پینتیس ہزار کروڑ میں خریدی گئی بدنامی

Share Article

وسیم راشد
ایک  اردو اخبار کا اداریہ پڑھ رہی تھی، جس میں دولت مشترکہ کھیلوں کے تعلق سے محترمہ شیلا دیکشت کی بے تحاشہ تعریف کی گئی تھی اور ان کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے یہاں تک کہا گیا کہ شیلا کا نا م تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے خون پسینہ ایک کر دیاہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے تعریفی کلمات تھے، پڑھ کر ہنسی بھی آئی اور دکھ بھی ہوا۔ ہنسی اس لیے آئی کہ دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا جب ان کھیلوں کی تیاری شروع ہوئی تھی، لیکن نہ تو اسٹیڈیم صحیح طرح بن پائے، نہ ہی اوور برج مکمل ہوپائے اور نہ ہی کھلاڑیوں کی تربیت ہوپائی ۔ ہاں! دہلی کو خوبصورت بنانے اور سجانے کے نام پر 35ہزار کروڑ روپے کی بندر بانٹ ضرور ہوگئی اور دکھ اس بات کا ہوا کہ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ایک ماں اپنے 6بچوں کے ساتھ غربت و افلاس کی وجہ سے خود کشی کرلیتی ہے، وہاں ان کھیلوں کے انعقاد سے آخر کیا فائدہ ہے۔ دنیا میں اپنا نام اونچا کرنے کے لیے، نام و نمود کے لیے اگر دولت مشترکہ کھیلوں کا انعقاد ہندوستان میں کرنے کی اجازت مل بھی گئی تھی تو پہلے کم سے کم اپنی چادر تو دیکھی ہوتی۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ سر ڈھکتے ہیں تو پیر کھلتے ہیں اور پیر ڈھکتے ہیں تو سر ننگا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں پہلے اپنے ملک کی غربت کا اندازہ لگانا چاہیے تھا۔ اتنے پیسے میں نہ جانے کتنے اسپتال بن جاتے اور کتنے اسکول قائم ہو جاتے ۔بہر حال جب میزبانی مل ہی گئی تو اس میزبانی کا حق ادا کرنے اور کھیلوں کو کامیاب بنانے کے لیے ایماندارانہ کوشش کرنی چاہئے تھی۔ اس وقت یہ حال ہے کہ کناڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ وغیرہ جیسے ممالک کی  ٹیموں نے ہندوستان آنے سے انکار کر دیا ہے، البتہ نیو زی لینڈ نے بعد میں کھلوں میں شرکت کی رضامندی دے دی۔ یہی نہیں دولت مشترکہ کھیلوںمیں جتنے بھی ممالک حصہ لے رہے ہیں وہ سب ہندوستان کی ناقص تیاری اور صحت و تندرستی کی جانب سے فکر مند ہیں۔ رہی سہی کسر بی بی سی نے کامن ویلتھ ولیج کے کمروں، باتھ روم اور در و دیوار کی تصویریں شائع کر کے کردی ہے۔ تصویروں میں دکھایا گیا ہے کہ کھیل گائوں میںجا بجا گندگی کا انبار لگا ہوا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان یہ دونوں ہی ملک ایسے ہیں ، جن کی شبیہ پوری دنیا میں بہت اچھی نہیں ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ انگلینڈ، امریکہ، آسٹریلیا، کناڈا وغیرہ سے جب ہمارے اپنے رشتے دار جو ہندوستان سے جا کر بس گئے ہیں، وہ جب ہندوستان آتے ہیں تو پانی کے بڑے بڑے کین لے کر آتے ہیں، وہ یہاں کے آر او سسٹم اور یہاں کی سیل بند بسلیری وغیرہ پر بھی بھروسہ نہیں کرتے۔ ابھی کچھ دنوں قبل ہمارے ایک دوست لندن سے آئے تو اپنے ساتھ 2بڑے بڑے ڈبے لے کر آئے، جس میں چھوٹے چھوٹے پانی کے ایک ایک لیٹر والے گلاس ساتھ تھے، اب ایسے میں جب کہ عام آدمی یہاں کے حفظان صحت کے بارے میں اتنا جانتا ہے تو پھر کسی ملک کے کھلاڑی تو اس ملک کی شان ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ممالک بھی اپنے کھلاڑیوں کی صحت کے حوالہ سے فکرمند ہوںگے ہی۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ دہلی میں پانچ ستارہ ہوٹلوں کی کمی نہیں ہے، اتنا پیسہ کھیل گائوں پر لگانے کی بجائے سبھی کھلاڑیوں کو الگ الگ پانچ ستارہ ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا۔ اس طرح وہ شرمناک پہلو سامنے نہیں آتا جو اب آرہا ہے۔ پانچ ستارہ ہوٹلوں میں ان کھلاڑیوں کو آرام بھی ملتا، کھانے پینے کی بھی کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ 24گھنٹے کھلاڑیوں کی ضروریات کا تمام سامان ان کو وہاں مل جاتا۔ مگر اب جبکہ یہ کھلاڑی کھیل گائوں میں ٹھہر گئے ہیں توان کو ہر طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آسٹریلیا کے اولمپک چیف جان کوٹس کے اس بیان نے بھی ہندوستانیوں کو بے حد شرم کا احساس کرایا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ دولت مشترکہ کھیلوں کی میزبانی کے لیے ہندوستان کا انتخاب انتہائی غلط فیصلہ تھا۔
دہلی کی خستہ حال سڑکیں، پانی کی نکاسی کا ناقص نظام اورکمزور فٹ اوور برج شیلا کی ناکامی کو عیاں کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود شیلا ’آل از ویل ‘کہتی ہیں۔ یہ نہایت ہی افسوس کی بات ہے۔ اس وقت بھی ہم نے پوری دہلی کا جائزہ لیا تو کوئی سڑک، کوئی لین، کوئی علاقہ ہمیں صاف ستھرا نظر نہیں آیا۔ خود کھیل گاؤں کے پاس فلائی اوور کے نیچے ملبے کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ اندرا گاندھی اسٹیڈیم کے دونوں طرف آج جب کہ دو دن باقی ہیں پورے ملبے کا انبار نظر آرہا ہے۔ کناٹ پلیس جب ہم دیکھنے گئے تو بے ساختہ ہنسی آگئی۔ ساری دیواروں اور کھمبوں پر اس طرح سفید چونا پھیرا گیا تھا کہ شیشے تک سفید ہوگئے ، اب ان تمام شیشوں کو صاف کرنے کے لیے نہ جانے کتنے مزدور لگائے جائیںگے۔ لودھی روڈ پر ملبے کا انبار ہے۔ دیواریں پان کی پیکوں سے لال ہوئی پڑی ہیں۔دوسری جانب دہلی قدرتی آفات سے بھی نبرد آزما ہے۔ دہلی کے نشیبی علاقے سیلاب کی زد میں ہیں، وہ جھگیاں جن کو دولت مشترکہ کھیلوں کی وجہ سے ہٹادیا گیا تھا، وہ اب جگہ جگہ کیمپوںکی شکل میں لگا کروہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کو پناہ دی گئی ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس بار قدرت نے بھی ارادہ کرلیا ہے کہ ہندوستان کے بد عنوان نظام کو پوری دنیا کے سامنے لا کر رہے گی، تبھی تو دہلی چاروں طرف سے گھر گئی ہے۔ خود شیلا جی کو بھی اب دن میں تارے نظر آنے لگے ہیں۔ کئی چیزیں ایک ساتھ دہلی والوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ڈینگو، وائرل، سوائن فلو جیسے بخار سے لگاتار اموات ہو رہی ہیں۔ سیلاب سے دہلی چاروں طرف سے گھر گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پل اور سڑکوں کی جو مرمت کی گئی تھی وہی سڑکیں پھر سے ٹوٹی پھوٹی نظر آنے لگی ہیں۔کلماڈی کو ہٹانے کا فیصلہ اتنا بعد میں لیا گیا ہے کہ اگر یہی فیصلہ پہلے لے لیا جاتا تو کافی حد تک کام بہتر ہو سکتا تھا۔ سریش کلماڈی اینڈ کمپنی نے خوب خوب پیسہ کمایا، خوب لوٹا، شیلاجی اور برخوردار نے بھی، خوب پیسہ لگایا بھی لٹایا بھی اور کمایا بھی۔ مگر افسوس اس وقت ہوا جب شیلانے کھیل گائوں کا جائزہ تک نہیں لیا۔ جہاں بیڈ پر جانوروں کے پیروں کے نشانات، ٹوٹی پھوٹی وائرنگ اور بلڈنگ کے باہر کائی کے ساتھ پانی جمع ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ سریش کلماڈی کو تو بہت پہلے ہی ہٹا دینا چاہیے تھا۔ ہمارے وزیراعظم بیدار تو ہوئے لیکن بہت دیر سے ، ان کو پوری دہلی کو حصوں میں بانٹ کر ہر علاقے کی تزئین کاری اور سڑکوں کا کام بانٹنا چاہیے تھا تو پورا شہر جگمگا اٹھتا، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ  دولت مشترکہ کھیلوں کی وجہ سے دہلی سنور گئی ہے، ان کو یہ اندازہ نہیں کہ جتنا پیسہ کھا لیا گیا ہے، اتنے پیسے میں تو دہلی واقعی پیرس بن جاتی، مگر شیلادیکشت کا یہ خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ خدا جانے شیلا کے جذبے میں کتنی سچائی ہے، لیکن ابھی تک تو کوئی جذبہ ان کا سچا نظرنہیں آیا۔
ہمارے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر کھیل ایم ایس گل اور شیلادیکشت سے ناراض اس وقت ہوئے ہیں، جب کھونے کے لیے کچھ باقی ہی نہیں بچا ہے۔ ملک کی عزت گئی، ملک کا وقار گیا۔ اپنے ملک کے کھلاڑیوں نے حصہ لینے سے انکار کردیا ۔ پوری دنیا میں کھیل گائوں کی تصویریں شائع کی گئیں اور مائک فینل جب کھیل گائوں کا معائنہ کرنے گئے تو ایک بے چینی سب پر طاری تھی کہ معلوم نہیں فینل صاحب کھیل گائوں کو دیکھ کر کیا کہیں گے، لیکن لگتا ہے کہ کافی کچھ دے دلا کر ان کا منہ بند کردیا گیا اور وہ بھی یہ کہتے نظر آنے لگے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ کام بھی تسلی بخش ہے۔ حیرت ہے کہ فینل کو سب کچھ ٹھیک کن آنکھوں سے نظر آیا؟ جب کہ ایک دن پہلے بی بی سی نے جو تصاویر دکھائی تھیں ان کو دیکھ کر تو لگتا تھا کہ ابھی کم سے کم 10دن صفائی کرائی جائے گی تب کہیں جاکرکھیل گائوں رہنے کے قابل ہوپائے گا۔ انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے بھی ہوٹل کا رخ اسی لیے کیا تھا۔ خیر یہ سب سیاسی چالیں ہیں، ہم کو ان سب سے کیا مطلب، ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اب بس یہ کھیل خوش اسلوبی سے ختم ہو جائیںاور ملک کی عزت بچ جائے ۔ ہاں اس کے بعد وزیر اعظم کو چاہیے کہ گناہگاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے جن لوگوں نے ملک کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے ان کو کسی بھی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ صرف اشتہارات دینے سے میری دلی میری شان ، میری جان نہیں ہوجاتی۔ ٹی وی پر گن گان کرنے سے میری دلی میری شان نہیں بن جاتی۔اس ملک اور دلی کے وقار کو جن لوگوں نے ٹھیس پہنچائی ہے وہ سب گناہگار ہیں، سب کو پھانسی دے دینی چاہیے۔ شاید زیادہ سخت الفاظ ہوگئے ہیں، مگر ہاں پھانسی ہی دینی چاہیے، جنہوں نے 75ہزار کروڑ میں ملک کے لیے بدنامی خریدی ہے، ان کو سر عام پھانسی پر لٹکا دینا چاہیے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *