قائد اعظم آئو ذرا تم دیکھو اپنا پاکستان۔۔۔

Share Article

وسیم راشد
ابھی کچھ دنوں قبل ہمارے محترم وزیراعظم نے کہا تھا کہ ’’دوست بدلے جاسکتے ہیں، مگر پڑوسی نہیں۔‘‘ ظاہر ہے یہ بات انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کی تھی۔ کہنے کا مطلب کچھ بھی رہا ہو،پاکستان اس وقت ایسے دو راہے پر کھڑا ہے جب دوست، پڑوسی سبھی اس کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ پاکستان جو دنیا کا دوسرا بڑا مسلم اکثریت والا ملک ہے، اس وقت تن تنہا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہر دن نئی مصیبت، نئی پریشانی اور نئی بدنامی کی وجہ سے ایکLost State بن چکا ہے۔ حکومت کیا کر رہی ہے، کیسے چل رہی ہے، کیا بیان دینا ہے، کیا ایکشن لینا ہے، کس کو صفائی دینی ہے، کس کو بچانا ہے، کس کو مارنا ہے، کچھ نہیں پتہ۔ خفیہ ایجنسی کیا کر رہی ہے، افسران کیا کر رہے ہیں، کسی میں کوئی آپسی تال میل نہیں ہے۔ ابھی چند دنوں قبل ملا عمر کے مرنے کی خبر آئی، پھر تصدیق ہوئی کہ وہ مرا نہیں۔ ایسے میں ہمیں ایک شعر یاد آرہا ہے کہ:
کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار
کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بے شک پاکستان کا اندرونی انتشار، اسامہ کی موت، آئی ایس آئی کا کردار، پاکستان کے بحری اڈے پر دہشت گردوں کا حملہ اور 16 گھنٹے کی کارروائی کے دوران ہوئی تباہی، یہ سب وہ پے در پے حادثات ہیں، جنہوں نے پاکستان کے حکمرانوں کو یقینا دیوانہ سا بنا دیا ہے۔ یہاں ہم پاکستان سے ہمدردی نہیں جتا رہے ہیں، مگر آپ خود سوچئے کہ کسی کے گھر میں پے در پے حادثات ہوتے رہیں تو صاحب خانہ غریب دیوانہ تو ہو ہی جائے گا، وہی حال پاکستان کا ہے۔
سبھی حکمراں اپنی کرسی اور اپنی ساکھ بچانے کے لیے الٹے سیدھے بیانات دے رہے ہیں۔ گزشتہ 10 سالوں سے پاکستان ڈرون حملے کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ ملٹری کمزور، حکمراں بے بس، عوام مہنگائی سے بدحال، نوجوان مستقبل کی فکر سے بوکھلائے ہوئے، یہ ہے اس وقت کا پاکستان۔ پاکستان کی ایک بہت اچھی شاعرہ ہیں گلنار آفریں۔ انہوں نے کافی عرصے قبل ایک نظم کہی تھی۔
قائد اعظم آؤ ذراتم دیکھو اپنا پاکستان
جس کی بنیادوں کی خاطر
لاکھوں نے دی اپنی جان
جس کی خاطر کھیت جلے کھلیان جلے گھر بار لٹے
ماؤں کے کلیجے چاک ہوئے
جب کڑیل بیٹے خاک ہوئے
پھولوں کا سنگھاسن ڈول گیا
پرواز پرندے بھول گئے
احساس کے جھرنے سوکھ گئے
دریا کی روانی رک سی گئی
یوں خون کی ہولی کھیلی گئی
دشوار بہت تھی راہ طلب
ہر گام مگر ہم ساتھ رہے
ہم بن کے تمہاری شان رہے
ہاتھوں پہ لیے قرآن رہے
جو تم نے کہا وہ ہم نے کہا
لے کے رہیںگے پاکستان
بن کے رہے گا پاکستان
قائد اعظم آؤ ذرا تم دیکھو اپنا پاکستان
میرا خیال ہے، جس وقت کی یہ نظم ہے، اس وقت میں اور اب میں تو پاکستان کی صورت حال بالکل الگ ہے، اب تو پاکستان اسی خطرناک لائن پر آگیا ہے، جس سے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے نہ آگے جاسکتا ہے۔ یقینا محمد علی جنّاح نے جو خواب اسلامی مملکت کا دیکھا تھا، وہ چکناچور ہوچکا ہے۔ آج آئی ایس آئی کے کردار پر بے شمار سوالات لگائے جارہے ہیں۔ یہ بھی الزام ہے کہ اسامہ کو آئی ایس آئی نے ہی پناہ دی ہوئی تھی، اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ایبٹ آباد میں پاکستانی فوجی اکیڈمی ہے، پھر اسامہ وہاں 6 سال تک کیسے چھپ سکتا ہے؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر واقعی اسامہ ایبٹ آباد میں فوجی اکیڈمی کے پاس رہ رہا تھا تو پاکستانی ملٹری کو میڈل دینا چاہیے کہ وہ کسی طرح نہ اپنے بارڈر کی حفاظت کرسکے اور نہ ہی اتنے بڑے دہشت گرد کا پتہ لگا سکے۔ پاکستان سے شائع مختلف اخبارات پر ہماری لگاتار نظر ہے اور اب جب کہ انٹرنیٹ نے یہ سہولت ہماری میز تک پہنچا دی ہے تو ہم بھی اس کا فراخدلی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے ایک مشہور اخبار’’دی نیوز‘‘ اور ’’نوائے وقت‘‘ کے کچھ مضامین پر ہماری نظر پڑی تو ایک مشہور صحافی ایاز بابر کا ایک مضمون تھا جس میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ پاکستان ایک ناکام مملکت ہے۔ اب جب ہیڈلی کے اعترافات کے بعد 26/11 میں ممبئی حملوں میں کس طرح اس نے باقاعدہ نہ صرف لشکر طیبہ بلکہ آئی ایس آئی کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ہیڈلی نے جس میجر اقبال کو ممبئی حملے کا ماسٹر مائنڈ بتایا ہے، کہیں یہی شخص تو آئی ایس آئی کا سربراہ نہیں ہے۔ آئی ایس آئی پاکستان کی انٹر سروسس انٹیلی جنس ہے، جس کا قیام 1948 میں ہوا تھا۔ اس کی Juristiction میں صاف لکھا ہے کہ حکومت پاکستان اس کا ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں ہے۔ پاکستان کی 3 خفیہ ایجنسیاں ہیں، جن میں آئی بی یعنی انٹیلی جنس بیورو اور ایم آئی یعنی ملٹری انٹیلی جنس ہیں۔ جن میں آئی ایس آئی سب سے پہلی ایجنسی ہے۔ اس کے قیام کا مقصد یہی تھا کہ ہند-پاک 1947 کی لڑائی کے بعد پاکستان کی تینوں بحری، بری اور ہوائی افواج میں ملٹری انٹیلی جنس کو مضبوط کرنا۔ مگر آئی ایس آئی نے تو اپنے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگادیاا ور دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے والی ایجنسی بن گئی۔ یہ بھی بتایا ہے کہ میجر اقبال نے ہندوستان میں حملے کے لیے مقامات کی نشاندہی کرنے اور پوری طرح ان مقامات کی ویڈیو بنانے اور تصاویر کھینچنے کا کام اس کو سونپا تھا۔ نیشنل ڈیفنس کالج ممبئی دہلی، ممبئی ایئر پورٹ، ممبئی پولس ہیڈکوارٹر، بحری اڈہ اور یہودی کمیونٹی سینٹر سب ہیڈلی کے دہشت گردانہ حملے کی فہرست میں شامل تھے۔ ایک بات یہاں میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ سبھی مقامات بے حد سیکورٹی والے ہیں۔ دہلی کے ڈیفنس کالج میں بھی سخت ترین سیکورٹی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ کالج کی فلم بھی بنالی گئی۔ پہلی بات تو ایک غیرملکی کو وہاں داخلہ کیسے ملا ہیڈلی کی پوری شباہت اسے بیرونی ملک کا دکھاتی ہے، کیسے اس نے سبھی مقامات کو تصویروں میں قید کرلیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ممبئی حملہ کے لیے خود ہندوستان کی سیکورٹی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے، لیکن حکومت پاکستان نے کیا آئی ایس آئی کے وجود کو اسی طرح تسلیم کرلیا ہے کہ آئی ایس آئی حکومت پاکستان سے بلند ہوگئی ہے۔ اوبامہ سے ابھی ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ کیا کوئی ہائی ویلیو ٹارگیٹ پاکستان جیسا ملے گا تو آپ تب بھی اسی طرح کریںگے تو اوبامہ نے ایک دم بغیر سوچے سمجھے کہا ہاں۔ لیکن میری اپنی رائے تو امریکہ کے لیے بھی یہی ہے اور دوسرے سپرپاور کے لیے بھی کہ خود ان پر کوئی حملہ کرتا ہے تو وہ اپنی دفاع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کے علاوہ بھی جس پر چاہیں مسلط ہوجاتے ہیں۔ صدام حسین کی مثال ہمارے سامنے ہے، حسنی مبارک کا زوال بھی ہمارے سامنے ہے۔ جس میں براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ ضرور امریکہ شامل ہے۔ قذافی کا حال بھی ہم دیکھ رہے ہیں اور اسامہ کا حشر بھی ہم نے دیکھا ہے۔ دراصل مغربی ممالک دہشت گردی سے متعلق بھی اور ترقی پذیر ممالک سے بھی دوہرا معیار رکھتے ہیں۔ اوبامہ کی جرأت کی داد دیں کہ انہوں نے پاکستان میں گھس کر اپنے دشمن کو ختم کردیا، مگر کیا یہی پالیسی وہ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اپنائیںگے؟ اگر یہ ممالک دہشت گردی کی زد میں آتے ہیں تو کیا ممبئی حملہ کے دہشت گردوں کا بھی اوبامہ اسی طرح کسی آپریشن میں صفایا کریںگے؟
چلئے پاکستان کے مستقبل کی بات کرتے چلیں۔ پاکستان کا مستقبل تو یقینا خطرے میں ہے، مگر کیا کوئی وہاں کے غریب عوام کے بارے میں بھی سوچتا ہے؟یہ لوگ جو اچھی تعلیم، اچھی نوکریوں اور پرامن ملک کے متلاشی ہیں، کیا ہے ان نوجوانوں کا مستقبل؟ ایک اور اہم بات کسی زمانے میں پاکستان ہندوستان کا ہی ایک حصہ تھا۔ دونوں ممالک یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اب بھی لاکھوں کروڑوں خاندان ایسے ہیں، جن کے ماں باپ انڈیا میں ہیں تو دادا دادی پاکستان میں۔ چچا، تایا، خالہ، ماموں، پھوپھا، پھوپھی، بہن بھائی نہ جانے کتنے ہی رشتے ہیں، جن کی آنکھیں اپنوں کو دیکھنے کے لیے ترس رہی ہیں۔ کیا ہوگا ان کا؟ اگر دونوں ممالک کے حالات بہتر نہیں ہوئے تو ان سبھی کو جدائی کی آگ میں جھلسنا پڑے گااور اب بھی کون سے ویزا کے اصول نرم ہیں، پاکستان میں تو ابھی ہندوستانی سفارت خانہ نے ایسا فارم نکالا ہے، جس کو بھرنے میں ہی اور انڈیا سے verify ہو کر جانے میں مہینوں لگ جاتے ہیں۔ بہت مشکل ہے ویزا ملنا۔ ہندوستان میں پاکستانی ویزا فیس صرف 15 روپے ہیں، مگر دوسرے شہر سے دہلی بار بار آکر ویزا کی جد و جہد میں 15 ہزار لگ جاتے ہیں۔ ہمیں تو صرف اپنے رشتے داروں کی ڈبڈبائی آنکھیں یاد ہیں، جو رخصت ہوتے وقت ایک ہی سوال کرتی نظر آتی ہیں کہ کیا اس زندگی میں دوبارہ مل پائیںگے؟ شاید نہیں شاید ہاں، اس کا جواب نہ ہمارے پاس ہے نہ آپ کے پاس، صرف دونوں حکومتوں کے پاس ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *