پلوامہ حملہ: کراچی میں رچی گئی تھی حملے کی سازش، شہریوں کے لئے راستہ دینا ہوا خودکش

Share Article

 

جموں و کشمیر کے پلوامہ میں جمعرات کی شام ہوئے خودکش حملے میں سی آر پی ایف کے 40 سے زیادہ جوان شہید ہو گئے۔ حملہ اس وقت ہوا جب سی آر پی ایف کا قافلہ جموں سے سرینگر کے لئے نکلا تھا۔ قوانین کے مطابق، پہلے جب سکیورٹی کا قافلہ چلتا تھا،تب درمیان سول گاڑیوں کو آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن، جب حالات ٹھیک ہونے لگے تو جموں سرینگر شاہراہ کا ایک حصہ مقامی شہریوں کے گاڑیوں کو استعمال کی اجازت دے دی گئی۔

 

Image result for pulwama attack

اتنا ہی نہیں، جوانوں کے قافلے کے درمیان میں یا آگے پیچھے سول گاڑیوں کو چلنے کی بھی اجازت دے دی گئی، یہی اجازت جمعرات کو خودکش ثابت ہو گیا۔ کشمیری شہریوں کو دی گئی آزادی کا فائدہ جیش محمد کے خود کش حملہ آور عادل احمد نے اٹھایا اور ایک سروس روڈ سے جموں سرینگر شاہراہ پر آیا۔ بعد میں اس نے اپنی گاڑی سے سی آر پی ایف کے قافلے کی ایک گاڑی کو ٹکر مار کر حملے کو انجام دیا۔حکام نے بتایا کہ سی آر پی ایف نے حادثے سے پہلے قافلے کے روٹ کی مکمل احتیاط برتی تھی اور گرینیڈ حملے یا اچانک سے ہونے والی فائرنگ کو لے کر کافی مستعدی دکھائی تھی۔ روٹ کی مکمل تحقیقات کی گئی تھی۔ لیکن انہیں کیا پتہ تھا کی ان کی یہ چھوٹی سی چوک 42 جوانوں کو شہید کر دے گی۔

 

Image result for pulwama attack

 

ایک انگریزی اخبار کے صحافی نے جب سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ‘روڈ اوپننگ پارٹی نے جمعرات کی صبح پورے روٹ کی چیکنگ کی تھی۔ اس روٹ پر کہیں پر بھی آئی ای ڈي نہیں پایا گیا تھا اور نہ ہی اس بات کا امکان چھوڑی گئی تھی کہ کوئی سیل کے قافلے پر فائرنگ کر سکے یا دستی بم پھینک سکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *