قوم کی آنکھوں پر جہالت کی پٹیاں بندھیں ہیں

Share Article

عفاف اطہر، کناڈا
گزشتہ برسوں سے وطن عزیز کی ہر پل بگڑتی حالت زار اور ایک تواتر سے مسا جد و مزاروں پر ہونے والے خود کش دھماکوں نے ہر ذی شعور انسان کو جھنجوڑ کر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی حاصل کرتے ہوئے دیکھا تھا ؟ کہاں وہ پاکستان جو علم و ہنر کی دولت سے مالامال ہو کر ایک جدید اور ترقی پذیر ریاست بنی تھی اور کہاں یہ پاکستان جو اپنی جہالتوں کی وجہ سے آج زمانہ قدیم کی بھول بھلیوں میں کھوتا چلا جا رہا ہے ۔ کہاں وہ پاکستان جس نے اپنے تمام شہریوں کے حقوق کا ضامن بن کر دنیا بھر کے لئے ایمان واتحاد اور تنظیم کا جیتا جاگتا نمونہ بنایا تھا اور کہاں یہ پاکستان جہاں آج اکیسویں صدی میں بھی مذہبی رواداری کا شدید فقدان ہے کہ شیعہ سنی کا اور سنی شیعہ کا گلا کاٹنے کو ہر پل تیاراور اقلیتوں کے بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام  آج اس مملکت خدا داد میں اسلام کا پہلا جز قرار دیا جا رہا ہے ۔ پاکستانی وہ تمام اقلیتیں جنہیں بانیٔ پاکستان نے برابری کے تمام حقوق دینے کا وعدہ کیا تھا ان کا آج یہ عالم ہے کہ ان کے ہاتھ پاؤں ظالمانہ اسلامی قوانین کی بیڑیوں کے شکنجوں میں ہیں اور زبانوں پر خوف کے قفل۔ بانیٔ پاکستان نے گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں کہا تھا کہ ’’ حکومت پاکستان کی سب سے بڑی اور اولین ذمہ داری ملک میں امن و امان کے ساتھ قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہو گی تاکہ اس ملک کے تمام شہریوں کی جان و مال عزت و آبرو اور مذہبی عقائد کو ریاست کی جانب سے قانون کی پناہ میں مکمل تحفظ حاصل ہو‘‘ اس احسان فراموش قوم نے بانی قائد کے ساتھ ساتھ ان کے تمام فرمودات کو بھی دفنا کر آنکھوں پر بے حسی کی عینکیں چڑھا لیں ۔ عوام و حکمرانوں کی ملی بھگت نے ملک کے امن و امان کے ساتھ ساتھ شدت پسند مذہبی عناصر نے مذہب کو یرغمال بنا کر ملکی قوانین تک سے کھلواڑ کیا اور نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے   کہ مسجدوں میں بم دھماکے مزاروں پر خود کش حملے ،سڑکوں بازاروں، ہسپتالوں حتیٰ کہ اس ملک کے شہریوں کی جان و مال عزت و آبرو آج ان کے اپنے ہی گھروں کی چار دیواری کے اندر بھی محفوظ نہیں رہی ۔
آج بحیثیت ہر پاکستانی شہری ایک طرف مہنگائی و غربت کے طوفانوں سے نبرد آزما ہے تو دوسری طرف بجلی پانی، خوراک کے ساتھ ساتھ صاف پانی کی قلت کے شدید بحرانات کی زد میں ہے ۔ ایک طرف کراچی سے لے کر پشاور تک ملک بھر کی سڑکیں انسانی خون کی ارزانی پر ماتم زدہ دکھائی دیتی ہیں تو دوسری طرف قدرتی آفات کے پے در پے تھپیڑوں نے بوکھلا رکھا ہے۔
کراچی کی لہو رنگ سڑکیں ہوں یا پھر لاہور کے خون آلود بازار… ، بم دھماکے مساجد میں ہوں یا پھر خود کش حملے مزاروں پر، سیلاب سے تباہ کاریاں ہوں یا پھر سیاستدانوں کی عیاریاں .. … بھوک اور ظلم کے طوفان ہوں یا پھر بحرانات کی آندھیاں ہم ان بیڑیوں میں تب تک جکڑے رہیں گے جب تک ان کو توڑ دینے کی ہمت نہیں رکھتے ۔کیوں کہ ظلم تب تک ظلم ہی رہتا ہے جب تک ہم اس کو سہنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ظالم تب تک ظالم رہتا ہے جب تک ہم اس کوخود پر ظلم کرنے دیتے ہیں . …اگر آج پاکستان کی عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے تو ان حقوق کی بحالی کے لئے عوام نے کون سی جدوجہد کی ؟ اگر آج حکمران ظالم ہیں تو ان حکمرانوں سے چھٹکارا پانے کے لئے ہم نے کیا کیا ؟ اگر آج ملک بھر میں چوہدری وڈیروں، جاگیرداروں کا راج ہے اور یہی بیس فیصد طبقہ ملک کے تمام تر وسائل پر قابض ہے تو ہم نے اس جاگیردرانہ نظام کے خاتمے کے لئے کون سے اقدامات اختیار کئے ؟ اپنی غربت سے لڑنے اور بیروزگاری سے بچنے کے لئے ہم نے آج تک کیا کردار ادا کیا ہے ؟ اپنے اخلاقی و معاشرتی بحرانات سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہم نے خود کو کتنا تیار کیا ہے ؟ اور تو اور ملک بھر میں ہوتی ان  دہشت گردانہ کارروائیوں ،بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی روک تھام کے لئے ہم نے کون سا فرض نبھایا ہے ؟
ان تمام سوالوں کے جواب تو ہم سب ہی بخوبی جانتے ہیں یہی نہ کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہو یا پھر لاہور میں قتل عام خبر کچھ دن میڈیا میں گرم رہتی ہے پھراگلے سانحے تک ہم بھی بھول جاتے ہیں اور میڈیا بھی …مزار اڑیں یا پھر مساجد پھٹیں جب تک ہمارے عزیز محفوظ ہیں ہمیں فکر بھی کیوں ہو، صرف اتنا ہی نہیں مدرسوں سے آج دہشت اور جہالت پھوٹ رہی ہے یہ ہم سب جانتے ہیں مگر اپنے نونہال جگر گوشوں کی جانیں تک اسلام کے فقط نام ہی پر بنا سوچے سمجھے ان غیر انسانی و حیوانی خدمات کے لئے قربان کر کے ان مذہبی انتہا پسندوں کو طاقتور بنا کر دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں ۔احمدیوں کی جانوں پر حملے ،مساجد پر دھماکے ہوں قانون کی آڑ میں املاک لوٹی جائیں، مسیحیوں کی بستیاں جلیں ، یا پھر ہندوؤں اور سکھوں پر ظلم …ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی کیوں کہ انسانی خون کی  قدرو قیمت ہمارے معاشرے میں عقائد کے پلڑوں میں تولی جاتی ہے اور  عزت و آبرو کی حفاظت مال و زر کی جھنکار پر ہوتی ہے …اور پھر اقلیتیں وہ جو  ہماری نظر میں انسان ہی نہیں تو پھرانکے انسانی حقوق کی حفاظت کی ضمانت بھی کیوں کر ہو ؟ …حکمران ظالم ہیں سیاستدان نا اہل ہیں تو ان کو اقتدار کی دولت بخشنے والے ملک و قوم کے خزانوں کی چابیاں تھمانے والے بھی تو ہم خود ہی ہیں ؟ یہ جاگیردارانہ نظام قائم ودائم رکھنے والے بھی ہم ہی ہیں اور ان وڈیروں کی طاقت کا کل دارو مدار بھی ہم ہی …اور تو اور غربت و بے روزگاری کی چکی میں پسنے والے بھی ہم ہی ہیں لیکن پھر بھی آبادی کے خوفناک حد تک ہر پل بڑھتے ایٹم بم کو تقویت بخش کر ملک و قوم کے وسائل پر مزید بوجھ ڈالنے کے لئے سر گرم عمل بھی ہم ہی … جب ہم خود اپنے ہی قومی و اخلاقی فرائض سے کلی طور پر غافل ہیں تو پھرہمیں اپنے حقوق کی ادائیگی کے لئے امیدیں وابستہ کرنے کا بھی کوئی حق حاصل نہیں کیوں کہ حقوق و فرائض دونوں ہمیشہ کی طرح یہاں بھی تو لازم و ملزوم ہیں۔ حقوق و فرائض کی اسی جنگ پر ہمیشہ سے قوموں کی زندگیاں اور انکی حقیقی پہچان منحصر رہی ہے ۔
آج ان مسائل و بحرانات کے بھیانک سیلابی تھپیڑوں میں ہم ڈوبتے ہوؤں کو  تنکوں کے سہارے تک مہیا نہیں ۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی ہر قوم پر عروج و زوال آیا مگرہمیشہ وہی قوم اپنے زوال کے بعد پھر سے دنیا کے نقشے پر ابھرتی دکھائی دی جس نے اپنے دور زوال کو بھی علم و شعور کے زیور سے آراستہ رکھا اور یہی زوال سے عروج تک کا واحد زینہ ہے ۔ جس جس قوم نے اس زینہ کو پہچان لیا تو اس زینہ نے اس قوم کو رہتی دنیا سے منوا لیا اور جو قوم اس کی اہمیت کو نہ پہچان سکی اس نے اپنی بھی پہچان کھو دی ۔ آج دور زوال ہم پر بھی ہے مگر یہ ہمارے اپنے اختیار میں ہے کہ جدید علم و ٹیکنالوجی کے زینوں کو طے کر کے بحیثیت قوم خود کو ایک بار پھر سے منوا لیں یا پھر جہالت کی اسی روش کو اپناتے ہوئے اپنی رہی سہی پہچان بھی اپنے انہی ہاتھوں مٹا ڈالیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *