رادھاکرشن پاٹل بولے: احمدنگر میں این سی پی کیلئے نہیں کروں گا تشہیر، بیٹے نے مجھ سے پوچھ کر فیصلہ نہیں لیا

Share Article

radhakrishna-vikhe-patil

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رادھاکرشن وکھے پاٹل نے اپنے بیٹے کے کانگریس چھوڑ بی جے پی میں شامل ہونے پر پہلی بار صفائی دی ہے۔ وکھے پاٹل نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے نے ان سے پوچھ کر یہ فیصلہ نہیں لیا ہے، وہ بی جے پی سے جڑنے جا رہا ہے اس کے بارے میں سوجئے وکھے پاٹل نے پہلے ان سے کسی طرح کی بات چیت نہیں کی۔یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہے۔

وہیں مہاراشٹر میں اپوزیشن لیڈر رادھاکرشن وکھے پاٹل کے بیٹے کے بی جے پی کا ہاتھ تھامنے سے کانگریس میں خاصی ناراضگی ہے،جلد ہی مہاراشٹر کانگریس کور کمیٹی کی میٹنگ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اجلاس سے پہلے مہاراشٹر پردیش کانگریس صدر اشوک چوہان نے کہا کہ رادھاکرشن وکھے پاٹل کا معاملہ سنگین ہے۔ میٹنگ میں ان کے اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر بنے رہنے پر فیصلہ کیا جائے گا۔

آج رادھا کرشن وکھے پاٹل نے ایک پریس بریفنگ میں اپنی پوری بات رکھی۔ رادھاکرشن وکھے پاٹل نے کہا کہ میں نے کانگریس ہائی کمان کو اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ آگے ان کا جو بھی فیصلہہوگا میں قبول کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی صاف کیا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں وہ اپنے بیٹے کے لئے ووٹ نہیں مانگنے والے ہیں۔

احمد نگر سیٹ مہاگٹھ بندھن میں این سی پی کے اکاؤنٹ میں گئی ہے، اسی سیٹ سے وکھے پاٹل کے بیٹے سوجئے الیکشن لڑنا چاہتے تھے لیکن پوار نے اسے چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد سوجئے بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے۔

سوجئے وکھے پاٹل نے ٹویٹ کیا، ’میں نے یہ فیصلہ اپنے والد کے خلاف لیا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ میرے ولدین اس فیصلے کا کتنا حمایت کریں گے، لیکن بی جے پی کی قیادت میں میں اپنا سب کچھ جھونک دوں گا، تاکہ میرے والدین مجھ پر فخر محسوس کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ (دیویندر فڑنویس) اور بی جے پی ممبران اسمبلی نے میرے اس فیصلے کی حمایت کی۔‘ تاہم وکھے کے اس فیصلے سے ان کے والد کے لئے کانگریس میں مشکلیں بڑھنے کا امکان ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *