راہل گاندھی سامنے آکر کارکنان کو مایوسی سے نکالیں : ڈاکٹر ایاز ہاشمی

Share Article

 

کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر حکیم ایاز ہاشمی نے آج میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ دنوں میڈیا میں یہ خبر آئی تھی کہ کانگریس صدر راہل گاندھی مان گئے ہیں اور وہ صدر کے طور پر کام کریں گے، لیکن ابھی بھی پارٹی کارکنان میں کنفیوزن ہے کہ وہ صدر کی حیثیت سے کام کر نے کیلئے تیار ہوئے ہیں یا نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اس بارے میں خود پارٹی صدر راہل گاندھی کو بیان دے کر صورتحال صاف کرنی چاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پارٹی کیلئے ایک نازک گھڑی ہے ، لیکن اس نازک گھڑی میں پارٹی کو اگر کسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ راہل گاندھی کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ راہل گاندھی کا صدر کا عہدہ چھوڑنا پارٹی کو ختم کردے گا۔

انہوںنے کہاکہ پرینکا گاندھی نے بالکل درست کہاہے کہ اگر راہل گاندھی پارٹی صدر کا عہدہ چھوڑتے ہیں تو وہ بی جے پی کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جائیں گے اور بی جے پی یہی چاہتی ہے کہ راہل گاندھی پارٹی صدر کا عہدہ چھوڑ دیں تاکہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے کہاکہ یہ وقت ہے کہ پارٹی کو اوپر سے نیچے تک درست کیا جائے۔ ان لیڈروں سے حساب مانگا جائے جن کو ذمہ داری سونپی گئی تھی اور وہ پارٹی کو کامیاب نہیں کراسکے ۔ ڈاکٹر ہاشمی نے کہاکہ پارٹی میں ذمہ داری ایسے لوگوں کو دینے کی ضرورت ہے جو پارٹی کو زمینی سطح پر مضبو ط کرسکیں اور پارٹی میں ایسے لیڈروں کو آگے کرنے کی ضرورت ہے جن سے کارکنان بہ آسانی مل سکیں۔ انہوںنے کہاکہ ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ پارٹی کیسے مضبوط ہو۔ انہوں نے کہاکہ دکھ اس بات کا ہے کہ ایک سو پچیس سالہ پارٹی کو کل کی پارٹی سے سبق لینے کی ضرورت پڑرہی ہے۔

ڈاکٹر ہاشمی نے کہاکہ بی جے پی کا کارکن چالیس ڈگر ی درجہ حرارت میں بھی کام کرنے کیلئے کھڑا رہتا ہے ،ہمیں بھی ایسے کارکنان کو آگے لانا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر راجیو گاندھی کے بعد کانگریس پارٹی کبھی 200کا ہندسہ کیوں نہیں پار کرسکی، سوائے 2009کے اور اسے محض 206سیٹوں پر صبر کرنا پڑا اور ہمیشہ اس کو معاومین کی ضرورت پڑتی رہی۔ انہوںنے کہاکہ یہ وقت اس بات کے سوچنے کا ہے کہ کانگریس پارٹی کے ہاتھ سے ایک کے بعد ایک ریاست کیوں نکلتی چلی جارہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ آج بنگال، بہار، یوپی، دہلی ، تلنگانہ، آندھرا پردیش جیسے کئی اہم صوبے کانگریس سے نکل چکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں ریاستوں کی کمان ایسے لوگوں کو دینی چاہئے جو سیاست کو سیاست کی طرح کرتے ہیں نہ کہ ایے سی کمرے میں بیٹھے لوگوں کو کمان دے دی جائے اور وہ پارٹی کو دوسروں کے ہاتھوں فروخت کردیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *