راہل کو ناکام کرنے کی کوشش

Share Article

ایک مہینے بعدانڈین نیشنل کانگریس کا کنونشن ہو نے والا ہے ،جس میں کانگریس اپنامستقبل کا صدر منتخب کرے گی ،اس میں کو ئی شک نہیں کہ کانگریس موجودہ صدرمحترمہ سونیا گاندھی کو ہی دوبارہ اپنا صدر منتخب کرے گی ۔ اسی کنونش میں نئی مجلس عاملہ کا انتخاب اور نامزدگی ہو گی ۔اس کے علاوہ کانگریس کے مرکزی تنظیم کی تشکیل نو کی جائے گی ۔کئی جنرل سکریٹری مرکزی کابینی وزارت میں چلے گئے ہیںاس لئے نئے جنرل سکریٹری بنا ئے جا ئیں گے۔غلام نبی آزاد کو مرکزی وزارت سے واپس بلا یا جائے گا اور ان کو تنظیم میں دوبارہ جنرل سکریٹری بنا یا جا ئے گا ۔اور جن صوبوں میں انتخابات ہو نے ہیں وہاں کی ذمہ داری سپر د کی جائے گی ۔
کانگریس کے سامنے بہار اور اتر پردیش سب سے اہم چیلنج ہیں۔بہار میں کا نگریس کونئے سرے سے زندہ کر نے کی کاوشیں کامیاب ہو تی نہیں دکھائی دے رہی ہیں ۔بہار کے انچارج جگدیش ٹائٹلر ہیں ۔اور وہاں کی گروپ بندی نقطہ عروج پر ہے ،وہاں سینئر لیڈرآپس میںبری طرح منقسم ہیں ،صوبہ کے صدر انل شرما اور جگدیش ٹا ئٹلر کئی بار آمنے سامنے آچکے ہیں ۔راہل گاندھی بھی بہا ر میںاپنی طرف سے تمام تر کاوشیں  کر چکے ہیں ۔اور یہ مان چکے ہیں کہ بہا ر میں کچھ زیا دہ نہیں کیا جا سکتا ۔
لیکن کانگریس کا ماننا ہے کہ اتر پر دیش میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔،اس کے لئے ابھی سے پورا نقشہ بنا لیا گیا ہے ۔اتر پردیش کی کمان پو ری طرح راہل گاندھی نے سنبھال لی ہے ۔پہلے مرحلے میں پورے اتر پر دیش میں تنظیم کو بیدار کر نے کے لئے چودہ یاترائیں نکالی گئی ہیں ۔جن کی قیادت کے لئے لوگوں کا انتخاب راہل گاندھی نے خود کیا ہے ۔را ہل گاندھی کے سامنے ایک سوال ہے جس کا جواب ان کو نہیں مل رہا ہے کہ اتر پردیش کا آئندہ صدر کون ہو ؟ریتا بہو گنا جوشی ،ہیم وتی نندن بہوگنا کی بیٹی ہیں ۔وہ سخت محنت بھی کر رہی ہیں ،لیکن تنازعات زیادہ پیدا کر رہی ہیں۔کانگریس کے سامنے سماجی طبقوں کو بھی ساتھ لانے کا چیلنج ہے۔
کانگریس کو لگتا ہے کہ برہمن ان کے ساتھ واپس آسکتاہے ،کانگریس کو اس بات کا افسوس ہے کہ بی جے پی سے جب برہمن دور ہوئے تو وہ کانگریس کی کاہلی کی وجہ سے اس کی ناک کے نیچے سے بی ایس پی کے ساتھ چلے گئے ۔اسی لئے کانگریس نے ریتا بہوگنا جو شی کو صوبے کاصدر بنا یا تھا۔لیکن کانگریس کی مرکزی قیادت یہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ پردیش کا میدانی برہمن، پہاڑ کے برہمن کو برہمن ہی نہیں تسلیم کرتا  ۔اسی لئے ریتا بہو گنا اتر پردیش میں تقریبا نا کام ہو گئی ہیں ۔سونیا گاندھی کو اگر اتر پردیش میں برہمنوں کو اپنے ساتھ لانا ہے تو ان کو ایک بہت ہی مضبوط برہمن شخصیت کو اتر پردیش میں صدارت کے عہدے کے لئے منتخب کر نا ہو گا ۔
ہماری معلومات کے مطا بق سونیا گاندھی کے یہاں یہ غور وفکر کیا جا رہاہے کی دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کو اتر پردیش کا صدربنا کر بھیجا جائے اور ان کی پبلسٹی ممکنہ وزیر اعلی کے طور پر کی جائے ۔شیلا دیکشت ملک کے برہمنوں کی نہ صرف سب سے بڑی لیڈر ہیں بلکہ غیر متنازع لیڈر ہیں ۔وہ اوما شنکر دیکشت جی کی بہو ہیں ۔جنہیں اتر پردیش کا بر ہمن آج بھی یاد کر تا ہے ۔شیلا دیکشت اتر پردیش سے ممبر پارلیمنٹ اور وزیر رہ چکی ہیں اس کے علاوہ وہ اتر پر دیش کی بہو بھی ہیں ۔ان سے اتر پردیش کی ہر پارٹی کے برہمن لیڈریہاں تک کہ بی ایس پی لیڈربھی رابطہ قائم میں رہتے ہیں ۔شیلا دیکشت اتر پردیش میں کا نگریس کی جیت کا ٹرمپ کا رڈ ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سونیا گاندھی اس کارڈکا استعمال کب کرتی ہیں  ہیں ۔کانگریس جس دوسرے طبقے سے امید لگا ئے ہے وہ ہے مسلم ووٹ ۔اس کو لگتا ہے کہ جس طرح پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں نے اس کی حمایت کی تھی ، اسمبلی انتخاب میں بھی مسلمان اس کی حمایت کریں گے۔لیکن یہاں کانگریس کے پاس مسلم چہرے کی کمی ہے ۔سلمان خورشید اور ظفر علی نقوی صرف دو نام ہیں جن کے اپنے مثبت اور منفی پہلو ہیں ۔مسلمان کانگریس میںاپنا مقام تلاش کر نا چاہتاہے ۔لیکن وہ اس کو کہیں دکھا ئی نہیں دیتا ۔جموں وکشمیر کو چھوڑ دیں تو ملک کے کسی بھی صوبہ میں مسلما ن وزیر اعلیٰ نہیں ہے نہ ہی اپوزیشن لیڈر ہے اور نہ کسی صوبے کا صدر ہے ۔مسلمان جن لیڈروں سے بات چیت کر نے میں آسانی محسوس کر تا ہے ان لیڈروں کوکانگریس ذرائع کے طور پر استعمال نہیں کرتی ۔مرکزی کابینہ میں جہاں سے پیغام جاتے ہیںوہاں غلام نبی آزاد اور سلمان خورشید ہیں ۔غلام نبی آزاد کے ساتھ کشمیری مسلمان جڑا ہو اہے بالکل اسی طرح جس طرح ریتا بہو گنا جوشی سے پہاڑ کے بر ہمن جڑے ہیں ۔
کانگریس کے کور گروپ میں اس منصوبے پر غور وفکر ہو رہا ہے کہ اگر دہلی کی وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کو اتر پردیش کانگریس کا صدر بنا یا جا ئے تو دہلی کے وزیر اعلیٰ کی کرسی کسی ایسے مسلمان لیڈرکو دی جائے ،جو ہردلعزیز ہو ،اس کے پس پردہ مقصد یہ ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف اتر پردیش میںبلکہ بہار میں بھی کانگریس کوفائدہ ہوگا ۔ برہمن ا ورمسلمان کانگریس کے ساتھ دو با رہ جڑ جا ئیں گے ۔
راہل گاندھی کے مشورے سے ہی اتر پردیش کی منصو بہ بندی کی جارہی ہے کیونکہ اتر پردیش کو فتح  کے بعد ہی پو رے ملک میں یہ پیغام جائے گا کہ راہل گاندھی میں ایک کامیاب عوامی رہنما بننے کی صلاحیت مو جو د ہے اور وہ ملک کے ایک کامیاب وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں ۔کانگریس کو اس بات کابھی احساس ہو رہاہے کہ اتر پردیش کا نوجوان اور خاص طورسے 18اور 25سالہ نو جوان ،راہل سے بہت متاثر ہو رہاہے ۔
لہٰذکانگریس میں راہل کو ناکام کرنے کے منصوبے بنتے  دکھا ئی دے رہے ہیں ،اور اس پر عمل بھی  ہو رہاہے ،اس کی تازہ مثال کٹ موشن پرووٹنگ کی ہے ۔اتر پردیش میں راہل گاندھی نے ساری طاقت مایاوتی کے مقابلے میں لو گوںکوکھڑا کرنے میں صرف کردی ۔انہوںنے امبیڈکر نگر میں 14اپریل کو ایک لاکھ کے قریب مجمع کو خطاب کیا اور پورے صوبے میں یاترائیں نکالنے کی شروعات کی ۔وہیں 27اپریل کو پارلیمنٹ میں کانگریسی لیڈروں نے بہو جن سماج پارٹی کی حمایت حاصل کر لی ۔کانگریس کے سینئر لیڈران کا کہنا ہے کہ اس کے بدلے حکومت نے بہوجن سماج پارٹی کی سپریمو کے انکم ٹیکس مسئلوں کو سلجھانے کا وعدہ کیا ہے۔
اب راہل گاندھی کے پالیسی بنانے والوں کی سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ جب لا لو یادو اور ملائم سنگھ یادونے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ وہ بی جے پی کے سا تھ وو ٹنگ نہیںکریںگے تو پھر کیوں ما یا وتی سے حما یت لی گئی ۔حکومت کو کوئی خطرہ نہیں تھا ،لیکن زبر دستی سونیا گاندھی کو خوفزدہ کیا گیا کہ حکومت گر سکتی ہے ۔اس لئے کو ئی خطرہ نہیں اٹھا نا چا ہئے ۔اس کا سب سے مزیدار پہلو یہ ہے کہ یہ فیصلہ لیتے وقت راہل گاندھی کو بتایا ہی نہیں گیا ۔اس ایک قدم سے راہل گاندھی کی اتر پردیش میں کانگریس کی حکومت بنانے کی کو ششوں کو جھٹکا ضرور لگ گیا ۔
کیا یہ راہل گاندھی کو اتر پر دیش میں ناکام کر نے کی کو شش ہے ؟کم ازکم راہل گاندھی کے ساتھ کام کر کرنے والے کانگریسی لیڈرتو یہی مانتے ہیں ۔اس کی ایک مثال وہ دگ وجے سنگھ کی دیتے ہیں۔دگ وجے سنگھ نے مسلمانوںکو اپنے حق میں لانے کی مہم تیز کی ،اس کی شروعات انہوں نے اعظم گڑھ سے کی ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے ملزموں کی سنوائی خصوصی عدالت میں جلدی سے جلدی کرائی جائے تاکہ اگر وہ قصوروار ثابت ہوں تو جیل میں سڑیں اور اگر بے گنا ہ ثابت ہوں تو رہا کیاجائے ۔دگ وجے سنگھ سے اتنا ہی مطالبہ ملزموں کے گھر والوںنے کیا تھا۔دگ وجے سنگھ کو مطالبات میں وزن محسوس ہوا اور انہوںنے اس کی حمایت کر دی ۔لیکن کانگریس میں اس مطالبے سے زلزلہ آگیا۔دگ وجے سنگھ کو اتر پردیش کا انچارج جنرل سکریٹری راہل سنگھ کے کہنے ہی پر سونیا گاندھی نے بنا یا تھا ۔دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی کی جوڑی نے آسام اور ہر یانہ میں کمال کا کام کیا۔راہل گاندھی چاہتے تھے کہ سنجیدہ سیاسی پہل اتر پردیش میں ہو ،اس لئے انہوں نے دگ وجے سنگھ اور پر ویز ہاشمی کو اتر پردیش میں کا م کر نے کو کہا۔پارلیمنٹ میں ووٹ کے لئے لئے گئے فیصلے نے اتر پر دیش میں کا نگریس کی نکلنے والی ساری یاتراؤں کی اہمیت پھیکی کر دی ہے ۔
دھیرے دھیرے پردہ ہٹ رہا ہے اوراب  دکھائی دینے لگا ہے کہ 10جن پتھ اور سات ریس کور س روڈ کے درمیان کافی فاصلہ ہے ۔سونیا گاندھی کو اپنی رائے خط لکھ کر وزیر اعظم کو بتا نی پڑتی ہے ،اور وزیر اعظم خط لکھ کرہی اس رائے کونامنظور کر دیتے ہیں ۔سونیا گاندھی موٹے طور پر اپنے بیٹے راہل گاندھی کے ساتھ ہیں ،کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ راہل گاندھی نے وزارت کاقلمدان لینے سے انکار کر کے کانگریس کی عزت بڑھا ئی ہے ۔چھ سال قبل سونیا گاندھی نے بھی وزار ت عظمیٰ کا عہدہ لینے سے انکار کر دیاتھا ۔اور اپنی جگہ منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنا یا تھا ۔
خیمے بھی بنٹنے لگے ہیں ،کانگریس میں جینریشن وار شروع ہو گئی ہے ۔ایک طبقہ ہے جو ابھی نو جوانوں کو حکومت چلانے کے لائق نہیں مانتااور نوجوان ہیں کہ آئندہ اسمبلی اور لو ک سبھا میں پوری تصویر ہی بدلنا چاہتے ہیں۔راہل گاندھی کی اسکیم ہے کہ اس باراسمبلی انتخابات کے  80فیصد ٹکٹ 25سے 33سال کی عمرکے لو گوں کودئیے جائیں ۔اس کاتجربہ بہار اور بعد میں اتر پردیش میں ہو نے والا ہے لیکن جو طبقہ نو جوانوں کو ابھی اقتدار کی حصہ داری نہیں دینا چاہتا اس کی قیادت خود وزیر اعظم منموہن سنگھ کر رہے ہیں۔ان کے ساتھ ملک کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی اور وزیر داخلہ پی چدمبرم ہیں ، یہ لوگ نہیں چاہتے کہ راہل گاندھی وزیر اعظم بنیں ،کیونکہ ان کو ایسا لگتا ہے کہ را ہل گاندھی ابھی ملک کی زمینی حقیقت سے واقف نہیں ہیں ۔
راہل گاندھی نے کئی جگہ بات چیت میں کہا ہے کہ ہندو مسلمان جیسی کیا چیز ہو تی ہے ۔ہمیں نو جوانوںکو ایک طبقہ ماننا چاہئے وہ نوجوانوںکی مختلف طبقہ بندی  اور اس  سے منسوب مفاد پر بات چیت بھی نہیں کرنا چاہتے۔اور یہ لیڈر اس کو راہل گاندھی کا کچا پن مان رہے ہیں ،ان کو محسوس ہو رہاہے کہ دگ وجے سنگھ راہل گاندھی کوآدھی ادھوری سیاسی تعلیم دے رہے ہیں ۔اس لئے یہ سارے لوگ دگ وجے سنگھ کے خلاف کھڑے دکھائی دے رہے ہیں ،ملک کی وزارت عظمیٰ کا منصب بھی بڑی کمال کی چیز ہے۔پرنب مکھرجی کے لئے یہ آخری لوک سبھا ہے کیونکہ ان کی عمر وزیر اعظم بننے کی عمر سے بہت زیادہ تجاوز کر چکی ہے ۔کانگریس میںتنہا دگ وجے سنگھ مانے جا رہے ہیں کہ اگر کبھی راہل گاندھی وزیر اعظم بننے سے انکار کریں تو وہ ہی ایسے رہنماہیں جن پر نظریں ٹکتی ہیں ۔اسی لئے کانگریس کا سینئر طبقہ دگ وجے سنگھ کو سیاسی حاشیہ پر لے جانے کے منصوبے بنا رہاہے ۔
راہل گاندھی کے سیا سی ساتھی جہاں مایاوتی کی کٹ موشن حمایت پر اتر پردیش میں کانگریس کی دھار کند ہونے سے حیران ہیں وہیں وہ اپنے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو بھی نہیں سمجھ پا رہے ہیں ،قانون اور نظم ونسق ریاست کا اہم مو ضوع ہے ،نکسل واد کے مسئلے پر ریاستیں توخاموش ہیں لیکن چدمبرم دہاڑ رہے ہیں اور گذشتہ چھ مہینے میں ایسی حالت ہو گئی ہے کہ اگر لڑائی نکسل واد سے لڑنی ہے تو یہ لڑائی مرکز لڑے گا ،ریاستیں اس ذمہ داری سے آزاد ہو گئی ہیں ،اب خواہ دنتے واڑہ ہو یا لال گڑھ ،شکست کی ذمہ داری مرکزی حکومت کے سر آگئی ہے ۔راہل گاندھی کے سیاسی سپہ سالار سر دھن رہے ہیں کہ اس حالت کو روکنے کے بجائے چدمبرم طول دے رہے ہیں ۔
راہل گاندھی کے سیاسی ساتھی  ان کے دماغ کے بارے میں بتا تے ہیں کہ راہل گاندھی کابینہ وزارت  میں کئی وزیر اعظم ہو نے سے کافی پریشان ہیں ۔شرد پوار، اے راجہ ،ممتا بنرجی اس طرح کا سلوک کر رہے ہیں جیسے وہ اپنے محکمے کے وزیراعظم ہو ں ۔وہ اپنے کو ایوان کے تئیں جواب دہ مانتے ہیں اور نہ ہی وزیر اعظم کے تئیںجواب دہ مانتے ہیں ۔دوسری طرف وزیر اعظم یا تو ان کو کنٹرول کر نا نہیں چاہتے یا ان کو کنٹرول کر نہیں پاتے ۔منریگا جیسی اسکیم کا توقع کے مطابق نتیجہ حاصل نہ کر پانا بھی راہل گاندھی کے لئے فکر مندی کا باعث ہے ۔
اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ نہ وزیر اعظم ،نہ پرنب مکھر جی اور نہ ہی چدمبرم ہجوم اکٹھا کر پاتے ہیں ،کانگریس میں صرف سونیا گاندھی اور راہل گاندھی ہی ایسے اسٹار ہیں جن کے نام سے بھیڑ کھنچی چلی آتی ہے  ۔شاید اسی لئے دس جن پتھ  نے طے کیا ہے کہ بہار و اتر پر دیش کے اسمبلی انتخابات میں پبلسٹی کے لئے پرینکا گاندھی سے کہا جائے ۔پرینکا گاندھی سے کانگریس کے لو گوں کو یہ توقع ہے کہ وہ پو ری طرح ہاری ہو ئی بازی کو جتانے کی صلاحیت رکھتی ہیں ،ٹھیک اسی طرح جیسے انہوں نے رائے بریلی میں ہارتے ہوئے ستیش شرما کو ارون نہرو کے مقابلے میں جیت دلائی تھی ۔بہار اور اتر پردیش میں دس جن پتھ اس اہم داؤ ں کو کھیلنے جا رہاہے ۔
حزب مخالف کی تما پارٹیوں یا یہ یوں سکہیں کہ کا نگریس کے علا وہ سبھی پا رٹیوں کے لئے ایک بحران پیدا ہو جا ئے گا ،اگر کانگریس راہل گاندھی کی بات مان کر 80فیصد نو جوانوں کو ٹکٹ دیتی ہے تو اس سے دوسری پارٹیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ نو جوانوں کو ٹکٹ دیں ۔آنے والے ماہ جو لائی سے ہندوستانی سیاست میں عمرکی قدروں کے دورکی ابتدا ہو جائے گی ۔لیکن یہ اس پر منحصر ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کو کتنا کامیاب ہو نے دیتے ہیں ۔
آخر میں ایک بار پھرجو لائی میں ہو نے والے کانگریس کے آل انڈیاکنونشن کی بات کرتے ہیں ۔اس کنونشن میں راہل گاندھی کو کانگریس کا آئندہ صدر بنا یا جا سکتا ہے ،سو نیا گاندھی چاہتی ہیں کہ راہل گاندھی ایک فاتح کی طرح وزارت عظمیٰ کی کر سی پر بیٹھیں۔اور اس کے لئے بہار ،اتر پردیش کے علاوہ پارلیمانی انتخابات جیتنا ضرری ہیں ۔راہل گاندھی کی قیادت میں اگر کانگریس پار لیمانی انتخابات لڑتی ہے تو اس کو ملک کے نو جوانوں کی بھر پور حمایت مل سکتی ہے۔
پرینکا گاندھی کا ساتھ اس کوٹھوس شکل عطا کرتا ہے ،بقیہ سیاسی پارٹیاں اس حکمت عملی سے بیک فٹ پر آسکتی ہیں۔کیونکہ ان کے پاس نو جوانوں کو متاثرکر نے کے لئے کوئی چہرہ نہیں ہے ۔
لہٰذسیاست کے سب سے بڑے کھیل کو دیکھنے کے لئے تیا ر ہو جا ئیے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *