امیٹھی میں میڈیا سے بات چیت کرتے وقت کانگریس صدر راہل گاندھی کے چہرے پر سات بار لیزر پڑنے کو شدید مانتے ہوئے کانگریس نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو خط لکھا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ایک اسپنر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ حالانکہ وزارت داخلہ نے کہا کہ اس کواس سلسلہ میں کوئی خط نہیں ملا ہے لیکن پھر بھی کیس نوٹس لیا گیا۔ ابتدائی انکوائری سے پتہ چلا ہے کہ لیزر اصل میں کانگریس کے فوٹو گرافر کے موبائل کی تھی۔
کانگریس صدر راہل گاندھی کی حفاظت کے پیش نظر پارٹی نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو خط لکھا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ میڈیا سے بات چیت کے دوران راہل گاندھی کے چہرے پر سات بار سبز لیزر پڑتی دیکھی گئی۔ اس کے لئے کانگریس نے میڈیا سے بات چیت کا ویڈیو بھی بھیجا تھا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ ایک قسم کا اسپنر حملہ بھی ہو سکتا تھا۔ کانگریس پارٹی نے اسی طرح کے حملوں میں اپنے دو بڑے لیڈر کھو دیئے ہیں۔
 
Image result for Rahul has not been any negligence of Ministry of Interior
 
کانگریس نے خط میں لکھا ہے کہ راہل گاندھی کی حفاظت خطرے میں ہے۔ ان کی حفاظت میں لاپروائی نہیں ہونی چاہئے۔ اس سلسلے میں جانچ ہونی چاہئے اور اگر کوئی خطرہ ہے تو اس کو حل کیا جانا چاہئے۔کہا جا رہا ہے کہ خط کل یعنی 10 اپریل کو لکھا گیا تھا جس میں احمد پٹیل، جے رام رمیش اور رندیپ سنگھ سرجیوالا کے دستخط ہیں۔
 
Image result for laser light on rahul gandhi's face
 
وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے راہل کی حفاظت کو لے کر انہیں ابھی تک کوئی خط نہیں ملا ہے۔حالانہ معاملہ کے سامنے آتے ہی انہوں نے اپنے سطح پر اس کی جانچ پڑتال کی ہے۔
وزارت نے کہا ہے کہ کلیپنگ میں دکھائی دے رہی ‘سبز روشنی’ کانگریس فوٹوگرافر کی طرف سے استعمال کئے گئے ایک موبائل فون سے آ رہی تھی۔ فوٹوگرافر امیٹھی میں کلکٹریٹ ہیڈکوارٹر کے پاس راہل گاندھی کی صحافیوں سے کی جا رہی بات چیت کی ویڈیوگرافی کر رہا تھا۔
 
Image result for laser light on rahul gandhi's face
 
وزارت نے کہا کہ کانگریس صدر راہل گاندھی کو خصوصی سیکورٹی گارڈ (ایس پی جی) کی حفاظت دی گئی ہے۔ایس پی جی کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ راہل گاندھی کے حفاظتیعملے کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کی حفاظت میں کسی قسم کی چوک نہیں ہوئی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here