پنجاب میں نئی صبح کے آثار

Share Article

جگدیش یادو

ملک کا پیٹ بھرنے والاپنجاب ان دنوںتحریکات اور بادل حکومت کے ذریعہ کافی چرچا میں ہے۔ریاستی پولیس کسی بھی طرح کی تحریک اور مخالف آواز کو کچلنے کے لیے کئی طرح کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔اس کا ا نکشاف عوامی مداخلت کے ذریعہ وہاں بھیجے گئے دانشوروں کی ایک جماعت نے کیا۔تفتیشی جماعت میں شامل ڈی یو کے پروفیسر ڈاکٹر این بھٹا چاریہ، سینئر صحافی جسپال سنگھ سدھو اور انل دوبے نے 17اپریل سے20 اپریل تک پنجاب کا دورہ کیا۔تفتیشی ٹیم نے  گرو داس پور کے کھنہ چمیارا، امرتسر کے بھنڈی سودااور اجنالا وغیرہ گائوں کے علاوہ بٹالا اور موگا اضلاع کا دورہ کیا۔پنجاب گذشتہ کئی دہائیوں سے سبز انقلاب کے ہیرو، زیادہ اناج پیدا کرنے اور بڑی تعداد میں این آر آئی تیار کرنے والے صوبے کی شکل میں جانا جاتا رہا ہے۔تاہم یہی پنجاب اب ایک نئی کروٹ لیتا دکھائی دے رہا ہے۔
تفتیشی ٹیم کے مطابق ریاست میں ملازمین ، طلبا اور کسان تبدیلی کا ایک نیا خواب دیکھ رہے ہیں۔توانائی کارپوریشن کی تقسیم ہو یاتعلیمی اداروں کی نجکاری، طلبا کے پاس کا معاملہ ہویا زمین پرکسانوں کے حقوق کا۔ چاروں طرف مخالفت کی ہوا بہتی دکھائی دے رہی ہے۔ان تحریکات کو کچلنے کے لیے پنجاب کی متحدہ حکومت کئی سطحوں پر کام کررہی ہے۔سرکاری سیکورٹی دستوں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور ذات برادری پر مبنی فوجوں کا بھی استعمال کر رہی ہے۔ کھنہ چمیارا گائوں میں ایس پی جی سی کی مسلح  ٹاسک فورس کے ذریعہ فائرنگ کرکے دو کسانوں کو ہلاک کر دینے کا معاملہ ہویا پھر گذشتہ 16فروری کو امرتسر ضلع کے بھنڈی سیدا گائوں میں بھارتیہ کسان یونین ایکتاکے کارکن کامریڈ سادھو سنگھ کے قتل کا۔ سبھی معاملوں میں مقامی پولیس اور اکالی -بی جے پی اتحاد کے لیڈروں اور ان کے حامیوں کا رول واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح پنجاب میں بھی اس وقت زمین کا سوال اہم ایشو بنا ہوا ہے۔پرانے زمیندار گائوں میں زمین مافیائوں و صنعتی دنیااور شہروں میں سیاسی لیڈران کے اشارے پر بذریعہ طاقت زمینوں پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں۔ گروداس پور ضلع کے کھنہ چمیارا گائو ں کے ہرپال سنگھ نے بتایا کہ 12سو ایکڑ زرخیز زمین یہاں اہم ایشو ہے۔گزرے زمانے میں یہ زمین گرودواروں کے مہنتوں کی ہوتی تھی،جنہیں برطانوی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔1921میں مہنتوں کے خلاف ہوئی بغاوت کے دوران فائرنگ میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ان دنوں اکالی دل نے گرودواروں میں سدھار کی تحریک چلائی تھی۔چونکہ یہ زمین بنجر تھی اس لیے معاہدے کے تحت 70سال قبل اس زمین کو ایس جی پی سی نے مقامی غریبوں اور دلتوں کو بٹائی داری کے طور پر دے دی۔بعد میں لوگوں نے اس زمین پر سخت محنت کرکے اسے زرخیز بنا دیا۔اب اس زمین پر ایس جی پی سی کی نظریں ٹک گئی ہیں۔
ہرپال سنگھ خود ایک بٹائی دار ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ 70سال قبل ہوئے معاہدے کے تحت بٹائی داروں کو ایس جی پی سی کو کچھ کرایہ دینا تھا اور ایس جی پی سی کو رسید دینی تھی۔ ادھر کچھ سالوں سے ایس جی پی سی نے کرایہ لینا بند کر دیاتو کسانوں نے کرایہ مقامی انتظامیہ کے پاس جمع کرنا شروع کر دیا، کیونکہ پانچ برسوں تک کرایہ نہیں دینے پر کسان کا حق ختم ہوجاتا ہے۔گائوں کے سر پنچ کسانوں سے الگ مذہبی سوچ رکھنے کے سبب پیسہ گرو دوارے میں ہی جمع کراتے رہے، لیکن رسید نہیں دی جاتی تھی۔بالآخر انہیں زمین خالی کرنے کا نوٹس دے دیا گیا۔30نومبر 2009کو مسلح ایس جی پی سی ٹاسک فورس کے 250لوگ مختلف گرودواروں کے سربراہوں اوتار سنگھ مکڑ، سکریٹری دلمیگھ سنگھ اور کشمیر سنگھ کے ساتھ زمین خالی کرانے کے لیے کھنہ چمیارا گاؤں پہنچے تو کسانوں نے مخالفت کی۔ اس پر ٹاسک فورس نے فائرنگ کردی، جس میں کسان بلوندر اور کشمیر سنگھ مارے گئے اور درجنوں کسان زخمی ہوگئے۔ ٹاسک فورس نے صرف بچوں اور خواتین کو ہی نہیں پیٹا، بلکہ مویشیوں کو بھی گولی مار دی۔ گھنٹوں بعد ضلع کے پولس سپرنٹنڈنٹ موقع پر پہنچے، تب تک ٹاسک فورس کا ظلم و جبر جاری رہا۔ کیرتی کسان یونین کی قیادت میں کسان ڈٹے رہے تو ایس پی نے پولس کا سہارا لیکر ٹاسک فورس کے حملہ آوروں کو بحفاظت گاؤں سے باہر نکال دیا۔ پولس نے کسانوں کی رپورٹ تک درج نہیں کی۔ سخت مخالفت کے بعد صرف 19لوگوں کے خلاف پولس نے معاملہ درج کیا، 10اہم ملزمین کو چھوڑ دیا گیا۔ کسانوں کے مطابق جب جب ریاست میں اکالی دل اقتدار میں آتی ہے، تب تب ان کے سامنے نئی پریشانیاں کھڑی ہوجاتی ہیں۔
ایک دوسرا معاملہ بھی تفتیشی ٹیم کے سامنے آیا۔ راوی ندی کے کنارے تقریباً 8کلو میٹر چوڑی اور 150کلو میٹر لمبی زمین کی پٹی تیار ہو گئی ہے، جو اپنے آپ میں ایک بڑے کسان کی تحریک کا تاریخی پس منظر سمیٹے ہوئے ہے۔ اپنے بہاؤ کے رخ میں تبدیلی کرتے ہوئے راوی ندی کھسکتے کھسکتے پاکستان کی سرحد کے قریب تک چلی گئی ہے۔ اس زمین کو کسانوں نے کھیتی کے لائق بنا دیا ہے۔ کاسا اور سرکنڈو کو صاف کر کے زمین برابر کر دی گئی ہے جو اب یہ زمین کافی زرخیز بن گئی ہے۔ پورے علاقے میں 22ہزار کسان اس پر کھیتی کر رہے ہیں۔کسانوں نے اچھے طریقے سے اس پر کھیتی کی ہے اور وہ سرکار کو ٹیکس بھی دیتے رہے ہیں، لیکن بلاک اور تحصیل کے افسران کسانوںسے 40-50ہزار روپے فی ایکڑ کی مانگ کرتے ہیں، جس کے لیے زیادہ تر کسان زمین اپنے نام نہیں کرا پا رہے ہیں۔ ادھر کسانوں کی فصلیں برباد کرنے اور جلانے کے واقعات عام ہوگئے ہیں۔ زمین مافیا جن میں مختلف پارٹیوں کے مقامی لیڈر بھی شامل ہیں ،ان کی نظریں اس زمین پر ہیں۔ کسان بھی متحد ہیں اور مخالفت کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں گزشتہ 16فروری کو کسان لیڈر سادھو سنگھ کا قتل کردیا گیا۔ کسانوں کے مطابق اس قتل میں شرومنی اکالی دل کے سابق ممبر اسمبلی ویر سنگھ لوکوکے کا ہاتھ ہے، لیکن پولس لوکوکے کو بے گناہ ثابت کرنے میں لگی ہے۔ کسانوں کے ذریعہ درج کرائی گئی رپورٹ میں سابق ممبر اسمبلی لوکوکے، تھانہ انچارج کلوندر سنگھ، رسپال سنگھ اور سروجیت سنگھ کو ملزم بنایا گیا تھا، لیکن ان میں سے کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی۔ تفتیشی ٹیم کے ذریعہ پوچھے جانے پر ایس پی(دیہات) نے کہا کہ لوکوکے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ پولس کا رویہ یہ ہے کہ کسان کارکن سکھسا سنگھ کی عدالتی حراست میں موت کے بعد بھی کوئی تفتیش نہیں کی گئی۔
راوی ندی کے کنارے واقع یہ زمین امرتسر، گرداس پور اور ترنتارن وغیرہ اضلاع میں ہے، لیکن تحریک کی شروعات امرتسر کے پندااولکھ سے ہوئی۔ یہاں کام کر رہی کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ 15ہزار روپے فی ایکڑ کی شرح کسانوں کے لیے بہت زیادہ ہے۔ ایسے میں سرکار مالیت کم کرے یا اسے قسطوں میں ادا کرنے کی اجازت دے۔ کیرتی کسان یونین کے ماسٹر مالوندر سنگھ کے مطابق ریاستی سرکار کوئی پالیسی نہیں بنا رہی ہے، اس سے علاقہ میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ تفتیشی ٹیم نے طلبا یونین کے لیڈروں سے بھی رابطہ کیا۔ طلبا میں حکومت اور پولس کے تئیں کافی غم وغصہ ہے۔ تحریک کا ایشو طلبا کے لیے رعایتی پاس کا ہے۔ پنجاب ٹرانسپورٹ کارپوریشن طلبا کو رعایتی پاس دیتا ہے، لیکن ریاستی سرکار نے بڑے پیمانے پر پبلک سیکٹر کے ٹرانسپورٹ کی نجکاری کر دی ہے اور نجی بسیں طلبا کو پاس کی سہولت مہیا نہیں کرا رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں موگا ضلع کے طلبا نے تحریک چھیڑی تھی۔ کئی بار انتظامیہ کے ساتھ طلبا کی بات چیت بھی ہوئی، لیکن نتیجہ صفر رہا، بلکہ کئی طلبا لیڈروں کو جیل بھیج دیا گیا۔طلبا نے بتایا کہ پنجاب طلبا یونین کے صوبائی صدر گرمکھ سنگھ مان، لکھویر سنگھ، بلجیت سنگھ، نرمل سنگھ، ہرجندر کمار اور بلجیت جیل میں ہیں۔ پولس نے 11طلبا کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کر رکھی ہے۔ آئی ٹی آر آئی کی نجکاری کے خلاف بھی طلبا متحرک ہیں۔ 30مارچ کو طلبا نے مظاہرہ کیا تو پولس نے لاٹھی چارج کرنے کے بعد 9طلبا کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ مخالفت میں طلبا نے 26اپریل کو پورے پنجاب میں ریلی نکال کر احتجاج کیا۔ راجندر سنگھ، دھرمیندر سنگھ اور جسویندر کور نے بتایا کہ پورے ٹرانسپورٹ سسٹم پروزیر اعلیٰ بادل کا خاندان قابض ہے۔اتنا ہی نہیں، موگا میںواقع خواتین آئی ٹی آئی کے نصف احاطہ میں حکومت نے پولس لائن بنا دی ہے، جہاں پولس نے طلبا کا پڑھنا لکھنا دشوار کر رکھا ہے۔
پورے پنجاب میں خاص بات یہ دیکھی جا رہی ہے کہ کسانوں، ملازمین اور طلبا کے مسائل مختلف ہونے کے باوجود سبھی طبقہ کے لوگ متحد ہو رہے ہیں۔ نواں شہر میں بجلی ملازمین کی حمایت میں وکلاء کی تنظیم ڈیموکریٹک لائرس فارم، کسان تنظیم اور طلبا نے مظاہرہ کیا۔ بجلی ملازمین کی حمایت میں آئے طلبا کو پولس نے گرفتار کر کے تھانہ میں ان کی جم کر پٹائی اور برہنہ کر کے بے عزت کیا۔ آئی ایف ٹی یو لیڈر گرمیت سنگھ بخت پورا پر پولس نے جان لیوا حملہ کیا۔ گزشتہ 15مارچ کو پولس نے رات کے وقت بخت پورا کے گھر پر چھاپہ مارا۔ اسی دوران یہ 24سالہ لیڈر دو منزلہ مکان سے نیچے گر گیا۔ شدید طور سے زخمی ہونے کے باوجود پولس نے نہ تو خود انہیں اسپتال بھیجا اور نہ ہی جانے دیا، بلکہ گرمیت سنگھ کو ہتھکڑی لگا دی گئی۔ گرمیت فائونڈری تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرمیت کے خلاف پولیس کی یہ کارروائی مقامی ممبر اسمبلی اور ٹرانسپورٹر جگدیش راج ساہنی کے اشارے پر کی گئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *