راجناتھ کو پانچ سی کا جواب پانچ ڈبلیو سے دینا پڑ رہا ہے

Share Article

ایک ماہ قبل، 11 ستمبر کووزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ وہ اعلان اس امید کے ساتھ کیا گیا تھا کہ زمینی سطح پر بدلاؤ سے مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔ انھوں نے جدوجہد کے مستقل حل کے لیے انگریزی الفابیٹ کے سی حرف سے شروع ہونے والے پانچ الفاظ کا اعلان کیا، جسے انھوں نے 5سی کہا۔ اس میں شامل ہیں کمپیشن(ہمدردی)، کمیونکیشن ( بات چیت)، کو ایکزسٹنس( ہم آہنگی) ، کانفیڈنس بلڈنگ (اعتماد سازی) اور کنسسٹنسی (استحکام) ۔اس مدعے پر سیاسی پیش رفت کو لے کر وہ سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سال پہلے بھی ان کا اسٹینڈ یہی تھا۔
برہان وانی کے مارے جانے کے بعد 2016 کی گرمیوںمیںبھڑکا تشدد جب اپنے شباب پر تھا، تب راجناتھ سنگھ نے جموں و کشمیر میںعلیٰحدگی پسندوں تک پہنچنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی کوششوںپر دہلی میںبی جے پی کی سرکار نے پانی پھیر دیا۔ بی جے پی سرکار نے کشمیر پر سخت نقطہ نظر اپنایاتھا۔ اس وقت سیکورٹی پر مبنی نقطہ نظر کے حامیوں کے سامنے راجناتھ سنگھ نے خود کو الگ تھلگ پایا تھا۔ بہر حال یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راجناتھ سنگھ نے مسئلے کے مستقل حل کی بات کی ہو، حالانکہ وہ یہ نہیں بتاتے ہیں کہ وہ حل کیسے ہوگا؟ پچھلے مہینے انھوں نے انگریزی الفابیٹ کے سی حرف سے شروع ہونے والے پانچ الفاظ کے ذریعہ اپنی پالیسی کو انڈر لائن کیا۔ اگر اس پالیسی کو سچ مچ لاگو کیا جاتا ہے تو یہ ایک پرجوش پالیسی ہے۔ لیکن ابھی تک اس میںکوئی پیش قدمی نہیںہوئی ہے۔ بہرحال پانچ سی کے بارے میںہم اپنے خود کے سوال پوچھنا چاہتے ہیں، جو اس طرح ہیں، وہائی(کیوں)، وہیئر (کہاں)، وہین (کب)، وہو (کون) اور وہوم (کسے)۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکار کے تین سال کے تجربے بتاتے ہیںکہ وزیر داخلہ کے ذریعہ نشان زد 5 سی میںسے کسی پر عمل نہیںکیا گیاہے۔ ابھی تک کی جو کوشش ہے،وہ کشمیر میںجاری جدوجہد کے سیاسی ضمن، جو مسئلے کے حل پر مرکوز ہے، کو تباہ کرنے کی رہی ہے۔ سب سے پہلے کمپیشن (ہمدردی)کی بات کرتے ہیں۔ سینٹرل ریزرو فورس کے اعتراف کے مطابق سال 2016 کے کچھ مہینوں کے دوران اس نے لوگوںپر 1.3 ملین پیلیٹ داغے۔ ان پیلیٹوں کی چوٹ سے کئی کشمیری نوجوان اندھے اور معذور ہوگئے۔ ان کے نقصان کی بھرپائی کے لیے کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ ہمدردی کا مطلب کشمیری لوگوں کو اپنا سمجھنا او ردل جیتنا ہوتا ہے لیکن ا س کے بجائے بہت زیادہ طاقت کے استعمال کو مناسب ٹھہرایا گیا۔

 

 

 

 

 

کمیونکیشن (بات چیت) کی بات کریںتو اس کی بھی صاف کمی نظر آتی ہے۔ سرکار کے ڈائیلاگ ان ہی کے ساتھ قائم رہے جو کشمیر میں ہندوستان کی حکومت کو چیلنج نہیںدیتے۔ کشمیر کے مسئلہ پر بات چیت کے نام پر باربار ہندوستان حامی سیاسی پارٹیوں سے بات کرکے ، سرکار لوگوں کے ساتھ بات چیت کے خیال کو مسترد کرتی آرہی ہے۔ سرکار کے خلاف مزاحمت کی قیادت کرنے والے لوگوں کے ساتھ بات چیت کے دروازے بند کرنا نہ تو پہلے معاون ثابت ہوا اور نہ ہی حال یا مستقبل میںثابت ہوگا۔ حریت جیسی تنظیموں کے ساتھ سیاسی بات چیت سے انکار کرکے سرکار انھیںبھی اپنی طاقت بڑھانے کا موقع دے رہی ہے۔ ان کے ساتھ بات چیت قائم کرنے سے ان کی قابلیت کا بھی اندازہ ہوگا اور لوگ اپنے لیڈروں کی صلاحیت کا بھی اندازہ لگا لیںگے۔ لیکن یہ تب تک نہیںہوگا جب تک کہ بغیر شرط ان کے ساتھ کسی طرح کی بات چیت قائم نہیںہوتی۔
کو ایکزسٹنس(ہم آہنگی) کی بھی زمینی سطح پر کمی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں کے دوران کشمیری سماج کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر جموں و کشمیر ہندوستان کے اٹوٹ حصہ ہیں، تو اس خیال کو دہلی نے ہی نقصان پہنچایا ہے کیونکہ اس نے ہم آہنگی کے خیال کو اہمیت نہیں دی۔ شہریوںکے خلاف اندھادھند فوجی طاقت کا استعمال، لگاتار 54 دنوں تک انھیں کرفیو میں رکھنا اور ان لوگوںکی حفاظت کرنا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں، یہ کچھ حقائق ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہاںکے لوگوں کا ایک الگ وجود ہے۔ لوگوں نے ہر نکڑ اور ہر گلی میں سرکار کو چیلنج پیش کیا ہے۔ نوجوانوں نے ہر جگہ پر نفرت ظاہر کی ہے اورہرجگہ ایک سیاسی حل کے لیے خواہش دکھائی دے رہی ہے۔ ہم کس ہم آہنگی کی بات کررہے ہیں؟
کانفیڈنس بلڈنگ (اعتماد سازی) کوبھی گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ وادی میں زیادہ سے زیادہ تعداد میںسیکورٹی فورسیز کی تعیناتی سے بھی اعتماد بحالی نہیں ہوتی ہے۔ اعتماد سازی ان اقدام سے ہوتی ہے جو براہ راست طور پر لوگوں کے وجود، ان کے معمول اور ان کے حقوق سے جڑی ہوتی ہے۔ دراصل لوگوںکا سرکار سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ یہ سرکار ہم آہنگی کے کسی بھی عمل کو آگے نہیںبڑھنے دیتی۔ جب ادارے انصاف نہیں دیں گے تو اعتماد سازی کی کوئی امید بیکار ہے۔ ’دی اَدر‘ یعنی غیر ہونے کا امکان اعتماد سازی کو اور زیادہ تنگ کردیتا ہے۔ اعتماد سازی کی بہترین مثال ، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میںسامنے آئی تھی۔ انھوںنے 18 اپریل 2003 کو سری نگر سے پاکستان کی دوستی کا ہاتھ بڑھا کر ایک مثال قائم کی تھی۔ اس دوران منقسم جموںو کشمیر کے بیچ کی سڑکوں کو کھولا گیا اور کنٹرول لائن (ایل او سی) تجارت کی شروعات کی گئی تاکہ سرحد کے دونوں طرف لوگ امن سے زندگی گزار سکیں۔ یہی پالیسی منموہن سنگھ سرکار کے دوران جاری رہی لیکن آج اعتماد بحالی کے لائف سپورٹ پر چل رہے ہیں۔ انھیں مضبوط کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے، لہٰذا اعتماد بحالی صرف کھوکھلا نعرہ ہے۔
کشمیر جیسے مدعے سے نمٹنے کا واحد طریقہ پالیسی یونیفارمٹی ہے۔ ہر ایک حالت میں خارجہ پالیسی کو مستحکم ہونا چاہیے لیکن اس میںبھی اٹھا پٹک جاری رہی۔
وزیر داخلہ کے منصوبے کو سرے سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے لیکن اس میںایک عملیت ہونی چاہیے۔ سنگھ اکیلے نہیں ہیں، جس نے یہ پوزیشن لی ہے۔ جموںو کشمیر پر بی جے پی کے اہم آدمی رام مادھو نے بھی بات چیت کی بات کی۔ 21 ستمبر کو انھوںنے سری نگر میںکہا کہ ہم نے ابتدا سے کہا ہے اور ہم نے یہ یقینی بنایا ہے کہ ہمارے دروازے ریاست کے سبھی اسٹیک ہولڈرس کے لیے کھلے ہیں۔ وہ ریاستی سرکار کے ساتھ بات چیت کرنے یا جو مرکزی سرکار سے بات کرنا چاہتے ہیں، ان کا خیر مقدم ہے۔ یہ بیان حوصلہ افزا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس سمت میںکون آگے بڑھ رہا ہے؟

 

 

 

 

 

پہلی شرط دونوںفریقین پر لاگو ہونی چاہیے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بات چیت کے اس عمل کو شروع کرے۔ حالانکہ اسے زمین پر چیلنج دیا گیا ہے۔ مادھو ایجنڈا آف ایلائنس کے معمار بھی ہیں، جنھوںنے بی جے پی اور محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے بیچ غیر فطری گٹھ بندھن میںاہم کردار نبھایا۔ پاکستان اور حریت کے ساتھ بات چیت بھی اے او اے کا حصہ ہے۔ جب بات چیت کے بارے میںکچھ چرچا ہوا تب کچھ بھی اس سمت میںعملی طور پر نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سنگھ کو پانچ سی کا جواب پانچ ڈبلیو سے دینا پڑرہا ہے۔
حالانکہ کچھ غیر سرکار ی پہل کی گئی ۔ مورچے پر سب سے بڑی کامیابی سابق وزیر اور بی جے پی لیڈر یشونت سنہا کی قیادت میںکنسرنڈ گروپ آف سٹیزن والی پہل تھی۔ ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک، قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین وجاہت حبیب اللہ، صحافی بھرت بھوشن اور کارکن سشوبھا بروے کے ساتھ تین یاتراؤں پر آئے اور ہر یاترا کی گراؤنڈ رپورٹ پیش کی۔
یشونت سنہا کی اکتوبر 2016 کی کشمیر یاترا نے صورت حال کو آسان بنانے میں مدد کی۔ لوگوںنے اسے اہمیت دی ۔ چونکہ وہ ایک سینئر بی جے پی ممبر ہیں، اس لیے یہ تاثر تھا کہ سرکار ان کی بات سنے گی۔ وہ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سے ملے، جو اس بات پر زور دینا چاہتے تھے کہ وہ بات چیت کے خلاف نہیں ہیں اگر نئی دہلی سنجیدہ ہے اور کوئی شرط نہیں رکھتی۔ اس گروپ نے اپنی رپورٹوں میں کشمیر سے نکلنے والی تشویشات پر روشنی ڈالی۔ لوگوںنے اس میںاعتماد جتایا اور ان کے ساتھ بات چیت کی۔ لیکن اس یاترا سے کچھ نہیںنکلا کیونکہ مودی سرکار نے اس گروپ کی کوششوں کو اہمیت نہیں دی۔ یشونت سنہا کو عوامی طور پر بتانا پڑا کہ جب وہ مودی سے کشمیر پر بات کرنا چاہتے تھے تب انھوںنے منع کردیا۔
جموںو کشمیر پر نرم ہونا بی جے پی کے لیے مشکل ہے، ایسے میںغیر سرکاری نقطہ نظر بات چیت کے لیے کچھ راستہ تیار کر سکتا تھا، جسے ریاستی مشینری آگے استعمال کرسکتی تھی۔ لیکن مشہور لوگوںکی کاوشوںکو خارج کرتے ہوئے سخت پالیسی بنائی جارہی ہے۔ اس پس منظر میںراجناتھ سنگھ اور رام مادھو کے ذریعہ دیا گیا آفر بہت اہم نہیں رہ جاتا ہے۔ بات چیت سے انکار رکرتے ہوئے مودی سرکار نے کشمیر کے حالات سے نمٹنے کے لیے ایک فوجی نقطہ نظر کی اپنی پالیسی کو مضبوط کیا ہے۔ ایسی پالیسی کٹرواد اور تشدد کے لیے موقع فراہم کرسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *