قومی سیاست کی نئی راہ نکلنے کی امید

Share Article

سنتوش بھارتیہ
اتر پردیش کے انتخاب مستقبل کا کیا اشارہ دیں گے، یہ پتہ نہیں۔ لیکن اتر پردیش کے انتخاب ایک اشارہ تو دے رہے ہیں، اور یہ اشارہ ہے کہ یو پی اے اور این ڈی اے میں نہ بھرنے والی دراڑ پڑ چکی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس طرح آخری وقت تک شرد یادو اور نتیش کمار کو اندھیرے میں رکھا اور انہیں یہ کہتے رہے کہ سمجھوتہ کریں گے، اور آخر میں یہ کہہ دیا کہ اب سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس سے نتیش کمار اور شرد یادو کو دھکہ لگنا فطری ہے اور ان کا غم زدہ ہونا بھی فطری ہے۔ آخری وقت میں انہوں نے اتر پردیش میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اور ظاہر ہے، انہیں اچھے امیدوار نہیں ملے۔ اس کے باوجود نتیش کمار اتر پردیش میں اپنے امیدواروں کے چناؤ پرچار کے لیے آئے۔ جے ڈی یو میں آج کی تاریخ میں نتیش کمار اور شرد یادو، دو اسٹار کیمپینر ہیں۔ انہوں نے اپنے امیدواروں کے حق میں اصولی باتیں کہنی شروع کی ہیں، پر یہ اصولی باتیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی سُر کے ساتھ نہیں ملتیں۔
اسی طرح، ممتا بنرجی بنگال کی وزیر اعلیٰ ہیں اور انہوں نے اتر پردیش میں الگ بگل بجایا ہے۔ اکیلے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ اتر پردیش میں ممتا بنرجی کی پارٹی کی کوئی تنظیم ہی نہیں ہے، لیکن اہمیت کی حامل تنظیم نہیں، اہم بات یہ ہے کہ آخر ممتا بنرجی نے یہ فیصلہ کیوں لیا؟ ممتا بنرجی نے یہ فیصلہ شاید اس لیے لیا، کیوں کہ وہ کانگریس کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ کانگریس کسی بھی وقت انہیں ٹیکن فار گرانٹیڈ کے طور پر نہ لے، جیسا کہ کانگریس اب تک کرتی آئی ہے۔ کانگریس یا کانگریس کی سرکار، جس کے مکھیا منموہن سنگھ ہیں، انہوں نے ہمیشہ پہلے فیصلہ کیا اور اس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کی جانکاری ممتا بنرجی کو دے دی۔ اور یہی ممتا بنرجی کی ناراضگی کی وجہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر آپ اتحاد میں ہیں، تو آپ کو اُن تمام ساتھیوں سے بات کرنی چاہیے جو آپ کی سرکار چلا رہے ہیں، جو اتحاد کی وجہ سے یو پی اے کا نام روشن کیے ہوئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پورے ملک میں اس یو پی اے یا اس کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس، جہاں بھی انتخاب لڑتی، اپنے ساتھ اپنی معاون پارٹیوں کو بھی کچھ سیٹیں دیتی۔ لیکن اس نے سیٹیں نہیں دیں۔ اور شاید سیٹیں اس لیے نہیں دیں، کیوں کہ اسے بھی ویسا ہی گمان ہے، جیسا بھارتیہ جنتا پارٹی کو گمان ہے کہ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں صوبہ میں کہیں جیتیں گی نہیں، اور جیتیں گی نہیں تو ہم کیوں اپنی سیٹیں برباد کریں۔
لیکن اتر پردیش میں اگر کانگریس یہ سوچ رہی ہے کہ وہ 200 سے زیادہ سیٹیں جیتے گی، تو اسے دن کا خواب بھی نہیں کہہ سکتے۔ کانگریس کے بہت سارے لوگ، یا کانگریس کے وہ لیڈر جو چناؤ پرچار کی بات اور چناؤ پرچار کا فیڈ بیک راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہم 100 سیٹیں ضرور جیتیں گے۔ ہر ایک کو اچھے خواب دیکھنے کا حق ہے، اور کانگریس کو تو بہت زیادہ حق ہے، کیو ںکہ کانگریس شمالی ہندوستان میں کہیں پر بھی اپنا وجود بچا نہیں پائی ہے۔ اس لیے اگر وہ خواب دیکھتی ہے تو خواب دیکھنے چاہئیں۔ لیکن خواب کی وجہ سے آپ اپنے ساتھ چل رہے ساتھیوں کی بے عزتی کریں، ان سے آپ اصولی باتوں میں صلاح نہ لیں، یہ سمجھ میں نہیں آتا۔
ممتا بنرجی کی امیج ہے کہ وہ غریب، کسان، مزدور، اقلیت خاص کر مسلمان، ان سب کے لیے ان کے من میں ہمدردی کا جذبہ ہے اور وہ ان کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ بنگال میں انہوں نے سی پی ایم کے خلاف اسی کو اپنے پرچار کا اہم مدعا بنایا تھا۔ بنگال میں اسی کی وجہ سے ان کی سرکار آئی اور تقریباً 35 سالوں سے اقتدار پر قابض رہ چکی سی پی ایم اقتدار سے ہٹ گئی۔ اب ممتا بنرجی کا یہ ماننا ہے کہ اِن سوالوں کے اوپر مرکزی حکومت کو رِسپانسیو ہونا چاہیے، مرکزی حکومت رِسپانسیو نہیں ہے۔ جو اشارے مجھے مل رہے ہیں، وہ اشارے بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہوسکتا ہے کہ ممتا بنرجی اور نتیش کمار کنہیں دو سیٹوں پر ساتھ ساتھ پرچار کرکے پورے ملک کو ایک پیغام دیں۔ وہ دونوں سیٹیں بھی، میں تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ دونوں نے دو کسان لیڈروں کو الیکشن میں اتارا ہے۔ جنتا دل یونائٹیڈ نے ایک بڑے کسان لیڈر کو اتارا ہے تو ممتا بنرجی نے بھی ایک بڑے کسان لیڈر کو انتخاب میں اتارا ہے۔ شاید ان دونوں انتخابی حلقوں میں دونوں وزرائے اعلیٰ ساتھ ساتھ پرچار کریں۔ وہ منظر دیکھنے والا ہوگا کہ جب دونوں وزرائے اعلیٰ ایک ساتھ پرچار کریں گے اور عوام سے جڑے سوالوں کو اپنے اتحاد سے الگ، لوگوں کے سامنے لائیں گے۔ گزشتہ بیس سالوں میں ہندوستانی سیاست کا ایک مزیدار واقعہ رونما ہونے والا ہے اور اس واقعہ کے اوپر ہم تمام لوگو ںکی نگاہ رہے گی، کیوں کہ اس واقعہ سے یا تو کچھ نہیں نکلے گا، صرف دو وزرائے اعلیٰ کا چناؤ پرچار ہوگا یا پھر اس واقعہ سے مستقبل کی سیاست کی راہ نکلے گی۔ اگر اس واقعہ سے مستقبل کی سیاست کی راہ نکلتی ہے تو مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ نہ صرف کانگریس پارٹی بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بہت سارے ممبرانِ پارلیمنٹ اور بہت سارے کارکن اس نئی ممکنہ سیاست کے ساتھ ہوں گے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی میں اب کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے جو اس تقسیم کو روکنے میں پہل کر سکے۔ صرف اور صرف اڈوانی جی کے پاس اس بات کا تجربہ بھی ہے اور اس بات کی سمجھ بھی ہے۔ لیکن اڈوانی جی کی اب بی جے پی میں زیادہ نہیں چلتی۔ فیصلہ نتن گڈکری کو لینا ہے اور نتن گڈکری کے ساتھی انہیں یہ فیصلہ لینے دیں گے، اس بات میں شک ہے۔ اسی طرح کانگریس پارٹی میں پرنب مکھرجی کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جن کے پاس سیاسی سمجھ ہو۔ لیکن پرنب خود کے ساتھ بار بار ہونے والی بے عزتی سے غم زدہ ہیں۔ اسی لیے کانگریس میں بھی یہ نہیں لگتا کہ کوئی ممتا بنرجی کو منانے کی کوشش کرے گا۔ لہٰذا، امکان اس بات کا ہے کہ آنے والے بجٹ اجلاس کے بعد قومی سیاست کا کوئی نیا راستہ نکلے، جس کی تمہید کچھ لوگ ابھی لکھ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں، اتر پردیش انتخاب کے بعد ملک کی کوئی سیاسی سمت طے ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *