پنجاب حکومت لاوارث گائے ۔بیلوں کو مارنے کی اجازت دینے کی تیاری میں

Share Article

 

۔ وزیر کے اس بیان کو لے کر مخالفت اور حمایت شروع

پنجاب حکومت اب گائے اور بچھڑوں کو زمرے میں تقسیم کر ان میں سے کچھ کو کرنے کی اجازت دینے کی تیاری میں ہے۔ ریاست میں بے لاوارث مویشیوں، خاص طور پر گایوں کے سبب سڑک حادثات بڑھ رہے ہیں اور اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔
ریاست کے دیہی ترقی اور پنچایتی وزیر ترپت راجندر سنگھ باجوا کے اس بارے میں دیا گئے متنازع بیان کی جہاں کچھ لوگوں نے مخالفت کی ہے وہیں کچھ لوگوں نے اس کی حمایت کی ہے۔ باجوا نے کہا ہے کہ غیر ملکی نسل کی گائے مذہبی عقیدے میں نہیں آتی ، اس لئے غیر ملکی گائے اور مقامی گایوں کے الگ الگ زمرے بنانا ضروری ہے تاکہ کوئی حل نکالا جا سکے۔ جبکہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور ممبر اسمبلی امن اروڑہ کا کہنا تھا کہ وہ ریاست میں مذبح خانہ کھولنے کے لئے اسمبلی میں تجویز لائیں گے۔ کسانوں نے اس تجویز کی حمایت کی ہے تو گایوں کی تحفظ میں لگی تنظیموں نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے لاوارث مویشیوں کی ہزاروں ایکڑ زمین سے سیاستدانوں کے غیر قانونی قبضوں کو آزاد کروایا جائے تو بے سہارا مویشی ان مقامات پر آرام سے رکھے جا سکتے ہے۔

پنجاب میں ہر سال اوسطاً 225 لوگ سڑک حادثات میں موت کا شکار ہوتے ہیں۔ گزشتہ اگست ماہ میں ریاست میں دو درجن سے بھی زیادہ اموات مویشیوں کی وجہ سے ہونے والے سڑک حادثات میں ہوئیں، جس سے ماحول گرما گیا ہے۔ مانسا شہر میں تو سڑکوں پر گھومتے مویشیوں کو سنبھالنے میں ناکام ہونے پر ایک دن کا بند رکھا گیا اور دھرنا آج بھی جاری ہے۔ ریاست کی سڑکوں اور عوامی مقامات پرایک لاکھ 10ہزارلاوارث چ مویشی گھوم رہے ہیں۔ حالانکہ ریاست میں 512 گوشالائیںہیں جن میں گایوں کی تعداد3.80 لاکھ ہے۔ ریاست کے شہری علاقے میں گائے پالنے پر پابندی ہے اور 850 ڈیری فارم دیہی علاقوں میں ہیں۔ان میں گائے کی تعداد 32 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں زیادہ تر غیر ملکی جرسی نسل کی ہیں۔ زیادہ تر ڈیری فارم بڑے -چھوٹے کسانوں کے ذریعہ چلائے جا رہے ہیں۔ پیدائش کے بعدبیل کسی کام کے نہیں ہوتے، اس لئے انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پنجاب میں دیسی گائے کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے جبکہ غیر ملکی گایوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ سڑکوں پر گھوم رہے بچھڑیبھی غیر ملکی ہیں۔

پنجاب گئو کمیشن کے چیئرمین قیمتی لال بھگت نے بتایا کہ ریاست میں 15 000 ایکڑ سے زائد زمین ایسی ہیں، جو آمدنی ریکارڈ میں گوشالائوں، گئو چراگاہ زمین کے نام پر رجسٹرڈ ہے لیکن ان پر رسوخ والوں اور مختلف جماعتوں کے سیاسی دبنگوں کا غیر قانونی قبضہ ہے، جنہیں چھڑوانے میں حکومتیں ناکام رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسی ہی زمین پنچایتوں کے پاس ہے، جنہیں دیگر پنچایتی زمین کے ساتھ ہی آمدنی بڑھانے کے لئے ہر سال ٹھیکے پر دے دیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر گئو کے لئے زمین ہی نہیں رہے گی تو وہ سڑکوں پر ہی آئیں گے اور کھانے کے لئے کی دربدر کی ٹھوکریں کھائیںگے۔الزام یہ بھی ہے کہ سابقہ بادل حکومت نے گوشالائوں کی تشکیل نو کے لئے جاری کردہ 40 کروڑ روپے کی گرانٹ میں ہوئے گھپلے کی تحقیقات نہیں کی جا رہیہے۔ اس رقم سے گوشالائوں میں شیڈ اور چارے کا اہتمام کیا جا؎نا تھا۔ الزام ہے کہ حکومت بجلی، شراب، نقل و حمل، سیمنٹ، میرج ہال اور جلسے جلوسسے مسلسل گائے بہبود سیس وصول تو کر رہی ہے، لیکن اسے گایوں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ نہیں کیا جا رہا۔ حکومت کے پاس گایوں کی فلاح کے لئے سیس کے طور پر 68 کروڑ روپے دو سالوں سے پڑے ہیں۔

گو سیوا مشن کے قومی صدر سوامی کرشنانند مہاراج کا کہنا تھا کہ پنجاب کے وزیرکاگایوں کو زمرے میں تقسیم کرانہیں مارنے کا بیانحیران کن کیہے، جسے کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گائے کا دودھ پینے کے بعد اسے سڑکوں پر مرنے کے لئے چھوڑ دینا کہاں کی انسانیت ہے جبکہ ایسی گایوں کو گوشالائوں وغیرہ میں رکھا جانا چاہئے۔ دیہی ترقی اور پنچایتی وزیر ترپت راجندر سنگھ باجوا کا کہنا تھا کہ دیسی گائے اور پیشہ ور گایوں میں فرق کیا جانا چاہئے اور یہی فرق کا معاملہ کچھ ہندو تنظیموں کے سامنے رکھا گیا تھا اور اب یہ تسلیم کیا جانے لگا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *