book-releasing
دارالعلوم دیوبند کے سابق صدر القراء اور رکن عالمی اسلامی قاری ابوالحسن اعظمی کی کتاب ’’میرا شعری انتخاب‘‘ کتاب کا رسم اجراء علماء کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔ اس موقع پر دارالعلوم وقف کے استاد اور معروف ادیب مولانانسیم اختر شاہ قیصر نے کہاکہ قاری ابوالحسن اعظمی ایک ایسا نام ہے جو پورے صغیر میں تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ شعر فہمی کی صلاحیت ہر شخص کو نہیں ملتی یہ بھی خداداد ملکہ ہے جو سخن شناس اور شعر فہم ہیں اور جنہیں ذوق لطیف ملا ہے انہیں ہی خوبصورت انتخاب کا حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قاری ابوالحسن جن کی تصنیفی اور تالیفی زندگی رشک کی منزلوں سے گزرچکی ہے اور 121کتابیں ان کے زور قلم کا نتیجہ ہے ،اسی سخن شناس اور شعر فہم شخصیت نے یہ انتخاب ترتیب دیا ہے ، مولانا نے اس کے علاوہ تجوید و قرأت کے سلسلہ میں جو کتابیں تصنیف کی ہیں اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہے ۔ انہوں نے اس فن میں اپنے درک مہارت اور علمی رسوخ کے جو گہرے نقوش ثبت کئے ہیں وہ ان کی زندگی اور ان کی کثیر تصانیف سے عیاں اورظاہر ہیں۔
فتویٰ آن لائن سروس کے چیئرمین مولانا مفتی ارشد فاروقی نے کہا کہ قاری ابوالحسن اعظمی کے ذریعہ تصنیف کے میدان میں کی گئی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ،انہوں نے اب تک فن تجوید میں بہت کتابیں لکھیں یہ ان کے ذوق کا مجموعہ ہے جو ادبی دنیا میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جامعہ امام محمد انور شاہ کے صدرالمدرسین مولانا عبدالرشید بستوی نے کہا کہ مذکورہ کتاب کے شائع ہونے سے ادب سے تعلق رکھنے والے افراد کو فائدہ ہوگا۔ ادیب سید وجاہت شاہ نے کہا کہ قاری صاحب کی مرتب کردہ کتاب بھی اردو ادب کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی ۔ اس موقع پردارالعلوم اصغریہ کے استاد قاری راغب، عمر الٰہی، عبدالرحمن سیف، مولانا مفتی بلال احمد ، محمد داؤد، ضیاء الحسن، فیض الحسن، رضوان سلمانی، عارف عثمانی وغیرہ موجود رہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here