حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا -وزارت دفاع سے چوری ہوئے رافیل ڈیل کے دستاویز 

Share Article
rafale-deal-supreme-court

سپریم کورٹ رافیل ڈیل کو لے کر اپنے فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن پر سماعت کر رہا ہے ۔گزشتہ 14 دسمبر 2018 کو عدالت نے رافیل ڈیل کی جانچ کی متعلق عرضی کو خارج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے کہا کہ رافیل ڈیل سے منسلک کاغذات چوری ہو گئے ہیں اور درخواست گزار ان کا استعمال کرکے سرکاری رازداری قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ بات مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں رافیل ڈیل معاملے میں داخل نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کے دوران ایک نیوز پیپر کی رپورٹ کا ذکر کرنے کے دوران کہی۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل وینو گوپال نے کہا، ’یہ کاغذات وزارت دفاع سے پہلے یا موجودہ ملازم کی طرف سے چوری کئے گئے ہیں۔ یہ خفیہ دستاویزات ہیں اور انہیں عوامی نہیں کیا جا سکتا‘۔ اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ان سے پوچھا کہ حکومت نے اس معاملے میں ابھی تک کیا کارروائی کی ہے۔اس کے بعد مرکزی حکومت نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ تحقیقات کر رہے ہیں کہ کاغذات کی چوری کیسے ہوئی؟ ساتھ ہی رافیل طیارے سودے سے منسلک کیس میں اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے سپریم کورٹ سے کہا، ’’اگر ابھی CBI انکوائری کی ہدایت دےئے جاتے ہیں، تو ملک کو بھاری نقصان ہو گا …‘۔ نظر ثانی درخواستوں میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالت میں جب رافیل سودے کے خلاف مفاد عامہ درخواستوں پر اپنا فیصلہ سنایا تو مرکز نے اہم حقائق کو اس سے چھپایا تھا۔پرشانت بھوشن نے جب سینئر صحافی این رام کے ایک مضمون کا حوالہ دیا تو اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ مضمون چوری شدہ دستاویزات پر مبنی ہیں اور اس معاملے کی جانچ جاری ہے۔

سپریم کورٹ میں رافیل جیٹ سودا معاملہ 14 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کورٹ میں موقف رکھا تھا۔جسے لے کر چیف جسٹس نے سوال کئے تھے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 14 مارچ کو ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *