قورمہ بریانی کھائو ، اردو کے گن گائو

Share Article

وسیم راشد
سیاست، سیاست، بابری مسجد پر سیاست، بہار الیکشن میں سیاست، کامن ویلتھ گیمس میں سیاست، کشمیر پر سیاست، سشما سوراج اور مودی کی سیاست، کشمیر پر ارون دھتی رائے کے بیان پر سیاست، یہ ہر جگہ، ہرچیز میں سیاست کا کھیل کیوں ہونے لگا ہے، لیکن اس بار اتنے سارے سیاسی کھیل دیکھ لئے کہ سیاست پر لکھتے ہوئے دل گھبرارہاہے اور بے اختیار یہ خواہش ہورہی ہے کہ اس ہفتے کسی بھی سیاسی عنوان یا سیاسی اکھاڑے کو موضوع نہ بنایا جائے بلکہ اردو زبان کے تعلق سے کچھ لکھا جائے۔ اردو زبان جس کی ہم ایک عرصے سے روٹی کھارہے ہیں اور ہم کیا بڑے بڑے کھارہے ہیں۔ اسی اردو کے نام پر ہندوستان میں ہی نہیں بیرونی دنیا میں بھی نہ جانے کتنے ادارے، کتنے لوگ لکھ پتی بن گئے ہیں۔ پاؤنڈز اور ڈالرز میں اردو تقریبات منعقد کرکے پیسہ جمع کیا جاتا ہے اور اس پیسے کا استعمال گھر، گاڑی اور خود بیرونی دنیا کی سیاحت پر کیا جاتا ہے۔ دعوت نامہ آجاتا ہے، آپ کے نام اور پھر کہہ دیا جاتا ہے کہ آپ خود اپنے پیسے سے آیئے، خود اپنا ٹکٹ کٹایئے اور خود اپنے رہنے اور کھانے کا انتظام کیجئے۔ پر ہاں سمینار میں آکر پرچہ پڑھ جایئے، ہم آپ کو ایک وقت کا کھانا ضرور کھلادیںگے۔ یہاں میں وضاحت کردوں کہ یہ سب سنی سنائی باتیں نہیں ہیں۔ تجربہ سے حاصل کی گئی اصلیت ہے جو کڑوی تو ہے، لیکن یہی سچائی ہے۔ ہاں، جب خوب کھاپی کر باہر نکلتے ہیں تو یہ کہتے ہوئے ’ارے بھائی اردو والے تو بس ایسے ہی ہیں، اردو تو ختم ہورہی ہے، اردو کا کوئی مستقبل نہیں ہے، نئی نسل اردو کیا جانے‘ لیکن میں اس بات سے سخت اختلاف کرتی ہوں کہ نئی نسل اردو سے بے بہرہ ہے اور یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ رہی ہوں کہ  اردو کا کوئی آج تک کچھ نہیں بگاڑ سکا اور بلکہ آج نئی نسل میںاردو کا رجحان زیادہ ہے۔ پہلے کے مقابلے اردو میڈیم اسکول بھی زیادہ ہیں اور انگلش میڈیم اسکولوں میں بھی بہت سے نامور اسکولوں میں اردو بحیثیت مضمون پڑھائی جارہی ہے۔ کئی بار مجھے محسوس ہوا کہ اردو کا معاملہ بالکل ایسا ہی ہے کہ اگر کسی مریض کو Pain Killerدی جارہی ہے تو ساتھ میں کوئی ایسی Alternateگولی بھی دی جاتی ہے، جس کا سائڈ ایفیکٹ نہیں ہوتا ، اردو میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہونا چاہئے کہ اگر آپ صرف اور صرف اردو ہی پڑھیںگے تو ظاہر ہے کہ باقی دنیا سے کٹ جائیں گے۔ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے، سبھی مقابلہ جاتی امتحانات اسی میں ہوتے ہیں تو ظاہر ہے آپ اسے کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کرسکتے۔
نئی نسل اردو سیکھنا چاہتی ہے، پڑھنا چاہتی ہے، بولنا چاہتی ہے۔  ہر سیمنار، ہر مشاعرہ ہر ادبی محفل میں اردو کے سفید سر والوں کے ساتھ ساتھ کالے سر والے بھی بہت سے نظر آنے لگے ہیں، مجھے یاد ہے انجمن ترقی اردو ہند کا ایک سیمنار تھا اور جگن ناتھ آزاد صاحب تقریر کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ’’مجھے خوشی ہے کہ اب سیمناروں میں سفید سروں کے ساتھ ساتھ کالے سر بھی نظر آرہے ہیں۔‘‘ ان کا جملہ اس بات کی علامت تھی کہ خود ان کے وقت میں اردو پڑھنے لکھنے والے کم تھے، لیکن اب اردو کا چلن زیادہ ہوگیا ہے۔ نئی نسل زیادہ رومانٹک ہے۔ نئی نسل پہلے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ دیتی ہے اور ہم میں سے کوئی بھی اس حقیقت سے انحراف نہیں کرسکتا کہ شاعری ہر مذہب و ملت ، ہر زبان کے نوجوانوں کے دل اور جذبات کی عکاس ہے، کوئی بھی زبان پڑھنے، لکھنے، بولنے والا اردو کے اشعار یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ رومانس کرنے کا جو مزہ اردو شاعری دیتی ہے، وہ مزہ کسی اور زبان میں کہاں۔
آج UPSCامتحان میں بھی اردو بحیثیت مضمون لے سکتے ہیں۔ ہندوستان کی مشہور یونیورسٹیوں میں اردو کے پی ایچ ڈی اسکالرز کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ممبئی یونیورسٹی میں بھی میری ملاقات صدر شعبہ اردو صاحب علی صاحب سے ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ شعبہ اردو میں ماشاء اللہ اچھی خاصی تعداد ہے اور ساتھ میں ایک پورا بلاک اردو کمپیوٹر سکھانے کا تھا۔علی گڑھ یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی،جے این یو، جامعہ، میرٹھ یونیورسٹی، بنارس ہندویونیورسٹی سبھی جگہ اردو کے طلبہ موجود ہیں۔ سبھی ادارے اردو کی تعلیم دے رہے ہیں۔ہاں اداروں کی ذمہ داری میں کمی ہے، کتابوں کی تیاری میں کمی ہے، پڑھنے والے تو ہیں مگر ان کے لئے اسباب فراہم کرانے اور مواقع فراہم کرانے والے ایماندار نہیں ہیں۔ دہلی میں ہی کتنے اردو ادارے ہیں، یہاں صرف اور صرف اردو پڑھے لکھوں کو ہی اردو کی ترقی میں شامل کیا جارہا ہے۔ اصل تعلیم اسکولوں کی ہے، اسکولوں میں اردو طلبہ کو کتابیں مہیا نہیں کرائی جارہی ہیں تو اس میں زبان کا زوال ہے یا ہماری اپنی کمیاں۔ پرائمری سطح کی کتابیں بنانے کے لئے آپ مدعو کرتے ہیں، پروفیسرز اور لکچررز کو، بتائیے NCERTورکشاپ کی پرائمری سطح کی کتاب بنانے میں کتنے پرائمری اساتذہ کو لیا جاتا ہے، جب کہ بحیثیت اردو زبان کی ادنیٰ استاد کے ،میں یہ وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ پروفیسراور لکچررپرائمری، مڈل، سیکنڈری تک کی سطح کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ایک نفسیاتی عمل ہے کہ آپ جس چیز میں ماہر ہوجاتے ہیں، جس میں رچ بس جاتے ہیں، اس سے نیچے تک آپ آہی نہیں پاتے، تو پھر اس میں اردو پڑھنے والے ذمہ دار ہیں یا اردو پڑھانے والے۔ اس طرح بڑے بڑے سیمنار منعقد کیے جاتے ہیں۔ ہر سال بین الاقوامی سیمنار میں اپنے اپنے دوستوں کو خرچہ پانی دے کر بلالیا جاتا ہے، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ پرچہ تو ہم اپنے ملک میں بھول آئے۔لیکن ان کو بڑی ہی عزت و احترام سے Accomodateکیا جاتا ہے ان سیمناروں میں وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو صحیح سے چل بھی نہیں سکتے جن کو دیکھ کر اور سن کو ڈر لگنے لگتا ہے کہ جانے کب گرجائیں اور ہماری نئی نسل جو اب پرانی ہونے لگی ہے، وہ صرف ان کی جی حضوری کرنے کے لیے ہی رہ جاتی ہے۔ منہ سے واہ واہ کرتی ہے اور دل میں سوچتی ہے کہ اس سے اچھا پرچہ تو ریسرچ کرکے ہم لکھ سکتے تھے۔ کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ موضوع تک وہ نہیں ہوتا جو سیمنار کے لیے دیاجاتا ہے ، تو پھر بتائیے نئی نسل کا اس میں کیا قصور ہے۔ پرانی نسل نئی نسل کو آگے بڑھنے، پھلنے پھولنے ہی نہیں دے گی تو وہ کیا کریںگے۔پرانی نسل کو نئی نسل کی رہنمائی کرنی چاہیے، ان کو بیٹھ کر سننا چاہیے اور ان کی اصلاح کرنی چاہیے۔
مشاعرے، سیمناروں پر توبے شمار پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ مجھ سمیت سبھی قورمہ بریانی کھا کر اپنے اپنوں سے مل کر نکل لیتے ہیں، مگر اسکول کی سطح پر کیا کیا جاتا ہے، کتنے سیمنارز اسکول کے اساتذہ پر کیے جاتے ہیں، کتنے سیمنارز اور ورکشاپ اردو اسکول کی سطح پر ہوتے ہیں، میں خود 20سال اردو پڑھا کر آئی ہوں اور میں تو خود سیمنارز وغیرہ میں شرکت کرتی رہی ہوں، مگر مجھے تو کوئی ایسا سیمنار یاد نہیں سوائے ایک 15سال پہلے کے انجمن ترقی اردو ہند کے سیمنار کے جواسکولوں میں اردو کے مسائل پر کیا گیا تھا اور جہاں تھوڑی بہت اسکول کی سطح کی بات ہوئی تھی۔
ہمارے پاس خوش قسمتی سے اس وقت اردو کے 2چینلز ہیں ای ٹی وی اردو اور ڈی ڈی اردو مگر نہایت افسوس کا مقام ہے کہ دونوں کا ہی معیار بے حد پست ہے، خاص طور سے ای ٹی وی اردو وہی پرانے ڈھرے پر چل رہا ہے، جہاں مسلمانوں کو کرتا ٹوپی اور پاجامے میں دکھایا جاتا ہے اور خواتین کو غرارے، کرتا چوڑی دار میں۔ مسلم نوجوانوں کے گلے میں ایک تعویز، زبان نہایت خراب۔ اللہ اللہ۔ہائے بھائی جان خدارا ایسے مت کہیے، للہ رحم کیجئے۔ آپ بتائیے مجھے ہمارے اور آپ کے گھروں میں کون ایسے بولتا ہے۔ ہمارے نوجوان دوسرے چینلز پر تو بہترین زبان بول رہے ہیں۔ اپنے چینل پر انہیں پرانے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ وہی گھسے پٹے پروگرام، شعری محفل، مشاعرہ، نعتیں، قوالی، کوئی ایک بھی پروگرام ایسا نہیں جہاں دوسرے چینل کی طرح حالات حاضرہ کا جائزہ ہو، نیوزپوائنٹ جیسا کوئی پروگرام یا مباحثہ ہو۔ ہاں ’ہمارے مسائل‘ جیسا بکواس پروگرام ضرور دیکھنے کو مل جاتا ہے، جس میں ایک سخت گیر چہرہ جس کو اپنی عقل و دانش پر نہایت غرور ہے کچھ اپنے ہی جیسے پرانے گھسے پٹے لوگوں کے ساتھ فضول کی بحث میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اردو چینل اور اسلامی چینل میں کیا فرق ہونا چاہیے، یہ ہمارے اردو والوں کو پتہ ہی نہیں۔ پورے چینل پر جب کھولیے تب اسلامی پروگرام۔ لگتا ہے اردو چینل سے مراد اسلامی چینل ہی ہے۔ اردو کا نقصان خود ہم نے کیا ہے، ہماری نئی نسل کو ضرورت ہے مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے گائڈ کرنے والوں کی، ہماری نئی نسل کو ضرورت ہے روزگار کے نت نئے طریقوں کی معلومات کی۔ ڈی ڈی اردو کا یوں تو معیار بے حد خراب ہے، اس پر بھی وہی شعر وشاعری، قوالی، گھسے پٹے اردو زبان بولنے والے چہرے۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اردو کی طرف راغب کریں۔
کوشش تو ہم کو ہی کرنی ہے، کوئی آسمان سے تو ہمارے لیے اترے گا نہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ مشکلات ضرور آئیںگی،مجروحؔ کے اس شعر سے شاید ہم سب کو کچھ حوصلہ ملے:
دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

اردو کی ترقی کے لیے یہ ضرور کریں

1-     سب سے پہلے اپنے بچوں کا ایڈمیشن ان انگلش میڈیم اسکولوں میں کرائیں، جہاں اردو بھی بحیثیت مضمون پڑھائی جاسکے۔
2-    اگر ان اسکولوں میں اردو پڑھائی نہیں جارہی تو والدین اسکول و کالج میں اردو پڑھانے کا مطالبہ کریں۔
3-    گھروں میں شستہ اور صاف اردو میں بات کریں کیوں کہ بچے انگریزی میں بات کرنا تو اسکولوں، کالجوں اور دوستوں میں سیکھ ہی لیتے ہیں۔ خود ہم کون سے انگریزی میڈیم میں پڑھے ہیں، مگر 20سال انگلش میڈیم میں پڑھا کر خدا کے کرم سے اس وقت اچھی انگریزی بول لیتے ہیں۔
4-     اردو اخبارات و رسائل خرید کر پڑھیں۔ دوستوں کو کتابیں بانٹنے سے پرہیز کریں۔ اداروں میں Reviewکے لیے صرف دو کتابیں بھیجیں۔
5-     اپنے گھروں میں، جس طرح حکومت نے سب طرف انگلش، ہندی، اردو اور پنجابی میں نام لکھوائے ہیں، آپ کم سے کم انگلش کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی اپنا نام لکھوا کر لگائیں۔
6-     گھر میں ایک اردو اخبار ضرور خرید کر پڑھیں۔
7-     مردم شماری کے زمانے میں مادری زبان کے خانے میں اردو لکھ کر خود اپنے سامنے تصدیق کرلیں کہ صحیح لکھا ہے یا نہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *