قدرتی گیس کی قیمتیں ایک ڈھیٹ سیاست کا نمونہ

Share Article

ششی شیکھر

قدرتی گیس کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ اس طریقہ سے کیا گیا ہے ، جسے سمجھنا عام آدمی کے لئے تقریباً نا ممکن ہے ۔ کیونکہ، یہاں قیمت کا تعلق گیس سے ہے اور سیال سے بھی ہے۔ یہاں گیس کے سیال بنتے ہی کھیل بدل جاتا ہے، قیمتیں بدل جاتی ہیں۔ آیئے جانتے ہیں کہ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے پیچھے کی کہانی دراصل ہے کیا؟

p-4 یو پی اے 2کی حکومت نے قدرتی گیس کی قیمت 4.2ڈالر سے بڑھا کر 8.4ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور موجودہ بی جے پی نے اس فیصلے کو روکنے کے لئے اب تک کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ یعنی، موجودہ حکومت بھی ان بڑھی ہوئی قیمتوں کو نافذ کرنے جا رہی ہے۔ دوسری طرف، بین الاقوامی بازار میں (ہینری ہب، یو ایس اے) اسی نیچرل گیس کی قیمت 3.6ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے اور زیادہ سے زیادہ ، عام طور پر ، کسی بھی بین الاقوامی بازار میں اس کی قیمت 4یا 5ڈالر تک جاتی ہے۔
قدرتی گیس ملک کا وسیلہ ہے ۔ مفاد عاملہ میں اس کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہئے، لیکن مکیش انبانی کی کمپنی ریلائنس کے فائدے کے لئے اس کی قیمت مسلسل بڑھائی جا رہی ہے۔ قیمت بڑھائے جانے میں رنگ راجن کمیٹی کی سفارشوں کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔ رنگ راجن کمیٹی نے قدرتی گیس (این جی) کی قیمتیں طے کرنے میں ایل این جی امپورٹ، یو ایس ہینری ہب، یو کے کی این بی پی اور جاپان کے جی سی سی لنکڈ پرائس(ان تمام جگہوں پر این جی اور ایل این جی کی قیمت) کی اوسط کی بنیاد پر ہندوستان میں پیدا شدہ قدرتی گیس کی قیمتیں طے کرنے کی سفارش کی ۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کیا ملک میں پیدا شدہ قدرتی گیس کی قیمتیں طے کرنے کے لئے ایل این جی کی قیمت کو بنیاد بنایا جانا مناسب ہے۔یہ اسی طرح ، جیسے خام تیل کی قیمت کی بنیا د پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کی بازاری قیمت کو بنادیا جائے۔
قیمتوں میں اضافہ سے کس کا فائدہ
کے جی بسین کے ڈی 6بلاک سے قدرتی گیس کی پیداوار ریلائنس انڈسٹری کر رہی ہے۔ اس کی قیمتوں میں اضافہ سے ہر سال ریلائنس کو 1.6بلین ڈالر کا اضافی منافع ہوگا۔ اس کے علاوہ ڈالر میں یہ اضافہ کئے جانے سے بھی، اس کے منافع میں 11فیصد کا اضافہ ہوگا، کیونکہ روپے کی قیمت میں گزشتہ دو تین سالوں میں 11فیصد کی گراوٹ رہی ہے۔
پیداواری خرچ ایک ڈالر سے کم
کے جی -ڈی 6میں میسرس نکو بھی گیس پیداوار کا کام کر رہی ہے۔ نکو نے کناڈا کے اسٹاک ایکسچیلنج میں جو مالی دستاویزات جمع کی ہیں، ان کے مطابق کے جی -ڈی6بلاک میں گیس پیداواری کی قیمت محض0.40ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو آتی ہے، جو دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔ پھر کن وجوہات سے گیس کی قیمتیں دو گنا بڑھانے کا فیصلہ حکومت نے کیا، سمجھ سے باہر ہے۔۔ ریلائنس انڈسٹری لمیٹڈ نے ڈائریکٹر جنرل ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہائروکاربن کے پاس 22مئی2009کو جو دستاویزت جمع کرائے ہیں، ان کے مطابق فی ایم ایم بی ٹی یو کا خرچ 0.8045ڈالر تک یعنی ایک ڈالر سے بھی کم آتا ہے۔ پھر تین سال میں ہی ایسا کیا ہو گیا کہ گیس کی قیمت میں دو گنا اضافہ کرنے کی نوبت آگئی؟
قیمتوں میںۭ اضافہ کا اثر ؟
کھاد صنعت کو 47.8ایم ایم ایس سی ایم ڈی گیس کی ضرورت پڑتیہے۔ یوریا پیدا کرنے والے 85فیصد پلانٹ قدرتی گیس پر مبنی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر نیچرل گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کھاد صنعت کو دی جانے والی سبسڈی میں اضافہ ہوگا۔ حکومت خود مانتی ہے کہ گیس کی قیمتوں میں ایک ڈالر؍ ایم ایم بی ٹی یو کے اضافہ سے یوریا پروڈکشن کی قیمت میں1384روپے؍ایم ٹی کا اضافہ ہو جائے گا۔ فرٹیلائزر ایسوسی ایشن آف انڈیا کے مطابق گیس قیمتوں میں اضافہ سے ہر سال11000کروڑ روپے کی اضافی سبسڈی کا بوجھ پڑے گا۔
شعبۂ توانائی: توانائی کے شعبہ بھی قیمتوں میں کئے گئے اس اضافہ سے بری طرح متاثر ہونے جا رہا ہے۔ انڈیا ریٹنگ اینڈ ریسرچ ایجنسی کے مطابق نیچرل گیس پر مبنی پاور پلانٹ پر بھی گیس قیمتوں میں اضافے کا اثر پڑے گا۔8.4ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو گیس قیمت ہونے پر فی کلو واٹ آور (کے ڈبلیو ایچ) بجلی کی قیمت مین 4.29روپے کااضافہ ہو جائے گا۔ فی الحال ملک مین65بلین کلو واٹ آور بجلی کی پیداوار گیس پر مبنی پلانٹ کے ذریعہ ہوتی ہے۔نتیجتاً ، گیس قیمتوں میں اضافہ ہونے سے تقریباً 132بلین روپے کااضافی بوجھ صارفین یعنی عوام پر آئے گا۔ پارلیمنٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کم گیس پیداوار کی وجہ سے ملک کے56گیس پر مبنی بجلی گھروں کو معقول گیس نہیں مل پا رہی ہے۔
غور طلب ہے کہ قدرتی گیس کی پیداوار کرنے والا کوئی ملک اپنی گھریلو ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایل این جی کا استعمال نہیں کرتا ہے، بلکہ پائپ کے ذریعہ قدرتی گیس کو ان جگہوںپر بھیجتا ہے، جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن ممالک کے پاس قدرتیگیس نہیں ہے، وہ ہی ایل این جی کے فارم میں اس کا استعمال کرتے ہیں، کیونکہ انہیں قدرتی گیس کی درآمد کرنا پڑتی ہے۔ جن ممالک میں قدرتی گیس کی پیداوار ہوتی ہے، وہاں اپنے گھریلو صارفین کو یعنی بجلی اور کھاد پروڈکشن کمپنیوں کو ایل این جی نہیں، بلکہ پائپ سے قدرتیگیس (پی این جی) دی جاتی ہے۔ قطر، عمان ، سعودی عرب، برازیل وغیرہ ممالک میں حکومت قدرتی گیس کی قیمتوں کا تعین کرتی ہیں۔ امریکہ جیسے کچھ ممالک میں بازار اس کی قیمت طے کرتا ہے۔ ہندوستان میں حکومت ہی نیچرل گیس کی قیمتیں طے کرتی ہے ، لیکن قیمت طے کرنے کی بنیاد بے حد مشکوک ہے۔
اگر ایل این جی اور نیچرل گیس کی قیمتوں کے درمیان کے فرق کو سمجھیں، تو واضح ہو جاتا ہے کہ ہندوستان میں یہ قیمت کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے۔ جیسے، جاپان میں گیس کے ذخیرے نہیں ہیں اور وہاں اس کی درآمد کرنی پڑتی ہے۔ یعنی ایل این جی کا استعمال جاپان کرتا ہے۔وہ مشرق وسطیٰ اشیای اور جنوبی شمالی ایشیا سے یہ گیس درآمدکرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ ایشیا میں قدرتی گیس کی پیداوار یعنی کنویں سے نکالنے کے وقت اس کی قیمت 0.5ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوتی ہے۔ ایل این جی بنا کر جب یہ جاپان پہنچتی ہے ، تو بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کئے اس کی قیمت5.80ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو جاتی ہے۔ یعنی قیمت میں تقریباً 12گنا کا فرق ہو جاتا ہے۔
بہر حال، پارلیمنٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی (مالی) کی رپورٹ نے قدرتی گیس کی قیمتوں کو بڑھا نے کی مخالفت کی ہے۔ اس کمیٹی کے صدر بی جے پی لیڈر یشونت سنہا ہیں، لیکن پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت نہ بی جے پی نے کی اور نہ ہی کسی دیگر جماعت نے۔ اب بی جے پی حکومت میں ہے ، پھر بھی اپنے لیڈروں کی سفارشات کو ماننے کے لئے اس کے پاس نہ وقت ہے اور نہ خواہش۔

ایل این جی بنام این جی
ایل این جی (لیکویفائڈ نیچرل گیس) اور این جی (نیچرل گیس) پیداوار کی قیمت میں بہت فرق ہے۔ پھر، این جی کی قیمت طے کرنے میں ایل این جی کو کیسے بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ قدرتی گیس کوزمین سے نکالا جاتا ہے، جس میں متھین، ایتھین، پروپین، بیوٹین اور لکیوڈ ہوتے ہیں۔ این جی کو جب ایل این جی میں بدلا جاتا ہے، تو اس سے ایتھین، پروپین، بیوٹین اور لکیوڈ کو اس سے نکال دیا جاتا ہے۔ صرف متھین کو لیکویفائڈ فارم میں رکھا جاتا ہے۔ اس کی پروسیسنگ کر کے متھین کو الگ کیا جاتا ہے، جس کا استعمال فرٹیلائزر، انڈسٹری اور بجلی بنانے میں کیا جاتا ہے۔ پروپین اور بیوٹین کا استعمال ایل پی جی بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ پروسیسنگ اسی طرح کی ہوتی ہے، جیسے کروڈ آئل کی پروسیسنگ کر کے ایل پی جی، کیروسین اور ڈیزل بنایا جاتا ہے۔ جس طرح کروڈ آئل (کچا تیل) کی قیمت ایل پی جی، ڈیزل اور کیروسین سے کافی کم ہوتی ہے، ٹھیک اسی طرح این جی (قدرتی گیس) کی قیمت بھی ایل این جی (لِکویفائڈ نیچرل گیس) سے کافی کم ہوتی ہے۔ ایسے میں ایل این جی کی قیمت کو ملک میں پیدا ہوئی نیچرل گیس کی قیمت کی بنیاد بنایا جانا بدقسمتی ہے۔ جب دنیا کے کسی ملک میں اس طرح سے گیس کی قیمت کا تعین نہیں کیا جاتا ہے، تو ہندوستان میں ایسا کیوں؟ ظاہر ہے عوام کے مفاد کو نظر انداز کر کے ایک خاص کارپوریٹ گھرانے کو فائدہ دلانے کے لیے یہ قیمت بڑھائی گئی ہے۔

پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ
دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ اس رپورٹ کو بی جے پی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے تیار کیا تھا اور اپنی سفارشیںدی تھیں۔ سنہا اس وقت وزیر مالیات پرپارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔

کمیٹی نے اپنی 74ویں رپورٹ میں کہا تھا کہ ملک میں مہنگائی اور اقتصادی بحران کا ما حول ہے، ایسے میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ کافرٹیلائزر، انرجی، اسٹیل سیکٹر سمیت معیشت پر برا اثر پڑے گا۔
2005سے اب تک نیچرل گیس کی قیمت میں 300فیصد کا اضافہ ہوا، لیکن اس سیکٹر میں سرمایہ کاری اور گھریلو پیداوار میں گراوٹ آئی۔
سرکار نے کسی مطالعہ (مشقت) کے بغیر گیس کے دام بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔
اس بارے میں نہ تو کسی طرح کی قیمت کا مطالعہ کیا گیا اور نہ ہی اس کے اثرات کے بارے میں جانکاری لی گئی۔
رنگ راجن پینل کے ذریعہ تجویز کیے گئے فارمولے پر سرکار کو نظر ثانی کرنی چاہیے۔
سرکار ایک ایسی نئی قیمت لے کر آئے، جو متوازن ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *