آر- کام پر تالا سڑک پر آگئے ہزاروں ملازمین

Share Article

مکیش امبانی دنیا کے کچھ چنندہ سرمایہ داروں میں بھلے ہی شمار ہوں اور بھلے ہی انھیں وزیر اعظم کا تحفظ حاصل ہو لیکن ٹیلی کمیونکیشن سیکٹر کو تہس نہس کرنے کا کریڈٹ بھی ان ہی کو جاتا ہے۔ ’ریلائنس جئو‘ کے نام پر مکیش امبانی کے ذریعہ کیے گئے بزنس کے بیجا استعمال پر مرکزی سرکا رنے بھی کوئی لگام نہیںلگایا۔
آر- کام بند
نتیجہ یہ ہوا کہ مکیش امبانی کے ہی بھائی انل امبانی کی کمپنی ’آر -کام‘کا ڈھکن بند ہوگیا اور کمپنی کے اعلیٰ افسروں سے لے کر درمیانی اور نچلے درجے پائیدان کے ملازمین کو نوکری کے لالے پڑ گئے۔ تنخواہ تو کئی مہینوں سے بند تھی۔دہلی اونچا سنتی ہے او رممبئی کی گہما گہمی میںعام ملازمین کی آواز گم ہوجاتی ہے لیکن یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میںانل امبانی گروپ سے جڑے ملازمین کا بحران میںپڑا ذریعہ معاش عوامی بحث اور تشویش کا موضوع بنا ہوا ہے۔
’آر-کام‘ کا لکھنؤ (فن مال کے سامنے) میں واقع عالیشان دفتر بند کردیا گیا ہے۔ ملازمین کی تنخواہ کے بحران اور اب ملازمت کے بحران کی خبریں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر لوگوںکی توجہ مرکوز کررہی ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس معاملے میںمرکز اور ریاستی سرکار شاطرانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ مکیش امبانی کی سلطنت قائم کرنے اور باقی ساری ریاستیں تباہ کرنے کی سازش میںمرکزی سرکار برابر کی حصہ دار ہے۔ عالمی سرمایہ کاری کمپنی ’جیفریز‘ کی آفیشیل رپورٹ کہتی ہے کہ ’ریلائنس جئو‘ دیگر ٹیلی کام کمپنیوںکے لیے آگے بھی تباہ کن ثابت ہوتی رہے گی۔ ’ریلائنس جیو‘ ٹیلی کام بازار کے 50 فیصد حصہ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ اسی ارادے سے وہ پانچ گنازیادہ ڈیٹا تخلیق کررہی ہے اور بازار پر قبضے کے لیے کم قیمتوں کی ٹیکٹکس آزما رہی ہے۔
صنعت اور لیبر قانون کے ماہر راہل دت کہتے ہیںکہ ٹریڈنگ کمپٹیشن میںعام ملازمین کو روزگاراور ذریعہ معاش سے محروم کیا جانا مجرمانہ فعل ہے اور اس کے لیے مسابقت کا بے جا استعمال کرنے والے صنعت کار کے خلاف مجرمانہ معاملہ چلنا چاہیے۔ راہل کہتے ہیںکہ تجارت میںصحت مند مسابقت مناسب ہے لیکن ایسی مسابقت کا کیا مطلب ہے کہ جس میں دیگر تجارتی ادارے تباہ ہو جائیں اور ہزاروں لاکھوںملازمین کے ذریعہ معاش کا شدید بحران کھڑا ہوجائے۔ ایسے میںمرکزی سرکار کے کردار پر سوال اٹھنا لازمی ہے ۔

 

 

 

 

 

ڈجیٹل وار کا رزلٹ
یہ کیسی تجارتی مسابقت ہے کہ دوسری ساری ٹیلی کام کمپنیوں میںلگی سرمایہ کاروں کی رقم ڈوب گئی اور اسے بہت شان سے ڈجیٹل وار کا نتیجہ بتایا جارہا ہے۔ یہ حیرانی کی بات ہے کہ اس کے باوجود مرکزی سرکار خاموشی اختیار کیے ہوئے بیٹھی ہے ۔ سرکار اور قانون کسی بھی شخص کو تجارت کرنے کی اجازت دیتا ہے یا تجارت کے نام پر جنگ کرنے کی؟ راہل کہتے ہیںکہ تجارتی مسابقت کے ایسے مجرمانہ اور انسانی حقوق کے مخالف عمل کے خلاف وہ مفاد عامہ کی عرضی داخل کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔
عرضی کے ذریعہ راہل دت مرکزی سرکار کی ذمہ داریوں کا بھی حساب مانگیںگے۔ مکیش امبانی کو کھلا تحفظ دینے والی مودی سرکار کے ایک قدآور وزیر اس تجارتی مارکاٹ کو ڈجیٹل ریزولیوشن بتانے سے نہیںہچکچاتے۔ یہ بھی کم افسوس ناک اور مضحکہ خیز نہیں ہے۔ اس منصوبہ بندی کی کیفیت سے باہر نکلنے کے لیے ملک کی تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے وزیر اعظم مودی سے مداخلت کرنے کی اپیل کی لیکن وزیر اعظم نے اس اپیل پر کوئی دھیان نہیںدیا۔ وزیراعظم کی طرف سے کوئی جواب نہیںملنے پر سیلولر آپریٹرس ایسوسی ایشن آف انڈیا (سی اواے آئی) نے وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری کو خط لکھا اور ’ریلائنس جئو‘ کے بے جا استعمال سے ٹیلی کام سیکٹر پر آنے والی تباہی کا تکنیکی بیورا پیش کیا لیکن سی او اے آئی کے خط پر بھی وزیر اعظم دفتر خاموشی اختیار کیے ہوئے رہ گیا۔ قابل ذکر ہے کہ بھارتی ایئرٹیل، آر – کام، ووڈافون انڈیا اور آئیڈیا سیلولر سمیت کئی دوسری ٹیلی کام کمپنیاںسی او اے آئی کی ممبر ہیں۔
بھیانک صورت حال
’آر – کا م‘ کے چیئرمین انل امبانی یہ عوامی طور پر کہہ چکے ہیںکہ ٹیلی کام سیکٹر کے مسئلے کے لیے ’ریلائنس جئو‘ ذمہ دار ہے۔ ’آر – کام‘ نے یہ اقرار کیا ہے کہ ایسا تاریخ میںپہلی بار ہوا ہے کہ درج ٹیلی کام آپریٹروں کا قرضہ مارکیٹ کی سرمایہ کاری سے کہیںزیادہ ہوگیا ہے۔ ’آر – کام‘ کے علاوہ ٹاٹا ٹیلی سروسیز، ایئر ٹیل، آئیڈیا سمیت کئی دیگر کمپنیوںکا بھی ایسا ہی حال ہے۔
ٹیلی کمیونکیشن انڈسٹری کی اس سال کی آمدنی اور اس کے قرض یا پیمنٹ کمٹمنٹ کے بیچ 1,20,000 کروڑ روپے کا فرق (خسارہ) درج ہوا ہے۔ ریلائنس اور ٹاٹا دونوں نے ہی اپنا ٹیلی کام کاروبار بند کرنے اور دیگر کمپنیوں میںمرج ہونے کے امکانات تلاش کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ ملازمین کی چھٹنی کا کام وسیع پیمانے پر چل رہا ہے۔ ٹاٹا ٹیلی سروسیزتقریباً25,600 کروڑ روپے کے قرض کے بوجھ سے نبرد آزما ہے جبکہ آر – کام کے قرض کا بوجھ اس سے کہیںزیادہ ہے۔ آر – کام پر 45,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض کا بوجھ ہے۔
حالت یہاںتک پہنچ گئی کہ چائنا ڈیولپمنٹ بینک نے انوکھے خسارے میں چل رہے آر – کام کو دیوالیہ (بینکرپٹ) ڈکلیئر کرنے کے لیے نیشنل کمپنی لاء ٹریبونل (این سی ایل ٹی) میں24 نومبر کو عرضی داخل کردی ہے۔ چائنا ڈیولپمنٹ بینک نے آر- کام کو تقریباً 125 ارب روپے کا قرض دے رکھا ہے جس کی ادائیگی کرنے کے لائق بھی وہ نہیں رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ریلائنس کمیونکیشن (آر – کام) جیسی بڑی کمپنی کا کاروبار بند ہوگیا ۔ریلائنس کمیونکیشن کے ملازمین کے لیے 30 نومبر آخری تاریخ ثابت ہوئی۔
ریلائنس کمیونکیشن 2 جی والا کاروبار بھی بند کرنے والی ہے۔ ٹاٹا سروسیز کو ایئر ٹیل نے خرید لیا ہے اور 149 سال پرانے ٹاٹا گروپ سے جڑی ٹاٹا ڈوکومو بھی ختم ہوگئی۔ ریلائنس کمیونکیشن کے بند ہونے سے بڑی تعداد میںملازمین کے اچانک سڑک پر آنے کا بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ لیبر کمشنر آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اچانک درخواستوں کی تعداد بڑھ گئی ہے اور لیبر قانون کے تحت لیبر کمشنر کو اس معاملے میںفوری طور پر دخل دینے کے لیے کہا جارہا ہے۔
اس مسابقتی بھونچال کا اثر مہا نگر ٹیلی فون نگم لمٹیڈ (ایم ٹی این ایل) اور بھارت سنچار نگم لمٹیڈ (بی ایس این ایل) جیسی سرکاری کمپنیوں پر بھی پڑا ہے۔ ایم ٹی این ایل کی حالت تو پہلے سے ہی خستہ تھی۔ اب ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیے بھی ایم ٹی این ایل کو بینک سے قرض لینا پڑ رہا ہے۔ بی ایس این ایل کی بھی حالت ایسی ہی ہے۔ بی ایس این ایل گاہکوںسے پیسے جٹانے کے لیے طرح طرح کی اسکیموںکا اعلان کررہا ہے لیکن بی ایس این ایل کے گاہک اپنا نمبر دوسری کمپنیوں میںسویپ کرانے میںلگے ہیں۔
خستہ حال مالی حالت کی وجہ سے بی ایس این ایل بھی اب کسی دیسی یا غیر ملکی بڑی کمپنی کو 26 فیصد حصہ داری بیچنے کی کوشش میںلگا ہوا ہے۔ بی ایس این ایل کو مالی بحران سے ابھارنے کے لیے 30 فیصد تک کی حصہ داری کے معاوضے کی تجویز دی گئی ہے۔ بی ایس این ایل کے ملازمین اس تجویز کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ اس سے کمپنی کی نجی کاری کے راستے پر جانے اور ملازمین کے بحران میںآنے کا اندیشہ ہے۔معاوضے کے لیے ڈیوش، ٹیلی کام، فرانس ٹیلی کام اور برٹش ٹیلی کام جیسی کچھ کمپنیوںسے بات چیت چل رہی ہے۔بی ایس این ایل کے اکاؤنٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے بتایاکہ بی ایس این ایل کا خسارہ 4,890 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگیا ہے۔
ٹیلی کام کمپنیوںکی مانگ
مکیش امبانی کے ’ریلائنس جئو‘ کے مسابقتی غلط استعمال کی وجہ سے بحران میں آئی دیگر کمپنیوں نے کسان تنظیموں کی طرح منیمم سپورٹ پرائس طے کرنے کی مانگ شروع کردی ہے ۔ ٹیلی کام کمپنیوں نے مرکزی سرکار سے مانگ کی ہے کہ وہ ٹیلی کمیونکیشن ریگولیٹر (ٹرائی) ڈاٹا اور کال کے لیے فلور پرائس طے کرے۔ فلور پرائس یعنی وہ قیمت جس سے نیچے جاکر کوئی بھی کمپنی اپنا ڈیٹا یا وائس پلان نہیںبیچ سکے۔یہ مانگ ٹھیک اسی طرح ہے جیسے ملک کے کسان اپنی زرعی مصنوعات کی منیمم سپورٹ پرائس طے کرنے کی مانگ کرتے ہیں۔
ماہرین قانون راہل دت کہتے ہیںکہ مرکزی سرکار کے تحفظ سے مکیش امبانی نے ٹیلی کام مارکیٹ کی ساری اخلاقی اور قانونی رکاوٹیں پار کرڈالی ہیں۔ مرکزی سرکار نے بھی بازار کو افراتفری کے کھیل کا میدان بنا دیا ہے۔ راہل دت بھی ٹیلی کام کمپنیوں کی منیمم سپورٹ پرائس طے کرنے کی مانگ کو منطقی بتاتے ہیں اور کہتے ہیںکہ فلور پرائس تعین کرنے سے اگر ٹیلی کام سیکٹر کو طویل مدت میں فائدہ ہوتا دکھائی دیتا ہے تو اسے اپنایا جانا چاہیے۔ ایک دو سرمایہ کاروںکو آگے بڑھانے کے بجائے سرکار کو ٹوٹلٹی سے سوچنا چاہیے اور فلور پرائس فارمولے پر غور کرنا چاہیے۔ اس فارمولے سے مارکیٹ کی مسابقتی افراتفری پر لگام لگے گا اور ٹیلی کام سیکٹر میںمستقبل میںسرمایہ کاری کے امکانات بنے رہیںگے۔

 

 

 

 

 

 

مکیش پر مودی کا ہاتھ
مکیش امبانی کو مرکزی سرکار کے سیدھے تحفظ کا فائدہ یہ مل رہا ہے کہ اتر پردیش کی بی جے پی سرکار بھی ان کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔ ایسا ہی بی جے پی کی حکومت والی دیگر ریاستوں میںبھی ہورہا ہے۔ اترپردیش کے تیکھے تیور والے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اپنے وزیر اعظم کو خوش کرنے کے یے مکیش امبانی کو خوش کرنے میںلگے ہوئے ہیں۔
سرکار کی ذمہ داری اور ترجیح پبلک سیکٹر میںاداروںکو بحران سے باہر نکالنے کی ہے، نہ کہ کسی خاص سرمایہ ادارے کو مضبوطی دینے کی۔ لیکن اس جمہوری ذمہ داری کو طاق پر رکھ کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس جئو کو یوپی کے سبھی انجینئرنگ کالجوں میںوائی فائی کی سہولت فراہم کرنے کا ٹھیکہ دے دیا جبکہ جمہوری اخلاقیات کے تحت یوگی کو یہ کام سرکاری ادارے بی ایس این ایل کو دینا چاہیے تھا لیکن وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایسا نہیںکیا۔ انھوں نے مکیش امبانی کو تسکینپہنچانے کا ہدف اپنے سو دن کے ایجنڈے میںشامل کرلیا تھا اور اسے پورا کیا۔
اترپردیش سرکار نے اترپردیش ٹیکنیکل یونیورسٹی (یو پی ٹی یو) کے تحت آنے والے سبھی سرکاری اور ایڈیڈ انجینئرنگ کالجوں میںوائی فائی کنکشن قائم کرنے کا ٹھیکہ مکیش امبانی کے ریلائنس جئو کو دینے کا فیصلہ کیا اور یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر راکیش ورما نے اس بارے میںباقاعدہ حکم بھی جاری کردیا۔ 24 اپریل کو ہی یونیورسٹی اور ریلائنس جئو کے بیچ معاہدہ ہوگیا تھا۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار نے اپنے حکم میںیہ بھی کہا کہ مختلف انجینئرنگ کالجوں میں وائی فائی قائم کرنے کا ہدف یوگی سرکار کے سو دن بعد کے ایجنڈے میںشامل ہے، اس لیے بہت جلد اس کارروائی کو پورا کرکے یونیورسٹی کو مطلع کیا جائے ۔ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر راکیش ورما کہتے ہیںکہ پہلے کچھ دیگر کمپنیوں سے وائی فائی سہولت قائم کرنے کی تجویز مانگی گئی تھی لیکن ان اداروں نے تجویز نہیںبھیجی۔ رجسٹرار نے یہ نہیںبتایا کہ جن اداروں سے تجویز مانگی گئی تھی ان میںمکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس جئو شامل تھی یا نہیں؟ دوبارہ تجویز مانگنے کے پروویژن پر عمل کرنے کے بجائے ریلائنس جئو کو ٹھیکہ دینے کی منظوری کن پروویژنس کے تحت دی گئی، اس کا خلاصہ یونیورسٹی نے نہیںکیا۔
یوگی سرکار کے ذریعہ مجوزہ پوروانچل ایکسپریس – وے پر وائی فائی کی سہولت کے لیے آپٹیکل فائبر بچھانے کا ٹھیکہ دینے کو لے کر بھی چرچائیںسرگرم ہیں۔ مکیش امبانی کمپنی گروپ پھر چرچا میںہے۔ کہا جارہا ہے کہ 25 ہزار کروڑ کی لاگت سے بننے جارہے پوروانچل ایکسپریس ہائی – وے پر آپٹیکل فائبر بچھانے کا ٹھیکہ بھی مکیش امبانی کی کمپنی کو ہی ملے گا۔
قابل ذکر ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ لکھنؤ سے غازی پور تک ملک کا سب سے لمبا ایکسپریس – وے بنانے جارہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کی لاگت سبکدوش ہونے والی اکھلیش سرکار کے آگرہ- لکھنؤ ایکسپریس وے پر آئی لاگت سے زیادہ ہے۔ لکھنؤ سے غازی پور کے بیچ 353 کلومیٹر کے پوروانچل ایکسپریس -وے کی تعمیر کی لاگت 25,017 کروڑ (تقریباً 71 کروڑ روپے فی کلومیٹر) متوقع ہے جبکہ 302 کلومیٹر لمبے آگرہ لکھنؤ ایکسپریس- وے کی لاگت 14,397 کروڑ (50 کروڑ روپے فی کلومیٹر) آئی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *