(قیامت صغریٰ کا آنکھوں دیکھا منظر( یوم آزادی پر خصوصی پیشکش

Share Article


یوم آزادی کے موقع پراکثر ملک کے اخبارات آزادی کے ہیرو، جدو جہد آزادی، آزادی کا صحیح استعمال اور آزادی کے تصورات غر ض یہ کہ آزادی کے تعلق سے ہر وہ تصویر پیش کرتے ہیں، جس سے یہ اندازہ ہو جائے کہ آزادی کس قدر اہم ہے اور کتنی پریشانیاں و اذیتیں جھیل کر اس کی حصولیابی ممکن ہو سکی ہے۔لیکن آج ہم ایک منفرد انداز میںآپ کویوم آزادی کا احساس کرانا چاہتے ہیں۔ یوم آزادی کی اس خصوصی پیش کش میںہم ان لوگوں کی داستان بیان کر رہے ہیں، جنھوں نے حقیقتاً اس عذاب کو جھیلا ہے، جنھوں نے تقسیم کا سانحہ نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے بلکہ اپنے سامنے اپنے عزیز و اقارب کو مرتے  کٹتے اور جلتے دیکھا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھر بار ان کی آنکھوں کے سامنے لٹ گئے۔کیمپوں میں کئی کئی روز تک بھوک اور پیاس سے تڑپتے رہے اورصحیح معنوں میں جدوجہد آزادی کا حصہ بنے۔ خدا کا شکر ہے کہ ابھی ایسے کافی افراد بقید حیات ہیں جو اس درد کو ہم سے ابھی بانٹ سکتے ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو صحیح حالات کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک شخص شہاب الدین صاحب ہیں جو کہ پرانی دہلی کے رہنے والے ہیں اور اب اوکھلا میں اقامت پذیر ہیں۔گزشتہ دنوں ان سے چوتھی دنیا انٹر نیشنل اردو ویکلی کی ایڈیٹر وسیم راشد سے لمبی بات چیت ہوئی۔ پیش ہیں بات چیت کے اہم اقتباسات۔
سوال: شہاب الدین صاحب آپ نے تقسیم کا پورا سانحہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، آپ بتائیں گے کہ آپ اس وقت کتنے سال کے تھے؟
جواب: میں اس وقت تقریباً8سال کا تھا اور میرے بڑے بھائی حفیظ الدین اس زمانہ میں دسویں کلاس میں تھے۔ ہم سب قرول باغ گلی نمبر37چھپر والا کنواں، اسکول کے پیچھے گلی میں رہتے تھے۔ اسی گلی میں 4مکان ہمارے تھے۔ سبھی ہمارے اپنے عزیز و اقارب کے تھے۔ ہمارا بھرا پرا خاندان تھا۔ چچا، تایا،پھوپھا، پھوپھی سبھی لوگ ایک فیملی کی طرح رہتے تھے۔4مکانوں میں ہمارا خاندان تھا۔ اس کے علاوہ ایک کرسچین جیکب نام کا آدمی بھی وہاں رہا کرتا تھا۔ایک مکان میںکسی گائوں کے چودھری رہتے تھے ۔ ایک مکان ایک ہندو بھائی کا تھا۔ سب ایک دوسرے سے میل محبت رکھتے تھے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ عید، ہولی، دیوالی سب اپنے تہوار تھے، سبھی مل جل کر مناتے تھے۔ آزادی کے لئے سبھی کے دلوں میں نیک جذبہ تھا۔ سب دل سے چاہتے تھے کہ اپنا ملک آزاد ہو جائے مگر کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ آزادی اتنی بڑی قیمت وصول کرے گی کہ اپنے پرائے ہو جائیں گے۔
سوال: آپ کو کب اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا اور آپ کہاں گئے؟
جواب: حالات تو کافی وقت سے خراب چل رہے تھے اور ماحول کشیدہ تھا،مگر یہ ستمبر 1947سے پہلے کی بات ہے کہ میرے بڑے بھائی حفیظ الدین کا 10ویں کاامتحان تھا۔ اس امتحان کے بعد 2سال کا ایف اے ہوا کرتا تھا۔ آنند پربت کے کسی کالج میں ان کا سینٹر پڑا تھا ۔ اچانک گھر میں خبر آئی کہ وہاں فساد ہو گیا ہے۔ہماری گلی میں شمیم عصمت اللہ نام کے ایک شخص رہا کرتے تھے۔ ان کی ہمارے والد سے بہت زیادہ نہیں بنتی تھی اور دونوں میں ان بن رہتی تھی، مگر گاڑی صرف ان ہی کے پاس تھی اور میرے والد کو اندیشہ تھا کہ وہ اس چپقلش کے سبب گاڑی نہیں دیں گے مگر انھوں نے گاڑی دے دی۔ میرے والد آنند پربت گئے اور ایگزام روم میں گھس گئے اور وہاں جتنے میرے بڑے بھائی کے ساتھی امتحان دے رہے تھے ان کو اٹھا کر گاڑی میں بھر کر لے آئے۔میرے والد کا کہنا ہے کہ جیسے ہی میں گاڑی لے کر آگے نکلا پیچھے سے فسادیوں کا ایک بڑا قافلہ ایگزام روم میں گھس گیا اور وہاں موجود سبھی کو مار ڈالا گیا۔اس امتحان روم میں سارے ہی مسلمان بچے امتحان دے رہے تھے۔میرے والد کا کہنا ہے کہ اگر ایک منٹ کی بھی تاخیر ہو جاتی تو ہم سب مارے جاتے۔
سوال: اب وہی سوال میں پھر دہراتی ہوں کہ آپ کو اپنا گھر بار کب چھوڑنا پڑا؟اور اس کے بعد آپ سب نے کہاں پناہ لی؟
جواب:یہ تقریباً ستمبر1947کی بات ہے اور شاید عید کو گزرے ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے۔اچانک گلی میں شور اٹھا کہ خالی کرو، خالی کرو حملہ ہونے والا ہے۔ میری والدہ توے پر روٹیاں ڈال رہی تھیں سالن پک چکا تھا۔ ہم سب کھانے کے لئے بیٹھنے ہی والے تھے۔ ہم سب کچھ چھوڑ کر وہاں سے بھاگے جوشی روڈ پر ہماری ایک رشتہ کی بہن آپا حجوّ رہتی تھیں ہم ان کے گھر میں چلے گئے اور یہ سوچ کر گئے تھے کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو واپس آ جائیں گے، مگر بدقسمتی یہ کہ آ ج تک وہ پرانا گھر دوبارہ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ بس آپا حجوّ کے گھر 3دن رہے پھر وہاں جب دوسرے تیسرے مکان تک آگ لگ گئی تو نکل کر بھاگے اور تقریباً تین بجے ہمارا یہ قافلہ عید گاہ کی طرف چلا۔ جوشی روڈ پیچھے تھا۔جب ہم سڑک پار کر رہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ قافلے کے قافلے پیچھے آ رہے ہیں اور ان میں سے کچھ کو گولیاں لگ رہی ہیں اور وہ وہیں گر کر تڑپ رہے ہیں مگر کسی کو اتنی مہلت نہیں تھی کہ اپنے ماں، باپ، بھائی، بہن یا اپنے بچے کو اٹھا لے ،کیونکہ لگاتار فائرنگ ہو رہی تھی۔میرے بڑے بھائی کی ٹانگ میں بھی گولی لگی اور خود میرا پائجامہ جل گیا۔ چار پائی کی بان میں سے فسادی گولی چلا رہے تھے۔میرا چھوٹا بھائی گود میں تھا۔ ہم سب کسی طرح بچتے بچاتے عید گاہ میں آئے وہاں کیمپ لگا ہوا تھا۔کسی کو کسی کا پتہ نہیں تھا۔ ہر کوئی اپنے عزیزوں ،رشتے داروں کو تلاش کررہا تھا۔ عید گاہ کیمپ میں2دن تک کھانے کو کچھ نہیں ملا اور اسی رات ایسی بارش ہوئی کہ خدا کی پناہ۔ ہماری والدہ سب بچوں کو ایک چادر میں لئے بیٹھی رہیں۔ اس بارش میں ہم پوری رات بھیگتے رہے اور ایسی سردی لگی کہ آج تک اس کی ٹھنڈک میں اپنے بدن میں محسوس کرتا ہوں۔ وہ ایسی قیامت کی رات تھی کہ آج بھی اس کا خیال آ جاتاہے تو میرا بدن کانپنے لگتا ہے اور میرا دل آج بھی بے قابو ہو جاتا ہے کہ چیخیں مار مار کر روئوں ،کیونکہ اس رات کا صبر آج تک نہیں پڑا۔ دو دن بعد کیمپ میں ملٹری کے دو ٹرک آئے اور ڈبل روٹی، بن بانٹ کر چلے گئے۔وہ ڈبل روٹی اور بن اتنے سوکھے اور بھربھرے تھے کہ منھ تک جانے سے پہلے ہی ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے تھے۔مگر کیا کرتے 2دن بعد چند ٹکڑے پیٹ میں گئے تھے۔2دن لگاتار بارش ہوتی رہی ، وہاں پاس ہی ٹائروں کی ایک دکان تھی ۔ اس میں آگ لگ گئی اور قدرت دیکھئے کہ وہ آگ اس بارش سے بجھی۔ کیمپ میں نہ کھانے کو نہ پینے کو، نہ رفع حاجت کا کوئی انتظام تھا۔ کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ ہر کوئی اپنے کو تلاش کر رہا تھا ، رو رہا تھا۔ کوئی کسی کو دلاسہ دینے والا نہیں تھا۔جب ہم گھر سے چلے تھے تب میرے والد کے پاس 200روپے تھے۔انھوں نے چلتے ہوئے سب بہن بھائیوں کو 20-20روپے اور اماں کو 50روپے دئے تھے کہ اگر بچھڑ جائیں تو اپنا اپنا کچھ کر سکیں۔ کیمپ میں تیسرے دن ابا کے ایک دوست اچانک مل گئے، وہ احاطہ کیدارہ میں رہتے تھے۔انھوں نے ابا سے کہا کہ ’’میں تو پاکستان جا رہا ہوں تم میرے گھر میں رہ جائو اور گھر میں جو ہے وہ سب تمہارا۔‘‘ ہم سب ان کے گھر میں آ گئے۔اماں نے پورا گھر تلاش کیا تو تھوڑی سی بڑیاں ملیں۔ ہمیں آج تک ان بڑیوں کا ذائقہ یاد ہے۔زندگی میں کبھی اتنا لذیذ کھانا کوئی نہیں لگا جیسی وہ بڑیاں لگی تھیں۔وہاں ہم 3-4دن رہے ۔ مگر جب وہاں بھی فسادیوں کا غلبہ ہوا تو ہم لال کنواں آ گئے ۔ہمارے تایا کی ٹمبر کی دکان تھی۔ جب ہم نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر آئے تو ہم نے لاتعداد لاشیں دیکھیں۔ ہماری رشتہ کی ایک بہن ملتانی ڈھانڈہ میں رہتی تھیں، ان کے گھر میں22افراد تھے جو سب کے سب مارے گئے۔ہم نے لال کنواں اپنے تایا کی دکان میں3-4راتیں گزاریں ،مگر ایک رات وہاں بھی فسادیوں نے حملہ بول دیا ۔ساری رات تابڑ توڑ گولیاں اس دکان کی چھت پر پڑتی رہیں اور ہم سب خوف سے دبکے بیٹھے رہے۔2دن تک وہاں گولیوں کی آوازیں آتی رہیں۔ دودن بعد وہاں سے بچ کر جامع مسجد اردوپارک میں آئے جسے اب مینا بازار کہتے ہیں۔ یہ بازار پہلے ہرے بھرے صاحب سے مولانا آزاد کے مزار تک اردو پارک کہلاتا تھا۔ بیچ میں سے ایک گیٹ نکلتا تھا۔ لال قلعہ کا جو لاہوری گیٹ تک راستہ تھا اس روڈ کو خاص روڈ کہتے تھے۔ اردو پارک تک ہم سب چچا، تایا، پھوپھیاں ، ان کے بچے ساتھ تھے۔ جامع مسجد اردو پارک میں ہمارے والد کے ایک واقف گل محمد جو ہمارے بڑے تایا کے سمدھی بھی تھے مل گئے اور بولے کہ ’’ میں پاکستان جا رہا ہوں تم سب میرے گھر آ جائو، اسی دوران ہاپوڑ سے ہمارے 2ماموں بھی پاکستان جانے کے لئے دلی آ گئے اور ہم سب لوگ مل کر جامع مسجد میں گلی مدرسے والی میں گل محمد صاحب کے مکان میں آ گئے۔ اس وقت پورا محلہ، پوری گلی ، پورا علاقہ خالی پڑا ہوا تھا۔ اب یہ وہ وقت آ گیا تھا کہ ایک ایک کر کے سب بچھڑنا شروع ہوئے۔ نظام الدین سے خاص ٹرینیں پاکستان جانے کے لئے چل رہی تھیں۔سب سے پہلے ہمارے چھوٹے تایا اور پھر بڑے تایا نے آنکھوں میں آنسو لئے پاکستان کے لئے رخت سفر باندھا اور پھر ہمارے پھوپھا ، پھوپھی اور ان کے بچے بھی پاکستان چلے گئے۔پتہ نہیں کتنے پاکستان پہنچے، کتنے نہیں کیونکہ اس وقت جتنی بھی ٹرینیں جا رہی تھیں کسی کا نہیں پتا تھا کہ کتنی کٹ گئیں کتنی بچ پائیں۔میرے والد سے سب نے ضد کی کہ پاکستان چلو مگر وہ سب کو یہ کہہ کر ٹالتے رہے کہ تم چلو میں پیچھے آتا ہوں، مگر میرے والد مرتے مر گئے کبھی انھوں نے پاکستان جانے کا نام نہیں لیا۔ میرے والد کے پاس اس وقت 100روپے باقی تھے۔ٹرینوں کا یہ حال تھا کہ پیر بدلنے کی جگہ نہیں تھی جو جہاں کھڑا تھا ویسا ہی کھڑا ہوکر گیا۔ ہریانہ، انبالہ، پانی پت کے بعد امر تسر تک کئی جگہ ٹرینیں لٹ گئیں۔ ایک قیامت صغرا کا منظر تھا۔ میرے والد کو روز ہی کوئی نہ کوئی بری خبر ملتی رہتی تھی اور وہ کلیجہ تھام کر بیٹھ جاتے تھے۔
سوال : آپ کے والد پاکستان نہیں گئے پر پھر آپ سب کی گزر بسر کیسے ہوئی؟
جواب: بس سارا محلہ خالی تھا ہمارے والد نے سب کو پناہ دینی شروع کی تاکہ ایک دوسرے کا سہارا ہو جائے۔ ہماری بلڈنگ میں اتنے لوگوں نے پناہ لی کہ اس کا نام ہی پناہ ’’گاہ‘‘ پڑ گیا۔ ہمارے والد کے پاس 1947میں تقریباً300رکشے تھے اور پوری دہلی میں ہمارے ہی رکشے چلتے تھے۔ پھر میرے والد نے تھوڑے حالات بہتر ہونے پر اپنے رکشے پکڑنے شروع کیے۔ 1948تک یہ کارروائی چلتی رہی ہم سڑک پر سے اپنے رکشے پکڑتے۔ اس طرح ہمارے پاس دس بارہ رکشے ہو گئے اور میرے والد بشیر رکشہ والوں کے نام سے مشہور ہو گئے ۔ یہی ہماری گزر بسر کا ذریعہ تھا۔ جب تھوڑے حالات بہتر ہوئے تو ہمارے والد نے قرول باغ والی جائیداد کی واپسی کی کوشش شروع کی۔واضح ہو کہ ہماری یہ جائیداد کسٹوڈین نے یہ سمجھ کر ہتھیا لی تھی کہ سبھی لوگ یا تو مارے گئے ہیںیا پاکستان چلے گئے ہیں۔ ہمارے والد نے کسٹوڈین سے کیس لڑ کراپنی جائیداد واپس لی۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ اس کیس میں میرے داخلہ کی رسیدیں کام آئیں۔ ان رسیدوں سے ہی یہ ثابت ہو سکا کہ ہم لوگ پاکستان نہیں گئے ہیں اور اس طرح1952تک ہماری جائیدادیں بحال ہوئیں۔
سوال: آپ آج کے حالات اور اس وقت کے حالات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: آج بھی حالات بہت بہتر نہیں ہیں۔ بے شک وہ مارا ماری نہیں ہے، مگر جس آزادی کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے آبائو اجداد نے اپنی جانیں گنوا دیں اور بے شمار لوگوں نے یہیں مرنا کٹنا منظور کیا، لیکن پاکستان جانا منظور نہیں کیا۔ آج کے حالات کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے، کیونکہ آزاد ہندوستان کا جو تصور ہمارے ذہن میں تھا آج ہندوستان بالکل بھی ویسا نہیں ہے۔آج بھی فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں ۔ آج بھی عوام مہنگائی سے بے حال ہیں، آج بھی مسلمانوں کے ساتھ دوئم درجہ کے شہریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے، آج بھی مسلمانوں کو یہ باربار ثابت کرنا پڑتا ہے کہ ہم ملک کے وفادار ہیں۔ سکون تو آج بھی نہیں ہے، مگر ایک سکون ہے کہ ہم کسی کے غلام نہیں ہیں۔
سوال: آپ نے کبھی اپنے پرانے گھر واپس جا کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی؟
جواب: نہیں !جب والد صاحب نے کسٹوڈین سے مقدمہ جیت لیا تو انھوں نے وہ جائیداد فروخت کر دی پھر کبھی دوبارہ اپنا گھر دیکھنا نصیب ہی نہیں ہوا۔ اور اب تو سب کچھ بدل گیا ہے۔ علاقے بدل گئے۔ محلے بدل گئے۔پرانے لوگ سب مر کھپ گئے ۔ یہ آزادی کیسے ملی؟ کس نے کیا جھیلا یہ بتانے والے بھی اب کہاں رہ گئے ہیں۔ بس اب تو یہ بات بات ہی رہ گئی کہ پدرم سلطان بود۔ ہاں بس اتنا ضرور ہے کہ آج جب اپنے بچوں کو اس زمانے کے حالات سناتا ہوں اور وہ وقت یاد کرتا ہوں تو بے اختیار رو پڑتا ہوںجو رشتے دار پاکستان جا کر بس گئے تھے ان میں سے کچھ سے بات چیت ہوتی ہے۔ وہ آج بھی ہندوستان کے گلی کوچوں اور چپیّ چپیّ کو یاد کرتے ہیںاور بے اختیار ہو کر رو دیتے ہیں۔اس تقسیم کے سانحہ نے سرحدوں کو ہی تقسیم نہیں کیا رشتے ناطوں، اپنے پرایوں سبھی کو بانٹ دیا۔جب بھی یوم آزادی کا دن آتا ہے بے اختیار سب کچھ یاد آ جاتا ہے اور ایک فلم کا سا منظر آنکھوں کے سامنے پھر جاتاہے اور خدا سے یہی دعا کرتا ہوں کہ بٹوارے کا جو عذاب ہم نے جھیلا ہے وہ آنے والی نسلوں کو نہ جھیلنا پڑے ۔ جو دکھ اپنوں سے بچھڑنے کا ہم نے سہا ہے وہ کبھی ہمارے بچوں کو نہ سہنا پڑے۔ اور خدا سے یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ آنے والی نسلوں کو کبھی ایسا دردناک وقت بھی نہ جھیلنا پڑے، جیسا کہ آزادی کی لڑائی میں ہم نے جھیلا ہے۔ آمین۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *