رفتہ رفتہ موت کے قریب جارہے ہیں رکشہ پلر

Share Article

کولکاتہ کی سڑکوں سے ہاتھ رکشہ ہٹانے کی اب کوئی جلد بازی نظر نہیں آتی۔ شاید آئندہ اسمبلی انتخابات تک حکومت کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ کبھی ہاوڑا پل کے ساتھ ساتھ ہاتھ رکشہ کو بھی کولکاتہ کی شناخت کے طور پر پیش کیا جاتاتھا۔ یوم جمہوریہ کی جھلکیوں میں گنیسی اپنی ٹنٹنیا گاڑی کو لئے راج پتھ پر ٹہلتا نظر آتاتھا۔ مگر اچانک بے حد غور وخوض کے بعد جدید خیالات کے حامیوں کو لگا کہ یہ غیر انسانی ہے،ا س سے کولکاتہ کی شبیہ بہتر نظر نہیں آتی بلکہ اور خراب ہوتی ہے، تو حکومت نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا۔وہ وقت تھا کامریڈ جیوتی باسو کا ۔ انھوں نے سال 1996کے 15اگست کا دن اس اعلان کے لئے منتخب کیا تھا۔ تین ماہ کے اندر مختلف مراحل میں انہیں ہٹانے کی بات کہی گئی تھی۔ 2005کے یوم آزادی کے خطاب میں وزیر اعلیٰ بدھا دیو بھٹاچاریہ نے بھی انہیں ہٹانے کے بعد ان کی بازآباد کاری کی بات کہی۔ مگر پہلے سے اجاڑے گئے لوگوں کو دوبارہ بسانے کے وعدے کا حشر دیکھتے ہوئے اسے بھی شاید کسی نےسنجیدگیسے نہیں لیا۔ اور آج تک یہ معاملہ التوا میں رہنے سے یہ بات سچ بھی ثابت ہو گئی ہے۔
1972میں کولکاتہ کے تمام بڑے راستوں میں ہاتھ رکشوں کے داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ سال 1982میں حکومت نے مہم چلا کر 12000رکشے ضبط کئے اور انہیں توڑ دیا گیا۔ 1992تک مہا نگر میں 30ہزار ہاتھ رکشے چل رہے تھے، جن میں سے چھ ہزار رکشے بنا لائسنس کے تھے ۔دسمبر 2006میں اسمبلی میں 1919کا کولکاتہ ہیکنی کیرج (ترمیم)بل پیش کیا گیا۔ اس کے خلاف یونین عدالت میں بھی گئی لیکن گزشتہ سال جولائی میں ہائی کورٹ نے بھی ہاتھ رکشہ ہٹانے کی سرکاری پہل پر مہر لگا دی، مگر حکومت اپنے ہی حق میں ہوئے فیصلہ پر عمل نہیں کر رہی ہے۔جلا وطن رکشہ پلرو ں کی بازآبادکاری کے لئے وہ ابھی تک کوئی بہتر اسکیم نہیں بنا پائی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے توسرکاری طور پر ایک غیر انسانی کام کولکاتہ کی سڑکوں پر ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں کہ کولکاتہ کو خوبصورت شہر بنانے کی لگن ختم ہو گئی ہے۔ حالانکہ ایک وقت تھا، جب ملکی، غیر ملکی سرمایہ داروں کو جدید کولکاتہ دکھانا تھا تو اس کے لئے ٹھیلا،رکشہ سے لے کر فٹ پاتھوں پر قبضہ جما کر بیٹھے ہاکروں کے خلاف بھی آپریشن سن شائن چلایا گیا، مگر آج کولکاتہ آنے والا کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ لوگوں کے چلنے کے لئے فٹ پاتھ کہاں کہاں بچے ہیں۔ مگر نندی گرام اور سنگور سانحہ کے بعد حکومت کا شہری حسن کاری کا نشہ بھی اتر گیاہے۔ ممتا بنرجی کے ساتھ ساتھ ماﺅنوازوں نے بنگال کی سیاست کا ایک طرح سے ایجنڈا ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک بار صحافیوں کے سامنے تحریک کر رہے رکشہ پلرو ں پر پولس نے لاٹھی چارج بھی کیا تھا۔اگست 2005میں حکومت نے ان پر پوری پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کا بوجھ اٹھائے، یہ غیر انسانی ہے۔ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ ان رکشاو¿ں سے ٹریفک میں خلل پڑتا ہے مگر انھوں نے کہا کہ جن کے پاس لائسنس ہیں، انہیں سائیکل رکشہ دیا جائے گا۔محکمہ ٹرانسپورٹ ، کولکاتہ میونسپل کارپوریشن اور کولکاتہ پولس نوآبادکاری کی اسکیمیں بنا رہی ہیں۔ حالانکہ انہیں مواقع کے طور پر آٹو رکشہ دینے کی بھی بات کہی جا رہی ہے۔ مگر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کتنے ڈرائیور یہ سہولت حاصل کر پائیں گے، کیونکہ ان میں سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ، بیمار اوربڑھاپے کی دہلیز پر ہے۔
معلوم ہو کہ کولکاتہ کے قریب 20ہزار رکشہ پلرو ں میں تقریباً82فیصدی لوگ بہار کے ہیں، جبکہ 9فیصدی شمالی اتر پردیش اور اڑیسہ کے ہیں۔ ان میں 68فیصدہندو اور 32فیصد مسلمان ہیں۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن کے اعداد و شمار کے مطابق آدھے ہاتھ رکشہ پلرو ںکی عمر 25سے40سال کے درمیان ہے۔ رکشہ پلرو ں کی روزانہ کی کمائی 150سے 200روپے تک ہے اور تخمینہ ہے کہ ان کا کل کاروبار ماہانہ پانچ کروڑ روپے کے آس پاس ہے۔ اس سلسلہ میں صحیح اعداد و شمار والے سیکڑوں رکشے پولس والوں کی پشت پناہی میں چلتے رہے ہیں۔ کارپوریشن کی جانب سے بہت پہلے کروائے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا تھا کہصرف20فیصد رکشہ پلرو ں نے اس پیشہ کو خوشی سے اختیار کیا ہے، جبکہ باقی روزگار کاکوئی بہتر نظام نہیں ہو پانے کے سبب رکشہ چلا رہے ہیں۔ زیادہ تر کے پاس اپنے رہنے کے لئے مکان نہیں ہے اور نہ یہ کسی سیاسی پارٹی کے ووٹ بینک ہیں، کیونکہ ان کے نام ووٹر لسٹ میںہیں ہی نہیں ۔ ان کی جو تنظیم ہے، ان کا بھی رجسٹریشن نہیں ہونے دیا گیا ہے۔ ان کا اتنا اثر نہیں ہے کہ وہ حکومت کو اپنی بات منوانے پر مجبور کر سکیں۔ آل بنگال رکشہ یونین کے مطابق، ابھی کولکاتہ میں رجسٹرڈ رکشہ پلرو ں کی تعداد 5937ہے۔ میئر وکاس رنجن بھٹاچاریہ نے ”چوتھی دنیا“ کو بتایا کہ نئے لائسنس بنا نے ا ور جاری کرنے کا کام بہت پہلے سے بندکر دیا گیاہے۔سال 2004-2005میں 3088ہاتھ رکشوں کو لائسنس دئے گئے تھے، جبکہ 2005-06میں یہ تعداد صرف 1450تھی۔ 2006سے کسی رکشہ کو لائسنس نہیں دیا گیا ہے۔ راحت اور نو آبادکاری کے معاملہ پر میئر نے بتایا کہ یہ کام جلد شروع کیا جائےگا، حالانکہ وہ اس کا مقررہ وقت بتانے سے قاصر رہے۔معلوم ہو کہ سال 1945کے بعد سے ہی نئے رکشوں کا لائسنس دینے کا کام بندہے۔
گھنٹے بھر کی برسات کے بعد ہی جب کولکاتہ کے کئی علاقہ تالاب میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو ہاتھ رکشہ والے ہی راحت اور بچاﺅ کے کام کے لئے دستیاب ہو پاتے ہیں۔
مریضوں، اسکولی بچوں اور ضعیفوں کو برسات کے قہر سے بچانے میں ان کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔بڑا بازار جیسی گلیوں والے علاقہ میں اس کے علاوہ کوئی دوسری سواری گھس ہی نہیں سکتی۔ صبح صبح بچوں کو اسکول بھیجنے کے لئے سرپرستوں کو ہاتھ رکشہ سب سے مفید لگتا ہے۔ برسات کے دنوں میں جب پانی گھٹنوں سے اوپر آ جاتا ہے، تواس مصیبت سے چھٹکارہ دلانے کے لئے ہاتھ رکشہ والے ہی مسیحا نظر آتے ہیں ۔اس پیشہ کو غیر انسانی ماننے والا ایک بڑا متوسط طبقہ بھی برسات میں ہاتھ رکشہ کی سواری کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ دیر رات کو مریض کے بیمار ہونے پر ایمبو لینس سے جلدی پہنچنے میں، اور رکشہ چلانے میں بہت تیز ہوتے ہیں یہ رکشہ والے۔شادی، بیاہ جیسے موقعوں پر یا چھوٹے تاجروں کے لئے یہ مال ڈھونے کا کام بھی کرتے ہیں۔ 300سال پرانے مہا نگر کولکاتہ میں سیکڑوں ایسی گلیاں ہیں، جہاں ہاتھ رکشہ کے علاوہ کوئی دوسری سواری جا ہی نہیں سکتی۔ ایسی حالت میں بیماروں، بچوں، ضعیفوں اور معذور لوگوں کے لئے ٹریفک کا کوئی دوسرا بہتر ذریعہ نہیں ہے۔ہاتھ رکشے کے ساتھ رکشہ پلر ہی نہیں، ان کے مالک، مرمت کرنے والے، کاریگر اور تاجر وغیرہ کا ایک بڑا گروپ بھی اسی سے اپنی زندگی کی گاڑی چلا رہا ہے۔آل بنگال رکشہ یونین کے سکریٹری مختار علی نے ”چوتھی دنیا“ کو بتایا کہ 26سے 27ہزار کنبے براہ راست اس پیشے کی کمائی پر انحصار کرتے ہیں۔ایک کنبہ میں اوسطاً اگر چار لوگ بھی ہوں تو اعداد و شمار لاکھ روپے سے اوپر جاتا ہے۔
کیسے ہو باز آبادکاری؟
ڈومنک لا پیرے کے سٹی آف جائے کا ہیرو اب آخری سانسیں گن رہا ہے، حکومت اگر چاہتی تو بہت پہلے ہی ان کی بازآبادکاری ہو سکتی تھی۔ چنئی میونسپل کارپوریشن کی اس ضمن میں ہوئی پیش رفت سے حکومت سبق لے سکتی ہے۔سال 1972سے پہلے چنئی ( اس وقت ان کا نام مدراس تھا) میں ہاتھ رکشہ کا چلن تھا۔موجودہ حکومت نے بہت ہی کم وقت میں نہ صرف ہاتھ رکشہ والوں کو تین پہیہ والا رکشہ مہیا کرایا بلکہ وہاں ایک کو آپریٹو سوسائٹی بھی بنائی گئی جس کے ممبر ہاتھ رکشہ پلر ہی تھے۔ بنگال اگر پہلے سوچتاہے اور ملک بعد میں تو اس معاملہ میں ایسا کیوں نہیں ہوا؟ مرکزی ،سیاحتی ،صوبائی وزیر اور آل بنگال رکشہ یونین کے بنگال کے صدر سلطان احمد نے ”چوتھی دنیا“ کو بتایا کہ اگریہ پیشہ غیر انسانی ہے تو حکومت کو جلد سے جلدی باز آبادکاری کا کام کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق قانونی طور سے یہ پیشہ صحیح ہے اور کسی کو بھی روزی روٹی کمانے کا حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک حکومت کوئی ٹھوس تجویز لے کر یونین سے بات نہیں شروع کرتی، تب تک حالت اطمینان بخش نہیں ہوگی۔ابھی بھی یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت انہیں سائیکل رکشہ دے گی یا آٹو رکشہ؟ ان کے مطابق جدید طرح کا سائیکل رکشہ سب سے بہتر حل ہے۔حکومت کے فیصلہ کے بعد ٹی یو وی مینجمنٹ سروس نے ہاتھ رکشہ کی جگہ بیٹری سے چلنے والے رکشے مہیا کرانے کی بھی تجویز دی تھی، جسے چلانے کے لئے کسی ڈرائیونگ لائسنس کی ضرورت نہیں تھی اور یہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے بھی بہتر تھے۔ یونین نے تجویز بھی رکھی، مگر حکومت نے اسے بھی سرد بستے میں ڈال دیا۔ باز آبادکاری میں حکومت کو زیادہ خرچ بھی نہیں کرناہے، کیونکہ آدھے سے زیادہ ہاتھ رکشہ پلر وں کے پاس نہ راشن کارڈ ہیں اور نہ ہی ووٹر شناختی کارڈ۔
جہاں تک اس پیشہ کے غیر انسانی ہونے کا سوال ہے تو کولکاتہ میں اس سے بھی زیادہ لوگ غیر انسانی پیشوں میں ملوث ہیں۔ریاستی حکومت کے سکریٹریٹ رائٹرس بلڈنگ کے چاروں جانب کھانے پینے کے اسٹالوں پر چھوٹے چھوٹے بچوں کو صبح سے شام تک چند روپیوں کی خاطر اپنے بچن اور مستقبل کو قربان کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔بنگلہ دیشی جاسوسوں کے سبب ہوئی مردم شماری، بموں کے دھماکے ،بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی بھی غیر انسانی ہی ہے۔ آل بنگال رکشہ یونین کے ہی ایک شخص مختار علی نے بتایا ”کہ ہم رکشہ ہٹانے کے خلاف نہیں، مگر پہلے باز آبادکاری کرنی ہوگی“
اور اگر حکومت تہہ دل سے بازآبادکاری چاہتی ہے تو جلداز جلد یونین کو میٹنگ کے لئے بلانا چاہئے۔
رکشہ پلر بھی اب شکایت نہیں کرتے۔ انہیں صرف باز آبادکاری کا انتظار ہے۔20سال سے رکشہ چلا کر اپنے کنبے کے چار لوگوں کو پال رہے ہزاری باغ کے قدوس علی نے بتایا کہ اگر ہمیں زندگی گزارنے کا کوئی بہتر ذریعہ ملتا ہے تو رکشہ چلانے کے اس پیشے کو چھوڑنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔25سال سے اس کام میں لگے مظفر پور کے برجو رائے نے بھی کہا کہ رکشہ اگر چھین لیا جائے تو ہم کیا کھائیں گے؟اس نے تین پہیہ والے رکشہ کو کارآمد بتایا۔ بہار کے ہی باکا ضلع کے پٹوریہ گاﺅں کے بونی یادو نے بڑا بازار کی گلیوںمیں گھوم رہے آٹو والوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ”حکومت تو ان کے بارے میں سوچ رہی ہے، ہمیں کون پوچھتا ہے“ مدھو بنی کے شنکر رائے نے قبول کیا کہ بدلتے بہار کو دیکھ کر بھی ان میں کچھ ہمت جاگی ہے اور وہاں بھی رفتہ رفتہ روزگار کے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔ کولکاتہ میں بہاری باشندوں کے لئے کام کر رہے ادارے ’بہار ناگرک منچ‘ کے صدر منی پرشاد سنگھ نے ”چوتھی دنیا“ کو بتایا کہ جرائم کم ہونے اور سرکاری اسکیموں میں بدعنوانیوں کا گراف نیچے آنے سے اب بہار میں بھی روزگار کے مواقوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جلا وطن ہوئے سیکڑوں ہاتھ رکشہ والے اب بہار میں ہی اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
راشٹریہ سنگھ کی انٹر نیشنل سٹی ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مطابق ملک کے بڑے شہروں میں سے کولکاتہ کا مقام تیسرا ہے اور 2015تک اس کی آبادی ایک کروڑ 70لاکھ ہو جائے گی۔ اس طرح 40سالوںمیں یہ آبادی دوگنی ہو جائے گی۔ اتنی وسیع آبادی کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام ماحولیات کے تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنا چاہئے ، کولکتہ میں ملیریا اور ڈینگو کا ابھی بھی کافی زور ہے جبکہ حکومت نے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں ابھی بھی سب کچھ حکومت پر منحصر کرتا ہے وہ ہاتھ رکشہ پلروں کو دھیمی موت مارنا چاہتی ہے یا حقیقتاًان کی باز آبادکاری کے تئیں سنجیدہ ہے۔وہ اگر سنجیدہ ہے تو الیکشن جیسے موسم کا بہانہ یا انتظار نہیں کریگی۔ بہانہ اس مطلب میں کہ شاید وہ نئے مسئلہ میںنہیں پڑنا چاہے اور انتظار اس مطلب میں کہ ممکن ہے حکومت ہندی زبان بولنے والوں کو لبھانے کے لئے انتخابی موسم میں راحت پیکیج پیش کرے۔ سوال یہ ہے کہ ایک غیر مہذب اورغیر انسانی پیشہ چلتے رہنے کی اجازت ہی سرکار کیوں دے رہی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *