سپریم کورٹ میں مودی سرکارنے قبولی غلطی ۔ رافیل کی CAG رپورٹ میں غلطی سے چھوٹ گئے تھے 3 صفحات

Share Article

rahul-modi

لوک سبھا انتخابات سے پہلے ایک بار پھر رافیل طیارے سودے میں مبینہ گڑبڑی کا معاملہ بحث میں ہے۔ سپریم کورٹ میں آج رافیل ڈیل پر نظر ثانی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے۔ مرکزی سرکار کی جانب سے بدھ کو ہی حلف نامہ دائر کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ وزارت دفاع سے رافیل کے کاغذات لیک ہوئے تھے۔

عدالت میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت کو بتایا کہ CAG کی جو رپورٹ عدالت میں داخل کی گئی تھی، اس میں کچھ کاغذات نہیں تھے۔ رپورٹ میں شروعاتی تین پیج شامل نہیں تھے۔AG نے کہا کہ ان سے غلطی سے پیج داخل نہیں ہو پائے تھے ۔جس پر چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ آپ دستاویزوں کے استحقاق کی بات کر رہے ہیں، لیکن اس کے لئے آپ کو صحیح دلیل پیش کرنے ہوں گے۔

سماعت کے دوران جسٹس ایس کے کول نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ اب دستاویزبدل رہے ہیں اور استحقاق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن آپ نے ثبوت پیش کئے ہیں۔ اس کے جواب میں AG نے کہا کہ ڈاکیومینٹس دوسری پارٹی نے پیش کئے ہیں، ہم نے نہیں۔

سپریم کورٹ میں AG نے RTI ایکٹ کی دلیل دی اور کہا کہ سیکورٹی سے جڑی جانکاری عوامی نہیں کیا جا سکتی ہیں۔ جس پر جسٹس کے ایم جوزف نے کہا کہ جن اداروں میں ایسا اصول ہے اور اگر بدعنوانی کا الزام ہے تو پھر جانکاری دینی ہی پڑتی ہے۔

سپریم کورٹ میں سیکشن 24 کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع اس کے تحت نہیں آتا ہے۔جسٹس جوزف نے اس پر جواب دیا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کی وجہ سے کسانوں کو فائدہ پہنچا، ہمارا ایکٹ امریکہ، برطانیہ سے بھی آگے ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں دلیل دی کہ جن کاغذوں کی بات ہو رہی ہے اس میں رافیل کی قیمتبھی شامل ہیں جس سے ملک کی سلامتی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنگ ہوتی ہے تو یہ ملک کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جرنل نے کہا کہ رافیل دو حکومتوں کے درمیان کا معاملہ ہے۔ اسلئے ہم نے کیگ کو کہا تھا کہ رپورٹ میں قیمت کا ذکر نہ کریں۔

پرشانت بھوشن نے کہا کہ صحافی کے لئے کسی بھی قانون میں ذرائع بتانے کی پابندی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2G میں بھی ایسا ہی ہوا تھا، کسی نامعلوم آدمی نے سی بی آئی رنجیت سنہا کے گھر انٹری رجسٹر دیا تھا، جس سے انکشاف ہوا تھا۔حالانکہ، سپریم کورٹ نے اس دلیل کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ کو کہا کہ اگر رافیل پر دستاویزات صحیح ہیں تو پھر کورٹ نے قبول کر سکتا ہے، بھلے ہی دستاویز کہیں سے بھی آئے ہوں۔ اس دوران انہوں نے US کی سپریم کورٹ کا بھی حوالہ دیا۔

آپ کو بتا دیں کہ اس سے پہلے حکومت اسی کیگ رپورٹ میں غلطی کی بات کہہ چکی تھی، جس کے بعد ہی اس نظر ثانی درخواست کو داخل کیا گیا تھا۔ پچھلی CAG رپورٹ کی بنیاد پر ہی مودی حکومت کو سپریم کورٹ سے کلین چٹ ملی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *