رافیل ڈیل پر مودی سرکار نے پیش کئے دستاویز، سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ

Share Article
rafale-deal-supreme-court
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں آج رافیل ڈیل پر نظر ثانی درخواست پر سماعت ہو ئی ۔سپریم کورٹ نے جمعرات کو رافیل سودا معاملہ میں نظرثانی عرضی پر حکومت کے ابتدائی اعتراضات پر سماعت مکمل کی۔سپریم کورٹ رافیل معاملے پر لیک دستاویزات کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے معاملے پر تمام فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ مرکزی سرکار کی جانب سے بدھ کو ہی حلف نامہ دائر کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا کہ وزارت دفاع سے رافیل کے کاغذات لیک ہوئے تھے۔

عدالت نے کہا کہ حکومت کے ابتدائی اعتراضات پر فیصلہ کرنے کے بعد ہی حقائق پر غور کیا جائے گا۔عدالت میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت کو بتایا کہ CAG کی جو رپورٹ عدالت میں داخل کی گئی تھی، اس میں کچھ کاغذات نہیں تھے۔ رپورٹ میں شروعاتی تین پیج شامل نہیں تھے۔AG نے کہا کہ ان سے غلطی سے پیج داخل نہیں ہو پائے تھے ۔جس پر چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے کہا کہ آپ دستاویزوں کے استحقاق کی بات کر رہے ہیں، لیکن اس کے لئے آپ کو صحیح دلیل پیش کرنے ہوں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس ایس کے کول نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ اب دستاویزبدل رہے ہیں اور استحقاق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن آپ نے ثبوت پیش کئے ہیں۔ اس کے جواب میں AG نے کہا کہ ڈاکیومینٹس دوسری پارٹی نے پیش کئے ہیں، ہم نے نہیں۔
سپریم کورٹ میں AG نے RTI ایکٹ کی دلیل دی اور کہا کہ سیکورٹی سے جڑی جانکاری عوامی نہیں کیا جا سکتی ہیں۔ جس پر جسٹس کے ایم جوزف نے کہا کہ جن اداروں میں ایسا اصول ہے اور اگر بدعنوانی کا الزام ہے تو پھر جانکاری دینی ہی پڑتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *