بارش کا نظام، قرآنی آیات اور سائنس میں تال میل

Share Article

وسیع احمد نعمانی
بارش کے نظام اس کے سائیکل اور مراحل پر سائنس نے خوب ریسرچ اور تحقیق کی ہے۔ وہ تمام مراحل ترتیب وار قرآنی آیات میں موجود ہیں۔ بنیادی طور پر بارش کے دو اہم ذرائع ہیں۔ 1- قطبین پر ہوا کے دباؤ میں تبدیلی اور موسم کا بدلنا 2 – سمندر کی سطح پر موسموں کی تبدیلی کا اثر، یہ دونوں مراحل ایسے ہیں، جن کے زیر اثر بارش کے سائیکل اور اس کے نظام میں تبدیلی ہوتی ہے اور پوری دنیا میں بارش ہوتی ہے، ان مراحل کا ذکر قرآن پاک کی مختلف آیتوں میںنہایت صاف الفاظ میں فرمایا گیا ہے۔ جناب خالد سیف اللہ(علیگ) نے اپنی مشہور کتاب ’’قرآن کریم سائنس اور کائنات‘‘ میں صفحہ 132 پر بارش یا مانسون کے بارے میں کچھ اس طرح لکھا ہے’’مانسون یعنی برسات کے موسم کی ہوائیں اور بارش‘‘ برسات کے موسم میں بہت زیادہ بارش ہوتی ہے، جس کو مانسون کہتے ہیں۔ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو سمندر سے خشکی پر لاتی ہیں اور موسم کے آخر میں واپس لے جاتی ہیں۔ مانسون کے بننے میں جدید تحقیقات کے اعتبار سے چار مرحلے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں قطبین پر زبردست سائیکلون اٹھتے ہیں، جو سمندر کے پانی کو بگولے کی طرح نچا نچا کر ابخرات بنا کر اوپر پھینکتے رہتے ہیں، کروڑوں من پانی ابخرات کی شکل میں ہوا میں پہنچ جاتا ہے۔ پھر دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ بہت تیز ہوائیں ان ابخرات کو بادل بنا کر قطبین کے گرد چکر لگاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے ابخرات کے ذرے، برقی بن جاتے ہیں۔ تیسرے مرحلے میں ہلکی ہوائیں ان بادلوں کو آبادی پر لاتی ہیں، تو ہم کہتے ہیں کہ مانسون آگیا۔ چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ کہیں بارش کم ہوتی ہے، کہیں زیادہ۔ کہیں بالکل نہیں ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کی سمجھ میں تین مراحل اچھی طرح آگئے۔ مگر چوتھا مرحلہ سمجھنے کے لیے برسوں سے اربوں ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں، مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ بادل تو ہر جگہ پھیلتے ہیں، لیکن کہیں بارش ہوتی ہے کہیں نہیں ہوتی۔ یہ اگر سمجھ میں آجائے تو بقدر ضرورت ہر جگہ پانی برسائیں گے۔ نہ کہیں سیلاب آئے گا اور نہ کہیں خشک سالی ہوگی۔‘‘ مگر یہ مرحلہ تو صرف خدا کے حکم کے مطابق پیدا ہوا کرتا ہے۔
تقریباً یہی مراحل سمندری عمل سے بارش کے سلسلے میں ہوتے ہیں۔ یعنی سمندر کے وہ حصے جو خط استوا کے لگ بھگ ساڑھے تئیس ڈگری شمال اور جنوب میں واقع ہیں اور جہاں سورج کی سیدھی کرنیں ان سمندروں پر پڑتی ہیں۔ ان حلقوں میں بے حد گرمی پڑتی ہے۔ پانی لگ بھگ کھولنے لگتا ہے اور ابخرات نہایت تیزی سے بڑی مقدار میں سمندری سطح سے اوپر کی جانب اٹھنے لگتے ہیں۔ سورج کی گرمی کی وجہ سے پورے سمندر میں لا متناہی حلقوں میں بے شمار نمکین بلبلے پیدا ہوجاتے ہیںا ور یہ بلبلے اتنی ہی تیزی سے پھوٹنے لگتے ہیں۔ نتیجے میں پانی کے نمکین ذرے ’’پیرک‘‘ کر کے اوپر اٹھنے لگتے ہیں، اس طرح سمندری سطح پر ان نمکین ’’بلوروں‘‘ کی لگ بھگ اعشاریہ ایک ملی میٹر موٹی چادر سی تن جاتی ہے۔ یہ پانی برسانے کا کچا مال ہوتا ہے، جو سطح سمندر پر یکجا ہوجاتا ہے۔ بس اسے انتظار ہوتا ہے، ایک زبردست تیز ہوا یا طوفان کا۔ چنانچہ موسم یا مانسون کی وجہ سے قطبین کی طرح سطح سمندر پر بھی ایک زبردست طوفانی ہوا چل پڑتی ہے اور کھربوں ٹن پانی کے اس کچے مال کو یعنی نمکین بلوروں کو نچا نچا کر اپنے ساتھ کرلیتی ہے۔ یعنی یہ طوفانی ہوا اور کھربوں ٹن پانی کا کچا مال باہم ایک ہوجاتے ہیں۔ اب دوسری طوفانی ہوا چلتی ہے۔ جو اس کھربوں ٹن پانی کے کچے مال کو نچا نچا کر ادھر لے جاتی ہے۔ یعنی ایک طوفانی سمندری ہوا نے پانی کے کچے مال کی چادر کو سمیٹ کر اپنے ساتھ کرلیا تھا۔ اب اسی کچے مال کو دوسری طوفانی ہوا کافی اوپر لے جاتی ہے۔ اب ایک تیسری ہواچلتی ہے، جو اس کھربوں ٹن پانی کے کچے مال کو پوری دنیا میں بکھیرتی ہے یا تقسیم کرتی ہے۔ اس تیسری قسم کی ہوا کے ذریعہ تقسیم شدہ بادل میں سے بارش کا پانی برستا ہے۔ چوتھی قسم کی وہ ہوا ہے، جو ان بادلوں کو کہیں برساتی ہے۔ کہیں نہیں برساتی ہے۔ گویا کہ پانی برسنے کے لیے طوفانی، نرم اور ٹھنڈی ہواؤں کی چار قسمیں ہوئیں، دوسرے لفظوں میں بارش ہونے کے لیے ہواؤں کے تین اہم مراحل کا ہونا ضروری ہے۔ ان مراحل سے گزر کر ہی بارش ہوتی ہے۔ مگر چوتھا مرحلہ کہیں بارش کا ہونا کہیں نہ ہونا اس کے بارے میں سائنس ناکام ہے۔ سائنس داں اس راز کو اب تک سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کہیں بارش ہوتی ہے، کہیں نہیں ہوتی ہے، کہیں سیلاب آتا ہے تو کہیں خشک سالی ہوجاتی ہے۔ اس سلسلے میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ تین مراحل تو بارش ہونے میں آتے ہیں، مگر چوتھا مرحلہ خدا کا وہ فرمان ہے جسے فرشتے پورا کرتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ جب بادل جگہ جگہ پھیلا دئے جاتے ہیں تو پھر خدا کا حکم ہوتا ہے بادلوں کو کہ فلاں جگہ برسو، فلاں جگہ مت برسو۔ اسی لیے چوتھا مرحلہ سائنس دانوں کے عقل و شعور سے پرے ہے کیوں کہ اس چوتھے مرحلہ میں فرشتوں کا وہ عمل ہے جس کے ذریعہ کہیں پانی برسانے کے حکم ربی کو لاگو کیا جاتا ہے اور کہیں نہیں برسنے کے لیے لاگو کیا جاتا ہے، سائنس نے جس طرح بارش برسنے کے چار مرحلوں کا ذکر کیاہے، اسی طرح قرآن کریم میں سورہ ذاریات ، آیت نمبر 1-4 ، اللہ نے ارشاد فرمایا:’’قسم ان ہواؤں کی جو بکھیرتی ہیں اڑا کر، پھر اٹھانے والیاں بوجھ کو، پھر چلنے والیاں نرمی سے پھر بانٹنے نے والیاں حکم سے۔ـ‘‘ اس سورہ کی چاروں آیات میں چاروں مرحلے آگئے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے ان آیات کی تشریح میں فرمایا ہے ’’اول زور کی ہوائیں اور آندھیاں چلتی ہیں۔ جن سے غبار وغیرہ اڑتا ہے اور بادل بنتے ہیں۔ پھر ان میں پانی بنتا ہے، ہوا اس بوجھ کو اٹھائے پھرتی ہے، پھر برسنے کے قریب نرم ہوا چلتی ہے، پھر اللہ کے حکم کے موافق بارش میں جس جگہ کا جتنا حصہ ہوتا ہے، وہ تقسیم کرتی ہیں۔ ان ہواؤں کی اللہ قسم کھاتا ہے۔ بعض علماء نے ’’ذاریات‘‘ ہوائیں ’’حاملات‘‘ سے بادل ’’جاریات‘‘ سے ’’ستارے‘‘ اور ’’مقسمات‘‘ سے فرشتے مراد لیے ہیں۔ گویا ’’مقسم بہ‘‘ کی ترتیب نیچے سے اوپر کو ہوئی اور حضرت علیؓ وغیرہ سے منقول ہے کہ ’’ذاریات‘‘ ہوائیں ’’حاملات‘‘ بادل۔ ’’جاریات‘‘ کشتیاں اور ’’مقسمات‘‘ فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے رزق وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔ یعنی یہ ہواؤں اور بارش وغیرہ کا نظام شاہد ہے کہ آخرت کا وعدہ سچا اور انصاف ہونا ضروری ہے۔ جب اس دنیا میں ہوا تک بے نتیجہ نہیں چلتی تو کیا اتنا بڑا کارخانہ یوں ہی بے نتیجہ چل رہا ہے؟ یقینا اس کا کوئی عظیم الشان انجام ہوگا۔ اسی کو آخرت کہتے ہیں۔‘‘
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بارش کے پانی کا منبع بخارات ہیں اور 97 فیصد بخارات نمکین سمندروں سے اٹھتے ہیں، مگر خدا کی کرشمہ سازی یہ ہے کہ بارش کا پانی باکل تازہ، شفاف اور میٹھا ہوتا ہے۔ یہ میٹھا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ خدا نے اسے میٹھا بنانے کے لیے ایک مضبوط نظام کی تشکیل دے رکھی ہے۔ اس قانون کے مطابق پانی خواہ بخارات کی شکل میں نمکین سمندروںسے اٹھے یا جھیلوں سے یا کیچڑ میں سے اس میں باہر کا کوئی مواد جو پانی کو کھارا بنادے شامل ہی نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ تو اس خالق کے فرمان کے مطابق زمین پر پاک، صاف و شفاف شکل میں ہی گرتا ہے۔ چنانچہ بارش کے وہ قطرے جو سمندروں سے بخارات کی شکل میں اٹھتے ہیں اور بادلوں تک پہنچتے ہیں ان میں بہت سے ایسے مواد ہوتے ہیں جو مردہ زمین کو ’’زندگی بخشتے ہیں‘‘ ان حیات بخش قطروں کو ’’سطحی تناؤ کے قطرے‘‘ کہتے ہیں۔ جو خدا کی بے پناہ کرم فرمائی کے نتیجہ میں پورے سمندر میں بارش شروع ہونے کے قبل ایک نعمت کے طور پر پھیل جاتے ہیں۔
یہ سطحی تناؤ کے قطرے سطح سمندر کے سب سے اوپر والے حصے میں بنتے ہیں، جسے حیاتیات دانوں نے خورد تہہ(Micro Layer) کا نام دیا ہے، یہ تہہ جو ایک ملی میٹر کے دسویں حصے سے بھی زیادہ پتلی ہوتی ہے، اس میں بہت سی ’’نامیاتی باقیات‘‘ رہ جاتی ہیں، جو خورد بینی آبی پودوں اور آبی جانوروں سے پیدا کردہ آلودگی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان باقیات میں سے کچھ اپنے اندر کچھ ایسے عناصر کو منتخب کرنے اور جمع کرنے کا عمل جاری رکھتی ہیں جو سمندری پانی میں بہت نایاب ہیں، مثال کے طور پر فاسفورس، میگنیشیم، پوٹاشیم اور کچھ بہت بھاری دھاتیں مثلاً تانبا، زنک، لوہا، کوبالٹ اور سیسہ وغیرہ کھادوں سے بھرے ہوئے ان پانی کے قطروں کو ہوائیں آسمان کی طرف اٹھا کر لے جاتی ہیں اور پھر کچھ ہی دیر بعد یہ بارش کے قطروں کے اندر شامل ہو کر زمین پر گرنے لگتی ہیں۔ زمین پر بیج اور پودے ان بارش کے قطروں میں بہت سے دھاتی نمکیات اور ایسے عناصر حاصل کرتے ہیں جو ان کی نشو و نما کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس بات کو اللہ نے سورہ ق، آیت نمبر 9 میں یوں ارشاد فرمایا:’’اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا پھر اس سے باغ اور فصل کے غلے پیدا کردئے۔ سورہ الحجر ، آیت نمبر 22 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ہم پانی سے لدی ہوئی ہوائیں بھیجتے ہیں۔ پھر آسمان سے پانی برسا کر اس سے تمہیں سیراب کرتے ہیں۔ اس پانی کا ذخیرہ رکھنے والے (ہم ہی ہیں) تم نہیں ہو۔‘‘
اس آیت میں لفظ ’’لواقیح‘‘ (Fertility wind) استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہیں رس بھری، زرخیز، کھاد سے بھری ہوئی بارش برسانے والی ہوائیں یعنی جب ہوائیں بادلوں کے چھوٹے چھوٹے، ٹکڑوں کو دھکیل کر اکٹھا کرتی ہیں تو یہ بڑے بڑے بادلوں کے پہاڑوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور پھر آپس میں ٹکرانے سے آسمانی بجلی پیدا ہوتی ہے اور بالآخر بارش شروع ہوجاتی ہے۔ اس حقیقت کی طرف اللہ نے سورہ نور ، آیت نمبر 43 میں ارشاد فرمایا ہے۔
’’کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے۔ پھر بادل(کے اجزائ) کو آپس میں ملا دیتا ہے۔ پھر اسے تہہ بہ تہہ بنا دیتا ہے۔ پھر تو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے بارش کے قطرے ٹپکتے ہیں اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برسا تا ہے پھر جسے چاہتا ہے اسے نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے، ان سے بچا لیتا ہے، اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔‘‘
وہ نمکیات جو بارش میں زمین پر گرتے ہیں مختلف روایتی کھادوں مثلاً کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم وغیرہ کی چھوٹی مثالیں ہیں جو زمین کی زرخیزی میں اضافہ کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، دوسری طرف ان ایرو سولز (Aero Sols) میں بھاری دھاتیں پائی جاتی ہیں۔ پھر کچھ ایسے عناصر بھی پائے جاتے ہیں جو پودوں کی نشو و نما اور پیداوار کے لیے زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں، گویا کہ بارش ایک اہم کھاد کا کام کرتی ہے۔ ایک بنجر زمین میں پودوں کے لیے ضروری تمام چیزیں کروڑوں برسوں سے بارش کے ذریعہ گرائی گئی کھادوں کی شکل میں فراہم کی جارہی ہیں، جنگلات بھی ان ہی سمندروں سے اٹھنے والے ایروسولز سے پھلتے پھولتے ہیں اور خوراک حاصل کرتے ہیں، اس طرح ہر سال 150 ملین ٹن کھادیں زمین پر گرتی ہیں، اگر اس قسم کی قدرتی زرخیزی اللہ کی جانب سے موجود نہ ہوتی تو زمین پر سبز وگل بہت کم نظر آتے اور ماحولیاتی توازن بگڑ جاتا۔ (اللہ کی نشانیاں، عقل والوں کے لیے صفحہ 238-240) قرآن پاک میں لفظ ’’لواقیح‘‘ کا سب سے مناسب ترجمہ ’’کھاد سے بھری ہوئی‘‘ یا wind with fertility ہے۔ تمام سائنسی تحقیق پانی کے زرخیز ہونے کے سلسلے میں اسی لفظ ’’لواقیح‘‘ کے گرد گھومتی ہیں۔
(جاری)
حوالہ جات:
قرآن کریم
اللہ کی نشانیاں عقل والوں کے لیے- ہارون یحییٰ
سائنس خدا کے حضور میں-طارق اقبال سوہدروی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *