پیاز بھی کھائیں اور جوتے بھی

Share Article

ہم نرمی کے ساتھ اپنی بات ایک کہاوت سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔ کہاوت ہے کہ پیاز بھی کھائی اور جوتے بھی کھائے۔آپ میں سے بہت سے لوگ اس کہاوت کے پس منظر سے واقف ہونگے، پھر بھی ہم ان کے لئے لکھ رہے ہیں، جو اس کہاوت کے بارے میں نہیں جانتے۔ کسی بڑی غلطی پر بادشاہ نے سزا سنائی کہ غلطی کرنے والا یا تو100 پیاز کھائے یا 100 جوتے ۔ غلطی کرنے والے کو ان دو متبادل میں سے ایک کے انتخاب کا موقع دیا گیا۔ خطاوار شخص نے سوچا کہ پیاز کھانا زیادہ آسان ہے، لہٰذا اس نے100 پیاز کھانے کی سزا کو ترجیح دی۔دس پیاز کھانے کے بعد اس نے کہا کہ اسے جوتے مارے جائیں۔ بروقت صحیح فیصلہ نہ کرپانے کی وجہ سے اس نے 100 پیاز بھی کھائیںاور100 جوتے بھی۔ یہیں سے اس کہاوت کا چلن شروع ہوا۔آج     بی جے پی کے لئے کہہ سکتے ہیں کہ جھارکھنڈ میں اس نے سو جوتے بھی کھائے اور سو پیاز بھی۔
یہ تماشہ لال کرشن اڈوانی کے بی جے پی لیڈر رہتے ہوئے ہوا، اگر ان سے چوک ہوگئی تو سشما سوراج اور ارون جیٹلی کیا کررہے تھے۔ راجناتھ سنگھ تو بی جے پی کے صدر رہ چکے تھے اور جھارکھنڈ کیمعاملات کے چیف تھے۔ سشما سوراج نے جگ جیون رام اور جارج فرنانڈیز کی شاگردی میں سیاست کے مبادیات سیکھے ،پھر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور بولنے کی زبردست صلاحیت کی وجہ سے آج پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی لیڈ رہیں۔ ارون جیٹلی طلبہ تحریک کے روح رواں تو تھے ہی ، ساتھ ہی سپریم کورٹ میں بڑے وکیل بھی رہ چکے ہیں،وہ اپنے منفرد انداز سے اکثر ہاری ہوئی بازی جیت لیتے ہیں ، خواہ وہ بازی غلط ہی کیوں نہ ہو۔ جب جھارکھنڈ میں فیصلہ ہو گیا کہ حمایت واپس لینا ہے تو اسے روکنے میں انہوں نے کیوں ساتھ دیا۔ راجناتھ سنگھ کے گھر، باہر،رانچی میں ہر جگہ پر بی جے پی لیڈروں نے کئی نشستیں کیں اور اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کے لئے اپنی ساری صلاحیتیں صرف کردیں۔
بی جے پی وزیر اعلیٰ کا عہدہ کیوں چاہتی تھی، اس کا جواب تلاش کرنا چاہئے۔ ارجن منڈا کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے مدھو کوڑا نے جس طرح سے جائیداد حاصل کی، وہ ہندوستان کی سیاست کی عمومی مثالوں میں سے ایک ہے۔وہ لکشمی متل کے مفادات کے تحت کام کررہے تھے اور اس کی قیمت وصول کررہے تھے۔لکشمی متل کے لوگ ہی مدھو کوڑا کو ملنے والے پیسے کو جنوبی ایشیا کے ممالک میں لگا رہے تھے۔کیا ارجن منڈا بھی اسی زمرے سے تعلق رکھتے ہیں اور متل کے مالی مفادات کی حفاظت کے لئے کسی بھی قیمت پر خود وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تھے۔؟ بی جے پی نے حکومت بنانے کے لئے پوری طاقت لگادی۔ اس کے پس پشت نہ تو بی جے پی یا سنگھ پریوار کے اصول ونظریات کارفرما تھے اور نہ ہی ہندو یا عوام کا مفاد پیش نظر تھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شیبو سورین کے اظہار افسوس کے بعد حکومت چلنے دینی چاہئے تھی، لیکن اگر انہوں نے ان کی معذرت قبول نہیں کی اور حکومت گرانے کا فیصلہ کیا تو حکومت گرادینی چاہئے تھی یا حمایت واپس لینی چاہئے تھی۔ فیصلہ لینے کے بعد فیصلہ تبدیل کرنے کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا مالی مفاد۔
یشونت سنہا اور رگھوبر داس بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار وں کی دوڑ میں شامل تھے اور جب یہ طے ہوگیا کہ ارجن منڈا بی جے پی کے امیدوار ہونگے، تبھی یہ دونوں خاموش ہوئے۔ کم از کم یشونت سنہا کو تو اپنے آپ کو اس بھونڈے ناٹک سے دور رکھنا چاہئے تھا، لیکن وزیر اعلیٰ کے عہدے کی دھندلی امید نے ان کا بھی مذاق بنا دیا۔کہاں گئے راشٹریہ سویم سیوک کے سیاسی نظریات۔ انہوں نے تو نتن گڈکری کو اس لئے صدر بنوایا تھا کہ بی جے پی کو اس چہرے کی شناخت پھرسے مل جائے گی ، جو غائب ہوگئی ہے۔سنگھ کا خیال تھاکہ اڈوانی کے وزیر اعظم بننے کی حرص نے بی جے پی کو اس کے بنیادی نظریات سے دور کردیا ہے۔ اس لئے مرلی منوہر جوشی جیسے سینئر بی جے پی لیڈر اور سنگھ کی پالیسیوں کے پیروکارکو بے رحمی سے کنار ے لگا دیا گیا۔کون سا نیا چہرہ سامنے آیا بی جے پی کا؟اس کا ایک ہی نام ہے ، جسے ’ وزیر اعلیٰ کی دھندلی کرسی کے حصول کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار چہرہ کہہ سکتے ہیں ۔ ارجن منڈا تواپنی خاطر شیبو سورین کو منانے کے لئے ان کے گھر تک گئے اور واپس آکر کہا کہ شیبو سورین صرف ان کے نام پر عہدے سے دست بردار ہوسکتے ہیں۔لندن میں بیٹھے اسٹیل کنگ کے اربوں روپے کے دباؤ اور بی جے پی کے کرسی لینے کے داؤ کو کس نے ناکام بنا دیا؟ صرف اور صرف شیبو سورین اور اور ان کے بیٹے ہیمنت سورین نے ۔ حالانکہ دونوں کو سیاسی جوڑ توڑ کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں ہے،اس کے باوجود دونوں نے جس طرح پوری بی جے پی کو بیوقوف بنایا ، وہ سمجھنے لائق ہے۔ان کے سیاسی داؤ کے سامنے اڈوانی ، سشماسوراج، ارون جیٹلی، راجناتھ سنگھ اوروینکیا نائیڈو بونے نظرآئے۔
کانگریس نے دانشمندی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس قواعد سے الگ تھلگ رکھا۔ سبودھ کانت سہائے وزیر اعلیٰ بننا چاہتے تھے ، لیکن وہ شیبو سورین کو بھی جانتے تھے۔کانگریس نے بی جے پی کو پوری طرح اپنے اصول ونظریات کوبالائے طاق رکھ کر تخت وتاج کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے کھلا میدان دینے کا فیصلہ کرلیا۔ سوال بی جے پی کے صدر نتن گڈکری کا ہے۔ ان کے عہدۂ صدرات پر فائز ہونے کے بعد پہلا بحران بی جے پی کے سامنے آیا اور اسی میں وہ ناکام ہوگئے۔جس پارٹی کا سب سے بڑا رہنما بحران کے وقت میدان عمل میں قیادت کے لئے کھڑانہ ہو ، اس پارٹی کوایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسے گڈکری نہیں سمجھتے ، بلکہ ان کی پارٹی کے چند لیڈران ضرور سمجھتے ہونگے۔ سارے بحران میں اڈوانی کی خاموشی اور کوئی دخل اندازی نہ کرنا بھی حیرت انگیز ہے۔ لیکن اس ساری جنگ میں جھارکھنڈ کہاں ہے۔ایک ایسا صوبہ جس میں معدنی اشیاء کا خزانہ موجود ہے ، جسے فروخت کرکے ملکی اور غیرملکی ارب پتی ہورہے ہیں، وہاں لوگوں کی بڑی آبادی کے پاس نہ کام ہے اورنہ دو وقت کی روٹی۔ بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان ہے۔ ترقی کے نام پر روز بروز پسماندگی میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔ سڑک، اسپتال، اسکول کی تلاش کا کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ ان کے لئے کوئی فکر مند ہی نہیں ہے۔ قبائلیوںکی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔
جھارکھنڈ کے باشندوں کے غریب طبقے نکسلیوں کی حمایت کرنے لگے ہیں۔ ایک طرف اڑیسہ، دوسری طرف چھتیس گڑھ اور تیسری طرف بہار، بنگال۔ جھارکھنڈ کی یہ پٹی محفوظ اور آزاد علاقے میں تبدیل ہوگئی ہے۔اب نکسلیوں کا حملہ بڑے زمینداروں پر نہیں ،بلکہ سرکاری جائیداد پر ہورہا ہے۔نکسلیوں کے لئے سرکاری اثاثہ میں سب سے زیادہ آسان ہدف ریلوے لائن ہے ۔ لاکھوں کلو میٹر میں پھیلی ریلوے لائن کی حفاظت کے لئے ہر قدم پر حفاظتی عملے تعینات نہیں کئے جاسکتے ، کیونکہ وہ دستیاب ہی نہیں ہیں۔ اس کا نشانہ معصو م مسافر بنتے ہیں،لیکن ان کی حفاظت غریبوں کو اپنا دشمن سمجھ کر نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مسائل اور مطالبات کو سمجھنا ہوگا۔ مغربی مدنا پور میں ہوڑہ سے ممبئی جارہی ٹرین کی مال گاڑی سے ٹکر ہوئی۔وزارت داخلہ نے کہا کہ فش پلیٹ اکھاڑنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا،وہیں وزارت ریلوے نے کہا کہ بم کا دھماکہ ہوا، جس سے حادثہ ہوا۔دونوں وزارت ہی ایک نہیں ہیں۔ وہیں ٹیلی ویژن چینلوں نے شورمچانا شروع کردیا کہ یہ نکسل ازم نہیں ٹیررازم ہے۔مارو، نکسلیوں کو مارو۔غیر ذمہ دار ٹیلی ویژن چینلوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ اپنے لوگوں کو دشمن سمجھ کر کسی بھی چیز کی حفاظت نہیں ہوسکتی ۔
چدمبرم کے لئے قانون اور انتظام وانصرام کا مسئلہ ہے اور وہ توپ اور تلوار لئے کھڑے ہیں۔ لیکن جس ریاستی حکومت کو لڑنا ہے ، وہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی۔ اس کی حفاظت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کو زنگ لگ چکاہے اور ترقی کا کام کرنے والا محکمہ دم توڑ رہا ہے۔ اس ریاست میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لئے سیاسی جماعتیں آپس میں لڑ رہی ہیں، تاکہ لندن میں بیٹھے کھرب پتی  اسٹیل کنگ کی دلالی کرکے اپنے لئے غیر ملکی بینکوں میں کروڑوں روپے جمع کرسکیں۔ جھارکھنڈ ایک ایسا آئینہ ہے، جس میں سب کا چہرہ جیسا ہے ویساہی دکھائی دے رہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *