مدیر اعلیٰ

ٰسنتوش بھارتیہ’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتی نے الکٹرانک میڈیا کو نیا رخ دیا انھوں نے نہ صرف بے باک صحافت کی بلکہ میڈیا کو ہر طرح سے آزاد اور خود مختار بنانے کوشش کی ، خاص کر الیکشن کوریج میں۔ انھوں نے انتخابات کو سیاست داں اور سیاسی جماعتوں پر مرکوز نہ کرکے عوام کو مرکز بنایا۔ انہیں اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ ہندوستان میں رائے عامہ کو اہمیت نہ دے کر سیاست کے داو پیچ آزمائے جاتے ہیں۔ اسی لئے انھو ں نے رائے دہندگان کو براہ راست شریک کار بنایا۔ اس کا آغاز انھوں نے 2003میں راجستھان، دہلی، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے انتخابات میں کیا تھا۔ سنتوش بھارتی نے جس مہم کا آغاز کیا تھا اس نے سبھی ٹی وی چینلوں کو 2004میں ان کی پیروی کرنے پر مجبور کردیا
سنتوش بھارتی نے صحافت کا آغازایک ہفت روزہ اخبار ’ ’رویوار“سے کیا تھا۔ جو اپنے زمانہ کابے حد مشہور و مقبول ’ ہفت روزہ‘ ہوا کرتا تھا۔ وہ”رویوار“میں خصوصی نامہ نگار بھی بنے۔سنتوش بھارتیہ ہی وہ پہلے صحافی تھے، جنھوں نے ’پھولن دیوی‘ کا انٹر ویو لیا تھا اور انھوں نے ’پھولن دیوی‘ اور’ وکرم ملاح ‘کی کہانی دنیا تک پہنچائی تھی۔ انھوں نے ہی چمبل اورچمبل کے خطرناک ڈاکووں کے بارے میں پوری دنیا کو روشناس کرایا تھا۔ سنتوش بھارتیہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 100سے بھی زائد خبروں سے پہلی بار انھوں نے ہی دنیا کو متعارف کرایاہے۔ یہ تمام خبریں بنا کسی تنقید کے مقبول عام ہوئیں ان کے اس کام کی بے پناہ سراہنا ہوئی آج چوتھی دنیا ان کی ادا رت میں ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ نکل رہا ہے۔ آج بھی جناب بھارتی کا وہی بے باک انداز ہے وہی تیور ہیں اور وہی جوش و جذبہ ہے جو 23سال قبل تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *