’چوتھی دنیا‘ نے ملک کوسب سے پہلے کیاتھاآگاہ! وزیراعظم جی رافیل میں گھوٹالہ ہونے والاہے

Share Article
modi-rafale
رافیل طیارہ سودے کولیکر سیاسی گھمسان مچاہواہے۔ اپوزیشن لگاتار پی ایم مودی پرحملہ آورہے۔کانگریس کی طرف سے جے پی سی کی مانگ اٹھ رہی ہے۔ اسی بیچ آج پارلیمنٹ میں رافیل طیارہ سودے سے متعلق کیگ رپورٹ پیش کی گئی۔کیگ کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مودی حکومت کے دور میں ہوا رافیل سودا سابق کی یو پی اے حکومت کے مقابلے میں 2.86 فیصد سستا تھا۔کیگ رپورٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے سستی بڈ دستیاب نہیں تھی۔حالانکہ مرکز کی موجودہ این ڈی اے حکومت نے رافیل طیارے سودے کی قیمت کو یو پی اے حکومت کے مقابلے میں 9 فیصد سستا قرار دیا تھا جو کہ کیگ رپورٹ سے میل نہیں کھاتا۔’چوتھی دنیا‘ نے سب سے پہلے اگست 2017میں انکشاف کیاتھاکہ کیسے رافیل سودے میں بڑا کھیل کھیلا جارہاہے۔بھلے ہی آج چاروں طرف رافیل لڑاکوطیارہ کولیکر ہنگامہ برپاہے۔ لیکن ’چوتھی دنیا‘ نے سب سے پہلے اپنی رپورٹ میں اس سودے کولیکر سوال کھڑے کئے تھے۔اس کے ساتھ ہی رافیل سودے جڑے پیچیدہ پہلوؤں کوبھی سامنے رکھاتھا۔’چوتھی دنیا‘ نے اپنی رپورٹ میں ذکرکرتے ہوئے لکھا تھاکہ رافیل سودا شک کے گھیرے میں اسلئے ہے، کیونکہ چارسال پہلے جب فرانس کے ساتھ فائٹر پلین کی خریدکیلئے سمجھوتہ ہواتھا تب اس کے تحت 126طیارے کو10.2بلین ڈالر میں خریدنے کی تجویزتھی۔اس حساب سے ہرطیارہ کی قیمت قریب 81ملین ڈالرتھی۔چارسال پرانی ڈیل میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی بھی بات شامل تھی۔ مودی سرکارنے رافیل کیلئے جوسمجھوتہ کیا، اس میں صرف 36طیاروں کو8.74بلین ڈالر میں خریداجاناہے۔مطلب یہ کہ ایک طیارہ کی قیمت 243ملین ڈالر، وہ بھی بنا ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے۔ایسے میں ’چوتھی دنیا‘ نے سب سے پہلے رافیل کی دوگنی سے زیادہ قیمت کولیکر مودی سرکارسے سوال پوچھاتھا۔
وہیں اپریل 2915میں مودی سرکارنے پیرس میں اعلان کیاکہ ہم 126طیارے کے سودے کوردکررہے ہیں اوراس کے بدلے 36طیارہ سیدھے فرانس سے خرید رہے ہیں اورایک بھی رافیل طیارہ بنائیں گے نہیں۔خبریہ بھی آئی کہ رافیل بنانے والی کمپنی دسّوکوحکومت ہند15فیصدی ایڈوانس رقم دے گی، تب ان طیاروں پرکام شروع ہوگا۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دسسوکمپنی بندہونے کے دہانے پرتھی۔اس طیارہ کوخریدنے والے خریدارنہیں مل رہے تھے کیونکہ اتنی قیمت پردنیامیں اس سے بہتر لڑاکوطیاردستیاب ہیں۔جانکارو ں کاماننا ہے کہ ہندوستان نے اس سودے کے ذریعے دسسوکمپنی کوختم ہونے سے بچایاہے۔اس ڈیل کے ہوتے ہی اس کمپنی کے شیئرآسمان چھونے لگے تھے۔
ایک طرف دہشت گرد حملے کے منظر نامے میں حکومت نے افراتفری میں سودے کو ہری جھنڈی دی،لیکن حیرانی توتب ہوتی ہے کہ جب اس کے فوراً بعد انل امبانی کی قیادت والے ریلائنس گروپ اوررافیل طیارہ بنانے والی کمپنی دسسوایویشن جوائنٹ وینچر لگانے کا اعلان کرتاہے۔اب یہ کوئی کہے کہ رافیل سودے کے پہلے کسی کواس بات کی جانکاری نہیں تھی تویہ بات کسی کوہضم نہیں ہوگی ۔دونوں کمپنیوں کے بیچ ہوئے جوائنٹ وینچر سے یہ صاف ہوجاتاہے کہ سرکار،دسسو اورریلائنس نے مل جل کر ایک ایساسودا تیارکیا، جس سے بندہونے والی کمپنی دسسو بچ بھی جائے اورریلائنس کوفائدہ بھی ہوجائے۔
یہ اسلئے کیونکہ جوائنٹ وینچر کا مقصدہی یہ تھاکہ پورے سودے کے 50فیصد رقم کو’آفسیٹ‘ کانٹریکٹ کوپوراکرنے میں ریلائنس اہم رول اداکرے گا۔اس بات سے شک اوربھی پختہ ہوتاہے کیونکہ ہندوستان اورفرانس نے 23ستمبرکو 36رافیل لڑاکو جیٹ کیلئے سمجھوتے پردستخط کرنے کے بعد جوائنٹ ونچر ریلائنس ایرو اسپیس قائم کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔
لڑاکوطیارہ کا یہ سودا 7.87ارب یورویعنی قریب قریب 59,000کروڑروپے کاہے۔’آفسیٹ ‘ کانٹریکٹ کے تحت متعلقہ کمپنی کوسودے کی رقم کا ایک خاص فیصد لگانا پڑتاہے۔سمجھوتے میں 50فیصد آف سیٹ شرط ہے، جوملک میں اب تک کا سب سے بڑا ’آفسیٹ‘ معاہدہ ہے۔’آف سیٹ ‘سمجھوتے کا نکتہ یہ ہے کہ اس کا 74فیصدہندوستان درآمدکیا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قریب 22,000کروڑروپے کا سیدھاکاروبار ہوگا۔اس میں ٹیکنالوجی پارٹنرشپ کی بھی بات ہے، جس پر ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے۔
رافیل سودے میں دوسری کمپنیاں بھی ہیں، جن میں فرانس کی ایم بی ڈی اے اورتھیلس شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سیفران بھی آفسیٹ شرط کا حصہ ہے۔دونوں کمپنیوں کے مشترکہ بیان کے مطابق، ان آفسیٹ شرطوں کے لاگوکرنے میں مشترکہ جوائنٹ ونچردسسو ریلائنس ایرواسپیس اہم کمپنی ہوگی۔اس جوائنٹ وینچر کیلئے مہاراشٹرکے ناگپورمیں 100ایکڑزمین کا ایک پلاٹ بھی دے دیاگیاہے۔ بتایاجارہاہے کہ یہ نئی کمپنی رافیل فائٹرجیٹ کیلئے پوری سپلائی چین تیارکرے گی۔
’چوتھی دنیا‘ نے دفاعی شعبے میں انل امبانی کی کمپنی ریلائنس کوتجربہ نہ ہونے کے باوجود بھی ملک کی حفاظت میں استعمال ہونے الے سب سے اہم جنگی طیارہ کوفضائیہ تک پہنچانے اورمینٹین کرنے کی ذمہ داری دینے کولیکر بھی سوا ل اٹھایاتھا۔یہاں دھیان دینے والی بات یہ بھی ہے کہ ریلائنس گروپ نے دفاعی شعبے سے منسلک کمپنی کا قیام جنوری 2015 میں کیا تھا۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *