راجیش کھنہ سالگرہ:’میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو۔۔۔‘

Share Article

rajesh-khanna

بالی ووڈ کے پہلے سپراسٹارکے نام سے مشہورجتن کھنہ عرف راجیش کھنہ کا 76واں جنم دن ہے۔راجیش کھنہ آج بھلے ہی ہمارے درمیان نہ ہو لیکن ان کی یادیں ہمیشہ دل ودماغ میں چھائی رہتی ہیں۔جتن کھنہ عرف راجیش کھنہ29 دسمبر 1942 کوپنجاب کے امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔
ہندوستانی فلمی دنیا میں 1961 سے 1970 کی دہائی کو جہاں ایک طرف رومانی فلموں کے سنہرے دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے وہیں دوسری طرف اسے ہند ی سنیما کے پہلے سپر اسٹار راجیش کھنہ، صدی کے عظیم اداکار امیتا بچن، جوبلی اسٹار راجندر کمار، ہی مین دھرمیندر اور جنپک جیک جتیندر کی انڈسٹری میں آمد کی دہائی بھی کہا جاتا ہے۔راجیش کھنہ نے کل 180عام فلموں اور163فیچرفلموں میں کام کیا۔128فلموں میں لیڈرول اداکیا،22میں ڈبل رول کے ساتھ 17چھوٹی فلموں میں بھی کام کیا۔

 

 

rajesh

راجیش کھنہ کی ولادت 29دسمبر1942کوامرتسرمیں ہوئی۔راجیش کھنہ کا اصل نام جتن کھنہ ہے۔اپنے چچاکے کہنے پرانہوں نے اپنانام بدل لیا۔1969سے 1975کے بیچ راجیش کھنہ نے کئی سپرہٹ فلمیں دیں۔اس دورمیں پیداہوئے زیادہ ترلڑکوں کے نام راجیش رکھے گئے۔فلم انڈسٹری میں راجیش کوپیارسے’کاکا‘بھی کہاجاتاتھا۔جب وہ سپراسٹارتھے تب ایک کہاوت بڑی مشہورتھی’اوپرآقااورنیچے کاکا‘۔راجیش نے فلم میں کام پانے کیلئے ڈائریکٹروں کے دفترکے چکرلگائے۔اسٹرگل ہونے کے باوجودوہ اتنی مہنگی کارمیں ڈائریکٹروں کے یہاں جاتے تھے کہ اس دورکے ہیروکے پاس بھی ویسی کارنہیں تھی۔لڑکیوں کے بیچ راجیش کھنہ مقبول تھے۔لڑکیاں انہیں خون سے خط لکھاکرتی تھیں۔بعض نے ان کی فوٹوسے شادی تک کرلی۔کچھ اپنے ہاتھ اورجانگھ پرراجیش کا نام گودوالیا،کئی لڑکیاں ان کا فوٹوتکیے کے نیچے رکھ کرسوتی تھیں۔اسٹوڈیویاکسی ڈائریکٹرکے دفترکے باہرراجیش کھنہ کی سفیدرنگ کی کاررکتی تھی تولڑکیاں اس کارکوچوم لیتی تھیں۔لب اسٹک کے نشان سے سفیدرنگ کی کارگلابی ہوجایاکرتی تھی۔

انعامات
راجیش کھنہ کوبیسٹ اداکارکیلئے تین بارفلم فیئرایوارڈملا اور 14بارنامزدکیاگیا۔بنگال فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ہندی فلموں کے سب سے بیسٹ اداکارکاایوارڈ سب سے زیادہ چارباران کے نام رہا اور24بارنامزدکیاگیا۔سال 2005میں انہیں فلم فیئرکے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازاگیا۔

پہلی ملاقات
بتایاجاتاہے کہ راجیش کھنہ اورڈمپل کپاڈیادونو ں کی ملاقات احمدآبادکے اسپورٹس کلب میں ہوئی تھی جہاں راجیش کھنہ بطورچیف گیسٹ آئے تھے۔اسپورٹس کلب میں راجیش کھنہ ڈمپل کودیکھتے ہی ان کے دیوانے ہوگئے اوراپنادل دے بیٹھے توادھرڈمپل کپاڈیا راجیش کی بڑی فین تھیں۔راجیش اورڈمپل کا افیئرتین سالوں تک چلااوراس کے بعددونوں نے 1973میں شادی کرلی۔یہ ڈمپل کابھروسہ ہی تھاکہ انہوں نے محض 16سال کی عمرمیں ہی راجیش سے شادی کرلی۔راجیش کی عمراس وقت 31سال تھی۔ڈمپل کپاڈیا 17سال میں ہی ماں بنیں لیکن انہوں نے اس ذمہ داری کوبھی نبھایا۔بتایاجاتاہے کہ ’بابی‘فلم کے وقت وہ حاملہ تھیں۔

rajesh-khanna-and-dimple-ka
ایسابھی کہاجاتاہے کہ ان کی شادی اصل میں 10سال بعدہی ٹوٹ گئی تھی۔دونوں نے کبھی طلاق نہیں لیا لیکن ان کے رشتے پہلے جتنے بہترنہیں تھے۔ٹونکل کھنہ اوررنکی کھنہ کے پیداہونے کے بعدانہوں نے فلموں سے رشتہ توڑلیا۔ان کے لئے ان کا دھیان رکھنا سب سے ضروری تھی لیکن کہاجاتاہے کہ راجیش نہیں چاہتے تھے کہ ڈمپل فلموں میں کام کرے۔
راجیش کھنہ نے اچانک ڈمپل کپاڈیاسے شادی کرکے کروڑوں لڑکیوں کے دل توڑدیئے۔ڈمپل نے ’بابی‘فلم سے سنسنی پھیلادی تھی۔
راجیش ۔ڈمپل کی شادی کی ایک چھوٹی سی فلم اس وقت ملک بھرکے تھیئٹرس میں فلم شروع ہونے کے پہلے دکھائی گئی تھی۔اپنی سالی سمپل کپاڑیا کے ساتھ راجیش بطورہیروفلم ’انورودھ‘میں نظرآئے۔ان کے رشتے کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کا عزت واحترام کرتے رہے۔راجیش کھنہ نے الگ ہونے کے بعدبھی کہاتھاکہ ’ڈمپل کومیں آج بھی اتناہی پیارکرتاہوں جتناپہلے کرتاتھا‘ تووہیں ڈمپل کاکہناتھاکہ ’وہ ہمارے بچوں کے والدہیں توان سے خاص میری زندگی میں اورکوئی ہوہی نہیں سکتا‘۔ڈمپل کپاڈیا نے آخری وقت تک جب راجیش کھنہ بیمارتھے تب بھی ان کا ساتھ نبھائیں اورآخری دنوں میں بھی ان کے ساتھ ہی نظرا?ئی۔انہوں نے کبھی خاندان کوان سے دورنہیں کیا۔
ممتازاورشرمیلاٹیگورکے ساتھ راجیش کھنہ کی جوڑی کوکافی پسندکیاگیا۔ممتازکے ساتھ انہوں نے 8سپرہٹ فلمیں دی۔ممتازنے شادی کرکے فلم کوالوداع کہنے کامن بنالیا۔ان کے اس فیصلے سے راجیش کوبہت دکھ ہوا۔شرمیلااورممتاز،جوکہ راجیش کی مقبولیت کی گواہ رہی ہیں،کاکہناہے کہ لڑکیوں کے بیچ راجیش جیسی مقبولیت بعدمیں انہوں نے کبھی نہیں دیکھی۔ ا?شاپاریکھ اوروحیدہ رحمان جیسی سینئراداکارہ کے ساتھ بھی انہو ں نے کام کیا۔’خاموشی‘میں راجیش کووحیدہ کے کہنے پرہی رکھاگیا۔

 

 

امراجالامیں شائع ایک آرٹیکل کے مطابق پروڈیوسراورڈائریکٹرراجیش کھنہ کے گھرکے باہرلائن لگائے کھڑے رہتے تھے۔وہ مہنگے دام چکاکرانہیں سائن کرناچاہتے تھے۔پائلس کے ا?پریشن کیلئے ایک بارراجیش کھنہ کواسپتال میں داخل ہوناپڑا۔اسپتال میں ان کے اردگردکے کمرے پروڈیوسروں نے بک کرالئے تاکہ موقع ملتے ہی وہ راجیش کواپنی فلموں کی کہانی سناسکے۔راجیش کھنہ کورومانٹک ہیروکے طورپربیحدپسندکیاگیا۔ان کی آنکھ جھپکنے اور گردن ٹیڑھی کرنے کی اداکے لوگ دیوانے ہوگئے۔راجیش کھنہ کے ذریعہ پہنے گئے گورو’کرتے‘خوب مشہورہوئے اورکئی لوگوں نے ان کے جیسے کْرتے پہنے۔ آاردھنا، سچاجھوٹا،کٹی پتنگ‘ ہاتھی میرے ساتھی،محبوب کی مہندی، آنند ،آن ملوسجنا‘آپ کی قسم،جیسی فلموں نے کئی کمائی کے نئے ریکارڈ بنائے۔’آرادھنا‘فلم کاگانا’میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو۔۔۔۔‘ان کے کریئرکا سب سے بڑاہٹ گانارہا۔

’آنند‘راجیش کھنہ کے کریئرکی سب سے بہترفلم مانی جاسکتی ہے،اس میں انہو ں نے کینسرسے متاثرزندہ دل نوجوان کا رول نبھایا۔راجیش کھنہ کی کامیابی کے پیچھے میوزک ڈائریکٹرآرڈی برمن اورسنگرکشورکمارکااہم رول رہا۔ان کے زیادہ ترگانے ہٹ ثابت ہوئے اورآج بھی سنے جاتے ہیں۔کشورکمارنے 91فلموں میں راجیش کوا?وازدی توآرڈی برمن نے ان کی 40فلموں میں میوزک دیا۔’زنجیر‘اور’شعلے‘جیسی ایکشن فلموں کی کامیابی اورامیتابھ بچن کے ادے نے راجیش کھنہ کی لہرکوتھام لیا۔لوگ ایکشن فلمیں پسندکرنے لگے اور1975کے بعدراجیش کی کئی رومانٹک فلمیں ناکام رہی۔
راجیوگاندھی کے کہنے پرراجیش کھنہ سیاست میں آئے۔کانگریس کی طرف سے کچھ انتخابات بھی لڑے۔جیتے بھی اورہارے بھی۔لال کرشنن اڈوانی کوانہوں نے سخت ٹکردی اورشتروگھن سنہاکوہرایابھی۔بعدمیں انہوں نے سیاست کوالوداع کہہ دیا۔
راجیش کھنہ کی لائف میں ٹینامونیم بھی آئیں۔ایک زمانے میں راجیش نے کہابھی تھاکہ وہ اورٹیناایک ہی ٹوتھ برش کااستعمال کرتے ہیں۔راجیش کھنہ اوران کی بیٹی ٹونکل کھنہ کا ایک ہی دن جنم آتاہے،29دسمبرکو۔بہت پہلے ’جے شیوشنکر‘فلم میں کام مانگنے کیلئے راجیش کھنہ کے آفس میں اکشے کمارگئے تھے۔گھنٹوں انہیں بٹھائے رکھاگیااوربعدمیں راجیش ان سے ملے بھی نہیں۔اس دن کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھاکہ یہی اکشے کمارایک روزکاکاکے داماد بنیں گے۔کہاجاتاہے کہ راجیش کھنہ نے بہت ساراپیسہ لاٹری چلانے والی ایک کمپنی میں لگارکھاتھاجس کے ذریعہ انہیں بہت آمدنی ہوتی تھی۔کاکاکاکہناتھاکہ وہ اپنی زندگی سے بیحدخوش تھے۔دوبارہ موقع ملاتووہ پھرراجیش کھنہ بنناچاہیں گے اوروہی غلطیاں دہرائیں گے۔اپنے بینرتلے راجیش نے ’جے شیوشنکر‘نامی فلم شروع کی تھی،جس میں انہوں نے بیوی ڈمپل کوسائن کیا۔آدھی فلم بننے کے بعدرک گئی اورآج تک ریلیزنہیں ہوئی۔
18جولائی 2012میں ان کے انتقال سے فلمی دنیاایک سدابہارہیروسے محروم ہوگئی۔یہ اپنی پرکشش شخصیت اوراداکاری کیلئے ہمیشہ یادکئے جائیں گے۔ویسے یہ الگ بات ہے کہ متعددفلمی اداکاروں کی طرح یہ سیاست میں کوئی اہم کردارادانہیں کرسکے مگرانہیں فلمی سیلی بریٹی کے طورپرکبھی بھلایانہیں جاسکے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *