عوام کے آگے کمپنی بے بس

Share Article

آدی یوگ
ترقی کے نام پر حکومتوں کی آنکھ بند کر کے  کمپنی نوازی دورجدید میں لوگوں کے لئے ایک آفت بن گئی ہے۔ چند کمپنیوں کے مفاد کی خاطر پہلے سے غریب ومحروم عوام کو مزید غریبی و محرومی کے کنویں میں دھکیلنے کی دکھ بھری داستانیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ملک کے عوام اسے روکنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ جولائی کا مہینہ ضرور آندھرا پردیش اور چھتیس گڑھ سے جیت کی خوش خبری دے کر گزرا اور جس نے نا امیدی کے گھنے بادلوں کے درمیان تمام عوامی تحریکات کو ہمت اور طاقت بخشی۔ جھوٹ، دبائو اوردھمکیوںکا جال تھا۔ فوج کے ساتھ تعینات سرکاری عملہ کمپنی کا منیجر کم باڈی گارڈ جیسا اور مقامی میڈیا کمپنی کا پی آر او زیادہ دکھائی دیتا  تھا۔ حالات ایمر جنسی جیسے تھے، گویا کسی دشمن کے حملہ کا اندیشہ ہو۔ کمپنی کی راہ میں رکاوٹ بنے لوگوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں، پولس فائرنگ ہوئی، خون بہا، ہاتھ پیر ٹوٹے اور فرضی معاملے درج ہوئے، مگرمصیبت زدہ عوام پیچھے نہیں ہٹے۔ میر صاحب کے حوالہ سے کہیں تو الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۔حالات اس حد تک بگڑے کہ مندر وہیں بنائیں گے کی ضد چھوڑنے اور کمپنی کو آگے کا راستہ دکھانے کی مجبوری پیدا ہو گئی۔ سچ اور انصاف کی جیت ہوئی اور اس مسئلہ کی جڑ یعنی کمپنی کو دی گئی ہری جھنڈی 15جولائی کو خارج کر دی گئی اور اس طرح تقریباً چھ ماہ لمبی تحریک کی جیت ہوئی۔
یہ قصہ آندھرا پردیش کے سری کاکولم ضلع میں اڑیسہ سے ملحق سون پٹی منڈ کا ہے۔ناگارجن کنسٹرکشنس لمٹیڈنامی کمپنی یہاں پاور پلانٹ لگانا چاہتی تھی۔ مقامی باشندوں کو اس پر اعتراض تھا، اس لئے کہ پاور پلانٹ سے انہیں علاقہ کاماحولیاتی توازن خراب ہونے اور اپنی روزی روٹی کے چھن جانے کا خطرہ تھا۔کمپنی کے خلاف پورا علاقہ متحد تھا۔گزشتہ سال اگست میں پاور پلانٹ کے حوالہ سے عوامی سماعت کا اہتمام کیا تھا۔ اس میں بھی کمپنی کی اسکیم کی سخت مخالفت ہوئی ،مگر مرکزی وزارت ماحولیات و جنگلات نے لوگوں کی آواز کو نظر انداز کرتے ہوئے کمپنی کو کلیئرنس دے دی۔ پاور پلانٹ سے 30گائووں کے ماہی گیروں اور کسانوں کی روزی روٹی جا رہی تھی اور جس کے اثر سے سون پیٹا ٹائون کے لوگ بھی محفوظ نہیں رہتے۔چنانچہ ماہی گیروں کے پلیٹ فارم ’’متسیکارا ایکیہ ویدیکا ‘‘ اور ’’پریاورن پری رکشن سمیتی‘‘ کے مشترکہ بینر تلے عوامی ہجوم متحد ہو گیا۔ ریلی مظاہروں اور میٹنگوں کا تانتا لگ گیا۔ پاور پلانٹ کے خلاف بھوک ہڑتال شروع ہو گئی۔ اس درمیان پولس انتظامیہ کا انہیں ڈرانے دھمکانے اور فرضی معاملوں میں پھنسانے کا سلسلہ تیز ہوتا گیا۔ اس میں کمپنی کے غنڈے بھی شامل تھے۔ تنائو بڑھتا گیا اور اسی درمیان کمپنی نے پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تاریخ14جولائی طے کر دی ۔ یہ لوگوں کے لئے فیصلہ کی گھڑی تھی۔ سنگ بنیاد کی خبر نے آگ میں گھی ڈالنے کاکام کیا۔محرکین نے اپنے سخت تیوروں سے بتا دیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے اور کمپنی کو سنگ بنیاد نہیں رکھنے دیں گے۔خاص بات یہ تھی کہ پوری تحریک میں خواتین سب سے آگے تھیں اور انہیں ہر طبقہ اورہر پیشہ سے وابستہ لوگوں کی حمایت حاصل تھی۔
انتظامیہ نے بھی کمر کس لی۔ سنگ بنیاد سے قبل دفعہ 144نافذ کر دی گئی اور انتباہ دیا گیا کہ لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کے لئے مخالفت کے کسی بھی پروگرام پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اپنی ہی زمین سے لوگوں کو اجاڑ دینے کے لئے دہشت کے ساز و سامان کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ وردی پوش تعینات کر دئے گئے۔ آمنے سامنے کی جنگ کا میدان سج گیا۔ آخر کار سنگ بنیاد کے دن جو ہونا تھا، وہی ہوا۔ لوگوں کو اپنی زمینوں سے بھگایا جانے لگا۔ وردی پوشوں کے ساتھ کمپنی کے ذریعہ کرائے پر لائے گئے ایک ہزار سے بھی زائد غنڈے تھے۔ مقابلہ ہوا،پولس فائرنگ ہوئی اور تین لوگ مارے گئے۔تقریباً ڈیڑھ سو لوگ زخمی ہوئے، جن میں پولس سمیت میڈیا اہلکار بھی تھے۔لاٹھی چارج اور فائرنگ سے لوگوں کا غصہ زخمیوں کے اسپتال پہنچنے پر بھی پھوٹ پڑا۔پولس انتظامیہ اور کمپنی کے خلاف نعرے بازی ہوئی ا ور کچھ لوگ نزدیک میں واقع کمپنی کے دفتر پر ٹوٹ پڑے۔ انہیں روکنے کے لئے ایک بار پھر فائرنگ کا دور چلا، لیکن شکر کہ اس بار صرف ہوائی فائرنگ ہوئی۔ امن قائم کرنے یعنی عوامی بے چینی کو دبانے کے لئے ڈیڑھ ہزار مزیدپولس اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔
پورے معاملہ کے حوالہ سے آندھرا پردیش اسمبلی میں خوب ہنگامہ ہوا۔ مائک اکھاڑے گئے اور مارشل کے ذریعہ ٹی ڈی پی کے اراکین اسمبلی کو ایوان سے باہر نکالنا پڑا۔اپوزیشن نے سون پیٹا کے ممبر اسمبلی ہونے کے ناطے وزیر ریونیو کے استعفی کا مطالبہ کیا۔ بہر حال ریاستی حکومت بچائو کی حالت میں آ گئی۔ وزیر اعلیٰ کے روسیانے تو یہاں تک کہا کہ سون پیٹا میں اتنی بڑی تعداد میں پولس کی تعیناتی حیرت کی بات تھی تو کیا وزیر اعلیٰ کو حقیقتاً اس کا علم نہیں تھا؟ اگر ہاں، تو وہ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر کیوں ہیں؟ 14جولائی کو ایک طرف پولس عوام کو آواز اٹھانے کامزہ چکھارہی تھی اور دوسری جانب اسی دن کمپنی کو کلیئرنس دئے جانے کے ایشو پر نیشنل انوائرمنٹ اپیلٹ اتھارٹی(این ای اے اے) میں معاملہ کی سماعت چل رہی تھی۔ این ای اے اے ماحولیات سے جڑے ایشو پر کسی صنعت کو دئے گئے کلیئرنس کے خلاف فیصلہ کن یونٹ ہے۔فورم فار بیٹر وشاکھا سمیت کئی سماجی تنظیموں کی اپیل پر ہوئی اس سماعت میں مرکزی وزارت ماحولیات وجنگلات کے ذریعہ کمپنی کو تھمائے گئے کلیئرنس کے پیچھے گھوٹالہ کی پول کھل گئی۔اگلے دن این ای اے اے نے کمپنی کو ملے کلیئرنس کو تیکھے الفاظ میں غلط فیصلہ قرار دیا اور اسے منسوخ کر دیا۔ کمپنی کے لئے ایکوائر کی گئی زمین کو بنجر اورزائد دکھایاگیا تھا، جبکہ یہ زمین بے حد زرخیز ہے، دو فصلی ہے اور سیکڑوں کنبوں کی روزی روٹی  کا اہم ذریعہ ہے۔سون پیٹا کو دوسرا گووا بھی کہا جاتا ہے۔یہ علاقہ سیاحوں کے پسندیدہ مقامات میں شامل ہے اور اس سے نہ جانے کتنے مقامی لوگوں کی روزی روٹی چلتی ہے۔ یہاں سمندر کا خوبصورت ساحل ہے اورغیر ملکی پرندوں کی پناہ گاہ بھی۔ کمپنی کا پاور پلانٹ اس کے نزدیک ہی بنایا جانا تھا۔ پاور پلانٹ لگتا تو پانی میں زہر گھلتا، آب پاشی کے وسائل کو نگل جاتا، سیاحت کا سر کچلتا ،مہاجر پرندوں کا بسیرا چھینتا، تقریباًڈیڑھ لاکھ لوگوں کو روز ی روٹی سے محروم کرتا اور سون پیٹا کو دوسرا گووا نہیں رہنے دیتا۔
مگر ملک کے دوسرے تمام حصے اتنے خوش قسمت نہیں ہیں، جہاں لوگوں اور قدرت کو ترقی اور صنعت کاری کی بڑی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔کیا ستم ظریفی ہے کہ ایک جانب حکومت روٹی کے حق کا قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے اور دوسری جانب لوگوں کی کاشت کی زمینیں چھین کر انہیں کمپنیوں کے حوالہ یا سیز کے نام پر آمادہ ہے۔ غور کیجئے کہ بھلے ہی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان رسہ کشی ہو، مگر اس معاملہ میں غضب کا تال میل ہے۔ ریاستی حکومتوں کو کمپنیوں کے ساتھ قرار ناموں پر دستخط کرنے میں اور مرکزی حکومت کو اسے اوکے کرانے میں دیر نہیں لگتی۔ قاعدے سے ہونا تو یہ چاہئے کہ جسے زمین چاہئے، وہ سیدھے اس کے مالک سے بات کرے اور یہ مالک کی مرضی پرمنحصر ہے کہ وہ اپنی زمین فروخت کرے یا اپنے پاس رکھے اور فروخت کرے تو کن شرائط پر ۔ یہ مالک کوئی پریوار ہو سکتا ہے، کوئی گرام پنچایت یا کوئی فرقہ۔ مگر لگتا ہے کہ قرار نامہ کمپنیوں کو کسی بھی طرح ان کی من پسند زمین دلانے کی حکومت کو ملی سپاری ہو۔اب جمہوری اور فلاحی حکومت دائود ابراہیم تو ہو نہیں سکتی۔اس لئے عوامی سماعت صرف ڈرامہ ہے۔ پروجیکٹ کے مقام سے دور اور سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان اس کا پلیٹ فارم ہے، جس میں حکومت اور کمپنی کے افسران ہیں اور جمع کئے گئے بھروسہ مند عوام، جس کا کام ہاتھ اٹھا کر پروجیکٹ پر صرف اپنی رضامندی دینا ہے۔اس طرح عوامی سماعت کا کامیاب ہونا پہلے سے طے شدہ ہے، بھلے ہی متاثرہ عوام باہر شور مچائے اور زیادہ وبال مچائے تو لاٹھی گولی کھائے، جیل جائے۔ چھتیس گڑھ کی حکومت عوامی سماعت کے اس کھیل میں سب سے آگے ہے اور کمپنی نوازی کی مثال قائم کرنے میں مصروف ہے۔رائے گڑھ کے درامنڈا کے لوگ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی کمپنی ان کے علاقہ میں ڈیرا ڈالے اور انہیں کہیں کا نہ چھوڑے، مگر حکومت تو یہی چاہتی تھی۔ اس لئے گزشتہ 17مئی کو ایس کے ایس اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ کے پروجیکٹ کے لئے عوامی سماعت کا انعقاد طے کر دیا گیا۔ حکومت کا بندوست چاق و چوبند تھا، مگر عوام کے تیور دیکھتے ہوئے کمپنی کو عوامی سماعت کی کامیابی پر شک تھا۔ کمپنیاں جانتی ہیں کہ حکومت، انتظامیہ اور میڈیا کو رشوت کی ڈنڈی سے کس طرح ہانکا جا سکتا ہے کہ عدالتوں میں بھی بکائو عہدیدار مل جاتے ہیں۔ اس کا اندازہ کمپنی کو نہیں تھا کہ غریب ومحروم عوام کورشوت کے کھلونے سے بہلایا پھسلایا نہیں جا سکتا اور کمپنی یہیں مات کھا گئی۔ رشوت تقسیم کرنے آئے افسران کو لوگوں نے دبوچ لیا، ان کا منھ کالا کیا، کان پکڑ کر ان سے اٹھا بیٹھک کرائی اور جوتوں کا ہار پہنا کر ان کا جلوس نکالا۔ انہیں رہا کرانے کے لئے پولس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا، آنسو گیس چھوڑنی پڑی۔ تقریباً پانچ سال قبل جھارکھنڈ کے پوـٹکا ڈویژن کے ایک گائوں میں بھوشن اسٹیل کمپنی کے نمائندوں کا بھی استقبال اسی انداز میں کیا گیا تھا۔ وہاں کی عوامی مخالفت نے پہلے جندل کو بھگایا اور پھر بھوشن کو۔
رائے گڑھ کے تمنار بلاک میں پانچ کوئلہ کانیں ہیں۔ ان میں تین جندل اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ کے نام ہیں۔ 8مئی کو اس کی ایک اور کوئلہ کان کے لئے عوامی سماعت کا انعقاد ہوا تھا، جس میں گائوںوالوں نے ایک آواز ہو کر اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ عوامی سماعت کھٹائی میں پڑ گئی اور اس کا اختتام لاٹھی چارج پر ہوا، جس میں سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ پہلی عوامی سماعت بھی اسی طرح ختم ہو گئی تھی۔ رائے گڑھ کے رمیش اگروال ’جن چیتنا‘نامی سماجی تنظیم کے سربراہ ہیں۔ وہ حکومت کی ’’زمین ہڑپو‘‘ مہم ، کمپنیوں کے سبب ہونے والی نقل مکانی اور آلودگی کے خلاف سالوں سے لوگوںکو متحد کرنے اور ان کی آواز بلند کرنے کا کام کر رہے ہیں۔وہ تمام فرضی عوامی سماعت کے گواہ رہے ہیں اور ان کی کامیابی کے کپڑے اتارتے رہے ہیں۔راجیش ترپاٹھی اور ہری ہر پٹیل جیسے اہم نام اس مہم میں ان کے ہم قدم رہے ہیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ رائے گڑھ میں پاور پلانٹ لگانے کی جندل کی اسکیم کے پیر اکھڑ گئے۔ جندل کے دبائو کا عالم یہ تھا کہ ابھی کلیئرنس حاصل کرنے کا عمل شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ دوسری جگہ پر پاور پلانٹ لگانے کا کام شروع ہو گیا۔ اس کی شکایت ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ سے کی جا چکی تھی، مگر کارروائی کے نام پر صرف جانچ پر جانچ ہوئی اور خط و کتابت ۔ آخر کار رمیش اگروال نے مرکزی وزیر ماحولیات جے رام رمیش سے درخواست کی۔ الزامات صحیح تھے اور کلیئرنس حاصل کرنے کے لئے طے ہوئیں شرائط کی کھلی خلاف ورزی تھے۔ اس بنیاد پر ان شرائط کو ہی منسوخ کر دیا گیا۔ محرکین کے لئے یہ جتنی بڑی جیت تھی، جندل کے لئے اتنا ہی بڑا جھٹکا۔ اس کے فوراً بعد 23جون کو جندل نے رمیش اگروال پر مقدمہ ٹھوک دیا کہ انھوں نے 8مئی کی عوامی سماعت میں ہنگامہ نہ کھڑا کرنے کے عوض میں پانچ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا، مگر الٹا چور کوتوال کو دیر تک نہیں ڈانٹ سکا۔ بڑھتے عوامی دبائو نے موسم ایسا بدلا کہ گزشتہ سات جولائی کو ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈ کو جندل کے خلاف غیر قانونی طریقہ سے اسکیم شروع کرنے کا مقدمہ دائر کرنا پڑا۔
جندل ان کمپنیوں میں ہیں، جو رائے گڑھ ہی نہیں، چھتیس گڑھ سمیت کئی ریاستوں میں لوگوں اور قدرت کی صحت بگاڑنے کے لئے ذمہ دار ہیں۔ حیرت ہے کہ رائے گڑھ کی اس کی ایک اسکیم کے لئے اسے ماحولیاتی انتظام کے بین الااقوامی اعزاز سے نوازے جانے کا فیصلہ ہو گیا اور وہ بھی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے ممبر پی این بھگوتی کی صدارت میں ہوئی میٹنگ میں۔معلوم ہو کہ جندل اسٹیل اینڈ پاور لمیٹڈ کے مالک نوین جندل راجیہ سبھا میں کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں۔اس بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کی کمپنی کے خلاف کارروائی ہونے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *