پرنب مکھرجی کو افطار میں آنے کی دی گئی ہے دعوت:رندیپ سرجیوالا

Share Article
randeep-surjewala
خبروں کا بازارگرم ہے کہ کانگریس نے سنگھ صدر دفتر میں جانے والے سابق صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی کو افطار پارٹی میں دعوت نامہ نہیں بھیجا ہے۔ کئی دن سے میڈیا میں ایسی خبریں آرہی تھیں کہ کانگریس کی جانب سے پرنب مکھرجی کو افطار پارٹی کے لئے دعوت نہیں دی گئی ہے۔لیکن اس دوران کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے تمام شک وشبہات پربریک لگادیاہے۔دراصل، رندیپ سرجیوالا نے پیر کی شب ٹوئٹر پر اطلاع دی کہ راہل گاندھی نے پرنب مکھرجی کو افطار میں آنے کی دعوت دی ہے جسے سابق صدر نے قبول کر لیا ہے۔کانگریس صدر بننے کے بعد راہل گاندھی کی جانب سے یہ پہلی افطار پارٹی ہے۔ کانگریس دو سال بعد اس سال تاج پلیس میں افطار پارٹی کا اہتمام کر رہی ہے جس میں کانگریس کے تمام سینئر لیڈروں کے علاوہ اپوزیشن کے بھی لیڈروں کو مدعو کیا گیا ہے۔ مکھرجی نے سات جون کو ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ہیڈ کوارٹر میں منعقد ایک تقریب میں حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ قیاس آرائی کی جانے لگی تھی کہ کانگریس کی طرف سے شاید مکھرجی کو افطار کی دعوت نہ بھیجی جائے۔
سرجیوالا نے ٹویٹ کر کے کہا کہ بہت سے میڈیا گھرانوں نے کانگریس صدر کی جانب سے افطار کی دعوت میں پرنب مکھرجی کو دعوت دینے کو لے کر سوال کھڑے کیے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ کانگریس صدر نے پرنب مکھرجی کو دعوت بھیجی ہے جسے سابق صدر نے قبول بھی کر لیا ہے۔ اس کے بعد مکھرجی کو افطار پارٹی کی دعوت کو لے کر لگائی جا رہی بلاوجہ کی قیاس آرائیوں پر اب شاید روک لگ جائے گا۔
بہرحال قبل اسکے کہ اس بارے میں کانگریس کے ایک بڑے عہدیدار نے نام نہیں شائع کرنے کی شرط پر کہا کہ پرنب مکھرجی اب تو سنگھ کی ساکھ کو بڑھانے میں مدد کرنے والے آزاد شہری ہوگئے ہیں۔ اومیتا پال اور ان کے شوہر کے کے پال کے شبھ کے لئے موجودہ مرکزی حکومت اور اس کے مالکان کے پیارے ۔پیارے بن گئے ہیں۔ جو کانگریس ان کو ایک ماسٹر عہدہ سے لاکر مسلسل راجیہ سبھا رکن بنائے رکھا، پارٹی اور حکومت میں تقریباً سبھی اہم عہدے دیئے، صدر جمہوریہ بنایا، وہی پرنب بابو اب اومیتا پال کی مبینہ صلاح پر ان کے شوہر کے فائدے کے لئے سنگھ دفتر جاکر سنگھ کی ساکھ کو بڑھانے جیسے کام کرنے لگے ہیں۔ وہ یہ بھول گئے کہ جو وہ کئے ہیں اس سے ساکھ کس کی بڑھی ہے۔ پرنب کی کتنی بڑھی ہے یہ تو پرنب جانیں، وہیں اس کے بارے میں ان کی بیٹی نے بتاہی دیا کہ اس سے فائدہ سنگھ اور بی جے پی کو ہوا ہے۔ ایسے پرنب مکھرجی کو کانگریس نے اس ہفتہ ہونے والی افطار پارٹی میں دعوت نامہ نہیں بھیجا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں کہے کہ حامد انصاری کو بلایا گیا ہے اور پرنب کو نہیں، اسی لئے انصاری کو بھی دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا ہے۔ اروند کیجریوال یا ان کی عام آدمی پارٹی کا نام بھی اس افطار پارٹی کے دعوت نامہ کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *