قرآن ، سائنس اور ماحولیات

Share Article

وصی احمد نعمانی
اللہ کی عظیم الشان کتاب قرآن کریم ایک معجزہ کی کتاب ہے۔ اس میں دنیا کے تمام مسائل کے جوابات ہیں۔دنیا جس قدر تحقیق اور ریسرچ کے ذریعہ نئی نئی باتیں معلوم کرتی ہے اسی رفتار سے یہ بات بھی آشکار ہورہی ہے کہ تمام تر تسلیم شدہ سچی باتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ فضا یا ماحولیات جیسے الفاظ کے معانی کے ساتھ جو نتیجہ اخذ کیا جاتاہے اور جس طرح سے ان الفاظ کی تشریح کی جاتی ہے وہ سب کے سب مذکورہ بالا الفاظ کے عین مطابق قرآن کریم میں تفصیل سے موجود ہے۔ اس وقت ہم ایسے الفاظ یعنی فضا ، سماء یا ماحولیات سے متعلق اس مضمون میں باتیں کریں گے اور اس نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کریںگےکہ حالیہ دنوں کی تمام سائنسی تحقیق اور ریسرچ کے نتائج قرآن کریم کی مختلف آیات کے گردہی گھوم کر اپنے کو درست اور سچ ثابت کر پاتے ہیں ۔ ہم اس مضمون میں معلوم کریں گے کہ اللہ نے اپنی کرشمہ سازیوں سے کس طرح زمین کو رہنے کے لائق گہوارہ بنایا ہے۔ اس زمین کو کس طرح چاروں طرف سے ایک کمبل نما فضا کے ذریعہ محفوظ کر رکھا ہے۔ ان تمام باتوں کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ہمیں مندرجہ ذیل باتوں کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ زمین کو عمدہ گہوارہ اور فضا یا سماء کو محفوظ ’کور‘یا لفافہ کے طور پر سمجھنے کے لئے ان باتوں کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہوگا وہ الفاظ یا بیانات یہ ہیں: ۔ (1)فضا یا سمائ(2)ہومو کرہ یا متجانش کرہ(3)ہیٹرو کرہ یا غیر متجانس کرہ(4)مقناطیسی کرہ وغیرہ۔ مذکورہ بالا کرّے در حقیقت فضا یا سماء کی تخلیق میں اہم کردار اداکرتے ہیں اور معجزاتی طور پر قرآن کریم کی آیات سے نہ صرف مطابقت رکھتے ہیں بلکہ یہ کرے ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ قرآن کریم ہی بر حق ہے۔ فضا یا سمائ: سماء عربی زبان کا لفظ ہے جو کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے۔موقع اور محل کے اعتبار سے اس کا الگ الگ معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ اردو زبان میں اگرچہ سماء کا مطلب عام طور پر آسمان لیا جاتاہے مگر اس کے معنی بنیادی طور پر یا لغوی معنی بلندی یا فضاء کا ہی لیا جاتا ہے۔

درجۂ حرار ت کی بنیاد پر بنے ہوئے فضائی کرّے: ہماری زمین کے چاروں طرف جہاں مختلف گیسوں کے کرے یا تہیں ایک زبردست غلاف بناتی ہیں ۔اسی طرح زمین کے چاروں طرف سے درجہ حرارت کی بنیاد پر مختلف تہیں موجود ہیں وہ سب مل کر ہوائی غلاف کی شکل میں زمین کو چاروں طرف گھیر کر اس کی فضا کی تخلیق کرتی ہیں ۔جیسے جیسے ہم زمین سے اوپر کی طرف سفر کرتے ہیں ہم مختلف درجہ حرارت کی تہوں میں داخل ہوتے جاتے ہیں ۔ کہیں بالکل جما دینے والا نقطہ انجماد ہے تو کہیں پورے انسانی وجود کو جلا کر راکھ کردینے والی حرارت ہے۔ اس کے علاوہ زمین کے اندر کی برقی پیداوار کی وجہ سے صفر کلو میٹر سے لے کر لگ بھگ چالیس ہزار کلو میٹر کی بلندی تک مقناطیسی میدان کی تخلیق ہوتی ہے، جو عظیم ڈھال کا کام کرکے نہایت خطرناک شمسی طوفانوں سے زمین کی فضا کی مدد سے اس عظیم الشان دھرتی کی حفاظت کرتی ہے۔

بہت سی آیات میں لفظ سماء کا مطلب زمین کے اوپر فضا سے لیا جاتاہے۔ یا وہ قریبی علاقہ لیا جاتاہے جس نے زمین کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ اسی فضا سماء یا زمین کے چاروں طرف کے گھیرے کو زمین کا آسمان بھی کہتے ہیں ۔ ہم اس وقت زمین کے اسی آسمان سے مطلب رکھتے ہیں۔ جدید سماوی علوم یا اسٹرانومی کی تحقیق نے جو مطالب بیان کئے اور یا جوتحقیق پیش کی ہیں۔ ان سے یہ بات بالکل واضح اور صاف ہوجاتی ہے کہ اسی غلاف اور چادر یا کمبل کی وجہ سے روئے زمین پر جانداروں کی زندگی ممکن ہوسکی ہے اور اسی فضا کی وجہ سے زمین کائنات کے دوسرے سیاروں سے بالکل الگ خصوصیت کی حامل ہے اور یہی خصوصیت ہماری زمین کو انفرادیت عطا کرتی ہے۔ تہہ دار فضا: زمین کو چاروں طرف سے غلاف کی طرح گھیرنے والی فضا کو زمین کا آسمان ، اسپیس یا ہوا کا گولا کا نام دیا جاتاہے۔ یہ زمین کے چاروں طرف کئی ہزار کلو میٹر کی گولائی میں موٹے غلاف کی شکل میں زمین کو گھیرے ہوئے اور زمین اسی چادر میں لپٹی ہوئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زمین پر بسنے والے انسان جانور یا پیڑ پودے اسی غلاف کے موٹے سمندر کی تہہ میں گھرے ہوئے ہیں اور اسی کے اندر سانس لیتے ہیں۔آسانی سے اس پورے سسٹم کوسمجھنے کے لئے سنترہ یا مالٹا کی مثال زیادہ مناسب ہے جس طرح مالٹا یا سنترہ کے چھلکے دونوں پھلوں کی قاشوں کو نہایت حفاظت کے ساتھ ڈھکے اور گھیر کر محفوظ کئے رہتے ہیں اسی طرح زمین کو چاروں طرف فضا یا سماء گھیر کر محفوظ کئے ہوئے ہے۔ اس طرح کرہ ہوائی یا سماء یا فضا پیاز کے چھلکوں کی طرح کئی پرتوں یا تہوں پر مشتمل ہے اور کون سی تہہ کن گیسوں سے مل کر بنی ہے یا کس تہہ میں کتنی حرارت ہے۔ اس سے تہوں کے نام یا چھلکوں کی کیفیت کا پتہ ملتا ہے۔اس طرح زمین کے گرد پھیلی فضا یا سماء کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے اس کی کارکردگی کو نہایت آسانی سے سمجھا اور جانا جا سکتا ہے۔ اس کی تین اہم بنیادیں ہیں۔ (1)گیسوں کی بنیاد پر(2)درجۂ حرارت کی بنیاد پر(3)قوت مقناطیسی کی بنیادپر(4)زمین کی اندرونی بناوٹ کی بنیاد پر(5)زمین کے اندر کی برقی پیداوار کی بنیاد پر۔
گیسوں کی بنیاد پر:اس کی بنیاد پر فضا کی تخلیق میں اہم کردار مختلف قسم کی گیسوں کا ہوتا ہے جو دوحصوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ ایک Homo Sphere ۔یہ کرہ ہوائی کی سب سے نچلی تہہ ہے جو زمین اور سمندر یا پہاڑوں ،پیڑ پودوں سے بالکل سٹی ہوئی ہے یا زمین سے لپٹی ہوئی ہوتی ہے اور اس کی بلندی صفر کلو میٹر سے 80 کلو میٹر تک ہوتی ہے۔ اور یہ تہہ کئی گیسوںسے مل کر بنتی ہے۔ ان میں حجم یا والیوم کے اعتبار سے نائٹروجن 78فیصد ،آکسیجن21فیصد، آرگن ایک فیصد ، کاربن ڈائی آکسائڈ صرف 0.03 فیصد اور دیگر کئی گیسیز نہایت معمولی تناسب میں ہوتی ہیںاگرچہ ہوموا سفیر یعنی زمین سے سٹی ہوئی اس تہہ کی موٹائی صفر کلو میٹر سے 80 کلو میٹر تک ہوتی ہے مگر اس تہہ میں جتنی گیسیز ہیں ان تمام کی 90 فیصد مقدار یا کمیت یا Mass اس تہہ کے نتیجے کے 35 کلو میٹر کے علاقے میں ہی پھیلی ہوتی ہے۔ باقی 48 کلو میٹر کی بلندی میں دس فیصد گیسیز ہی پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس ہومو اسفیر میں لگ بھگ 15 سے 50 کلو میٹر کی بلندی کے علاقے میں تقریباً 35 کلو میٹر موٹی تہہ میں ایک نہایت مخصوص گیس ہوتی ہے اسے اوزون کہتے ہیں۔ اس گیس کی پرت کو اوزون یا اوزون اسفیر بھی کہتے ہیں۔ یہ تہہ تو جانداروں کے لئے جان اور سانس ہے ورنہ انسانی زندگی ناممکن ہوجاتی ۔
ہیٹرو اسفیر: ہومواسفیر کے اوپر یہ بالکل سٹا ہوا کرہ ہوتاہے۔ اس کرہ میں اس کی سب سے نچلی تہہ میں آکسیجن گیس کی تہہ ہوتی ہے جو لگ بھگ ایک ہزار کلو میٹر کی بلندی تک پھیلی ہوئی رہتی ہے ۔ اس تہہ سے بالکل سٹی ہوئی الگ تہہ ہوتی ہے جو ہیلم گیس کی تہہ کہلاتی ہے اور 2400 کلو میٹر کی بلندی تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس ہیلم گیس کی تہہ سے بالکل جڑی ہوئی ہائڈروجن گیس کی تہہ ہوتی ہے ۔یہ تہہ نہایت بلندی تک جاکر بیرونی خلا سے مل جاتی ہے۔مذکورہ بالا تہیں مختلف گیسوں کی موجودگی سے بنی تہیں کہلاتی ہیں جو ماحولیات یافضاکو بحال اور بر قرار رکھنے یا پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
درجۂ حرار ت کی بنیاد پر بنے ہوئے فضائی کرّے: ہماری زمین کے چاروں طرف جہاں مختلف گیسوں کے کرے یا تہیں ایک زبردست غلاف بناتی ہیں ۔اسی طرح زمین کے چاروں طرف سے درجہ حرارت کی بنیاد پر مختلف تہیں موجود ہیں وہ سب مل کر ہوائی غلاف کی شکل میں زمین کو چاروں طرف گھیر کر اس کی فضا کی تخلیق کرتی ہیں ۔جیسے جیسے ہم زمین سے اوپر کی طرف سفر کرتے ہیں ہم مختلف درجہ حرارت کی تہوں میں داخل ہوتے جاتے ہیں ۔ کہیں بالکل جما دینے والا نقطہ انجماد ہے تو کہیں پورے انسانی وجود کو جلا کر راکھ کردینے والی حرارت ہے۔ اس کے علاوہ زمین کے اندر کی برقی پیداوار کی وجہ سے صفر کلو میٹر سے لے کر لگ بھگ چالیس ہزار کلو میٹر کی بلندی تک مقناطیسی میدان کی تخلیق ہوتی ہے، جو عظیم ڈھال کا کام کرکے نہایت خطرناک شمسی طوفانوں سے زمین کی فضا کی مدد سے اس عظیم الشان دھرتی کی حفاظت کرتی ہے۔ جاری

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *