راہل جی! یہ وقت بہت اہم ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
انا ہزارے کی تحریک پورے ملک کو بیدار کر رہی تھی۔ گلی گلی، میدان میدان، ہر جگہ احتجاج ہو رہا تھا۔ ایسے وقت میں پارلیمنٹ کے اوپر ذمہ داری تھی کہ وہ کوئی حل نکالے، لیکن پارلیمنٹ انا ہزارے کی تحریک کے خلاف کھڑی نظر آئی۔ اس وقت یہ ضرور لگ رہا تھا کہ اگر سونیا گاندھی یہاں ہوتیں تو وہ شاید کوئی حل نکالنے میں پہل کر پاتیں۔ کر پاتیں یا نہیں کر پاتیں، پتہ نہیں، لیکن لوگوں کو لگ رہا تھا کہ ایک ایسا مرکز تھا، جو شاید کوئی راستہ نکالنے میں اہم رول نبھا پاتا، لیکن سونیا گاندھی اپنی بیماری کی وجہ سے ملک میں نہیں تھیں۔ ان کا ملک میں نہ ہونا کانگریس کے لیے تھوڑی پریشانی پیدا کر گیا۔ ایسے وقت میں راہل گاندھی کے اوپر لوگوں کی نگاہیں تھیں۔ راہل گاندھی نے جب پارلیمنٹ میں تقریر کی، کانگریس کے لوگوں نے ان کی تائید کی۔ راہل گاندھی کی تقریر میں کوئی راستہ نہیں تھا، کوئی حل نہیں تھا۔ وہ بس ایک تقریر تھی۔ اُس تقریر میں دور اندیشی بھی نہیں تھی۔ انہوں نے جو سوال کھڑے کیے، اُن سے یہ آواز نکلی کہ راہل گاندھی بدعنوانی سے نہیں لڑنا چاہتے، کیوں کہ یہ دلیل کہ کیا ایک لوک پال بننے سے بدعنوانی ختم ہو جائے گی، یہ بدعنوانی کی حمایت میں دی گئی دلیل ہے۔ اور راستے بتانے چاہیے تھے کہ اِن اِن سے بدعنوانی ختم ہوگی، لیکن وہ راستہ راہل گاندھی نے نہیں بتایا۔
دراصل، ملک کے لوگ یہ چاہ رہے تھے اور جو موقع راہل گاندھی نے گنوایا، وہ یہی تاریخی موقع تھا۔ ملک کو کانگریس پارٹی سے ایک ایسی قیادت کی امید تھی، جو آئڈیالوجی کو بنیاد بناکر ملک سے کچھ نئی باتیں کہے۔ یہ موقع تھا، جس میں راہل گاندھی کہہ سکتے تھے کہ لوک پال بھی بنے گا اور بدعنوانی سے لڑنے کے لیے دس اور تدبیریں بھی کی جائیں گی۔ کسانوں کے لیے یہ کیا جائے گا، مزدور وں، غریبوں اور اقلیتوں کے لیے یہ کیا جائے گا۔ کل ملا کر ملک میں ایک نئے پروگرام، ایک نئی بات کہنے کا آغاز راہل گاندھی کر سکتے تھے۔ راہل گاندھی نے یہ نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے من میں کچھ کرنے کی خواہش رہی ہو، لیکن ان کے صلاح کاروں کی سوچنے کی صلاحیت ویسی نہ ہو، جو ملک چلانے والوں کی ہونی چاہیے۔ اسی لیے یہ موقع بھانپنے میں راہل گاندھی اور ان کے صلاح کار چوک گئے۔
عام سے عام آدمی، جو کانگریس سے ہمدردی رکھتا ہے، اسے لگ رہا تھا کہ اس موقع کا فائدہ راہل گاندھی ضرور اٹھائیں گے اور ایک نئی تصویر ملک کے سامنے آئے گی۔ وہ نہیں آ پائی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ راہل گاندھی میں سمجھ نہیں ہے، پر جب سمجھ کی اور جیسی سمجھ کی جہاں ضرورت ہوتی ہے، ویسی سمجھ اُس وقت وہاں نہیں دکھائی دیتی، تو ملک کا قائد بننے کا خواب دیکھنے والے شخص کے لیے یہ خطرناک حالت ہے۔ اگر صحیح موقع پر اس کی عقل کام نہ کرے یا صحیح موقع پر اس کے صلاح کار اسے اسٹرائک کرنے کی صلاح نہ دیں تو پھر یہ ماننا چاہیے کہ ملک کو سنبھالنے لائق ابھی اس کی شخصیت، اس کی سمجھ اور عقل نہیں بنی ہے۔ وہ ابھی اتنا بالغ النظر نہیں ہے کہ ایسے حالات کا سامنا کر سکے۔ منموہن سنگھ کی سرکار اُس وقت عجیب عجیب فیصلے کر رہی تھی۔ کون بات چیت کر رہا ہے، بات کرنے کے بعد کون فیصلہ لے رہا ہے، ہر قدم پر منموہن سنگھ کی سرکار نے پیاز بھی کھائے اور جوتے بھی کھائے۔ یہ کہاوت کانگریس پارٹی اور سرکار کے لیے بالکل درست بیٹھتی ہے۔ آپ نے انا کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا، آپ کی انٹیلی جنس یہ نہیں بتا پائی کہ انا ہزارے کی حمایت میں کس طرح عوامی رائے بن چکی ہے۔ پھر جیل میں ڈالتے ہی چار پانچ گھنٹے کے بعد آپ نے انہیں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ جب انا نے کہا کہ وہ جیل سے نہیں نکلیں گے، تب آپ کو سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کرنا ہے۔ جس رام لیلا میدان کو نہ دینے کے پیچھے آپ نے سینکڑوں دلیلیں دیں، وہی آپ کو منتیں کرکے دینا پڑا اور وہاں جھاڑو لگوانی پڑی، مٹی ڈلوانی پڑی، پانی ہٹوانا پڑا، ٹینٹ لگوانا پڑا، مائک لگوانے پڑے۔ یہ سب کرکے آپ نے پھر انا ہزارے کو میدان دیا۔ اس کے بعد آپ نے شرط رکھی کہ تین دن، سات دن، دس دن۔ بعد میں آپ کو پھر بات سے پلٹنا پڑا۔
جب جن لوک پال پر پہلے بات چیت ہوتی تھی، تب کپل سبل اور پی چدمبرم کا رخ اور اس کے بعد جو لوگ بات چیت میں شامل ہوئے، ان کا رخ، دونوں الگ الگ تھے۔ لیکن شاید کہیں کپل سبل اور پی چدمبرم پردے کے پیچھے کھیل رہے تھے۔ جب انا ہزارے کی ٹیم کے لوگ آنکھ دکھاتے تھے اور باہر نکل کر کہتے تھے کہ سرکار ہمارے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے، تب دو گھنٹے کے اندر ہی سرکار یو ٹرن لے لیتی تھی۔ اور تو اور، ہفتہ کو یعنی جس دن پارلیمنٹ میں بحث ہو رہی تھی، نارائن سامی ایک بات کہہ رہے تھے، پون بنسل دوسری بات کہہ رہے تھے اور سلمان خورشید تیسری بات کہہ رہے تھے۔ سلمان خورشید نے انا ہزارے کی ٹیم کو ٹکا سا جواب دے دیا کہ پارلیمنٹ میں صرف بات ہوگی، کوئی تجویز پیش نہیں ہوگی۔ جب ٹیم انا نے آنکھیں دکھائیں اور کہا کہ ہم سے دھوکہ کر رہے ہیں، ہم سے کہا تھا کہ تجویز پاس کریں گے اور اس کی حمایت میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ایک گھنٹہ کے اندر سلمان خورشید کو پلٹنا پڑا اور انہوں نے کہا کہ نہیں، تجویز پیش ہوگی اور ووٹنگ بھی ہوگی۔ ووٹنگ کی حالت اس لیے نہیں آئی کہ ایوان سے اتفاق رائے سے تجویز پاس کردی۔ جب وزیر اعظم نے انا ہزارے کو خط بھیجا، جسے لے کر ولاس راؤ دیش مکھ گئے، وہ خط کہتا ہے کہ پارلیمنٹ نے تجویز پاس کی ہے، جس میں انا ہزارے کی تینوں مانگوں کے اوپر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے ہے۔ انا ہزارے نے بھوک ہڑتال ختم کردی۔ اس کے بعد کانگریس کے لوگوں نے سوال اٹھا دیا کہ تجویز ہے کہاں، تجویز کی زبان کیا ہے، کون سی تجویز ہے۔ یہ کیسا جذبہ ہے؟ یہاں پر کانگریس کے اندر ایک مضبوط قیادت کی ضرورت لوگوں کو محسوس ہوئی، لیکن راہل گاندھی نے اس موقع کو گنوا دیا۔
ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ ہوسکتا ہے، راہل گاندھی کے ذہن و دل پر ان کی ماں کی بیماری کا اثر رہا ہو۔ راہل اور پرینکا یا کانگریس پارٹی نے، کسی نے بھی ملک کو سونیا گاندھی کی بیماری کے بارے میں نہیں بتایا۔ سونیا گاندھی ملک کی اور کانگریس پارٹی کی بڑی لیڈر ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کا عہدہ ٹھکرا دیا تھا۔ انہیں اگر کینسر ہوا ہے، جس کے بارے میں افواہیں چاروں طرف چل رہی ہیں، تو بھی ملک کو بتانا چاہیے۔ بیماری کوئی ایسی بات نہیں ہے، جسے چھپاکر آپ ملک کو دھوکہ میں رکھیں۔ آخر آپ کے گھر سے ہی بات نکلتی ہے، آپ کی پارٹی سے بات نکلتی ہے، آپ کی پارٹی کے جنرل سکریٹری پریس کانفرنس کرتے ہیں، لیکن ایسی پریس کانفرنس کرتے ہیں، جو قیاس آرائی کرنے کے لیے لوگوں کو مجبور کرتی ہے۔ ہوسکتا ہے، ان کی بیماری کا دباؤ راہل گاندھی کے دماغ پر رہا ہو، لیکن راہل گاندھی ملک میں تھے۔ بھلے ہی ہفتہ بھر کے لیے تھے۔ اُن کی ماں امریکہ میں اسپتال میں تھیں۔ اگر وہ سات دنوں کے لیے ملک میں تھے تو ان کے صلاح کاروں نے انہیں کیوں نہیں سمجھایا کہ یہ ایسا موقع ہے، جسے نہیں چوکنا چاہیے۔
انا ہزارے کے ساتھ 80 فیصد نوجوان تھے۔ وہی نوجوان، جنہیں راہل گاندھی اپنی کانسٹی ٹوینسی مانتے ہیں، جن کی اقتدار میں حصہ داری یا جن کے خوابوں کو پورا کرنے کی بات وہ کرتے ہیں، جن کے سہارے وہ اگلا انتخاب جیتنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ وہ نوجوان تو انا ہزارے کے ساتھ کھڑا دکھائی دیا تو راہل گاندھی کے ساتھ کون سا نوجوان ہے؟ راہل گاندھی کو ایک بات سمجھنی چاہیے کہ ملک میں نوجوانوں کے پاس آپ اپنی بات نہیں پہنچائیں گے اور اُن سے ان کی بات نہیں سنیں گے تو آپ دھوکہ کھائیں گے۔ پھر نوجوان کم سے کم آپ کو لیڈر نہیں مانے گا۔ کانگریس پارٹی ایک منظم پارٹی کی طرح کام کرتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ جتنے بھی جنرل سکریٹری ہیں، وہ سبھی اپنے نزدیکی پریس والوں کے پاس اتنی ہی کہانیاں روز نکال رہے ہیں۔ کچھ اخبار چھاپ رہے ہیں، کچھ نہیں چھاپ رہے ہیں۔ کبھی چینل باہم متضاد باتیں دکھا دیتے ہیں۔ 24 اکبر روڈ پر پارٹی کا دفتر ہے، جہاں جنرل سکریٹری اور جوائنٹ جنرل سکریٹری بیٹھتے ہیں اور وہیں سے الگ الگ کہانیاں باہر آتی ہیں۔ کانگریس کو ایک مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔ ایسی قیادت کی، جو سارے لوگوں کو باندھ سکے، سارے لوگوں کو انتخاب میں اتار سکے۔ ایسی قیادت سے کانگریس کا بھلا نہیں ہونے والا، جو لوگوں کے من میں یہ بھرم پیدا کرے کہ جہاز ڈوبنے والا ہے۔ میرے پاس کانگریس سے جڑی جو کہانیاں آتی ہیں، اُن کہانیوں کو تو نہیں کہوں گا، لیکن ان کا لب لباب بتاتا ہوں۔
کانگریس کے ایک بڑے لیڈر نے مجھ سے کہا کہ اگر موجودہ وزیر اعظم کی قیادت میں پارٹی انتخاب میں اترتی ہے تو وہ موجودہ سیٹوں سے 50 فیصد سیٹیں کم لائے گی۔ ذمہ دار شخص ہیں، جنہوں نے یہ باتیں مجھ سے کہیں۔ کانگریس پارٹی کے ایک دوسرے ذمہ دار شخص نے کہا کہ ہوسکتا ہے، آنے والا ایک مہینہ کانگریس میں تبدیلی کا مہینہ ہو۔ ان کا اشارہ سیدھا تھا کہ وزیر اعظم بدلا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم بدلا جائے یا نہ بدلا جائے، پر پارٹی کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی افواہوں پر روک لگائے۔ یہ روک لگانے کا کام دو لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ سونیا گاندھی، جو اس وقت بیمار ہیں اور راہل گاندھی، جو اس کور کمیٹی کے سب سے اہم رکن ہیں، جو سونیا گاندھی کی غیر موجودگی میں پارٹی کو چلانے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ راہل گاندھی سونیا گاندھی کے بیٹے بھی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ان ساری باتوں پر لگام لگائیں۔ اگر وہ لگام نہیں لگاتے ہیں تو اپنی صلاحیت کے بارے میں بھرم پیدا کر رہے ہیں۔ پارٹی کو منظم طریقے سے وہ چلا سکتے ہیں یا نہیں، اس پر بھی سوال کھڑا ہونے لگا ہے۔ اب جب کہ سونیا گاندھی بیمار ہیں اور شاید اگلے کچھ مہینوں تک وہ جسمانی اور دماغی طور سے بہتر قیادت نہیں دے پائیں گی، راہل گاندھی کے لیے یہ ٹرانزیشنل فیز ہے۔ راہل گاندھی اگر اس وقت کا فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں اور اپنی انتظامی اور دماغی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں تو یہ بات نہرو خاندان یا فیروز گاندھی کے خاندان یا اندرا گاندھی کے خاندان کے ایک ایسے شخص کے بارے میں لوگوں کا بھرم ٹوٹنے کے مترادف ہوگا، جس کے بارے میں اب تک یہ تصویر گڑھی جاتی رہی کہ یہ شخص، یہ نوجوان بہت سمجھدار ہے، انتظامی صلاحیتوں والا ہے، بے باک ہے اور یہ ملک کا آئندہ وزیر اعظم بن سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *