قیام امن : معاشرے کی اہم ضرورت

Share Article

 اللہ قاسمی 
امن معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے۔حضرت آدمؑ سے لے حضرت محمدﷺ تک جتنے بھی انبیاء اس دنیامیں تشریف لائے۔ انہوںنے امن وامان کی بحالی، ظلم و ناانصافی کا خاتمہ اورحقوق کی ادائیگی کو اہمیت دی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑاوران کے فرزندحضرت اسماعیل ؑ جب خانہ کعبہ کی تعمیرمیں لگے ہوئے تھے ، اس وقت انھوںنے شہر مکہ کے لیے یہ دعا فرمائی تھی :اے میرے پروردگاراس شہر(مکہ)کو جائے امن بنادیجئے۔ اگر موجود ہ دور کا جائزہ لیاجائے تو تعصب، ذاتی منفعت اور فرقہ پرستی نے ایسا ماحول بنادیاہے کہ ظلم کوظلم نہیں سمجھا جاتا۔ دن دھاڑے بستیاں جلادی جاتی ہیں۔ عبادت گاہیں منہدم کردی جاتی ہیں۔بے قصور لوگ قصوروارگردانے جاتے ہیںاورناکردہ جرم کی پاداش میںانھیں انسانیت سوز تکالیف کا سامناکرنا پڑتا ہے۔

اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فتنہ اور فساد کو جڑسے ہی ختم کردیتاہے ۔ظلم اورفساد کی جو بنیادہے کبر،گھمنڈ،خودغرضی،دورخاپن،غصہ ، حسد اورکینہ وغیرہ اسلام ان برائیوں کواسلام سخت ناپسندیدہ عمل قراردیتا ہے اور ان کے مرتکب شخص کی اصلاح بھی کرتاہے،تاکہ امن وامان کی اس فضا کو ان آلودگیوں سے پاک رکھا جاسکے۔اسلام میں باہمی مساوات کی تعلیم انسان کے گھمنڈکوخاک میں ملادیتی ہے ۔ پھر کبر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔اسلام کہتاہے کہ اس دنیا میںکسی کو کسی پر کوئی فضیلت اوربرتری نہیں ہے، ہرانسان آدم کی اولاد ہے، جس کواللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیداکیا۔فتح مکہ کے موقع پر آپ ؐ نے نہ صرف قول سے بلکہ اپنے عمل سے بھی یہ بتا دیا تھا کہ کسی کو رنگ و نسل کی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے ۔اگر فضیلت حاصل ہے تو عمل اور کردار کی وجہ سے۔

ہر مذہب میں امن واطمینان عدل وانصاف اورسلامتی کو نمایاںمقام حاصل ہے۔امن کا پیغام دینے والا مذہب ’’دین اسلام‘‘ جس کے بارے مخالفین نے عام لوگوں کے درمیان غلط پروپگنڈا کررکھا ہے اوراسے دہشت اور وحشت کا معنی بنادیا ہے۔ مگر تاریخ اس پر گواہ ہے اوراس سے واقفیت رکھنے والے حق پسند حضرات، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام درحقیقت انسان کوامن وسلامتی کاپیغام دیتا ہے۔ جس کی تعمیرآپسی محبت اورباہمی مساوات سے ہوتی ہے۔ایسے پرخطرحالات میں جب انسانیت دم توڑرہی تھی ’’اسلام‘‘نے آپسی محبت کاپیغام سناتے ہوئے انسانی جان کی قدروقیمت بتائی اور بدامنی کے ماحول پر روک لگادی۔چنانچہ کہا گیا۔’’جس نے کسی انسان کوخون کے بدلے یا زمین میں فسادپھیلانے یاکسی اوروجہ سے قتل کیا اس نے گویاتمام انسانوںکا قتل کردیا اورجس نے کسی کوزندگی بخشی اس نے گویاتمام انسانوںکو زندگی بخش دی‘‘گویا اسلام کی نظر میںناحق کسی ایک آدمی کاقتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔اسلام کسی ایک فردکا قتل تودرکنار اس کی ایذاررسانی کوبھی پسند نہیں کرتا۔اللہ کے رسول ﷺکا ارشادہے۔بخدا وہ مومن نہیں بخداوہ مومن نہیں ،بخداوہ مومن نہیں۔دریافت کیا گیا،کون اے اللہ کے رسول !آپ ؐ نے فرمایاوہ جس کا پڑوسی اس کے ظلم وستم سے محفوظ نہ ہو۔
افراد کے یکجا رہنے سے معاشرے کی تعمیر ہوتی ہے ،جہاں لوگ آبادہوتے ہیں وہاں پڑوسیوں کا ہونا لازمی ہے۔ان کا باہمی میل جول رکھنا اورآپس میں ایک دوسرے کواذیت نہ پہنچانا ہی قیام امن ہے۔ اسی لیے پڑوسی پرظم کرنا اسلام کی علامت نہیں ہے خواہ وہ پڑوسی کسی بھی مذہب کاماننے والاہو،وہ انسان ہے اس لئے ان سے محبت اورحسن سلوک کرنا چاہئے۔اسلام نے ایسے شخص کوبدترین انسان قراردیاہے جس سے نہ خیرکی توقع ہواورنہ لوگ اس کے شرسے محفوظ رہے۔نبی کریم ﷺ کا ارشادہے:’’تم میں بدترین شخص وہ ہے جس سے دوسرے لوگوں کونہ خیرکی امیدہو نہ اس کے شرسے لوگ محفوظ ہوں‘‘
جب دنیائے عرب میں حق تلفی ،بدامنی اورفسادکا ماحول تیزہوگیاتھا۔ایسے حالات میں مظلوم و بے بس لوگوںکی فریادسنی گئی اور ایک تاریخی منشور لانے کے لیے قریش کے چند قبائل نے اقدام کیا،جس کا نام’’حلف الفضول ‘‘ہے۔ جوقیام امن ،بنیادی انسانی حقوق اوربے بسوں کی دادرسی کا تاریخ ساز معاہدہ قرارپایا۔نبیؐ اس معاہدہ کے ایک اہم رکن تھے۔ اس معاہدہ کے لیے آپ نے عین شباب میں بھرپور تعاون اورمؤثر کردار ادا کیا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ آپؐ نے دور نبوت میں ایک موقع پر ارشادفرمایا:’’اس معاہدہ کے مقابلہ میں اگرمجھے سرخ اونٹ بھی دیے جاتے تومیں نہ لیتا اورآج بھی ایسے معاہدے کے لیے کوئی بلائے تو میں شرکت کے لیے تیار ہوں۔‘‘اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فتنہ اور فساد کو جڑسے ہی ختم کردیتاہے ۔ظلم اورفساد کی جو بنیادہے کبر،گھمنڈ،خودغرضی،دورخاپن،غصہ ، حسد اورکینہ وغیرہ اسلام ان برائیوں کواسلام سخت ناپسندیدہ عمل قراردیتا ہے اور ان کے مرتکب شخص کی اصلاح بھی کرتاہے،تاکہ امن وامان کی اس فضا کو ان آلودگیوں سے پاک رکھا جاسکے۔اسلام میں باہمی مساوات کی تعلیم انسان کے گھمنڈکوخاک میں ملادیتی ہے ۔ پھر کبر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔اسلام کہتاہے کہ اس دنیا میںکسی کو کسی پر کوئی فضیلت اوربرتری نہیں ہے، ہرانسان آدم کی اولاد ہے، جس کواللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیداکیا۔فتح مکہ کے موقع پر آپ ؐ نے نہ صرف قول سے بلکہ اپنے عمل سے بھی یہ بتا دیا تھا کہ کسی کو رنگ و نسل کی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے ۔اگر فضیلت حاصل ہے تو عمل اور کردار کی وجہ سے۔رہی بات حسب ونسب اورخاندان کی تواس کامقصدصرف ایک دوسرے کاتعارف ہے ۔
قیام امن کے لیے آخرت کی جوابدہی کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔اسلام یہ تصور پیش کرتاہے کہ یہ دنیا فانی ہے،اسے ایک دن ختم ہوناہے ۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے ، جہاں خداکے حضورپیش ہو کر انسان کو اپنے عمل کا حساب دینا ہے ۔آخرت کی زندگی بہترہے جو ہمیشہ باقی رہے گی۔ عام انسان بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ دنیا میں پیداہونے والا ہرانسان محض چند روزکی زندگی لے کر آیا ہے۔ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کی سانس کب رک جائے گی اورکب وہ دنیاسے چلاجائے گا۔ اس لیے مسلمانوں ہی کا نہیں بلکہ پوری دنیاکا سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسا نظام قائم ہوجس میںقیام امن کے لیے عدل و انصاف کواساسی مقام حاصل ہو جو ہرشخص کواس کا حق دے ، کسی کوکسی پر کسی طرح کا ظلم نہ کرنے دے ، امن واطمینان کا خوشگوار ماحول ہو۔اور یہ عادلانہ نظام اسلام نے بہتر طریقے پر پیش کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *