنا ہی نہیں، دوسری مرتبہ صدر بنانے کے لیے بی جے پی کے دستور میں ترمیم تک کی گئی۔ اس کے باوجود گڈکری کامیاب نہ ہو سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ گڈکری کے خلاف جو کرپشن کے الزامات ہیں، وہ بے حد وزنی ہیں اور پارٹی کے کئی لوگ اس کی مخالفت کے درپے ہیں۔ گڈکری جس وقت مہاراشٹر حکومت میں وزیر تھے، اس زمانے میں متعدد کمپنیوں کو انھوں نے فائدے پہنچائے، جس کا انھیں بھرپور صلہ بھی ملا۔ ہر چند کہ ان کے بعض بہی خواہ اسے گڈکری کی بصیرت اور محنت کا ثمرہ قرار دیتے ہیں، لیکن تحقیقی ایجنسیوں کی رو سے گڈکری کی کمپنیوں کی جڑیں بدعنوانیوں کے دلدل میں پیوست ہیں۔ ظاہر ہے، مکر و فریب کے اینٹوں سے بنائی گئی ان کی عالیشان عمارت ایک نہ ایک دن منہدم ضرور ہو گی۔ یہ خدشہ بی جے پی کے متعدد لیڈروں کو پریشان کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ نریندر مودی سے لے کر یشونت سنہا تک، کئی قد آور سیاست دانوں نے گڈکری کی مخالفت کی ہے۔

 راجناتھ سنگھ کے صدر بننے کے بعد یہ حالات فطری طور پر بدل جائیں گے۔ کئی ریاستوں میں الیکشن عنقریب ہیں۔ خود اندرونی رسہ کشی اور کرپشن کے دلدل میں پھنسے کئی قد آور سیاسی لیڈر بھی مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ تاج پوشی کے فوراََ بعد استقبالیہ خطبے میں لال کرشن اڈوانی نے مبارکباد کے ساتھ در پیش مسائل اور چنوتیوں کی ایک لمبی فہرست تھما دی۔ ان میں ’’کرپشن کے ایجنڈے پر پارٹی کا ریکارڈ درست کرنا اور لوک سبھا الیکشن میں بہترین کار کردگی کا مظاہرہ اولین مسئلہ ہے۔‘‘ لیکن اڈوانی نے جس اہم مسئلہ کا ذکر نہیں کیا، وہ ہے لوک سبھا کے انتخاب کے دوران قیادت کا مسئلہ۔ اگر صدر کا انتخاب ایک مشکل عمل تھا تو آئندہ عام انتخاب کے دوران این ڈی اے کا چہرہ طے کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے، اس پر مستزاد یہ کہ راجناتھ سنگھ اور مودی کے رشتے گزشتہ مہینوں ہی کڑواہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔

راجناتھ سنگھ کی صدارت کے پس پردہ بی جے پی کے متعدد فوائد بھی پوشیدہ ہیں۔ ایک طرف آر ایس ایس کی حمایت اور اس کے تصورات کو عملی طور پر بروئے کار لانے میں مدد ملے گی، تو دوسری طرف اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں بی جے پی کی گرتی ہوئی ساکھ پر قابو پانے اور اس کے گراف کو اونچا اٹھانے میں مدد ملے گی۔ ایسے وقت میں جب سماجوادی پارٹی مسلمانوں کے ووٹ کی بدولت بر سر اقتدار آئی ہے اور آئندہ انتخابات میں بھی مسلمانوں کا رحجان سیکولر جماعتوں کی طرف ہی رہنے کا امکان ہے، راجناتھ سنگھ بی جے پی کے لیے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں، ان معنوں میں کہ لال کرشن اڈوانی کے بعد عملی طور پر وہ سب سے بڑے اور غیر متنازع لیڈر ہیں۔ اس کے علاوہ آر ایس ایس سے ان کی ازلی قربت انھیں ہندو بنیاد پرستوں کے درمیان مقبولیت عطا کرتی ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو این ڈی اے کی حلیف پارٹیوں اور ان کے سربراہوں سے ان کے رشتے بھی خوشگوار ہیں، خواہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہوں یا پنجاب کے پرکاش سنگھ بادل یا پھر جنتا دل یونائٹیڈ کے شرد پوار، ان سب سے ان کے تعلقات بہتر ہیں۔ لہٰذا بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کے تعین میں ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان کی دوبارہ تاج پوشی سے بی جے پی کی اندرونی سیاست میں ہیجان پیدا ہونا بھی طے ہے، اس لیے کہ وزیر اعظم کی دوڑ میں اب تک نریندر مودی کا نام سب سے اوپر تھا، لیکن راجناتھ سنگھ کے صدر بننے کے بعد یہ حالات فطری طور پر بدل جائیں گے۔ کئی ریاستوں میں الیکشن عنقریب ہیں۔ خود اندرونی رسہ کشی اور کرپشن کے دلدل میں پھنسے کئی قد آور سیاسی لیڈر بھی مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ تاج پوشی کے فوراََ بعد استقبالیہ خطبے میں لال کرشن اڈوانی نے مبارکباد کے ساتھ در پیش مسائل اور چنوتیوں کی ایک لمبی فہرست تھما دی۔ ان میں ’’کرپشن کے ایجنڈے پر پارٹی کا ریکارڈ درست کرنا اور لوک سبھا الیکشن میں بہترین کار کردگی کا مظاہرہ اولین مسئلہ ہے۔‘‘ لیکن اڈوانی نے جس اہم مسئلہ کا ذکر نہیں کیا، وہ ہے لوک سبھا کے انتخاب کے دوران قیادت کا مسئلہ۔ اگر صدر کا انتخاب ایک مشکل عمل تھا تو آئندہ عام انتخاب کے دوران این ڈی اے کا چہرہ طے کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے، اس پر مستزاد یہ کہ راجناتھ سنگھ اور مودی کے رشتے گزشتہ مہینوں ہی کڑواہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف پنجاب میں پرکاش سنگھ بادل، مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان اور چھتیس گڑھ میں رمن سنگھ وغیرہ، راجناتھ سنگھ کے ہی حمایتی ہیں۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راجناتھ سنگھ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے جس خوشی کا اظہار کیا ہے، اس سے آئندہ سیاسی تال میل کے امکانات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں راجناتھ سنگھ کا تعلق دیہی علاقوں اور کسانوں سے ہے، تو دوسری طرف پارٹی پر مضبوط گرفت کے ساتھ ہندی علاقوں، خصوصاََ شمالی ہندوستان میں ان کی اپنی شناخت ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کو بھروسہ ہے کہ بی جے پی کی قیادت ہندی علاقے کے سیاسی رہنما کو سونپنے سے جہاں اتر پردیش میں ملائم سنگھ اور مایاوتی کا متبادل لیڈر سامنے آئے گا، وہیں دوسری طرف بی جے پی اپنے پورے وقار کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔ ممکن ہے کہ آئندہ دنوں میں راج ناتھ سنگھ رام مندر یا کئی دوسرے حساس مسئلوں کو ایک بار پھر ہوا دیں، اس لیے کہ سیاست کے محور پر گردش کرنے والے سیاست دانوں کے لیے یہ سب جائز ہے، لیکن اصل فیصلہ تو عوام کے ہاتھ میں ہے، جو با شعور بھی ہے اور باخبر بھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here