سکھ خواتین کو دربار صاحب میں کیرتن کی اجازت دلانے کے لئے پنجاب اسمبلی نے تجویز منظور کی

Share Article

گرو نانک دیو کے 550 ویں پرکاش اتسو کو وقف پنجاب اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دوران جمعرات کے روز متفقہ طور پر ایک غیر سرکاری تجویز منظور ہوئی۔ اس تجویز میں سکھ مذہب کی اعلیٰ عدالت مانے جانے والے شری اکال تخت صاحب سے دربار صاحب میں خواتین کیرتن کرنے کی اجازت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

سکھوں کو لے کر کسی آئینی ادارے (اسمبلی) کی طرف اس طرح کی تجویز منظور کئے جانے کا یہ پہلا معاملہ ہے۔ اب یہ شرومنی گرودوارہ پربندھککمیٹی پر ہے کہ وہ اسمبلی کی بات مانتا ہے یا نہیں۔ حالانکہ ایوان میں موجود اکالی دل نے اسے اکال تخت کے خلاف مشتبہ ہونے کی بات کہی، لیکن خواتین کو حقوق دینے کے معاملے پر پھنسے اکالی دل نے بھی ایوان میں خاموش رہ کر اپنی رضامندی دے دی۔ اہم اپوزیشن پارٹی، عام آدمی پارٹی نے زور شور سے اس تجویز کی حمایت کی۔ غور طلب ہے کہ شری دربار صاحب کو چھوڑ کر دیگر مقامات پر سکھ خواتین کے ذریعہ کیرتن کرنے پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

Image result for Sikh women in Kirtan in Darbar Sahib
پنجاب حکومت کے ذریعہ گرونانک دیو جی کے 550 ویں پرکاش اتسو کو وقف خصوصی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ آج، جمعرات کو ایوان کی کارروائی کا دوسرا دن تھا۔ جمعرات کے روز اسمبلی اجلاس کے دوسرے دن کی کارروائی شروع ہوتے ہی کابینہ وزیر سیر راجندر سنگھ باجوا نے گرو نانک دیو جی کے ذریعہ خواتین کے لیے مساوات کا درجہ دیے جانے کی دلیل ایوان میں رکھتے ہوئے کہا کہ دربار صاحب میں بھی خواتین کو کیرتن کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ ایس جی پی سی کو اس فیصلے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

Image result for Sikh women in Kirtan in Darbar Sahib
باجوا کی اس تجویز پر اکالی دل کے رہنما ایوان، پرمندر سنگھ ڈھینڈسا نے یہ کہہ کر مخالفت کی کہ شری اکال تخت صاحب اور شرومنی گرودوارہ پربندھککمیٹی پر شک کا اظہار کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اکالی دل کی مخالفت تھی کہ یہ مذہبی عقائد کا معاملہ ہے اور سالوں پرانی روایت اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ حکومت کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ حکومت نے اکالی دل پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف گرونانک دیو کا پرکاش اتسو منایا جا رہا اور گرووں کے پیغام کو مانا نہیں جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت کے ذریعہ ایوان میں رکھی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی کلتار سنگھ سیدھوا نے کہا کہ رہت مریادا میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا ہے کہ خواتین دربار صاحب میں کیرتن نہیں کر سکتیں۔

اجلاس کے پہلے دن اسمبلی کی کارروائی ختم ہونے تک اس مسئلے پر چل رہی بحث پر عام آدمی پارٹی کے ہی ممبر اسمبلی امن اروڑہ نے کہا تھا کہ جب ایک عورت کو شرومنی گرودوارہ پربندھککمیٹی کا سردار بنایا جا سکتا ہے تو دربار صاحب میں خواتین کیرتن کی اجازت کیوں نہیں دی جا سکتی؟ع آپ پارٹی اراکین کی ڈپٹی لیڈر سربجیت کور مانکے نے کہا کہ وقت بدل چکا ہے۔ خواتین آج کسی بھی شعبہمیں پیچھے نہیں ہیں۔ خواتین کیرتن نہ کرنے دینے کے پیچھے نہ تو کوئی عقیدہ ہے اور نہ ہی کوئی اصول ہے۔

اسمبلی اسپیکر رانا کے پی نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو کیرتن کرنے میں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے۔ اس تجویز کے ساتھ ریاستی حکومت شرومنی کمیٹی کو کسی طرح کیچیلنجنہیں دے رہی ہے۔ اکالی دل اسے غلط سمت میں نہ لے کر جائے۔ اسپیکر نے ایوان میں تجویز پیش کی، جسے اکثریت کے ساتھ پاس کر دیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *