راہل گاندھی نہیں چاہتے کہ کسانوں کے مسائل ختم ہوں

Share Article

فردوس خان
کانگریس کی قیادت والی یوپی اے حکومت کی پالیسیاں کچھ اور ہیں اور راہل گاندھی کچھ اور بات کرتے ہیں۔ حکومت لینڈ ایکوائرنگ سے متعلق برسوں پرانے قانون کی سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھاتی ہے اور راہل گاندھی اسی قانون کے تحت ہونے والی لینڈ ایکوائرنگ کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن صرف وہیں جہاں غیر کانگریسی حکومت ہے۔ یہی رویہ انھوں نے اترپردیش کے گوتم بدھ نگر میں ہوئی لینڈ ایکوائرنگ معاملہ میں اختیار کیا۔ گوتم بدھ نگر کے گائوں بھٹا میں لینڈایکوائرنگ کے خلاف تحریک کر رہے کسانوں پر فائرنگ ہوتی ہے، کسان مرتے ہیں، عورتیں بیوہ ہوتی ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، لیکن راہل گاندھی ان کی خبر لینے نہیں جاتے۔ مگر جیسے ہی حالات بہتر ہونے لگتے ہیں اور دفعہ 144ہٹا لی جاتی ہے تو فوراً راہل گاندھی بائک سے بھٹا گائوں پہنچ جاتے ہیں، گویا کہ وہ آگ ٹھنڈی ہونے کا انتظار کر رہے ہوں اور پھر راکھ کے ڈھیر سے چنگاری تلاش کر کے اسے بھڑکانے کی فراق میں ہوں، تاکہ اس پر سیاسی روٹیاں سینک سکیں۔
اپنی نوٹنکی کے تحت راہل گاندھی گائوں میںگھر گھر جاتے ہیں۔ روتی بلکتی عورتوں اور بچوں سے مل کر ان سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں، ان کے دکھ درد بانٹنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ کسانوں کے مطالبات کی حمایت میں دھرنے پر بیٹھ جاتے ہیں اور میڈیا میں سرخیاں بٹورنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں سے لے کر اخبارات تک میں بس راہل کی ہی تصویریں اور انہی کے تذکرے ہیں۔ راہل کس سے ملے، کیا کہا، کیا کھایا، کیا پیا، وغیرہ وغیرہ۔یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ اب تصویر کا دوسرار خ بھی دیکھئے، جہاں راہل گاندھی صرف تشہیر کے بھوکے ہیں اور وہ کسی بھی طرح صرف تشہیر ہی تشہیر چاہتے ہیں۔ اگر واقعی وہ کسانوں کے سچے خیر خواہ ہوتے تو گائوں بھٹا جانے کے بجائے سیدھے وزیر اعظم کے دفتر جاتے اور زمین ایکوائرنگ قانون کے ترمیمی بل کو پاس کراتے، مگر انھوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔
مرکز کی یو پی اے حکومت نے گزشتہ ماہ اپریل میں مہاراشٹر کے رتنا گری ضلع کے جیتا پور علاقہ میں ایٹمی پلانٹ کو منظوری دی۔ حالانکہ اس کی سخت مخالفت بھی کی گئی، لیکن حکومت نے کسی کی نہیں سنی اور دو ٹوک کہہ دیا کہ یہ پروجیکٹ بدستور جاری رہے گا۔ راہل گاندھی یہاں نہیں آئے۔ اسی طرح مغربی بنگال کے سنگور میں ٹاٹا گروپ کی کار فیکٹری کی مخالفت کرتے کسانوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں، خواتین کو بھی ڈنڈوں سے پیٹا گیا، لیکن یہاں بھی راہل گاندھی نہیں آئے۔ آخر یہاں سرکار بھی تو یو پی اے میں شامل کمیونسٹوں کی تھی۔مہاراشٹر کی کانگریس حکومت نے دستمبر 2007میں انڈیا بلس کو امراوتی میں سوفیا پاور پلانٹ لگانے کی منظوری دی۔ ساتھ ہی 87ملین کیوبک میٹر پانی پاور پلانٹ کو دینے کا بھی فیصلہ کیا۔ حالانکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے 2003میں ودربھ میں تسلیم کیا تھا کہ پانی کی قلت کی وجہ سے کسان خودکشی کر رہے ہیں، اس کے باوجود کانگریس نے کسانوں سے ان کے حق کا پانی چھیننے کا کام کیا۔ یہاں کے کسان کراہ اٹھے، لیکن راہل گاندھی یہاں بھی نہیں آئے۔ اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ یوراج کو زمین ایکوائرنگ کو لے کر جو بھی لڑائی لڑنی ہے، وہ سب سے پہلے مرکزی حکومت سے لڑیں، کیوںکہ یہ مرکزی حکومت کی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ لینڈ ایکوائرنگ سے متعلق ترمیمی بل کو پاس کرائے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ کانگریس کو دیکھتے ہوئے بی جے پی، سماجوادی پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی بی ایس پی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیے۔ یہ تمام جماعتیں حکومت کے زمین ایکوائرنگ قانون کی تو مخالفت کر رہی ہیں، لیکن مسئلہ کی جڑ یعنی زمین ایکوائرنگ قانون کی ترمیم کے بارے میں کوئی بات کرنے توتیار نہیں۔ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت بھی مرکزی اقتدار میں رہی ہے، آخر تب بی جے پی نے زمین ایکوائرنگ قانون کو بدلنے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا۔ اسی طرح اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے ملائم سنگھ کو کسانوں کے مفاد کا خیال کیوں نہیں آیا۔ زمین ایکوائرنگ کے معاملہ میں مایاوتی حکومت کو کسی بھی لحاظ سے غلط نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیوںکہ حکومت تو قانون کے تحت ہی کام کر رہی ہے۔مایاوتی کا کہنا ہے کہ زمین ایکوائرنگ کو لے کر نئی پالیسی بنانے کے لیے مرکزی حکومت کو کئی بار خط لکھا گیا، لیکن مرکز نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی۔ حالانکہ گریٹر نوئیڈا میں خون خرابہ ہونے کے بعد وزیر اعظم اگلے سیشن میں زمین ایکوائرنگ ترمیمی بل لانے کی بات کر رہے ہیں۔
زمین ایکوائرنگ کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس کی شروعات مایاوتی کے گائوں بادل پور سے ہی ہوئی تھی۔ یہاں بھی کسانوں اور خواتین پر پولس نے بے دریغ لاٹھیاں برسائی تھیں۔اسی طرح گائوں دھوم مانیک پور، بڑھ پورا، رانولی لطیف پور، بساہڑا کے کسانوں پر بھی لاٹھیاں برسائی گئیں۔گھوڑی بچھیڑی میں پولس نے سات کسانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔اس کے بعد گائوں ساکھی پور، ڈاڈھا، بختا ور پور، گڑھی چوکھنڈی اور ٹپل میں بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے کسانوں پر مظالم کیے گئے۔ کسانوں کے ذریعہ گولی  باری کیے جانے سے یہ سوال بھی کھڑا ہو گیا کہ کیا یہ سب منصوبہ بند تھا، کیوںکہ کسانوں کے پاس کافی ہتھیار تھے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ہتھیار قریب دو ماہ قبل علی گڑھ، خورجہ، بلند شہر اور پڑوسی ریاست ہریانہ سے منگائے گئے تھے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ کسان تحریک کی آڑ میں ریاست میں نکسل ازم پیر پسار رہا ہے۔کسانوں نے روڈ ویز ملازمین کو یرغمال بنایا اور انہیں چھڑانے گئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پر گولی چلائی، دو پولس اہلکاروں کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ایسی وارداتوں کو مائونواز ہی انجام دیتے رہے ہیں۔ بھٹا کے باشندے اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ دھرنے  میں کچھ ایسے باہری لوگ بھی شامل تھے، جنہیں انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تو زراعت کرنے والے معمولی کسان ہیں، بھلا ہم کیا جانیں کہ بندوق کیسے چلائی جاتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پولس نے نہتے دیہی باشندوں پر گولیاں چلائیں اور ان کی لاشوں کو جلا دیا، تاکہ کوئی ثبوت ہی نہ بچے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کا ہی حصہ ہو۔وزیر اعلیٰ مایاوتی کا کہنا ہے کہ کچھ پارٹیوں نے سازش کے تحت شر پسند عناصر کو ہتھیار دے کربھٹا پارسول میں قانونی نظام کی صورتحال خراب کرائی۔
راہل گاندھی کے بھٹا آنے سے ایک روز قبل گائوں کی کچھ خواتین کہتی ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت آئے، کیونکہ کانگریس کے دور اقتدار میں کسانوں پر ظلم نہیں ہوتے،جبکہ مایاوتی حکومت ان کی زمینیں چھین رہی ہے اور مخالفت کرنے پر گولیاں چلاتی ہے۔ جب انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت کے قانون کے تحت ہی زمین ایکوائرکی جا رہی ہے تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔
پولس کی گولی کے شکار ہوئے راج پال کی بیوی اوم وتی بتاتی ہیں کہ راج پال دھرنے میں پانی پلاتے تھے۔ جب وہ شام کو اپنے کھیت سے واپس آ رہے تھے، تب پولس نے ان پر گولی چلائی، جو ان کے پیر میں لگی اور وہ وہیں گر گئے۔ اس کے بعد پولس نے پیچھے سے ان کے سر اور پیٹ میں گولی ماری۔ پولس اہلکار ان کی لاش بھی اٹھا کر لے گئے۔ بعد میں ہنڈن ندی کے پاس ان کی لاش پا ئی گئی، جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔بیس سالہ چینو کے گھر بھی پولس نے دھاوا بولا اور اس کے والد کیلاش ، چھوٹے بھائیوں امیت اور انکت کے ساتھ پہلے مارپیٹ کی اور پھر انہیں کسی نامعلوم جگہ پر لے گئی۔ جب اس نے اپنے بھائیوں کو بچانے کی کوشش کی تو پولس نے اس کے ساتھ بھی بدسلوکی کی اور اسے لاٹھیوں سے پیٹا۔علاج نہ ملنے کے سبب وہ تڑپتی رہی۔ اس کی ماں ببیتا کا کہنا ہے کہ گائوں میں ڈاکٹروں کی ٹیم آئی تھی، لیکن پولس نے اسے بھگا دیا۔ زبیدہ کے 16سالہ یتیم بھتیجے اکرام کو بھی پولس اٹھا کر لے گئی۔ 10سالہ پوجا نے بتایا کہ پولس نے اسے بھی ڈنڈا مارا اور اس کے والد شیو کمار، ماں کرانتی شرما اور بہن نیہا کو بری طرح پیٹا۔سبھی اہل خانہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ بزرگ برلا کا کہنا ہے کہ پولس نے ان کے گھر میں گھس کر گالیاں دیں اور انہیں پیٹا۔ اتنا ہی نہیں، پولس نے ان کے اپاہج بیٹے کپل کو بھی کمرے سے باہر نکلنے کو کہا۔ جب وہ باہر نہیں آیا تو اسے بھی ڈنڈے مارے گئے۔بزرگ رچھپال بتاتے ہیں کہ گائوں میں کچھ بزرگ ہی بچے ہیں، باقی کہاں ہیں، کوئی نہیں جانتا۔ دیا، لجا، شوبھا، جسپال، مہندری، درگا، منی رنکی، پنکی وغیرہ خواتین سوال کرتی ہیں کہ ان کے اہل خانہ کب واپس آئیں گے، پتہ نہیں وہ زندہ ہیں بھی یانہیںیا پولس نے انہیں بھی مار ڈالا۔
گائوں کے ہی رتن سنگھ کہتے ہیں کہ ان کی 16بیگھا زمین ایکوائر کی گئی ہے، جس کی قیمت 7لاکھ 42ہزار روپے لگائی گئی ہے، لیکن ابھی تک انھوں نے معاوضہ نہیں لیا ہے۔ انھوں نے خود کو دھرنے سے علیحدہ رکھا اور وہ معاوضہ کی رقم سے مطمئن ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پولس نے ان لوگوں کو بھی پیٹا، جو دھرنے میں شامل نہیں تھے۔ ان کے بھائی سریش کے ہاتھ پیر توڑ دیے گئے۔گائوں کے ماسٹر دھرم ویر کو بری طرح پیٹا گیا۔دونوں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔اسی گائوں کی 28سالہ بالا دیوی اپنے والد عطر سنگھ اور والدہ سوراجو کے ساتھ دھرنے میں گئی تھی، جو ابھی تک نہیں لوٹی۔ کہا جا رہا ہے کہ پولس نے ان کا قتل کر دیا۔ بالا دیوی خواتین کو جمع کر کے دھرنے میں لے جاتی تھی۔بھٹا گائوں پولس چھائونی بنا ہوا ہے۔آس پاس کے گائوں میں بھی دہشت کا ماحول ہے ۔ حالت یہ ہے کہ گائوں میں کئی شادیاں رد کر دی گئی ہیں اور جو ہو رہی ہیں، ان میں صرف گنتی کے لوگ ہی شامل ہو رہے ہیں۔ شادی والے گھروں میں شہنائیوں کی جگہ سناٹا طاری ہے۔
کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی کل زمین میں سے صرف آدھی کو ہی ایکوائر کیا جائے اور باقی ترقی کے بعد انہیں واپس کر دی جائے۔وہ نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور یمنا ایکسپریس وے کی ہائوسنگ اسکیموں میں 25فیصد ریزرویشن بھی چاہتے ہیں۔علاوہ ازیں وہ بے زمین کسانوں کو 120مربع میٹر کا پلاٹ اور معاوضہ کے طور پر پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ زمین کی ایکوائرنگ تب تک نہ کی جائے، جب تک زمین ایکوائرنگ سے متعلق موجودہ ایکٹ کی جگہ نیا قانون نہیں آ جاتا۔کسانوں نے ایکوائرنگ سے پہلے روزگار کی گارنٹی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار زمین ایکوائر ہو جانے کے بعد نئی نسل بے روزگار ہو جائے گی۔اسی لیے اسے یقینی بنانا حکومت کا کام ہے کہ جس کسان کی زمین ایکوائر کی جائے گی، اس کے بچوں کو روزگار ملے گا۔ کسانوں نے آبادی کی ایکوائرنگ پوری طرح سے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے کھاتے کے بجائے فی کنبہ کے حساب سے 3000 مربع میٹر زمین چھوڑی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی اس زمین پر کسی طرح کا چارج نہیں لیا جانا چاہیے۔
سماجوادی پارٹی کے لیڈر راج کمار بھاٹی کا کہنا ہے کہ کسانوں کو صرف 550 روپے فی مربع میٹر کے حساب سے ادائیگی کی جا رہی ہے، جب کہ بچولیے سات ہزار روپے فی مربع میٹر کی رشوت لے کر اسے بلڈروں کو دے رہے ہیں اور بلڈر اس زمین کو 20ہزار روپے فی مربع میٹر کی شرح سے بیچ کر چاندی کاٹ رہے ہیں۔
زمین ایکوائرنگ کے خلاف ملک میں کئی بار خون خرابہ ہو چکا ہے۔ مغربی بنگال کے نندی گرام سانحہ کو لوگ ابھی تک نہیں بھولے ہیں۔ موجودہ زمین ایکوائرنگ قانون انگریزی دور حکومت میں نافذ کیا گیاتھا، لیکن بدقسمتی سے یہ ابھی تک چل رہا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ بھی اسے بے مطلب قرار دے چکا ہے۔اس کے باوجود مرکزی حکومت زمین ایکوائرنگ سے متعلق ترمیمی بل ابھی تک پارلیمنٹ میں پیش نہیں کر پائی ہے۔ معلوم ہو کہ 165کلو میٹر یمنا ایکسپریس وے کے ذریعہ نوئیڈا سے آگرہ تک کی دوری محض ڈیڑھ گھنٹے میں طے کر لی جائے گی۔ 2500کروڑ کے اس پروجیکٹ کے تحت نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، بلند شہر، علی گڑھ، ہاتھرس، ماور آگرہ کے تقریباً334گائوں کی زمین ایکوائر کی جانی ہے۔ علاوہ ازیں اس ہائی وے سے ملحق پانچ مقامات پر ٹائون شپ اور اسپیشل ایکونومک زون بنائے جانے ہیں۔یہ ایکوائرنگ جے پی گروپ، مونٹی چڈھا اور دیگر بلڈروں کے لیے کی جا رہی ہے۔ 1966میں ریاست کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ چندر بھانو گپتا نے دہلی سے ملحق اس علاقہ میں فلم سٹی بسانے کا خواب دیکھا تھا۔ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک پروجیکٹ بھی بنا ڈالا اور اسے ’’سوریہ نگر‘‘ نام دیا گیا۔ مشہوراداکار آنجہانی سنیل دت سے اس کا افتتاح بھی کرایا گیا، لیکن یہ پروجیکٹ کامیاب نہیں ہو پایا۔ اس کے علاوہ نارائن دت تیواری نے اسے نوئیڈا نام دے کر صنعتی علاقہ کے طور پر فروغ دیا۔ اب یہ علاقہ راجدھانی دہلی کی برابری کر رہا ہے۔
لہٰذا ، چوتھی دنیا کا راہل گاندھی سے مطالبہ ہے کہ وہ یو پی اے حکومت کے دور اقتدار میں ایکوائر کی گئی کل زمین ان کے مالکان کو واپس کرائیں۔ ساتھ ہی کسانوں کو مالی امداد بھی دلوائیں۔تاکہ کسان بہتر طریقہ سے کاشت کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی کو ان علاقوں کا بھی دورہ کرنا چاہیے، جہاں کے باشندے یو پی اے حکومت کی وجہ سے بے گھر ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

فردوس خان

فردوس خان صحافی، شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آپ نے دور درشن کیندر اور ملک کے معزز اخباروں اور رسالوں میں کئی سالوں تک اپنی صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو، دور درشن کیندر سے وقتاً فوقتاًآپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور نیوز چینل کے لئے اینکرنگ بھی کی ہے۔ملک اور بیرون ممالک کے مختلف اخباروں ، رسالوں اور جریدوں میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔آپ کی ایک تصنیف ’’گنگا جمنی سنسکرتی کے اگردوت‘‘ کے نام سے شائع ہو آ چکی ہے۔
Share Article

فردوس خان

فردوس خان صحافی، شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آپ نے دور درشن کیندر اور ملک کے معزز اخباروں اور رسالوں میں کئی سالوں تک اپنی صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو، دور درشن کیندر سے وقتاً فوقتاًآپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور نیوز چینل کے لئے اینکرنگ بھی کی ہے۔ملک اور بیرون ممالک کے مختلف اخباروں ، رسالوں اور جریدوں میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔آپ کی ایک تصنیف ’’گنگا جمنی سنسکرتی کے اگردوت‘‘ کے نام سے شائع ہو آ چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *