ملک ان دنوں مزیدار حالات سے گزر رہا ہے۔ دلی کے وزیر اعلیٰ اروندکجریوال کے چیف سیکریٹری راجندر کمار کو سی بی آئی نے گرفتارکر لیا ہے۔ جب شیلا دکشت دلی کی وزیراعلیٰ تھیں، تب ان کے خلاف شکایت درج ہوئی تھی، جس پر اب جا کر سی بی آئی نے کارروائی کی ہے۔ دلی حکومت کا سارا کام مرکزی حکومت دیکھتی ہے۔ وزیر اعلیٰ اگر چاہیں، تب بھی کسی عہدیدار کا تبادلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ ایک جوائنٹ سکریٹری ،جو وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتا ہے ،وہ دلی کے وزیر اعلیٰ کے سبھی فیصلوں کو بدل سکتا ہے، ٹرانسفر پوسٹنگ کر سکتا ہے۔ اگر مرکزی حکومت چاہتی تو چیف سکریٹری راجندرکمار کا پہلے تبادلہ کراتی اور پھر انہیں سی بی آئی سے گرفتار کرنے کے لیے ہری جھنڈی دکھاتی۔ اس سے کم سے کم یہ اشارہ تو نہیں جاتا کہ مرکزی حکومت کجریوال کو کام کرنے نہیں دینا چاہتی ہے، لیکن مرکزی حکومت نے پورے ملک کو یہی پیغام دیا۔ بقول نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا ، ان کے تقریباً ڈیڑھ سوافسروں کا تبادلہ مرکزی حکومت نے دلی کے باہر ایسی جگہ کر دیا ہے، جہاں مقررہ افسروں کی پوری تعداد موجود ہے۔ یہ دلیل سمجھ سے باہر ہے ، لیکن اتنا ضرورسمجھ میں آتا ہے کہ مرکزی حکومت میں کوئی ہے جو نہایت ہوشیاری سے دلی کے کام کاج کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بغیر یہ سمجھے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یا وزیراعظم کو اس کا کتنا فائدہ ملنے والا ہے یا کتنا نہیں ملنے والا ہے۔
شاید اس لیے پنجاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی، پرکاش سنگھ بادل اور سردار امریندر سنگھ یعنی کانگریس، یہ تینوں عام آدمی کے سامنے حیرت زدہ ہوکر کھڑے ہیں۔ جب میں عام آدمی کہہ رہا ہوں تو میر ی مراد عام آدمی پارٹی سے ہے۔ اب انہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ کیسے اروند کجریوال کی پارٹی کو گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں پنجاب میں چار اراکین پارلیمنٹ مل گئے۔ کیسے ان میں سے تین اراکین عام آدمی پارٹی چھوڑ کر چلے گئے، جن اراکین پارلیمنٹ کو ایک جانب کانگریس اور دوسری جانب پرکاش سنگھ بادل نے سادھنے کی کوشش کی۔ ان میں صرف ایک رکن پارلیمنٹ اروند کجریوال کے ساتھ رہا، اس کے باوجود انہیںپنجاب کے عوام ہاتھوں ہاتھ اٹھار ہے ہیں۔ اروند کجریوال کو پنجاب کے عوام کے ذریعہ سرآنکھوں پر بٹھانا ،سیاسی تجزیہ نگاروں ، کانگریس اور خود پرکاش سنگھ بادل کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ دلی کے واقعات کو دیکھ کر آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ سیاست کی گلیوں میں کبھی کبھی ایسی چیزیں ہو جاتی ہیں یا لوگ اپنا فیصلہ کچھ یوں کرنے لگتے ہیں ،جس سے کسی بڑے اصول کی بو نہیں آتی، لیکن اشارے صاف صاف دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب میںدھاندلی ہے، حکومت کے خلاف غصہ ہے اور پورے کا پورا پنجاب نشے کی گرفت میں ہے۔
پنجاب میں نشے کی گرفت کا حال یہ ہے کہ نشے کے سوداگر ، دہشت کے سوداگر بن گئے ہیں۔ پنجاب کی انتظامیہ یعنی وہاں کی پولیس کا ایک بڑا حصہ منشیات کے کاروبار میں ملوث ہے۔ پٹھان کوٹ حملہ کے وقت منشیات اسمگلروں کو لانے کی کوشش میں پنجاب پولیس کا ایس پی دہشت گردوں کو ملک کے اندر ہی نہیں لے آیا، بلکہ ان کو باحفاظت پہنچانے کا منصوبہ بھی بنایا۔ لیکن، یہ تو ایک قصہ ہے جو سامنے آ گیا۔ پنجاب کو جاننے والے دلی میں انٹیلی جنس بیورو کے لوگ بتاتے ہیں کہ پنجاب حکومت کے پاس وہ تمام جانکاریاں ہیں کہ ان کے کون کون سے افسر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں، لیکن پنجاب حکومت کچھ نہیں کر رہی ہے۔ وہ کارروائی کر بھی نہیں سکتی، کیونکہ جب اس کے وزیر رہے ایک شخص کا نام منشیات کی اسمگلنگ میں آ جائے اور عام طور پر یہ خبر چاروں طرف پھیل جائے کہ پنجاب حکومت کے سب سے بڑے عہدیدار بھی منشیات کے کاروبار میں حصہ دار ہیں، تو بھلا کوئی کیا کرے؟ آج پنجاب میں عام طور پر یہ تاثر بنا ہے کہ منشیات سے اگر بچنا ہے یا جو بچے ہوئے ہیں، انہیں بچانے کی کوشش کرنی ہے ،تو بھارتیہ جنتا پارٹی، پرکاش سنگھ بادل اور کانگریس کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے عام آدمی پارٹی کو پنجاب کے لوگوں کی غیرمعمولی حمایت حاصل ہے۔ حزب اختلاف کی پارٹیوں کا ایک اچھا فیصلہ یہ ہے کہ وہ پنجاب جا کر اروند کجریوال کی مہم کو توڑنے کی کوشش نہیں کر رہی ہیں۔ ورنہ کیا مایاوتی ، کیا ملائم سنگھ، کیا نتیش کمار، کیا شردپوار، کیا دیوگوڑا سب پنجاب جا سکتے تھے، لیکن وہ پنجاب نہیں جا رہے ۔ یہیں دوسرا خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ اروند کجریوال کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ ان کے خوف کی وجہ سے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف جتنی پارٹیاں ہیں ، وہ پنجاب نہیں آرہی ہیں۔ اگر اروند کجریوال ایسا سوچتے ہیں تو غلط سوچتے ہیں۔ ان کے لیے حمایت کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے ،خوف کی وجہ سے نہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور پرکاش سنگھ بادل پنجاب میں ہاریں، اس لیے ملک کے حزب اختلاف کی پارٹیاں پنجاب نہیں جا رہی ہیں۔
پنجاب کا یہ انتخا ب دراصل نظم ونسق اور نشہ خوری کے خلاف ،جس میں شراب، چرس، یا جتنے طرح کے منشیات ہوتے ہیں ،ان کے نشے کے خلاف عوام نے بگل بجادیا ہے ۔ ہو سکتا ہے یہ بگل پنجاب میں نشے کے خلاف ملک کے عوام کی ہنکار کا پہلا قدم ثابت ہو۔ بہار میں نتیش کمار نے نشہ بندی کے حق میںآواز اٹھادی ہے۔ اس آواز نے دوسری دستک تمل ناڈو میں دی اور اب تیسری دستک پنجاب میں دینے جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اتر پردیش کے انتخاب میں نشہ بندی یا شراب بندی کوئی مدعا بنے گا۔ دیکھتے ہیں کو ن سی سیاسی پارٹی اتر پردیش میں اس نعرے کو لے کر ایک نئی طاقت کھڑی کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here