پورا ہوا راجیہ سبھا کا سیاسی کھیل سارے خاص ہو گئے پاس

دین بندھو کبیر
p-7راجیہ سبھا کی 57سیٹوں کے لئے ہوئے انتخاب میں کم سے کم 27 فضیحتیں تو ضرور ہی در ج ہوئیں۔انتخابی سرگرمیاں 27سیٹوں پر ہی ہوئیں۔ بقیہ سیٹوں پر امیدوار بلا مقابلہ چن لئے گئے۔ کچھ سیٹوں کو لے کر خرید و فروخت کی بھی شکایتیں درج ہوئیں اور اس پر الیکشن کمیشن کو میٹنگ بھی کرنی پڑی، لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس بار 11نئے امیدوار راجیہ سبھا پہنچ رہے ہیں ۔ لیکن یہ چہرے بھی خاص ہی ہیں۔ پرانے چہرے تو خاص طور پر جانے پہچانے ہیں۔اب جس طرح کا سسٹم کام کررہا ہے، اس میں کسی عام چہرے کا راجیہ سبھا پہنچنامشکل ہے۔راجیہ سبھاانتخاب کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کا لیجسلیٹو کونسل بھی لوگوں کے دھیان میں تھا اور اسے لے کر مچے گھمسان میں پورے ملک کی سیاست میں دلچسپی پائی جارہی تھی۔کرناٹک میں ایم ایل اے کی خرید فروخت کی اسٹنگ سامنے آئی، لیکن انتخاب پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ اسی طرح ہریانہ میں ایم ایل اے کو مینج کرنے کا عجیب کھیل سامنے آیا، جس نے انتخاب پر اثر ڈالا اور انتخابی نتائج کو غیر متوقع بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس سال خالی ہوئی راجیہ سبھا کی 57سیٹوں پر انتخاب ہونا تھا۔اس میں 30امیدوار بلا مقابلہ چن لئے گئے ، جبکہ 27سیٹوں پر انتخاب ہوا۔ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو، نرملا سیتا رمن اور مختار عباس نقوی راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔ راجستھان سے راجیہ سبھا کی چار سیٹوں پر وینکیا نائیڈو کے علاوہ بی جے پی کے قومی نائب صدر اوم پرکاش ماتھر، ہرش وردھن سنگھ اور رام کمار ورما نے بھی جیت درج کی۔ راجستھان سے کانگریس پارٹی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار اور مشہور صنعتکار کمل مرارکاچند ووٹوں سے انتخاب ہار گئے۔ اترا کھنڈ سے راجیہ سبھا کی سیٹ پر کانگریس کے پردیپ ٹمٹا جیتے، بنگلور سے راجیہ سبھا کی چار سیٹوں میں سے تین کانگریس کو ملی اور بی جے پی کو ایک سیٹ ملی۔ بنگلور سے کانگریس کے آسکر فرناڈیز، جے رام رمیش اور کے سی رام مورتی راجیہ سبھا کے لئے چنے گئے۔ وہاں سے بی جے پی لیڈر نرملا سیتا رام کی جیت ہوئی۔ جنتا دل سیکولرامیدوار ہار گئے۔ جھارکھنڈ میں راجیہ سبھاکی دو سیٹوں پر انتخاب ہوا جس میں بی جے پی کے مختار عباس نقوی اور مہیش پودار جیتے۔ مدھیہ پردیش سے بی جے پی کے لیڈر ایم جے اکبر اور انیل مادھو دوے راجیہ سبھا کا انتخاب جیتے۔ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے سبھی 7 امیدوار راجیہ سبھا کا انتخاب جیت گئے۔ یو پی میں بہو جن سماج پارٹی کے دو اور بی جے پی اور کانگریس کے ایک ایک امیدوار راجیہ سبھا کا انتخاب جیتے۔کانگریس امیدوار کپل سبل کے مقابلے کھڑی ہوئی بی جے پی کی حمایت یافتہ مہاپاترا انتخاب ہار گئیں۔ ہریانہ میں بی جے پی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار سبھاش چندر انتخاب جیت گئے۔
گزشتہ 11جون کو راجیہ سبھا کی57 سیٹوں کے لئے دو سال کے لئے انتخاب ہوئے۔ اس میں شراب تاجر وجے مالیا کے ذریعہ خالی کی گئی ایک سیٹ بھی شامل تھی۔ 15ریاستوں سے 55 ممبروں کا دور کار جون اور اگست کے درمیان پورا ہو رہا ہے۔ راجستھان اور کرناٹک سے بالترتیب آنند شرما (کانگریس)اور وجے مالیا (آزاد) کی سیٹیں خالی ہوئی ہیں۔ 57 سیٹوں میں 14-14
سیٹیں بی جے پی اور کانگریس سے جڑی ہیں، جبکہ 6 ممبر بہو جن سماج پارٹی ، پانچ جنتا دل (یو) اور 3-3 ممبر سماج وادی پارٹی ، بی جے ڈی اور انا درموک سے ہیں۔ 2-2 ممبر درموک، این سی پی اور ٹی ڈی پی سے ہیں،جبکہ ایک ممبر شیو سینا کے ہیں۔ وجے مالیا آزاد ممبر تھے، جنہوں نے 5 مئی کو استعفیٰ دے دیا تھا۔ جن ممبروں کا دور کار پورا ہوا، ان میں مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو ، چودھری وریندر، عباس نقوی ، سابق وزیر جے رام رمیش اور جنتا دل (یو ) لیڈر شرد یادو وغیرہ شامل ہیں۔ راجیہ سبھاکی خالی ہوئی سیٹوں میں سب سے زیادہ 11سیٹیں اتر پردیش کی تھی، وہیں ریٹائر ہونے والوں میں 6-6 ممبر تمل ناڈو اور مہاراشٹر سے ہیں۔ بہار سے پانچ سیٹوں پر انتخاب کرائے گئے، جبکہ آندھرا پردیش اور کرناٹک سے 4-4 سیٹوں پر انتخاب ہوئے۔ مدھیہ پردیش اور اڑیسہ سے 3-3 سیٹوں، ہریانہ، جھارکھنڈ، پنجاب ، چھتیس گڑھ اور تلنگانا سے 2-2 سیٹوں اور اتراکھنڈ سے ایک سیٹ پر انتخاب ہوئے۔ عملی طور پر 27 سیٹوں پر ہی انتخاب ہوا ،باقی سیٹوں پر معاملہ بلا مقابلہ ہی نمٹ گیا۔
یو پی میں راجیہ سبھا کی 11میں سے 7سیٹوں پر سماج وادی پارٹی کا قبضہ رہا۔ راجستھان کی سبھی چاروں سیٹوں پر بی جے پی نے بازی ماری۔اتر کھنڈ کی اکیلی سیٹ پر کانگریس کا دائوں کامیاب رہا۔جبکہ مدھیہ پردیش کی تین میں سے دو پر بی جے پی نے قبضہ جمایا ۔اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے 7 امیدوار پاس ہو گئے۔ بہو جن سماج پارٹی کے دو امیدواروں نے جیت درج کی، وہیں بی جے پی اور کانگریس کے ایک ایک امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ راجیہ سبھا انتخاب میں 401 ایم ایل اے نے ووٹنگ کی۔برسر اقتدار سماج وادی پارٹی کی طرف سے امر سنگھ اور بینی پرساد ورما کے علاوہ سکھرام سنگھ، کنور ریوتی رمن سنگھ، سریندر ناگر، متنازعہ بلڈر سنجے سیٹھ، وشمبھر نشاد ایوان بالا کے ممبر ہونے کا امتحان پاس کر گئے۔ بہو جن سماج پارٹی سے ستیش چندر مشر اور اشوک سدھارتھ نے راجیہ سبھا انتخاب میں جیت درج کی۔جبکہ کانگریس کی طرف سے میدان میں اترے کپل سبل نے آزاد امیدوار پریتی مہاپاترا کو ہرا کر اپنی انٹری کی۔ بی جے پی کے شیو پرتاپ شکلا بھی انتخاب میں جیتے ۔ اتر پردیش میں انتخاب کے دوران کراس ووٹنگ کو لے کر ہنگامہ بھی ہوا۔ سماج وادی پارٹی کے ایک ایم ایل اے نے گڈو پنڈت پر کراس ووٹنگ کا الزام لگایا ، جس کے بعد اسمبلی میں ہنگامہ شروع ہو گیا،ووٹنگ کے دوران سماج وادی پارٹی ایم ایل اے حاجی جمیل اللہ خان اور بی جے پی ایم ایل اے رگھونندن سنگھ بھدوریا کے بیچ بھی خوب کہا سنی ہوئی۔
راجستھان سے راجیہ سبھا کی چاروں سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں گئی ہیں۔یہاں سے پارلیمانی امور کے وزیر وینکیا نائیڈو کے ساتھ ہی اتر پردیش کے انچارج اوم پرکاش ماتھر ، ڈونگرپور راج گھرانے کے سابق ممبر ہرش وردھن سنگھ اور ریزرو بینک آف انڈیا کے ریٹائرڈ آفیسر رام کمار ورما انتخاب جیتے۔ کانگریس کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار سابق مرکزی وزیر اور صنعتکار کمل مرارکا انتخاب ہار گئے ۔مدھیہ پردیش میں بھی بی جے پی کو فائدہ ملا۔ وہاں تین میں سے دو سیٹوں پر بی جے پی نے قبضہ جمایا ۔ بی جے پی کے ایم جے اکبر اور انیل مادھو دوے کو جیت ملی، جبکہ تیسری سیٹ پر کانگریس کی حمایت سے آزاد امیدوار ویویک تنخا سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ جھارکھنڈ کی دو راجیہ سیٹوں کے لئے ہوئے انتخاب میں مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اور مہیش پودار بی جے پی کے امیدوار کے بطور کامیاب ہوئے۔ نقوی کو پہلی ترجیح کی شکل میں 2900 ووٹ ملے اور ان کے علاوہ 264 پودار کو ملے۔ اس سے پودار کو ملے ووٹوں کی تعداد بڑھ کر 2624 ہو گئی۔ جبکہ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم )امیدوار بسنت سورین کو 2600 ووٹ ملے۔ وہ تیسرے مقام پر رہے۔ 81امیدواروں میں سے 79 نے ہی اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔
کرناٹک میں پانچ امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔ یہاں مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن کے ساتھ کانگریس لیڈر جے رام رمیش ، آسکر فرنانڈیز اور کے سی رام مورتی کو جیت ملی ہے۔یہاں مقابلہ کانگریس کے تیسرے امیدوار اور جنتا دل سیکولر امیدوار کے بیچ تھا، لیکن کانگریس امیدوار کو کامیابی ملی۔ ہریانہ میں بی جے پی کے پاس دو امیدواروں کو راجیہ سبھا پہنچانے کے لئے پوری تعداد نہیں تھی۔ مرکزی وزیر چودھری وریندر سنگھ راجیہ سبھامیں آسانی سے پہنچ گئے، لیکن بی جے پی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار سبھاش چندرا کی لڑائی کانگریس کے حمایت یافتہ امیدوار آر کے آنند سے تھی۔ آنند کو انڈین نیشنل لوک دل (آی این ایل ڈی) سے بھی سپورٹ ملا تھا، لیکن وہ پھر بھی ہار گئے۔ اپوزیشن کے 14 ووٹوں کو کائونٹنگ کے دوران تکنیکی طور پر غلط پایا گیا اور انہیں خارج کر دیا گیا۔ اس کا فائدہ سبھاش چندرا کو ملا اور انہیں کامیاب اعلان کردیا گیا۔ کانگریس نے کہا کہ بی جے پی نے 14 ایم ایل اے کو ووٹنگ میں تکنیکی غلطی کرنے کے لئے پہلے سے مینج کر رکھاتھا۔ بی جے پی امیدوار چودھری وریندر سنگھ نے پریس کانفرنس میں کہا بھی کہ سیاست میں ایسی تکنیکی بھولوں کا فائدہ تو ملتا ہی ہے، اترا کھنڈ میں کانگریس امیدوار پردیپ ٹمٹا کا 2 آزاد امیدوار سے مقابلہ تھا۔ وہاں بہو جن سماج پارٹی فیکٹر کو اہم ماناجارہا تھا،لیکن اکیلے سیٹ پر کانگریس کے ٹمٹا نے آخر کار کامیابی درج کی۔
ادھر بہار میں راجیہ سبھا کے لئے خالی ہوئی 5 سیٹوں پر تین جون کوانتخاب کی فارملیٹی پوری کی گئی اور سبھی امیدوار بلا مقابلہ کامیاب اعلان کر دیئے گئے۔ نتیش کمار کے جنتا دل (یو) سے سابق صدر شرد یادو اور آر سی پی سنگھ منتخب ہوئے۔ وہیں لالو پرساد کے راشٹریہ جنتا دل سے ان کی بیٹی میسا بھارتی اور سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی بھی بلا مقابلہ منتخب کئے گئے۔ بی جے پی امیدوار گوپال نارائن سنگھ بھی بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ لالو کی بیٹی میسا بھارتی گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں پاٹلی پتر پارلیمانی حلقہ سے انتخاب ہار گئی تھی۔ اڑیسہ میں بھی بیجو جنتادل کے 3 امیدوار راجیہ سبھا کے لئے بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ بیجو جنتا دل لیڈر پرسنا اچاریہ، وشنو داس اور این بھاسکر رائو راجیہ سبھا کے لئے بلا مقابلہ چنے گئے۔
لیجسلیٹیو اسمبلی پہنچے سماج وادی پارٹی کے آٹھوں امیدوار
اتر پردیش کے قانون ساز اسمبلی پر بھی لوگوں کا دھیان تھا۔ اس میں برسراقتدار سماج وادی پارٹی کے آٹھوں امیدوار انتخاب جیت گئے۔ اس کے علاوہ بہو جن سماج پارٹی ( بی ایس پی ) کے تینوں امیدوار بھی جیتے۔ کانگریس کے دیپک سنگھ اور بی جے پی کے بھوپندر سنگھ چودھری جیتے۔ بی جے پی کے دیا شنکر سنگھ کو لگاتار دوسری بار شکست کا سامنا کرناپڑا۔ اتر پردیش میں لیجسلیٹیو کی 13سیٹوں کے لئے انتخاب ہوا تھا۔
اتر پردیش میں لیجسلیٹیو کا انتخاب جیتنے والوں میں سماج وادی پارٹی کے یشونت سنگھ، رن وجے سنگھ،بلرام یادو ، بوکل نواب، رام سندر نشاد، کملیش پاٹھک،جگجیون پرساد اور شترودر پرکاش شامل ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی کے عطر سنگھ رائو،دنیش چندر اور سریش کیشپ بھی انتخاب جیت گئے۔ بی جے پی کے بھوپندر سنگھ چودھری اور کانگریس کے دیپک سنگھ انتخاب جیتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *