پنجاب اسمبلی انتخابات کے نتائج: کانگریس کی ہار کا سبب پنجاب پیپلز پارٹی

Share Article

فردوس خان
پنجاب میں شرومنی اکالی دل – بی جے پی اتحاد کو دوبارہ اقتدار پر قابض ہونے میں وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے بھتیجے اور سابق وزیر مالیات من پریت سنگھ بادل نے اہم رول ادا کیا ہے۔ انہوں نے شرومنی اکالی دل سے الگ ہو کر پنجاب پیپلز پارٹی کی تشکیل کی اور انتخابی میدان میں کود پڑے۔ پنجاب پیپلز پارٹی اور سانجھا مورچہ کے امیدواروں نے یہاں سب سے زیادہ کانگریس کو نقصان پہنچایا۔ کانگریس کے اس نقصان کا سیدھا فائدہ شرومنی اکالی دل – بی جے پی اتحاد کو ملا۔ یہ سب ہوا من پریت سنگھ بادل کی غلط حکمت عملی کے سبب۔ دراصل، وہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ انہیں حاصل کیا کرنا ہے۔ وہ یہ طے نہیں کر پائے کہ انہیں شرومنی اکالی دل اور بی جے پی اتحاد کی سرکار سے مقابلہ کرنا ہے یا پھر اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس سے۔ اپنی اسی غلطی کے سبب وہ اپنے سب سے بڑے دشمن شرومنی اکالی دل کو ہی جیت دلا بیٹھے۔
انتخابی نتائج پر غور کریں تو یہ بات سامنے آ جاتی ہے کہ پنجاب پیپلز پارٹی نے کانگریس کو ہرانے اور شرومنی اکالی دل کو جتانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صوبہ میں دو درجن سے زیادہ سیٹیں ایسی ہیں، جہاں پنجاب پیپلز پارٹی اور سانجھا مورچہ کے امیدواروں کو ملے ووٹ کانگریس امیدواروں کے کھاتے میں جوڑ دیے جائیں تو وہ جیت جاتے ہیں۔ پنجاب پیپلز پارٹی کو 5.7 فیصد ووٹ ملے، جو کانگریس کی ہار کی سب سے بڑی وجہ بنے۔ صوبہ کی تقریباً 27 سیٹوں پر انہوں نے شرومنی اکالی دل اور بی جے پی کے امیدواروں کو جیت دلائی۔ حالت یہ رہی کہ کئی سیٹوں پر ان کے امیدواروں نے پانچ سے 25 ہزار ووٹ لے کر کانگریس امیدواروں کو ہرانے کا ہی کام کیا۔ تین چار سیٹوں کو چھوڑ دیا جائے تو باقی سیٹوں پر کانگریس امیدواروں کی جیت طے تھی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر مان رہے ہیں کہ باغیوں کی وجہ سے کانگریس نے 9 سیٹیں گنوائی ہیں۔ پنجاب میں کانگریس کے ساتھ سخت مقابلہ تھا، کئی سیٹوں پر تو اس نے کڑی ٹکر بھی دی۔
فلور اسمبلی حلقہ میں کانگریس امیدوار سنتوش سنگھ چودھری اکالی دل کے امیدوار اویناش چندر سے محض 31 ووٹوں سے ہار گئے۔ یہاں پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدوار نے کانگریس کے ووٹ کاٹے۔ اسی طرح پٹی اسمبلی حلقہ میں کانگریس امیدوار ہرمندر سنگھ گل اکالی دل کے امیدوار آدیش پرتاپ سنگھ سے صرف 45 ووٹوں سے ہار گئے۔ یہاں پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 2208 ووٹ لے کر کانگریس کو جیت سے دور کر دیا۔ اس کے علاوہ جالندھر ضلع کی شاہ کوٹ، کرتارپور، جالندھر کینٹ اور جالندھر سنٹرل سیٹ پر پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے سبب کانگریس کی ہار ہوئی۔ نواں شہر ضلع کی بالچور سیٹ پر پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 18988 ووٹ لے کر کانگریس امیدوار کو تیسرے پائدان پر پہنچا دیا۔ روپڑ سیٹ پر پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 25024 ووٹ حاصل کرکے شرومنی اکالی دل کے امیدوار دلجیت سنگھ چیما کو جیت جلا دی۔ فتح گڑھ صاحب ضلع کے بسی پٹھانا میں تو شرومنی اکالی دل کا امیدوار باہری ہونے کے باوجود جیت گیا۔ یہاں پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 11344 ووٹ لے کر کانگریس کو ہرانے کا کام کیا۔ لدھیانہ ضلع کی گل، پائل اور جگراؤ سیٹ پر بھی پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی وجہ سے ہی کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ موگا ضلع کی نہال سنگھ والا اور دھرم کوٹ سیٹ پر بھی کانگریس امیدواروں کو جیت دلانے میں پنجاب پیپلز پارٹی روڑا بنی۔ فیروزپور دیہاتی سیٹ پر پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 7621 ووٹ لے کر کانگریس امیدوار کو ہرانے کا کام کیا۔ پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے بھٹنڈا ضلع کی رامپورہ پھل سیٹ پر 23398، بھٹنڈا شہری سیٹ پر 10755، بھٹنڈا دیہات سیٹ پر 17655 اور موڈ منڈی سیٹ پر 23398 ووٹ لے کر کانگریس امیدواروں کو نقصان پہنچایا۔ اسی طرح مانسا سیٹ پر پنجاب پیپلز پارٹی کا امیدوار 30 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کانگریس امیدوار کی جیت میں رکاوٹ بنا۔ بڈلاڈا سیٹ پر بھی پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 29 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر کانگریس امیدوار کو جیت سے دور کر دیا۔ سنگرور اور امرگڑھ سیٹوں کا بھی یہی حال رہا۔ اسی طرح پٹیالہ ضلع کی گھنور اور شُترانا سیٹوں پر بھی پنجاب پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے 17 سے 20 ہزار ووٹ لے کر کانگریس کو جیت سے دور کرنے میں اہم رول ادا کیا۔
بیٹے کے پیار نے بھی کانگریس کی ایک سیٹ گنوانے کا کام کیا۔ کیپٹن امرندر سنگھ کی ایم پی بیوی پرنیت کور چاہتی تھیں کہ بیٹے رنندر سنگھ کو سیاست میں آگے بڑھایا جائے۔ سمانا سیٹ سے رنندر سنگھ کو انتخابی میدان میں اتارا گیا، جب کہ یہاں سے کیپٹن کے بھائی ملوندر سنگھ کانگریس ٹکٹ کے مضبوط دعویدار تھے۔ پارٹی کی اندرونی رسہ کشی نے بھی کانگریس کو نقصان پہنچانے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑی۔ کیپٹن امرندر سنگھ اور سابق وزیر اعلیٰ راجندر سنگھ بھٹل کے حامیوں میں بالادستی قائم کرنے کی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ عالم یہ تھا کہ پارٹی کے 18 لوگ باغی ہوگئے اور ان کی وجہ سے اہم سیٹوں پر پارٹی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔
بہرحال، اگر من پریت سنگھ بادل کانگریس کو حمایت دے دیتے یا اس سے گٹھ جوڑ کر لیتے تو وہ اپنی پارٹی کو اقتدار میں دیکھ پاتے۔ ایسا کرنے سے ان کی پارٹی کو فائدہ ہی ہوتا۔ کہتے ہیں کہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے، لیکن وہ تو دشمن کے دشمن کو دوست بنانے کی بجائے اپنا دشمن بنا بیٹھے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے بھی پنجاب میں کانگریس کی ہار کے لیے پنجاب پیپلز پارٹی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب پیپلز پارٹی نے کانگریس کو 23 سیٹوں پر نقصان پہنچایا۔ اس پارٹی نے ووٹ بانٹنے کا کام کیا۔ اگر یہ پارٹی نہیں ہوتی تو یہ سبھی سیٹیں کانگریس کو ہی ملتیں۔ حالانکہ پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ نے ہار کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو چونکانے والا قرار دیا ہے۔ پہلے انہوں نے کہا کہ پارٹی کے باغیوں کی وجہ سے کانگریس کو انتخاب میں کامیابی نہیں مل پائی۔ بعد میں انہوں نے یہ بھی مانا کہ پنجاب پیپلز پارٹی سے بھی کانگریس کو نقصان ہوا ہے۔
پنجاب میں کانگریس کی ہار سے کیپٹن امرندر سنگھ کا اقتدار پر قابض ہونے کا خواب بھلے ہی ٹوٹ گیا ہو، لیکن انتخاب میں وہ اپنے مد مقابل کو بھاری ووٹوں کے فرق سے ہراکر اپنا دبدبہ بنائے رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے سب سے قریبی مد مقابل شرومنی اکالی دل کے امیدوار سرجیت سنگھ کوہلی کو 42318 ووٹوں سے ہرا کر پٹیالہ سیٹ جیت لی، لیکن وہ اپنے بیٹے رنندر سنگھ کو سمانا سیٹ سے جیت نہیں دلا پائے۔ من پریت سنگھ بادل کا کہنا ہے کہ اس انتخاب میں پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا۔ شرومنی اکالی دل اور کانگریس نے انتخاب میں ہر ایک امیدوار پر پانچ سے دس کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ ہماری پارٹی کی مالی حالت اچھی نہیں ہے، اس لیے ہم ایسا نہیں کر پائے، جس کے سبب ہمیں امید کے مطابق کامیابی نہیں مل پائی۔   g
ووٹنگ فیصد کے حساب سے کانگریس کو فائدہ ہوا
پنجاب میں شرومنی اکالی دل – بی جے پی اتحاد اقتدار پر دوبارہ قابض ہونے میں تو کامیاب ہو گیا ہے، لیکن دونوں ہی پارٹیوں کی عوامی مقبولیت کم ہوئی ہے۔ پنجاب میں 117 سیٹوں والی اسمبلی میں شرومنی اکالی دل نے 56 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ شرومنی اکالی دل کے ووٹنگ فیصد میں بھی 2.34 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ اس انتخاب میں شرومنی اکالی دل کا ووٹنگ فیصد گھٹ کر 34.75 فیصد رہ گیا ہے۔ گزشتہ انتخاب میں یہ شرح 37.9 فیصد تھی۔ بی جے پی کا ووٹ بھی 1.15 فیصد گھٹا ہے۔ اس بار 7.13 فیصد ووٹروں نے بی جے پی کو ووٹ دیے ہیں، جب کہ پچھلی بار یہ شرح 8.28 فیصد تھی۔ کانگریس نے اس انتخاب میں 46 سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرایا ہے۔ حالانکہ کانگریس کو امید تھی کہ وہ پنجاب میں سرکار بنانے میں کامیاب ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ مگر کانگریس کے لیے یہ بات راحت دینے والی ہے کہ اس کے ووٹنگ فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔ کانگریس کا ووٹنگ فیصد بڑھ کر 40.90 ہو گیا ہے، جو 2007 کے گزشتہ اسمبلی انتخاب میں 40.11 فیصد تھا۔ اس طرح کانگریس کے ووٹنگ فیصد میں 0.79 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلی بار کانگریس نے 42 سیٹیں جیتی تھیں، جب کہ اس بار اسے چار سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔

فردوس خان

فردوس خان صحافی، شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آپ نے دور درشن کیندر اور ملک کے معزز اخباروں اور رسالوں میں کئی سالوں تک اپنی صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو، دور درشن کیندر سے وقتاً فوقتاًآپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور نیوز چینل کے لئے اینکرنگ بھی کی ہے۔ملک اور بیرون ممالک کے مختلف اخباروں ، رسالوں اور جریدوں میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔آپ کی ایک تصنیف ’’گنگا جمنی سنسکرتی کے اگردوت‘‘ کے نام سے شائع ہو آ چکی ہے۔
Share Article

فردوس خان

فردوس خان صحافی، شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ آپ نے دور درشن کیندر اور ملک کے معزز اخباروں اور رسالوں میں کئی سالوں تک اپنی صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو، دور درشن کیندر سے وقتاً فوقتاًآپ کے پروگرام نشر ہوتے رہے ہیں۔آپ نے آل انڈیا ریڈیو اور نیوز چینل کے لئے اینکرنگ بھی کی ہے۔ملک اور بیرون ممالک کے مختلف اخباروں ، رسالوں اور جریدوں میں آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔آپ کی ایک تصنیف ’’گنگا جمنی سنسکرتی کے اگردوت‘‘ کے نام سے شائع ہو آ چکی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *